New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 03:59 PM

Urdu Section ( 5 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Can the New Pakistan Government Hold Discussions with Taliban? کیا نئی حکومتیں طالبان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرسکتی ہیں؟

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

6جون،2013

نواز شریف وزیراعظم کا حلف لے چکے ہیں اور خیال یہی ہے کہ شروع کے چند دن اُنہیں بہت سراہا جائے گا کیوں کہ وہ بعض ایسے اقدامات کا عندیہ دے رہے ہیں جن کے بارے میں عمومی طور پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں زیادہ سوچتی نہیں۔ مثال کے طور پر میاں نواز شریف نظر انداز شدہ صوبے بلوچستان کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ اب اُس کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور بلوچستان کی محرمیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ایسے ہی انقلابی اقدامات وہ ریاست کو لاحق دیگر مسائل کے حوالے سے اُٹھانا چاہتے ہیں۔مثال کے طور پر وہ پاکستان کو لاحق دہشت گردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر انہدام کا شکار معیشت اِن کی خصوصی ترجیح ہے۔وہ کراچی کے دگرگوں حالات کو بھی سدھارنا چاہتے ہیں اور اِنہیں ابھی سے کراچی کی نمایندہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی طرف سے مثبت پیغامات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔اِن حالات کا مطلب یہ نہیں کہ میاں صاحب کے تمام مخالفین بشمول طاقت ور مہم جو ادارے اور ہر قسم کے سیاسی حریف ملیامیٹ ہوچکے ہیں اور اب میاں صاحب جو چاہیں گے کر گزریں گے۔اصل میں یہ ایک بسرام کا دورانیہ ہے جس میں کچھ لوگ سستا رہے ہیں اور کچھ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔میاں صاحب کے لیے یہ کسی خوش گمانی کا شکار ہوجانے کا وقت نہیں اور نہ ہی یہ سمجھ لینے کا کوئی اشارہ ہے کہ اب کوئی اِن کے راستے میں نہیں آئے گا۔مسائل وہیں کے وہیں ہیں اور آڑے آنے والی قوتیں کسی طرح بھی نقاہت کا شکار نہیں۔مثال کے طور پر انتہا پسند یہ دیکھ رہے ہیں کہ میاں صاحب کس قسم کی خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہیں،کیا وہ انتہا پسندوں کی خواہشات کے مطابق امریکہ کو سزا دینے کی اہلیت رکھتے ہیں؟افغانستان کے حوالے سے اِن کا موقف کیا ہوگا، بھارت کے ساتھ وہ کس حد تک ٹکر لے سکتے ہیں؟سب سے بڑھ کر مقامی مسائل جن میں طاقت کے رسیا اداروں کی ریشہ دوانیاں اور انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روک دینا پاکستانی سیاست کے لیے خاصا مشکل ہے۔

اگر ایک طرف خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کو دودھاری تلوار پر چلنا پڑے گا تو دوسری طرف مرکز ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں میاں نواز شریف متنوع انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے جن کو قابو کرنے میں بہت سی قوت صرف کریں گے۔کیا خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف اور باقی صوبوں سمیت مرکز میں پاکستان مسلم لیگ نواز امن و امان قائم کرسکیں گے؟اگر ہم دونوں سیاسی جماعتوں اور اِن کی قیادت کے سابقہ رویے کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اِن کے ہاں کنفیوژن بہت واضح ہے۔ایک وقت میں میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہماری اور طالبان کی حکمت عملی میں کوئی فرق نہیں، دوسری طرف عمران خان اور اُن کی پارٹی کے کئی لیڈر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو پاکستان کی جنگ نہیں سمجھتے اور ہم نے غیروں کی جنگ کو اپنے اوپر مسلط کررکھا ہے۔یہی موقف پاکستان میں دائیں بازو کے طالبان پرستوں اور فرقہ پرستوں کا ہے جو پاکستان کو اس جنگ سے اپنا ہاتھ کھینچ لینے کا کہتے ہیں جبکہ پاکستان پچاس ہزار سے زائد لوگوں کو اس جنگ میں مروا چکا ہے۔پاکستان کی فوج کا موقف ہے کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے لیکن اس کو کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج نے اندرونی خطرات کو بیرونی خطرات سے زیادہ مہلک اور خطرناک قرار دیا ہے۔

میاں نواز شریف کی پارٹی کے اجزائے ترکیبی دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور مخصوص سیاسی حالات کی وجہ سے اب درجنوں ایسے ماضی کے انتہا پسند اور فرقہ پرست مسلم لیگ نواز کا نہ صرف حصہ ہیں بلکہ اِن میں سے کئی پارلیمنٹ کے رکن بھی بن گئے ہیں۔جن کا سوائے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے فروغ کے اور کوئی مشغلہ نہیں۔مسلم لیگ نوا ز کا پاکستان میں جاری انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے حوالے سے موقف ملکی مذہبی جماعتوں سے مختلف نہیں ۔صر ف نواز شریف اپنی سابقہ حکومت کے انہدام کی وجہ سے پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو لگام دینا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسا سانحہ نہ ہو جب کہ نواز لیگ کے اکثریتی ارکان پوری طرح فوج کے مذہبی مزاج اور دیگر تصورات کے پُرزور حامی ہیں۔ملک میں جاری فرقہ وارانہ قتل و غار ت کے بارے میں مسلم لیگ نواز کا موقف واضح نہیں اور اس طرح کے واقعات پر محض رسمی مذمتی بیان سے زیادہ مسلم لیگ نواز کی طر ف سے کچھ سننے میں نہیں آتا۔مذمتی بیان تو جماعت اہلسنت بھی جاری کرتی ہے جس کے ارکان خود قتل وغارت میں نہ صرف شامل ہوتے ہیں بلکہ اس کا پرچار بھی کرتے رہتے ہیں،مطلب بہت واضح ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز متشدد مذہبی گروہوں اور تنظیموں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔           

خیبر پختونخواہ میں فوج اور تحریک انصاف کے ممکنہ تنازعے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ مقتدر پارٹی یہ چاہے گی کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کو بند کیا جائے جب کہ فوجی سربراہ طالبان کو گمراہ کن اقلیت قرار دے چکے ہیں اور فوج کی بیرونی امداد اس قسم کی کارروائیوں سے مشروط ہے۔ تحریک انصاف ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی ریلیوں کا اہتمام کرے گی اور وفاقی حکومت پر ڈرون حملے رکوانے یا پاکستانی سرحدوں میں داخل ہونے والے ڈرون طیاروں کو مار گرانے کے لیے دباو ڈالے گی۔اگلی حکومتوں کے مقدر کا فیصلہ فوج، مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کی تگڑم کے باہمی تعلقات کریں گے اور میڈیا اس میں اہم ترین کردار ادا کرے گا۔طالبان اور فرقہ پرستوں کے پاس سوائے دہشت کے کوئی دوسر ی شناخت نہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وہ متاثرہ علاقوں میں اپنی دہشت کی شناخت کے علاوہ کسی دوسری شناخت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کریں۔کیوں کہ دہشت اور لاقانونیت کے اس اجتماع کے ساتھ ساتھ منشیات، اغواء برائے تاوان، بھتہ اور دیگر جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں اور انتہا پسندوں کے مکمل خدوخال وضح کرتے ہیں۔ایسی صورت حال میں کوئی بھی سیاسی جماعت جو قومی سطح کے سیاسی دھارے میں شامل ہو وہ ایسے عناصر کے ساتھ خود کو نتھی کرنے سے اجتناب برتے گی اور ’’علیحدگی‘‘ کے شکار انتہا پسند اپنی پرانی روش پر قائم رہنے میں ہی اپنی بقاء سمجھیں گے۔یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور اجتماعی طور پر امن وامان کی صورت حال مخدوش رہے گی۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس ماحول میں موجودہ سیاسی جماعتیں فوج اور خطے میں بیرونی فریق ممالک کو نظر انداز کرکے کوئی کلیدی فیصلہ کرلیں گی، تو یہ ایک مہلک غلط فہمی ہوگی جس کی کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان کے مخصوص حالات میں متحمل نہیں ہوسکتی۔نہ صرف سیاسی پارٹیوں میں خلفشار ہوگا بلکہ فوج کے اندر وحدت کو بھی زک پہنچے گی اور انتہا پسندی کی ایک نئی اور خطرناک صورت سامنے آئے گی۔

 

مجاہد حسین ، برسیلس میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL for English article:

http://newageislam.com/current-affairs/mujahid-hussain,-new-age-islam/can-the-new-pakistan-government-hold-meaningful-dialogue-with-taliban?/d/11916

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam-مجاہد-حسین/can-the-new-pakistan-government-hold-discussions-with-taliban?--کیا-نئی-حکومتیں-طالبان-کے-ساتھ-بامعنی-مذاکرات-کرسکتی-ہیں؟/d/11921

 

Loading..

Loading..