New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 12:05 AM

Urdu Section ( 29 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Pakistan: A Picture Perfect of Deteriorating Situation پاکستان۔بگڑتی ہوئی صورت حال کا منظر نامہ

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

30 اگست ، 2013

پاکستان پرایک عمومی تذبذب سایہ فگن ہے،فوج خاموش ہے کیوں کہ کراچی کا بم پھٹنے والا ہے اور پشاور سمیت کوئٹہ میں حالات ریاست کی عملداری سے بالاتر ہیں۔قدرے کم شدت اور مایوسی کے ساتھ صورت حال لاہور اور دوسرے بظاہر پُرسکون پنجابی شہروں میں بھی ایسی ہی ہے لیکن نواز لیگ کی قیادت کی طرف سے ایک متشدد فرقہ پرست تنظیم کے سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی سزا پر عملدآمد روک کر ’’مہلت‘‘ طلب کر لی گئی ہے، جسے نواز لیگ اور اس کے فرقہ پرست حمایتی دانش مندی کا نام دے رہے ہیں۔

ہوسکتا ہے اس فیصلے میں ایسی دانش مندی پنہاں ہو جو ابھی تک عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے لیکن ایک چیز البتہ اس دانش مندی کے حصار میں سے چیخ چیخ کر اپنا آپ ظاہر کررہی ہے اور وہ ہے،طالبان اور اُن کے فرقہ پرست ساتھیوں کی طاقت اور رسائی۔اس میں کوئی ابہام نہیں کہ شریف برادران مذہبی انتہا پسندوں سے ٹکر مول لینے سے اجتناب برت رہے ہیں اور اپنی ہی جماعت کی صفوں میں موجود انتہا پسندوں اور ان کے ساتھیوں کے نرغے میں ہیں۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پنجاب اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کو سیاست دان، تاجر اور دیگر متمول افراد ماہانہ رقوم فراہم کرکے ’’محفوظ‘‘ ہیں اور ایک نسبتاً پر امن مسلک کی پہلے سے موجود مساجد پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ضمن میں اُتنے ہی معذور ہیں جتنے شریف برادران۔جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع سے خفیہ اداروں کی تیار کردہ رپورٹس کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہاں انتہا پسند اور فرقہ پرست کس قدر طاقت ور ہیں اور اُن کے خلاف کارروائی محض ایک خواب ہے۔اگر اُن کے خلاف کسی کارروائی کا اعادہ کیا بھی جاتا ہے تویہ قطعی طور پر ممکن ہے کہ اُنہیں ہر جگہ موجود اُن کے ساتھی قبل ازوقت آگاہ کردیں گے۔

لاتعداد سکہ بند دانش ور اور اخبار نویس یہ سب کچھ ماننے کو تیار نہیں، بلکہ اُن کی طرف سے ایسے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا نوے کی دہائی کے شروع میں طالبان اور اس قبیل کی دوسری تنظیموں کا محض ذکر کرنے پروہ سیخ پا ہوجاتے تھے۔پچھلے سال پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے باقاعدہ یہ خبر ذرائع ابلاغ کو جاری کی کہ پاکستانی ریاست کو اندرونی خطرات کا ماضی کی نسبت کہیں زیادہ سامنا ہے اور حتی کہ یہ خطرات بیرونی خطرات سے بھی مہلک اور توجہ طلب ہیں۔لیکن اس کے بعد فوج کے اس اعتراف نما اعلان کو بھی درخوراعتنا نہیں سمجھا گیا اور دانش ورانہ تشنج کے زیر اثر پروان چڑھنے والے قومی بیانیہ کی دھار وہیں کی وہی ہے کہ نہ تو یہ ہماری جنگ ہے اور نہ ہی ارض پاک کو اس سے کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔جو لوگ متشدد فرقہ پرستوں اور انتہا پسندوں کے گرویدہ ہیں اُن کی نظر میں سوائے اُن کے ممدوحین کے باقی تمام عناصر گمراہ اور دشمن کے ساتھی ہیں جن کا صفایا واجب ہے۔سوشل میڈیا اس قسم کے ربط و یابس کا ایک انمول خزانہ ہے جو ہماری اجتماعی سوچ کو سرعام ننگا کردیتا ہے۔اور جہاں تمام سیاسی و غیر سیاسی ریاستی عہدیداروں کے بارے میں فرداًفرداً فتاوی موجود ہیں۔اس سارے اودھم میں جو خاموش اکثریت بظاہر تشدد پسندوں سے بیزار نظر آتی ہے، اس کا نقطہ نظر اس لیے واضح نہیں کہ اُنہیں جس قسم کی معلومات تک رسائی حاصل ہے اور ہمارے لاتعداد متذبذب دانش ور جو مواد اُن کے اذہان میں روزانہ اُنڈیلتے ہیں اُ س میں جانبداری اور جھوٹ کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔چونکہ عام طور پر مباحثے کا ماحول موجود نہیں اس لیے اجتماعی رائے کو قابل قبول بنانے کے لیے اینکرز حضرات درمیان میں کود پڑتے ہیں اورقومی بیانیے کی دوتین لازمی شقوں کو دُھرا کرتمام سازشوں کے تانے بانے سرحدوں سے باہر ملا کر اور مقامی غیر متشدد سیکولر خواتین و حضرات کو صلواتیں سنا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔اِن کی اور اِ ن کے اداروں کی حب الوطنی اور حب المذہبی قائم رہتی ہے اور رائے عامہ ہچکولے کھانے لگتی ہے۔

ایسی صورت حال کے بارے میں عام لوگوں کا آگاہ ہونا بہت حد تک مشروط ہے کیوں کہ ذرائع ابلاغ کے مقامی نمایندے ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں شدت پسندوں کی صورت حال یا اُن کی کاررائیوں کی کسی قسم کی کوریج کا اہتمام کرسکیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُنہیں کسی طرف سے بھی کوئی تحفظ حاصل نہیں، نہ اُن کے ادارے اس ضمن میں کچھ کرسکیں گے اور نہ ہی حکومت اس طرح کا سردرد مول لے سکتی ہے۔لہذا ہم ’’محفوظ‘‘ معلومات کے سہارے زندہ رہتے ہیں اور محض ٹامک توئیاں ہمارا مقدر ٹھہرتی ہیں۔جب کہیں دہشت گردی کی کوئی واردات ہوجاتی ہے تو ہم سانس روک لیتے ہیں اور ہمیں یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کا کیا دھرا ہے۔کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا۔مثال کے طور پر پاکستانیوں کی اکثریت مظلوم ہزارہ برادری کے مصائب کے بارے میں بہت کم جانتی ہے، سوشل میڈیا کے شاہین رہی سہی کسر اس طرح نکال دیتے ہیں کہ چونکہ شام میں علوی شیعہ سنی مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں اس لیے اگر محض ایک سال میں سینکڑوں ہزارہ افراد کو کاٹ کررکھ دیا گیا ہے تو یہ ایک طرح کا بدلہ ہے۔پاکستانی عوام کی اکثریت نہیں جانتی کہ کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کس نہج پر ہے اور کس طرح شیعہ فرقہ کے لوگوں کی عملی ناکہ بندی مقامی سرکاری اداروں اور پولیس کی مدد سے کی جاتی ہے۔پاکستانی عوام تو یہ بھی نہیں جانتے کہ لشکر جھنگوی اور القاعدہ کے ارکان نے کس چابکدستی کے ساتھ کراچی میں سینکڑوں اہل تشیع ڈاکٹروں اور دوسرے پیشہ ور افراد کا صفایا کیا ہے،جب کہ کراچی کی ہلاکتوں کو پاکستانی ذرائع ابلاغ وہاں کی روایتی لسانی کش مکش کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔

پاکستان کے سول اور فوجی حکمرانوں کے علاوہ مذہبی رہنماوں یا اخباری دانش وروں کے پاس کوئی ایسا لائحہ عمل نہیں جو ریاست کو اس مصیبت سے نجات دلاسکے۔اس کی اہم ترین وجہ فرقہ پسندوں کی مضبوط ہوتی ہوئی جکڑ بندی ہے جو عام لوگوں کو آسانی کے ساتھ بانٹ دیتی ہے۔آج آسانی کے ساتھ ریاست کے سرکاری و نجی اداروں میں اس جکڑ بندی کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ اس تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا کیا انجام ہوگا کیوں کہ ریاستی مشینری تقریباً مفلوج ہے اور ایسے لاتعداد شواہد موجود ہیں کہ تفتشی مراکز سے لے کر عدالتوں تک میں فرقہ وارانہ دباؤ کے تحت کام چلتا ہے۔بہت سے جج ایسی تقاریب میں جہاں میڈیا کوریج کا مکمل اہتمام ہو بھاشن بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن مذہبی و مسلکی انتہا پسندی کے مقدمات کی سماعت کے دوران اِنہیں سانپ سونگھ جاتا ہے اور لاتعداد طاقت ور ملزمان کو بری کردیا جاتا ہے۔یہ ایک ایسی روش ہے جس کا نقطہ انجام بڑے پیمانے پر انارکی اور قتل وغارت کا برپا ہونا ہے کیوں کہ پارلیمنٹ سے لے کر کسی ذرائع ابلاغ تک میں اِن موضوعات پر معروضی رائے ناپید ہے۔

مجاہد حسین ، برسیلس میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-husain,-new-age-islam/pakistan--a-picture-perfect-of-deteriorating-situation--پاکستان۔بگڑتی-ہوئی-صورت-حال-کا-منظر-نامہ/d/13281

 

Loading..

Loading..