New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 06:02 PM

Urdu Section ( 7 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Need For Amendments In Islamic Rituals اسلامی رسومات میں ترمیم کی ضرورت پر ایم حسین صدر کے مضمون پر محمد یونس کا رد عمل

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام

 3ستمبر، 2011

مصنف محمد یونس، باشتراک  اشفاق اللہ سید ،اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

(انگریزی سے ترجمہ‑ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)                                         

اس مضمون کے آخری  حصے میں  اس بات کا بیان ہے کہ اسلام کے قدیم قوانین  مثلاًروزہ،متعینہ  پانچوں وقت کی نماز مسجد میں ادا کرنا، خواتین کااپنے پورے جسم کو ڈھکنا، اور جسمانی طور پر موجودہو تے ہو ئے  چاند کودیکھنے وغیرہ پر  اصرار کرنا آج کی تیز رفتار دنیا میں درا صل تاریخی اعتبار سے غلط ، اور اکثرمسلمانوں پر بار گراں ہے۔ مزید برآں اگر  اسلام کے رسوم و رواج  اور علامتی پہلوؤں پر توجہ کی جائے تو اس اسلام  کی  شبیہ  ،جو اپنی ابتدائی صدیوں میں ایسا شاندار مذہب’تھاجس نے دنیا کو  پیچھے چھوڑتے ہو ئے اس قدر ترقی کی کہ اسکے دشمنوں نے بھی  اس پر تعجب کا اظہار کیا ، ایک ایسے مذہب کی صورت میں سامنے آئےگی  جو آج  سرعت  کےساتھ سب سے علیحدہ  ہوتی جا رہی ہے اور  لوگ اس سے نفرت  کر رہے ہیں ۔ نیز یہ مسلمانوں کا اخراج  ایک ایسے خطے میں کررہاہے  جہاں رسوم و رواج اور علامت پرستی کا غلبہ ہے ، جو  باقی کی دنیا سے مسلمانوں کو  بیگانہ بنا رہا ہے۔

مسلم دانشوروں کے ساتھ مسئلہ یہ ہےکہ وہ راسخ الاعتقاد لوگوں اور علماء کو یہ جانے بغیر کہ وہ ایسا نہیں کریں  گے کیونکہ وہ تنہا اس کے بانی  و نگراں اور ان مذہبی رسومات میں ہونے والی ترقیوں سے فائدہ اٹھانے والے ہیں، اسلام میں پنپ رہے  رسوم و رواج اور علامت پسندی  کے خاتمے کے لئے کہتے ہیں ۔ اگر وہ ‘ اصلاح ’چاہتے ہیں تو  انہیں راسخ الاعتقاد  لوگوں ،اور علماء کو چیلنج ان ہی کے  انداز میں کرنا ہوگا اور قرآن کا مطالعہ گہرائی  کے ساتھ  کرنا ہوگا۔ تب انہیں اس بات کا  پتہ چلے گا  کہ اسلام میں  رسومات اور علامت پسندی  کے لئے ایک محدوداور لچکدار  مقام ہے اوریہ  عالمی سطح پر  کئی سماجی، اخلاقی اور عالمگیر مثالوں کو واضح کرتا ہے، تب جاکر وہ  21ویں صدی کے حقائق کا سامنا کر نے کے لائق ہو نگے ۔

میں مصنف کی تشویش کی قدر  کرتے ہوئے مضمون  میں دیئے گئے کچھ بے وقعت بیان پر  تبصرہ کرنےپر مجبور ہوں، جو مذہب کو سمجھنے  میں الجھن کا سبب بن سکتے ہیں ،جسکی وجہ سے  آنے والی نسلوں میں  اسلام کے متعلق شک و شبہ پیداہوگا اور اسلام ہراسی پھیلانے والوں کو تقویت  ملے گی ۔

1۔   "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کو، خاص طور سے عربی خانہ بدوش قبیلوں کو ایمان کے پانچوں  ستونوں پر بہتر طریقے سے عمل کرنا سکھایا ہے ۔..."

میرا تبصرہ

(1)   اس سےمقصداس  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی کرنا ہے۔جوہر زمانے کی تمام انسانیت  کے لئے سب کو گلے لگانے کا  پیغام‘ قرآن ’لے کر آئے ۔جس کی حد ایمان کے ستونوں سے بھی وسیع و عریض ہے۔ مثلاً قرآن اعمال صالحہ، انصاف، کاروبار کے منصفانہ طریقۂ کار، حاجت  مندوں کے ساتھ دولت کا اشتراک، اپنے رشتہ دار اور وہ لوگ جن کے سے ہمیں سرو کار ہے ، ان کے تئین ہماری سماجی ذمہ داری (جن  میں ملازمین شامل ہیں)، اچھے بین المذاہب تعلقات، صبرو تحمل ، شعور کا  استعمال، جائز  سرگرمیوں میں بہتر کار کردگی کے لئے جد و جہد ، خواتین کو با اختیار بنانے اور غلامی کو ختم کر نے پر شدید  زور دیتا ہے۔

(2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری صرف اللّہ کے  پیغام کو (5:99، 7:158، 13:40 42:48) وضاحت کے ساتھ(5:92، 16:82 24:54) پہنچاناتھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےایسے  مثالی اخلاق اورطرز عمل پر قرآن ہر زمانے کے مسلمانوں کو(30:21) عمل کرنے کا حکم دیتا  ہے ، آپ کے مشن میں جس کی قرآنی جھلک پائی جاتی ہے۔

لیکن  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو 'خانہ بدوش عرب قبائل' کے  'استاد’ کے طور پر پیش کرنا، اسلامی تعلیمات کو  ان کی تاریخی حد ود میں مقرر کرنا ،اور قرآن کی عالمگیریت پر نقب زنی کر نا ہے۔

(3)  ایسا کرنا  نبیﷺ کے  پیروکاروں کی ذاتی خصوصیات اور ان کے  اعتماد کی بیخ  کنی کرنے کی طرح  ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ ابن ابو رابعہ رضی اللہ عنہ کے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی صحابہ خانہ بدوش نہیں تھے۔ مزید برآں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں میں سے کچھ  بعد میں اتنی  سرعت کے ساتھ ترقی پذیر اسلامی سلطنت کے گورنر، منتظمین اور خلفاء بن گئے،کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدسو سالوں میں ہی اس کی حدیں بحر اوقیانوس (اسپین)  کے کنارے سے بحر الکاہل ( چین) تک پھیل گئیں، اورایسےمختلف مذاہب و ثقافت سے جن سے اس کا سامناہوا  ان گنت لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ایسا  کوئی بھی شخص جسے قرآن کا بنیادی علم ہے وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ  قرآن نے کئی خانہ بدوش عربوں کےایمان کی کمزوری (48:11)اور کچھ کے نفاق میں شدت(-979:95) کو واضح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کی وضاحت خانہ بدوش  کے طور پر کرنا قرآنی پیغامات اور تاریخ دونوں کو مسخ کر نے کے مترادف  ہے۔

2۔ زیادہ تر اسلام کے بڑےبڑے  عملیات کا خاکہ حقیقتاً  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے   پیش کیا تھا، اوراس  میں توسیع بعدکے ادوار  میں امام حضرت ابو حنیفہؒ جیسے مختلف اسلامی اسکالرز (اماموں) نے کیا تھا...

میرا تبصرہ

(1)   اس طرح کا  بیان اسلام  کا دائرہ چند  عملیات  تک  ہی محدود کرتا ہے ،اور قرآن کے سماجی اور اخلاقی اصلاحات اور عالمگیر مثالوں کو گمنام  تاریکی کے حوالے کر دیتا ہے۔اسلا م روایتی  طور پر عبادات یعنی ایک خدا یا مختلف  خداؤں کی عبادت کرنے یا چندمراسم ذریعے سادھو سنتوں کو اعزاز  بخشنے کا دین نہیں ہے۔ اسلام ایک ایسا  'دین' یا 'نظام حیات ہے جو اپنے سب کو گلے لگانے والے  پیغام  کے بعد قابل تقلید  بنا۔

(2)  یہ بیان نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو اعمال و مراسم کے  بانی کی  حیثیت سے مبالغہ کے ساتھ  پیش کرتا ہے ،اور  تاریخی  نقطہ نظر سے اس بات کی  تکرار میں اضافہ کرتا ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مراسم  کی بنیا درکھی   بعد کے اماموں نےاسکی توسیع کی۔

جیسا کہ قرآن گواہی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری  صرف خدا کے ان  پیغامات کو پہنچانا تھی جو وحی کی شکل میں  آپ ﷺ پر نازل ہوا تھا، وحی میں نماز کے مختلف حالات، وضو کرنے کے طریقے، مناسک حج اور روزہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ صرف وہ جن لوگوں  کو یہ لگتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے (نعوز باللہ) مصنف ہیں وہی  اس طرح کا  بیان دیں گے۔ عمداً کوئی بھی مسلمان  اس طرح کا بیان کبھی نہیں دے سکتا ہے۔

3۔ “ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ روزے رکھنے سے ہمیں ایک بھوکے شخص پر گذرنے والی مصیبتوں  کا احساس ہوتا ہے"۔

میرا تبصرہ

قرآن کبھی ایسا نہیں کہتا ۔ جہاں تک قرآنی پیغام کا تعلق ہے تو قرآن  روزہ کو تقویٰ کے حصول  کا ایک ذریعہ بتاتا ہے: اور  اسکے ذریعہ وہ انسانوں کو اپنے نفس پر قابو پانے اور  اپنے ضمیر  کی جانب متوجہ ہونے کا  حکم دیتا ہے (2:183، 2:187)۔ اسے چھوڑنے پر  کسی جرمانہ یا سزا کی کوئی  گنجائش  نہیں ہے، اور  جو نہ رکھ سکے وہ کم از کم  ایک غریب کو کھانا کھلا کر  اس سے بری ہو سکتا ہے (2:183)۔ روزہ  کو خدا کی عبادت کاایک طریقہ  بتایا گیا ہے جس میں ہدایت  عطا ء کرنے پر  خداکی تعظیم اور اس کا شکر ادا کیا جاتا ہے (2:185) قرآن مزید اعلان کرتا ہے کہ  خدا لوگوں کے لئے آسانی چاہتا ہے اور لوگوں کے لئے مشقت نہیں چاہتا ہے (2:185)، اور اس طرح روزے کی نوعیت کے مطابق  جو اسے  بہت سخت پائیں وہ طے کر سکتے ہیں کہ  روزہ رکھیں یا نہیں‑ اگرچہ قرآن  کا حکم  ہے کہ روزہ رکھنا بہتر ہے(2:183)۔ لہٰذا   مصنف کے ذریعہ  دیا گیا بیان گمراہ کن ہے۔---

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔متعلقہ مضمون: مختلف اسلامی رسومات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

Related article: Need to Modify Various Islamic Rituals & Practices

 

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/need-to-modify-various-islamic-rituals---practices/d/5395

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/muhammad-yunus-responds-to-m.-husain-sadar‘s-article-on-need-for-modifying-islamic-rituals/d/5429

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/need-for-amendments-in-islamic-rituals--اسلامی-رسومات-میں-ترمیم-کی-ضرورت-پر-ایم-حسین-صدر-کے-مضمون-پر-محمد-یونس-کا-رد-عمل/d/7261

 

Loading..

Loading..