New Age Islam
Wed Apr 21 2021, 11:25 AM

Urdu Section ( 8 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Newt Gingrich not the Only One to Curse Ancient Islamic Laws قدیم اسلامی قانون کی لعنت و ملامت کرنے والوں میں نیوٹ گنگ رچ اکیلے نہیں

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام

 27 دسمبر،   2011

مصنف محمد یونس، باشتراک اشفاق اللہ سید ،اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

انگریزی سے ترجمہ‑ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام

ریپبلکن پارٹی کی جانب سےامریکی صدارتی عہدے کے امیدوار نیوٹ گنگ رچ نے امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ آف واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران جولائی 2010 میں مبینہ طور پر کہا  ہے کہ  "مجھے یقین ہےکہ  شریعت امریکہ اوراس دنیا میں آزادی  کی بقاء  کے لئے ایک  انتہائی مہلک خطرہ ہے کیسا کہ ہم جانتے ہیں ۔

قدیم اسلامی قانون اللہ کے احکام  نہیں ہیں کہ عنوان سے میراایک حالیہ مضمون  بھی دور  حاضر کے تناظر میں  اعلان کرتا ہے کہ قدیم اسلامی قانون "اسلامی تہذیب  و تمدن اور عالمی امن وسکون کے لئے خطرہ ہے۔

حوالہ:

http://www.newageislam.com/urdu-section/قدیم-اسلامی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۱--کس-طرح-قرآن-کے-پیغامات-کو-پلٹ-دیا-گیا/d/6237

http://www.newageislam.com/urdu-section/قدیم-اسلامی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۲--مستقبل-کی-راہ/d/6247

موجودہ دنیا کوقدیم اسلامی قوانین سےدر پیش خطرات  سے آگاہی میں بے ساختہ دماغ سے نکلےہو ئے مندرجہ بالا خیالات ایک نحوست و   بد شگونی  کے مانند  ہے۔ 

 لہذا اس بیان کو صرف سادہ لوح   انسان ہی نیوٹ  کا ایک سیاسی بیان تصور کریں گے۔ حوالہ دیئے گئے مضمون میں اس سخت تنقید کے جوازمیں دلائل کی تفصیلات مذکور ہیں ۔جو اسی اکتوبر میں دو قسطوں  میں منظر عام پر آ چکے ہیں ، اورجس پر صرف تین مسلم قارئین نے تبصرہ کیا ہے۔ دنیا کے  سب سے عظیم سیاسی اور فوجی عہدے  کے لئے ایک سنجیدہ مدمقابل کے بیان کو سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے ، نیوٹ گنگ رچ  کے بیان کے آخری حصہ  پر  امریکی مسلم رہنماؤں کو وسعت نظری کے ساتھ غور فکر  کرنا چاہئے، جو ایک بین الاقوامی  ویب سائٹ پر ایک سال سے بھی پہلے ایک مسلم مفسر کے ذریعہ  ڈالا گیا تھا۔ حوالہ: en.qantara.de/Mohammed-Yunus-12-September-2010/9446c9550i1p708 /

"مسلمادانشوران  کیلئے اسلامی عقیدےکی تقسیم اس کی بنیادی کتاب، قرآن اور اس کے دینیات کے مجموعہ  (روایات اور شرعی قوانین) کے درمیان تقسیم پر توجہ دینے کا وقت آ گیا ہے : جن  میں سے ایک ایمان کے  مرکز کی صورت میں ایک زمانے میں ظاہر ہوا، اور دوسرے کا ظہور دوسری صدی کے بعد ایمان کی ابتدائی موج میں لہر کی صورت میں ہو ا۔اول الذکر مستقل، ابدی اور تاریخ  کی بندشوں سے آزاد ہے۔ جبکہ مؤخر الذکراسلام میں داخل ہونے والوں  کا اسلام سے قبل ایمان، تہذیبی حالات، مذہبی رجحان اور  اس  دورکے  تعلیمی مناہج جیسے  تاریخی عوامل سے ضرور متاثر رہا ہے۔ اگر اسلام کا  ایسے  'مذہب' سے موازنہ کیا جاتاجسکی تا ئیدقرآن  نے کی ہے ،اس سے قطع نظر کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے قائم کیا ہے تو یہ  عالمگیر، روادار، متوازن، صنفی غیر جانبدار، جامع، غیر سیاسی، تکثیریت اور  لچکدار ہے ،اگرچہ اس کے  وسیع حدودکی بات کی جائے تو یہ انصاف، آزادی، مساوات، اور دوسرے آفاقی  سیکولر اقدار کی کا نمائندگی کرنے والا  ہے۔

لیکن اگر یہ ایک مذہب ہے، اور برائے نام ہی اسے قرآن سے منسوب کیا گیا  ہے، لیکن اس  کی تعمیر  ایسے دینی  وسائل  و ذرائع پر کی  گئی ہے جس پرقدیم فقہا اور ماہرین قوانین اصرار کرتے ہیں تویہ قرآنی نمونہ : زمانے کے مخصوص، عدم روادار، جامع، سیاسی رجحان والا، صنفی، اور انصاف،  آزادی اور مساوات چاہنے والےمذہب   سے مختلف اور یہاں تک کہ متضاد ہو سکتا ہے۔

 اگر  فقہی رجحان پر مبنی اسلام کا موجودہ سیاست زدہ نمونہ  برقرار رہتا ہےتو  اس کے ملا اورمذہبی قدامت پسند پیشوا پورے مسلم طبقے کوقرون وسطی کے زمانے میں ہی قید رکھےنگے،اور اسلام(علیٰ اعلان یا خاموشی کے ساتھ)  یوروپ اور مغرب میں  بالکل اجنبی اور قابل نفرت بنا رہے گا۔

 لیکن اگر مسلمانوں کے مذہبی قائدین  عقیدے کے بنیادی اصول اور قرآن کے  آفاقی اقدار ونظریات پردوبارہ غورو فکر کرتے ہیں اور اس کے مذہبی احکامات کا جائزہ تاریخی تناظر میں لیتے ہیں، توسیکولرائزیشن، گلوبلائزیشن اور مغربی معاشرے کے ساتھ وسیع تر ربط و ضبط پیدا کرنے کے لئے اسلام میں بہت اچھے  مواقع ہیں۔"

لہٰذا، حوالہ دئے گئے مضمون میں جو نتیجہ پیش کیا ہے شاید کچھ لوگ اسے پڑھ چکے ہوں گے: اعلیٰ طبقے کے مسلمان اور  لیڈران کے لئے  وقت آ گیا ہے کہ وہ اسلام کے  قدیم شرعی قوانین  کو جدید اسلامی(شرعی)  قوانین سے تبدیل کریں جو قرآن کے وسیع دائرے میں  ہو اور جس میں مغرب کے  سیکولر اقدار  شامل ہو۔ اس تجویز پر عمل در آمد  میں ذرا بھی سستی یا کاہلی  خالد ابو الفضل کی تشویش کو مزید تقویت پہنچائے گی، ‘کیا اس دن کا آنا  ممکن ہےکہ جب ہمارا تذکرہ ختم ہو جانے والی تہذیبوں میں ہوگا’۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔متعلقہ مضمون: مختلف اسلامی رسومات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/newt-gingrich-is-not-alone-in-castigating-the-classical-islamic-law-/d/6236

 

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/newt-gingrich-not-the-only-one-to-curse-ancient-islamic-laws--قدیم-اسلامی-قانون-کی-لعنت-و-ملامت-کرنے-والوں-میں-نیوٹ-گنگ-رچ-اکیلے-نہیں/d/7275

 

Loading..

Loading..