New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 05:40 PM

Urdu Section ( 7 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Why are Muslims Converting to Christianity !مسلمان کیوں عیسائیت قبول کر رہے ہیں: ایک محا سبہ

 

محمد یونس، نیو ایج  اسلام

شریک مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

اس موضوع پر اس ویب سائٹ پر پوسٹ کئے گئےایک حالیہ مضمون کے جواب میں،

http://www.newageislam.com/urdu-section/مسلمانوں-کو-غور-کرنے-کی-ضرورت-ہے-کیوں-ہم-میں-سے-لاکھوں-افراد-اسلام-چھوڑ-کر--عیسائیت-اپنا-رہے-ہیں-یا--خود-کو-سابق-مسلمان--بتا--رہے-ہیں۔/d/8105

آبادیاتی مطالعہ   سے پتہ چلتا ہے کہ  گزشتہ ایک صدی میں افریقہ میں  بڑے پیمانے پر مسلمانوں نے  عیسائیت  قبول کیا ہے‑ یہ ایک ایسا  رجحان ہے جس نے  حالیہ زمانے   میں رفتار حاصل کی ہے۔ اسے اقتصادی، فوجی اور جہالت کے عوامل سے منسوب کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ حوالے کے طور پر دئے گئےمضمون میں  شاندار طریقے سے  اسلامی اسکالر اور  مفکر منظور الحق  نے اپنے  عالمانہ  تبصرے میں وکالت کی  ہے، جو سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ  ہے مسلمانوں کے درمیان غیر مسلموں کی موجودگی ‑ اندر کے لوگ جو اپنے عقیدے کا خود مذاق اڑاتے ہیں اور موقع ملنے پر  اپنے مذہب کو تبدیل کر لیتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ وہ لوگ جو  مسلسل  بہت ہی معمولی  مذہبی مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور اسلام کو  ساتویں صدی کے عرب میں ہی برقرار رکھتے ہیں۔ تاریخی نقطہ نظر سے اسلام کو  الوداع کہنا ایک  نیا رجحان ہے جو اسلام  کی  بگڑتی  ہوتی حالت  کی   عکاسی کرتاہے یہ اسے  21 ویں صدی کے تعلیم یافتہ اور یہاں تک کہ غیرتعلیم یافتہ  لوگوں کی حمایت  کرنے کے ناقابل بناتا ہے۔ وہ لوگ جو اس کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت یا مذہب کے تئیں ذمہ داری میں کمی  کو بتاتے ہیں یہ سمجھنے میں قاصر ہیں کہ  وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اسلام میں فساد  کا نتیجہ ہے۔ جب تک اسلام کو نیا جنم نہیں دیا جائے گا، تب تک لوگوں میں اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اپنے ایمان کا احترام  پیدانہیں ہوگا اورلوگ اسلامی  عقیدے کو ترک کرتے  جائیں گے۔ یہ مضمون اس تباہ کن رجحان کے مختلف پہلوئوں کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی غلط تشہیر  عالمی سطح پر مسلمانوں کے لئے  نقصان دہ ثابت ہو۔

1 ۔ اسلام کو قدیم شریعت قانون سے جوڑ کر  دیکھا جاتا ہے  جو ایک ایسا مذہب ہے جو   دوسری  باتوں کے علاوہ   بدکاری کے لئے رجم کی سزا،  ارتداد اور توہین رسالت  کے لئے سزائے موت، ہم جنس پرستی کے  لئے سزا، غلامی،  غیر مسلموں کے خلاف امتیاز اور نفرت، دنیا کو  آبادیاتی بنیاد پر مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم، علم کا اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم ، عارضی شادی،  فی الفور طلاق،  عصمت دری کا قانون، غیرت (آنر) کے نام پر قتل، خواتین کا مکمل پردہ، مجموعی طور پر  صنفی عدم مساوات، بچوں کے ساتھ  بدسلوکی  کے خلاف والدین کو معافی وغیرہ، جو احکام جدید تہذیب کے جتنےمخالف ہیں اتنے ہی  وہ قرآنی پیغامات سے تضاد رکھتے ہیں [1]۔

2 ۔ عصر حاظر کے اسلامی تہذیب نےمکمل طور پر حدیث   کے مجموعہ کا احترام اور انہیں برقرار رکھنا جاری رکھا ہوا ہے جس میں سے " کچھ تذکرے بہت عجیب   اور جنسیت کے لئے اکسانے والے، دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والے،  بین المذاہب نفرت کو فروغ دینے والے،  شدت سے خواتین مخالف، سائنسی اعتبار سے غیر مدافع، خود میں ہی متضاد اور قرآن سے مطابقت نہ رکھنے والے ہیں"[2]۔

3۔ اسلامی ذرائع (حدیث اور نبی صلی اللہ علیہ کی سوانح عمری) پر انحصا رکرتے ہوئے مغربی اسکالرس نےایسی وحشیانہ سزائوں جیسے  اعضاء کاٹ لینا، آنکھیں  نکال لینا، زبان، ناک، کان، انگلیاں، ہاتھ، پاؤں، خصیہ کاٹ لینا اور نہ صرف چاقو  سے بلکہ  ایسے آلات سے آنتیں نکال لینا جنہیں پہلے آگ پر  گرم کر سرخ کیا جاتا ہے "[3]۔  کو  صحیح ثابت کیا ہے

4 ۔ ادبی  انداز، ترتیب، مثالیں اور ادب حدیث قرون وسطی  کے اوائل زمانے سے تعلق رکھتے ہیں " ان کی مسلسل روایتی مذہبی اسکولوں (مدارس)  میں  درس و تدریس اور تبلیغ طالب علموں کے ذہنی نشو نما پر  منفی اثرڈال سکتی ہیں ، جو ان  کی قوت استدلال  کو قید کرتی ہے اور  عملی طور پر ان کی عقل کو  قرون وسطی کے  اوائل زمانے  میں منجمد کر سکتی ہے [4]۔

5 ۔ پیغمبر اسلام  صلی  اللہ علیہ وسلم  کو اعلانیہ  اور طنزیہ طور پر برا بھلا کہا گیا ہے۔  تنقیدی  اسکالرس نے  حدیث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ابتدائی سوانح عمری سے  ان عناصر کو جوڑ کر پیش  کیا  جو  ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے انسان کے طور پر پیش کرتی ہیں (نعوذ باللہ ) جنہوں نے  قیدیوں کا قتل عام کیا،  قافلے کو لوٹا، خواتین اور بچوں کو غلامی کے لئے فروخت کر دیا، قیدی خواتین کے ساتھ جنسی  تعلقات قائم کئے، قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،  9 سال کی لڑکی سے شادی کی، اپنے گود لئے بیٹے  کو مجبور کیا کہ وہ  اپنی بیوی کو طلاق دے تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اس کو اپنی بیوی کے طور پر رکھ سکیں (وہ مبینہ طور پر بہت خوبصورت تھی)، غیرمسلمانوں کے خلاف  جنگ کا حکم دیا اور انہوں نے  اپنے کچھ ناقدین اور حریفوں کو قتل کیا تھا [5]۔

6 ۔ جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں،'' مشرق  میں اصول دین بن جاتے ہیں‑ مغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں" [6]۔  ان کا جو  واضح طور پر مطلب تھا جو آج بھی  درست ہے کہ مسلم دنیا میں  زور  'مسئلہ '  یا مذہب کے اصول  پر ہےاور اس کے  اہل علم کا ایک بہت بڑا حصہ مسلسل مذہبی اصولوں کی تشریح اور  تعبیر نو کر رہے ہیں‑ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس سے  انسانی تہذیب  کی ترقی میں   ایک ملی میٹر کی  بھی پیش قدمی نہیں  ہوتی ہے جو کہ کہنے کے لئے  دوسرے الفاظ میں  کلو میٹر کی رفتار سے پیش قدمی کر رہی ہے۔

7 ۔ ایمان کے بنیادی ستونوں کے تئیں ان کی جنونی اور  مخصوص عقیدت قرآن کے سماجی و اخلاقی  مثالوں کی فہم کو مبہم کرتا ہے اور یہ ان کی  تحقیق  اور عظیم  کارناموں پر گہن لگاتا ہے اس کی سربلندی پر پابندی لگانا، عقل، فقہا اور اجتہاد  کے خلاف  اس کی فہم  میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔  اس طرح  وقت کے گزرنے کے ساتھ ہی  ان لوگوں نے  اسلامی دانشورانہ ورثے اور روشن خیالی کی روح  کو کھو دیا ہے، جو تاریخ کے سنگم کے ذریعے  جسےعیسائی مغرب کے روپ میں راستہ مل گیا ہے۔   علامہ اقبال کا حوالہ  دوبارہ یہاں پیش ہے [7]۔

"اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے‑ چمن ميں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں ميری== اڑالی قمريوں نے ، طوطيوں نے‑  عندلیبوں نے‑ چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں ميری"

8 ۔ درج بالا (اوپر 7) کے نتیجہ کے طور پر، تعلیمی اور پیشہ ورانہ شعبوں، ثقافتی میدانوں،   باعزت  اور حلال  ذریعہ معاش کے مواقع میں عملی طور پر  ان تمام ملکوں میں جہاں مسلمان  اقلیت میں  موجود ہیں اور ساتھ ہی ساتھ  بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کی شراکت  انتہائی کم ہے۔

9۔ مسلمان غیر قانونی طور پر خود کو ایک مخصوص طبقہ اور خود کو   باقی کے انسانوں سے  مختلف  کے طور پر پیش کرنے پر بضد ہیں ۔ قرآن کے عالم گیر پیغام کے بر خلاف یہ ایک عالمی اسلامی ثقافتی  بستی کی تشکیل کرتے ہیں۔  اور یہ  ایمان کے ستونوں کے ساتھ  ان کی مخصوص عقیدت  عملی طور پر اسلام کو  ایمان کےپانچ ستونوں  کے ایک  مسلک میں تبدیل کر رہا ہے  [8]۔

10۔ اپنی مخصوصیت کا جواز پیش کرنے کے لئے مسلمانوں نے حالیہ دہائیوں میں پروردگار کے لئے  عالمی طور پر  عربی زبان کی علامت (اللہ) کو معیار بنا دیا ہے،  جو کہ قرآنی احکام  کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ خدا کا نام  باقاعدگی سے (مختلف زبانوں میں، 30:22) خانقاہوں، گرجا گھروں،  یہودیوں کی عبادت گاہوں اور مساجد میں لیا جاتا ہے (22:40)، اور یہ کہ  تمام خوبصورت نام خدا سے تعلق رکھتے ہیں(59:24)۔  یہ لوگ مسلمان خواتین کے لئےقرون وسطی کے راہبہ کی طرح لباس تشکیل دے رہے ہیں، یہ ایک ایسا انداز ہے جو مسلم خواتین کو   ابتدائی اسلام کے زمانے کے  بغیر سلی ہوئی چادر کے پردے کی طرف لے جائے گا جس میں عورتیں سر سے لے کر پیر تک پوری طرح  ڈھنکی رہتی تھیں اور جو کہ غیر اسلامی ہے۔  آیات 24:32 ( جو  عام طور پر  نظر آتا ہے اسےظاہر کریں، سوائے  شرم گاہوں کے ) اور آیت  33:59  کے اعلان  " جسم کے ارد گر چادر  لپیٹیں ( اس طرح) تاکہ ان کی  پہچان کی جاسکتی ہو" کے باوجود ایک عورت کی پہچان کے لئے اس کا پورا چہرہ (سر، کان، اور ٹھوڑی بھی شامل ہے) کو بے نقاب کرنے کیلئے راضی  نہیں ہیں ۔

11۔ علماء  کا ایک حصہ  بہت ہی عجیب  احادیث  کے حوالے سے   انتہائی احمقانہ فتوی  جاری کر تا ہے  جبکہ ان احادیث کے مستند ہونے  کے بارے میں  اس کے مؤ لف کی جانب سے  واضح  انتباہ ہے، جو کہ ان کی تالیف  میں شامل رہے ہیں ، کیونکہ  وہ ان کے تجزیہ کے معیار   کے مطابق تھیں (اس کے ساتھ ترسیل کرنے والے اور روایوں کا ایک سلسلہ بھی پیش کیا تھا جن کا سلسلہ پیچھے جاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے جا ملتا تھا) [2]۔  یہ دنیا کی نظروں میں اسلام کی غلط شبیہ پیش کرتا ہے اور بہت سے تنقیدی اور  دانشمند مسلمانوں کے  اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔

  12 ۔ تعلیم یافتہ یا دیگر مسلمان اپنے پسندیدہ مبلغین  کےبیان سے اپنے ایمان کو سمجھتے ہیں۔   یہ مبلغین علم دین کے اپنے منبع سے  آسانی سے   اپنے نظریے، پس منظر،  اور اپنے  فرقہ وارانہ، تقسیم کرنے والے اور  فوقیت پسند خیالات کے مطابق  قرآن  کےپیغام کی تشریح  کرتے ہیں،   اور اپنے ایمان کی بنیادی تعلیمات پر توجہہ مرکوز کرنے کے بجائے اپنے  عقیدے  کی  عظمت بیانی   میں مصروف رہتے ہیں ۔

 13۔ قرآن کا لغوی ترجمہ جسے مسلمان اور غیر مسلمان دونوں پڑھتے اور جس کا  حوالہ دیتے ہیں شدید طور پر اس کے پیغام کو مسخ کرتا ہے، کیونکہ ، (i)  اس کی  عام عربی اصطلاح  'مسلمان' (خدا میں یقین رکھنے والا کوئی بھی مومن) کو   صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار  تک محدود کیا جاتا ہے (جنہیں آج ہم  مسلمان سمجھتے ہیں)، (ii) قرآن  کے پراہ راست مخاطبین  (کافر عربوں اور  دیگر وحی کا انکار کرنے والے) کو  موجودہ وقت کے  غیر مسلموں سے بدل دیا گیا ہے ، اور (iii) اپنی  آیات کی تحقیق (38:29، 47:24) کے بارے میں  قرآن  کی ہدایت کا قطعاً لحاظ  نہیں کرتے ہیں اور  صرف فیصلہ کن  آیات  (آیت محکمات ) پر توجہ مرکوز کرتے ہیں  جو کہ اس کے پیغام کی اصل روح کو تشکیل دیتی ہیں  (3:7) جو  پاک دل سے اس سے رجوع کرتے ہیں (56:79)  اور اس میں بہترین معنی تلاش کرتے ہیں ( 39:18،39:55)۔

14 ۔ انبیاء کرام کے درمیان تمیز نہ کرنے کی قرآن کی بار بار  کی یا ددہانی  کے باوجود (3:84، 2:285 4:152) مسلمان اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کو  تمام انبیاء کرام میں سب سے  عظیم  کے طور پر پیش کرتے ہیں اور دیگر انبیاء کرام کو اللہ  کی طرف سے عطا کئے گئےمنفرد فضل  کو صاف طور پر  کم کر کے بتاتے ہیں ، اس سے  مسلم طبقے کی توجہہ  قرآن کے پیغام سے  ہٹ کر  پیغمبروں کی شخصیت  کی طرف  جاتی ہے۔

15 ۔ اسلام کے قدیم فقہا اور   راسخ اعتقادی  نے ساتھ مل کر پیغام  الٰہی – قرآن کو پلٹ کر رکھ دیا۔   تاریخی اعتبار سے  وضع پائی حدیث کو  بالواسطہ وحی طور پر  تعظيم اور علماء کرام  اور فقہا کی رائے کو قرآن پر فوقیت  دیتے ہیں اور یہ   قرآن کے حکم کےساتھ متنازعہ ہوتی ہیں [10]۔

ما حصل: درج بالا میں دور حاضر کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پیش کی گئی تحقیقات  بہت سے دانشور مسلمانوں کے لئے مایوس کن ہو سکتی ہیں جو  عیسائیت میں شعور،  سخاوت  اور عظیم فضائل دوسرے مذاہب  کے مقابلے زیادہ پاتے ہیں اور ایسا ہی ان کے  پر عزم اور روشن خیال پادریوں کی طرف سے تبلیغ کی جاتی ہے۔   بے شک فہرست  کو مزید  توسیع دی جا سکتی ہے لیکن اتنا  اسلام سے عیسائیت کی طرف لوگوں کے جانے  کی  وضاحت کرنے کے لئے کافی ہے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے میں دونوں مذہب کتابوں والے ہیں۔  اسلام اور عیسائیت کے درمیان نظریاتی اختلافات کے باوجود، عیسائیت کی آج جس طرح تبلیغ کی جارہی ہے وہ   آج  کے اسلام مقابلے قرآنی پیغام کی نمائندگی زیادہ بہترطریقے سے  کرتی ہے۔   انصاف، آزادی،  مساوات،  نیک اعمال، اچھی ہمسائیگی اور بین العقائد تعلقات،  برائی کا جواب بھلائی سے دینا، سخاوت، درگزر کرنا، طبقے کے ساتھ دولت کا ا شتراک،  اشیاء اور خدمات کے لئے منصفانہ ادائیگی، ضرورت مندوں کی مالی مدد،  خواتین کوبا اختیار بنانا،  اچھے کاروباری اخلاقیات، عقل کا استعمال، سربلندی کے لئے کوشش وغیرہ جیسا کی قرآن نےاسکی  حمایت کی ہے آج ہر ایک روشن خیال عیسائی مبلغ کی زبان پر ہے۔

جیسا کہ آج  عام مسلمان مبلغین مذہبی فوقیت کا مسلسل دعوی، پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، قرآن کا سائنسی معجزہ اور ایمان کے ستونوں کے امتیازات اور خصوصیات بیان  کرتے ہیں دانشمند سامعین پر ان  کے مقابلے  عیسائی مبلغین  کا اثر کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ہم ایک گلوبلائزڈ دنیا میں رہ رہے ہیں   اور کام کی جگہ ، دفاتر، اور پڑوس  وغیرہ کو  غیر مسلموں کے ساتھ ساجھا کرتے ہیں۔ اپنے حتمی غیر متعلقہ  مرحلےمیں قرآنی پیغام ایک دوسرے کو جاننے  (49:13) اور اعمال صالحہ  اور حلال سرگرمیوں میں  مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مقابلہ  کرنے کو کہتا ہے (5:48، 49:13)۔    آج کے ملا،  ٹی وی پر آنے  والےمقبول  مبلغین اور راسخ الاعتقادی والے لوگ اسلام  کے تکثیریت پر مبنی ورژن، عظیم  سماجی و اخلاقی نصیحتوں اور ٓزاد ی کی اسلامی روح   کا  انکار یا اس کو ختم کرنے پر تلے  ہوئے ہیں اور مذہب کو   پانچ ستونوں والے ایک مسلک میں  تبدیل کر رہے ہیں جس کا  ایک عربی خدا  (اللہ، درج بالا میں  10) ہے اور دنیا کے سب سے عظیم انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے  پیغمبر ہیں‑  ایک مسلک جس کی جڑیں  قرون وسطی کے مذہبی احکامات میں ہے اور  اس میں قدیم اسلاف کی تمام ظالمانہاور شیطانی نشانیاں ہے ( درج بالا میں  2، 3)۔

دوسری جانب عیسائیت نے  قرون وسطی کی اپنی مضبوط جڑوں  اور پابندیوں سے خود کو منقطع کر  اصلاحی اور  مذہبی روشن خیالی کے عمل کو اپنا  لیا ہے‑ ۔   دوسری جانب اسلام صرف  فساد  کے مرحلے  سے گزر رہا ہے جو درج بالا میں دی گئی فہرست سے ظاہر  ہے۔  تو  پھر مسلمانوں کو عقیدہ تبدیل کرنے لینے  پر تعجب کیوں کرنا چاہئے؟ اس طرح جب تک کہ اسلام  کو  قرون وسطی کی  مذہبی قید  اور مذہب کو اغوا کر نے والوں کے  چنگل سے   نجات  حاصل  نہیں ہوتی ہے [حدیث  کی تعظيم کرنے   والاراسخ الاعتقادی طبقہ  اور قدیم شرعی قانون کے حامیان . درج بالا میں  8  اور  9] تب تک عیسائیت کو قبول کرنے والوں  کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ اگر متقی مسلمان  ایک دن میں پچاس مرتبہ نماز پڑھنے لگیں  یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( یہ فرض کر لینے کے طور پر کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اب   ہمارے ساتھ  نہیں ہیں) سے اپنے سے زیادہ محبت کرنے لگیں۔

نوٹس

1۔  قدیم اسلامی قانون (شرعی قانون) اللہ کے الفاظ نہیں ہیں!

http://www.newageislam.com/urdu-section/قدیم-اسلامی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۱--کس-طرح-قرآن-کے-پیغامات-کو-پلٹ-دیا-گیا/d/6237

http://www.newageislam.com/urdu-section /قدیم-اسلامی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۲--مستقبل-کی-راہ/d/6247

2 ۔ Defending the Hadith and its Compilers – the Great Imams who are sometimes misunderstood and even reviled

http://newageislam.com/islamic-sharia-laws/by-muhammad-yunus,-new-age-islam/defending-the-hadith-and-its-compilers-–-the-great-imams-who-are-sometimes-misunderstood-and-even-reviled/d/8011

3۔ بنجامن واکر، فائونڈیشن آف اسلام،  دی میکنگ آف اے ورلڈ فیتھ، پیٹرا ووین پبلشرس، یو کے، صفحہ316۔

4۔   محمد یونس اور اشفاق اللہ سید، اسنشیئل میسیج آف اسلام، آمنہ پبلیکشن، 2009 ، یو ایس اے، صفحہ 342 ۔

5 ۔ امیریکن لائیر، اینڈریو جے  اسٹونخ کی  1 اپریل، 2010 کو  Amazon.com میں پوسٹنگ،  جان ایسپوسیٹو کی کتاب، فیوچر آف اسلام کے تحت۔

6۔ بانگ درا 'ذریفانہ '  ابتدائی حصہ

7۔ بانگ درا 'ذریفانہ '  ابتدائی حصہ، تصویر درد، افتتاحی سطریں۔

8۔ لفظی تفہیم اور ایمان کےستونوں کےتئیں مخصوص عقیدت اسلام کوصرف پانچ ستونوں والےایک مسلک میں تبدیل کرتا ہے

http://www.newageislam.com/urdu-section/لفظی-تفہیم-اور-ایمان-کےستونوں-کےتئیں-مخصوص-عقیدت-اسلام-کوصرف-پانچ-ستونوں-والےایک-مسلک-میں-تبدیل-کرتا-ہے/d/7964

9 ۔   آصف اے اے فیضی، آئوٹ لائنس آف محمڈن لاء، 5واں ایڈیشن، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی 2005  صفحہ 33۔

10 ۔ "کوئی بھی قرآن آیت جو 'ہمارے آقا' کی رائے کے خلاف جائے  اسے منسوخ  مانا جائے گا، یا ترجیحی قانون اس  پر لاگو کیا جائے گا۔ بہتر یہ ہے کہ آیت کا اس طرح سے تشریح کی جائے  جو ان کی رائے کے مطابق ہو۔" -  ڈاکٹرن آف اجماء ان اسلام سے ، ل لیا گیا، احمد حسین، نئی دہلی، 1992،  صفحہ16۔

11۔ مسلمانوں کی جہالت: قرآن کی رہنمائی کو نظرانداز کرنا اور اس کی بھاری قیمت

http://www.newageislam.com/urdu-section/مسلمانوں-کی-جہالت--قرآن-کی-رہنمائی-کو-نظرانداز-کرنا-اور-اس-کی-بھاری-قیمت/d/8135

1اگست ، 2012۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا

. URL for English article

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/why-are-the-muslims-converting-to-christianity---a-soul-searching-exercise?/d/8134

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/why-are-muslims-converting-to-christianity--!مسلمان-کیوں-عیسائیت-قبول-کر-رہے-ہیں--ایک-محا-سبہ/d/8201

 

Loading..

Loading..