New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 03:19 AM

Urdu Section ( 3 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Qur’an – Nurun ‘Ala Nur (Light Upon Light): An Exposition Of Qur’anic Guidance In Its Own Words - Part Eight قرآن - نور علی نور : قرآنی ہدایت کا بیان قرآن کی زبان میں- حصہ ہشتم

محمد یونس، نیو ایج اسلام

(شریک مصنف (اشفاق اللہ سید)، اسنشیل میسج آف اسلام، آمنہ پبلی کیشنز، USA، 2009)

9 فروری 2025

سیکشن-7 لباس وضع قطع اور عفت و پاکیزگی

80۔ تقویٰ کا لباس دیگر ملبوسات سے بہتر ہے۔

قرآن کہتا ہے:

’’اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں‘‘ (7:26)۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کا واحد زور تقویٰ پر ہے، نہ کہ کسی شخص کے لباس یا اس کی خوبصورتی پر۔ جیسا کہ اوپر 20/21 میں ذکر کیا گیا ہے، قرآن اس لفظ کو وسیع تر تصورات کے ساتھ جوڑتا ہے، جیسے کہ تمام غیر اخلاقی کاموں اور ناجائز فتنوں سے خود کو بچانا، متقی اور نیک بننا اور اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقویٰ سے حاصل ہونے والی روحانیت اور اخلاقی معیار، کسی بھی مادی دولت یا جسمانی زینت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ چادر کا استعارہ یہ بتاتا ہے کہ تقوی ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی "اوڑھ" سکتا ہے یا اس کی عملی تصویر بن سکتا ہے، جس سے تحفظ اور وقار کا احساس، اس انداز میں حاصل ہوتا ہے، جو کسی بھی جسمانی لباس سے اعلیٰ ہے۔

81. مخلوط صنفی ماحول میں عفت و پاکیزگی سے متعلق رہنما خطوط

نزولِ وحی کے دور میں، لوگ خیموں میں رہتے تھے اور مشترکہ رہائش گاہیں ہوتی تھیں، بغیر کسی حائل کے، جس کی وجہ سے صنفی علیحدگی کا التزام کرنا ممکن نہیں تھا۔ چونکہ یہ ماحول جنسی جذبات کو ابھارنے کے لیے سازگار تھا، اس لیے قرآن نے آیات 24:30/31 میں اس حوالے سے بنیادی رہنما خطوط بیان کیے، تاکہ لوگوں کو جنسی جذبات کو روکنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اگرچہ یہ ایک طویل آیت ہے اس میں کسی حد تک اشارے سے کام کیا گیا ہے، تاہم اس کا پیغام واضح اور قابل فہم ہے:

"مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے (24:30) اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ" (24:31)۔

خلاصہ یہ کہ یہ آیت مومن مردوں اور عورتوں دونوں سے کہتی ہے، کہ وہ اپنی نظریں مخالف جنس کی ان چیزوں سے دور رکھیں، جو ان کے لیے فتنے کا سبب بن سکتی ہیں، اور اپنی شرمگاہ (فروج) کا پردہ کریں۔ اس میں خواتین سے خاص طور پر کہا گیا ہے، کہ وہ اپنے سروں کے پردے (خمار - جسے وہ عام طور پر دھوپ اور گردوغبار سے بچنے کے لیے پہنتی تھیں) کو اپنے سینے کے اوپر کھینچیں، بجائے اس کے کہ انہیں اپنے سروں کے پیچھے پھینکیں اور سینہ کو ننگا رکھیں، جیسا کہ عام عربوں میں رواج تھا۔ تاہم، یہ آیت خاندان کے مخصوص رشتہ داروں کی موجودگی میں، زینت یا ذاتی حسن کی عمومی نمائش کی اجازت دیتی ہے۔ یہ آیت خواتین کو مخالف جنس کی توجہ مبذول کرنے کے مقصد سے، کسی بھی اشتعال انگیز چال کو اپنانے سے بھی منع کرتی ہے۔

قرآن میں سر، کان یا ٹھوڑی کو ڈھانپنے کا کوئی حکم وارد نہیں ہوا ہے، جیسا کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں فیشن تھا - ایک ایسا فیشن جو بازنطینی لوگوں سے مستعار لیا گیا، جب اسلام ان کی سرزمین میں داخل ہوا اور ان کی ثقافت کے ساتھ گھل مل گیا۔

82. قرآن نے بزرگ خواتین کے لیے اس میں رعایت رکھی ہے۔

"اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جب کہ سنگھار نہ چمکائیں اور ان سے بھی بچنا ان کے لیے اور بہتر ہے، ور اللہ سنتا جانتا ہے" (24:60)۔

تاریخی طور پر، دنیا کے زیادہ تر حصوں میں عام لوگوں کے پاس بمشکل ہی کوئی اضافی لباس میسر تھا، سوائے اس کے جو وہ پہنتے تھے، اور دھونے اور نہانے کے لیے مشترکہ سہولیات کا، اچھے طریقے سے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس آیت میں ان بوڑھی عورتوں سے خطاب ہے، جو ہو سکتا ہے کہ غیر شعوری طور پر اپنی جنسیت سے کم آگاہ ہوں، تاکہ وہ اپنی زینت یا جسمانی کشش کی نمائش جیسے الزامات کے بغیر، اپنے روزمرہ کے کاموں کو نجام دے سکیں۔

83. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں اور دیگر مومن خواتین کے لیے لباس سے متعلق ہدایات

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین اور دیگر مومن عورتوں سے کہیں، کہ وہ اپنی چادریں اپنے منھ پر تان لیں، تاکہ دوسرے لوگ ان کو پہچانیں تو انہیں کوئی خجالت نہ ہو (33:59)۔

’’اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (33:59)۔

جیسا کہ محمد اسد نے تشریح کی ہے، پیغمبر کی ازواج اور بیٹیوں کے تعلق سے، مخصوص زمانے کے تناظر میں ذکر، اور قرآن کے احکام میں دیدہ و دانستہ ابہام کا التزام کیا جانا، اور جسم کے کس حصے کو چھپانا ہے، اس بات کی وضاحت نہ ہونا، ان تمام باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آیت میں ایک عمومی اخلاقی رہنمائی موجود ہے، جسے اللہ کی رحمت اور بخشش جیسی صفات سے تقویت دی گئی ہے۔

سیکشن-8 کھانے پینے سے متعلق رہنما خطوط

84. خورد و نوش کے متعلق قرآن کی نرمیاں

ماقبلِ اسلام عرب میں، بہت سی کھانے کی چیزیں یا تو مردوں کے لیے مخصوص تھیں، یا مروجہ ممنوعات کی بنا پر ان کا کھانا ممنوع تھا۔ قرآن ان پابندیوں کو منسوخ کرتا ہے (6:145، 10:59)

“تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بے شیک اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ (6:145)

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو (10:59)

وحی کے تناظر میں، اسلام قبول کرنے والوں کو کھانے میں جائز اور ناجائز کے بارے میں واضح رہنمائی کی ضرورت تھی، اس حوالے سے قرآن کا جواب ذیل میں پیش ہے، تاکہ حلال کھانوں پر کسی غلط پابندی سے بچا جا سکے۔

“اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی”(5:4)

"حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پرحرام ہے خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے۔

چونکہ قرآن واضح طور پر مختلف جغرافیائی خطوں اور ثقافتوں میں اسلام کی اشاعت سے آگاہ تھا، اس لیے قرآن نے کھانے کے مختلف عادات کے حامل، نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کو، اپنی خوراک کے نظام کو جاری رکھنے کے لیے، ایک وسیع ہدایت جاری کیا، سوائے کچھ واضح ممنوعات کے جیسا کہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔

85. قرآن کی واضح غذائی پابندیاں

"اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو نا چار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے" (2:73)۔

اسی پیغام کو معمولی اضافے کے ساتھ آیت 5:3 میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔

’’تم پر حرام ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو، اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کا م ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس نوٹ گئی تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

چوں کہ مذکورہ کھانوں کا رواج وحی کے زمانے کے ساتھ مخصوص تھا، اور وہ زمانہ اب ختم ہو چکا ہے، اس لیے یہاں ہم اب اس کی مزید وضاحت ضروری نہیں سمجھتے۔

86. نشہ اور جوا

"نشہ" (خمر) سے بڑے پیمانے پر ایسے مادے مراد ہیں، جو انسان کی عقل کو مفلوج کر دیتے ہیں، جب کہ "جوا" (میسر) سے چانس کے کھیل مراد ہیں۔ نشہ اور جوا دونوں کا قدیم زمانے سے انسانی معاشروں میں بڑا گہرا رواج رہا ہے۔

قرآن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ “ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔‘‘ (2:219)۔

نشہ آور شراب پھلوں کے جوس کو ابال کر حاصل کی جاتی ہے، جبکہ چانس کے کھیل مختلف طریقوں سے کھیلے جا سکتے ہیں، جیسے کہ بے ترتیب طور پر نشان زدہ تیر اٹھانا، ڈائیس، یا نمبر کارڈ وغیرہ۔ یہ سرگرمیاں اکثر لوگوں کے درمیان پھوٹ اور تلخی کا باعث بنتی ہیں۔ ہارنے والے کے اندر ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے، اور تنازعات پرتشدد ہو سکتے ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، جوا اور شراب نوشی کی لت لگ سکتی ہے، جس سے پروڈیوسر اور تاجر اس لت میں مبتلا لوگوں کا استحصال کر سکتے ہیں۔

سماج پر ان باتوں کی گہری پکڑ کو دیکھتے ہوئے، قرآن ان کے نقصانات کو یکے بعد دیگرے احکامات کے ذریعے، ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقہ اختیار کرتا ہے۔

"اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو..." (4:43)۔

"اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ (5:90) شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (5:91)

آیت 2:219 کو دیکھیں، تو قرآن تسلیم کرتا ہے کہ 'ان دونوں میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے ہیں (اوپر 2:219)۔ لہٰذا، دنیا کے بہت سے خطوں کے جنگلوں میں اگنے والی شراب کو خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قدیم زمانے سے ہی، دنیا کی بڑی تہذیبوں میں شراب کو کھانے میں شامل رکھا گیا ہے۔

اسی طرح، آج کے تناظر میں 'جوا' بہت سی شکلیں اختیار کر چکا ہے، جس میں کسینو گیمز، کھیلوں میں بیٹنگ، ریفل ڈرا یا عوامی کام یا تفریح کے لیے لاٹری شامل ہیں، جن میں کم یا زیادہ رقم داؤ پر ہوتی ہے۔

تاہم، ذمہ دار فنڈ ریزنگ اور استحصالی جوئے کے درمیان، ایک اخلاقی لکیر کھینچی جانی چاہیے، اور نشے کے سنگین خطرے کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے، جو زیادہ سماجی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

بہر کیف، دنیا بھر کے اندر مختلف ثقافتوں میں شراب اعتدال کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے، اس کے باوجود قرآن مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتا ہے - سوالیہ نشان کے ساتھ، لت لگنے کے خطرے اور سماجی ہم آہنگی اور ذاتی فیصلے پر اس کے اثرات کے پیش نظر۔

87. کھانے کے طور طریقوں کے مقابلے میں نیک اعمال اور تقویٰ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے

قرآن کی آخری سورہ سے تعلق رکھنے والی آیت 5:93 میں، خاص طور پر نیک اعمال اور تقویٰ پر زور دیا گیا ہے، اور ان میں سے ہر ایک کو تین بار بیان کیا گیا ہے:

’’جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ (5:9)۔

فیما تعلموا میں اتنی وسعت ہے، کہ اس میں لوگوں کا کھانا پینا، اور جو کچھ کھایا پیا ہوگا، سب شامل کیا جا سکتا ہے، جب تک کہ وہ اچھے کام کرتے رہیں اور تقویٰ پر جمے رہیں۔ یہ آیت ان مومنین کو یاد دلاتی ہوئی نظر آتی ہے جو بڑی دلجمعی کے ساتھ قرآنی احکام کی تعمیل کر رہے ہیں، کہ ان کا فیصلہ بنیادی طور پر ان کے اعمال اور تقویٰ کی بنیاد پر کیا جائے گا، بجائے اس کے کہ وہ کیا کھاتے پیتے ہیں۔

یہ تشریح قرآن کے وسیع پیغام کے ساتھ اچھی طرح مطابقت رکھتی ہے، جس میں اللہ سے ڈرنے، اخلاقی کردار اور صالح اعمال کی اہمیت پر مسلسل زور دیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف غذائی اصولوں پر عمل کرنا تقویٰ کے حصول کے لیے کافی نہیں ہے۔ بلکہ اعمال صالحہ اور اخلاق ہی تقویٰ اور نیکی کا صحیح پیمانہ ہیں۔

88. تمام اچھی چیزیں حلال ہیں اگر حلال طور پر حاصل کی جائیں اور اعتدال کے ساتھ کھائی جائیں۔

قرآن کہتا ہے:

"اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں" (5:87)۔

"اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ او ر ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے" (5:88)۔

"تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو" (16:114)۔

خلاصہ یہ کہ نشہ اور جوئے سے متعلق قرآن کے پیغام کو واضح کرنے کے لیے، قرآنی آیات 5:87-93 کو آیات 2:219، 16:114 کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ ان آیات کو الگ الگ پڑھنے سے قرآنی پیغام سے کوئی بھی تازہ بصیرت اخذ کرنے کا راستہ مسدود ہو سکتا ہے، اور اس کے پیغام کو قرون وسطی کی روایتی سمجھ تک محدود کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگور اصل میں جنگلی ہوتے ہیں، اور مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں، خاص طور پر معتدل اور نیم حار خطوں میں۔ انگور بہت ساری ثقافتوں میں تاریخی طور پر اہم رہے ہیں، بطور غذااور بطورِ دوا کے بھی۔ کیا ہم جنگلی انگوروں کو حرام قرار دے سکتے ہیں، کیا اللہ تعالیٰ نے اس میں ان لوگوں کے لیے رزق نہیں رکھا ہے جو ان خطوں میں رہتے ہیں، جہاں فطری طور پر انگور اگتے ہیں؟ کیا لاٹری کے ذریعے فنڈ جمع کرنا - بہت محدود مالی خطرے کے ساتھ، ممنوع ہو سکتا ہے، اگر اس کا اہتمام حکومت یا سماجی فلاحی تنظیم نے کیا ہو، جس کا مقصد فلاحی امور کی انجام دہی ہو۔ ہم کوئی قیاس آرائی یا جواب نہیں دینا چاہتے، سوائے اس کے کہ لوگوں کو متنبہ کریں، کہ تقویٰ پر قرآن کا اصرار (5:93) اور انسان کے حد سے بڑھنے کے رجحان کے درمیان واضح لکیر کھینچی جائے۔ جائز لطف اندوزی اور زیادتیوں کے درمیان واضح لکیر، قرآنی رہنمائی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

89. 'اہل کتاب' کا کھانا جائز ہے۔

نزول کے آخری مرحلے میں، قرآن اعلان کرتا ہے:

“آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی..." (5:5)۔

اہل کتاب کے کھانے سے ظاہر ہے کہ ان کا ذبیحہ مراد ہے۔ رہے وہ اشیأ جن کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، جیسے دودھ اور پودوں کے پھل اور سبزیاں، تو انہیں اسی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے، جس شکل میں وہ پائی جاتی ہیں۔ واضح طور پر اس کا مقصد بین المذاہب شادی کا راستہ کھولنا ہے، جیسا کہ قرآن نے اجازت دی ہے (5:5) جس میں کھانے کی جگہ، برتن اور یہاں تک کہ پکے ہوئے کھانے کا، عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ اشتراک شامل ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بائبل میں بھی خنزیر کے گوشت، خون اور مردہ جانوروں کو بطور خوراک حرام قرار دیا گیا ہے، اور اللہ کا نام لیکر مویشیوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ان کے کھانے کی اجازت دینے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

--------------

English Article:  The Qur’an – Nurun ‘Ala Nur (Light Upon Light): An Exposition Of Qur’anic Guidance In Its Own Words - Part Eight

URL: https://newageislam.com/urdu-section/quran-nurun-nur-light-quranic-guidance-part-eight/d/137492

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..