New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 04:16 AM

Urdu Section ( 31 Jul 2017, NewAgeIslam.Com)

Reflections on Social Justice in Islam (Part 2) اسلام میں سماجی انصاف پر غور و فکر

 

 

 

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

20 جولائی 2017

(مشترکہ مصنف (اشفاق اللہ سید)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلکشنز، امریکہ، 2009)

سماجی انصاف کے عنوان سے قرآنی آیات پر مشتمل یہ مضمون حال ہی میں اسی عنوان پر پوسٹ ہونے والے حصہ 1 کا تسلسل ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو ان کی وسیع تر سماجی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہے۔ جیسا کہ حصہ 1 میں ہم نے چند قرآنی آیتوں کا حوالہ پیش کیا تھا اور قارئین کو مندرجہ ذیل قرآنی احکامات کی روح کے ساتھ ان پر غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔

‘‘یہ کتاب برکت والی ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانش مند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں’’ (38:29)۔

‘‘کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں’’ (47:24)؟

قرآن کا حکم ہے:

‘‘اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤ، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے، اور اگر تم (اپنی تنگ دستی کے باعث) ان (مستحقین) سے گریز کرنا چاہتے ہو اپنے رب کی جانب سے رحمت (خوش حالی) کے انتظار میں جس کی تم توقع رکھتے ہو تو ان سے نرمی کی بات کہہ دیا کرو، اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کسی کو کچھ نہ دو) اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو (کہ سب کچھ ہی دے ڈالو) کہ پھر تمہیں خود ملامت زدہ (اور) تھکا ہارا بن کر بیٹھنا پڑے’’۔ (29-17:26)

‘‘پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اﷲ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں’’۔ (30:38)

مشترکہ خاندانی نظام کے ختم ہونے، صرف ایک بچے یا چند قریبی رشتہ داروں تک خاندان کے محدود ہو جانے اور گلوبلائزیشن کے اثرات کے باعث خاندان کے تعلقات کے کمزور پڑ جانے کی وجہ سے –کیوں کہ آج رشتہ دار دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں اور ہمارے شہروں میں یا ہمارے پڑوس میں تنہاء سفر کا کوئی انتظام بھی نہیں ہے –مندرجہ بالا قرآنی احکامات قدیم اور فرسودہ معلوم ہوتے ہیں اور لوگ ان سے متنبہ بھی نہیں ہوتے۔ لیکن اگر ہم قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے رہنما اصولوں کے تئیں اگر ہم مخلص ہیں تو قرآن ہم سے ان تعلیمات پر غور و فکر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لہذا ہمیں قرآن مجید کے مندرجہ بالا احکامات کو عہد حاضر کے حقائق سے جوڑنے کے لئے ان قرآنی اصطلاحات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے بعد ہمیں مندرہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:

1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں لفظ قرباسے ایک قبیلے یا معاشرے کے تمام ارکان مراد ہوتے تھے۔ لہٰذا، اس میں آج گھریلو امداد کے ملازمین، دوست اور ساتھی شامل ہوں گے۔

2. عصر حاض کی اصطلاح میں لفظ ‘‘حق’’ کا مطلب ایک ناقابل تردید دعوی ہے۔

لہٰذا، آج کی زبان میں اس آیت کے افتتاحی حکم ، 'رشتہ داروں کا حق انہیں دے دو' کا مطلب آسان لفظوں میں یہ ہوگا کہ ‘‘اپنے لوگوں کو وہ عطاء کر دو جن کے وہ بجا طور پر حقدار ہیں’’۔

3. لفظ ‘ابن السبیل’ کا لغوی معنیٰ ہے 'سڑک کا بیٹا' اور اس سے مراد ''ایک بے گھر اور بے یار و مددگار مسافر ہے جو تہی دست و تہی دامن سڑکوں پر گھوم رہا ہو اپنے گھر کی واپسی کے لئے۔ آج کے تناظر میں ‘ابن السبیل’ کا انطباق ان بے شمار بے گھر بار لوگوں اور پناہ گزینوں پر ہو سکتا ہے جو سڑکوں کے کنارے، پارکوں میں، فلائی اوور کے نیچے اور ریلوے اسٹیشنوں کے قریب گھاٹوں پر اور دنیا کے بہت ممالک میں قبرستانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

لہذا، اگر ہم مذکورہ اصطلاحات کی روشنی میں قرآن مجید کی محولہ آیات پر غور کریں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو نسل، مذہب یا قومیت سے قطع نظر لازمی طور پر ہر قسم کے ضرورت مندوں اور پناہ گزینوں کی بھی مالی امداد کرنی چاہئے اور اپنے تعاون کا ہاتھ ان سے کبھی نہیں کھینچنا چاہئے۔ یہ نہ تو قرآنی آیات کی تزئین کاری ہے اور نہ ہی قرآنی اصلاح کی کوئی کوشش ہے ، بلکہ یہ قرآن کی اس سچائی کو دیانت داری کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کرنے کی ایک سعی ہے جس میں قرآن ان عبادت گزاروں پر لعنت کرتا ہے "جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)،وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں،اور وہ برتنے کی معمولی سی چیز بھی مانگے نہیں دیتے"(7-107:5)۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/muhammad-yunus,-new-age-islam/reflections-on-social-justice-in-islam-(part-2)/d/111911

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam/reflections-on-social-justice-in-islam-(part-2)-اسلام-میں-سماجی-انصاف-پر-غور-و-فکر/d/112036

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..