New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 11:01 AM

Urdu Section ( 13 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Gender Equality in Islam اسلام میں صنفی مساوات


محمد یونس، نیو ایج اسلام

محمد یونس، شریک مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

 7 مئی، 2012.

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

قرآن میں کوئی جنسی غیر برابری نہیں ہے، اور شریعت کے  مردوں کو عورتوں کے سرپرست بنانے کا احکام اس کے صنفی تحرک کے خلاف ہے۔

·        اس موضوع پر  ڈھیر سارے قرآنی احکامات  کی جھلک جو اس عنوان کی اجتماعی طور پر حمایت کرتے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے  فقہا نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ عام مسلمانوں میں قرآن کی تشریح کرنے کی علمیت کا فقدان ہے، اور اس لئے  انہیں مذہبی معاملات میں مناسب رہنمائی کے لئے  کسی شرعی مکتب فکر سے تعلق رکھنا چاہیئے جو  ایک قانونی نظام سے مطابقت رکھتا ہو۔  اس نے شرعی قوانین  کو اسلامی تہذیب  کے اصل کے طور پر ادارہ سازی اور اس کے الفاظ کو خدا کے الفاظ کے طور پر احترام کرنے میں مدد کی اور  جس کے احکامات کی خلاف ورزی یا چیلنج نہیں کی  جا سکتی ہے۔  تاہم حقیقت  یہ ہے کہ ، اسلامی شر عی قانون،  مجموعی فقہی روایت ہیں جو زندگی کے مختلف پہلوئوں ، بشمول  مرد و عورت کے تعلقات سے متعلق قرآنی احکامات پر  اسلامی فقہا اور ماہرین قوانین کے خیالات، آراء اور تشریح ہیں ۔  جب بھی یہ قرآن کے احکامات  سے متصادم ہوتے ہیں [1] تو  چونکہ  یہ علماء کرام اور فقہا کی رائے کو قرآن پر استحقاق دیتے ہیں۔  خدا کے بے خطا لفظ ہونے کا اس کا دعوی  ایک صاف اور واضح  تعمیم  سے زیادہ نہیں ہے اور جو غلط ہے [2]۔  اس کے علاوہ، اسلامی تہذیب  قرون وسطی کے زمانے (8ویں سے 18ویں  صدی) تک پھیلی، علماء کرام اور فقہا کے  اقوال اور آراء قرآنی فرمان کے بجائے لازماً قرون وسطی کے زمانے کی تہذیبی مثالوںسے متاثر تھیں۔  اس طرح، اسلامی شریعت  کے تصور میں  ایسے کئی نظریات شامل ہیں جو   قرآنی پیغام کے ساتھ مکمل طور پر  متضادہیں اور  خالص  پدرانہ فکر   کے ایسے تصور ہیں جسے آج مسلمان حکم خدا مانتے ہیں اور اپنے  عقیدے کا  ایسا اصول مانتے ہیں جس پر سوال نہیں کیا جا سکتا اور جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

 اس مشق کا مقصد قرآن کی تحقیق کرنا ہے جو اسلامی قانون کا ناقابل تردید ذریعہ ہے اور  اسلام میں کوئی غیر برابری نہیں ہے اور مرد کو عورتوں کے سرپرست ہونے کا تصور غیر قرآنی ظاہر کرنے کے لئے تاریخی اثر سے بالا تر ہے۔

1۔رشتہ ازدواج میں مرد اور خواتین کے حقوق اور ذمہ داریاں

حیاتیاتی آئین اور ایک عورت کا اصل تولیدی کردار  اس کے حمل کے آخری مہینوں کے دوران  جسمانی  طور پر  اسےکمزور کر دیتا ہے اور اپنے نوزائیدہ بچے کو تقریباً دو سال تک وہ دودھ پلاتی ہیں۔ اور  آدمی جو اس بچے کا باپ ہوتا ہے وہ  صرف جزوی طور پر اس کی دیکھ بھال میں مدد کرتا ہے۔  عالمگیر انصاف کے اصول مرد پر اس عورت کے لئے کچھ  معیاری مالی ذمہ داری یا پابندی عائد کرتا ہے جس نے  اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانۂ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے (2:233 46:15) [3]۔  یہ اصول مرد، عورت کی شادی کے اندر اور اس سے باہر تعلقات پر قرآنی فرمان  کے مختلف پہلوؤں کی طرف  اشارہ کرتا ہے۔  یہ پورے قرآنی متن میں سرایت کر رہے ہیں اور محمد اسد کی وسیع طور پر  تحقیق اور انتہائی تسلیم شدہ کام سے اس کا خلاصہ کیا جا سکتا ہے، جو  حالیہ مرکوز کام سے نکالا گیا ہے [4]، جو  یو سی ایل اے کے خالد ابوالفضل کے لفظوں میں ، "   یہ نوجوان مسلمانوں یا ان مسلمانوں کو جن کے پاس  قرآن یا اپنے مذہب کے بنیادی اصولوں کے مطالعہ کے لئے وقت نہیں تھا، ان کے لئے ایک مستند طور پر  معتبر  متن ہے۔ " [4؛ p.xx ]

 مردوں کو اپنی بیویوں کو مناسب مہر دینا ضروری ہے (4:4) یہاں تک کہ اگر چھونے سے پہلے ہی انہوں نے شادی توڑ دی ہو (/ 2372:236) ، اگرچہ خواتین مہر کا ایک حصہ رضاکارانہ طور پر چھوڑ سکتی ہیں (4:4)۔

 شادی میں جنسی آزادی کو خدا کا لہاظ رکھنے والے  ایک آدمی کے ساتھ منسلک کر قرآن نے جنسیت کے ساتھ روحانی جہت کو  جوڑا ہے اور  جنسی معاملہ میں کسی زبردستی کی اجازت نہیں ہے (2:223)۔

 مردوں کو  اپنی بیویوں کی حمایت کر نی چاہئے اور اپنی آمدنی سے ان کی دیکھ بھال کا خرچ کرنا چاہئے(4:34) اگرچہ خواتین بھی اپنے  ذرائع سے اپنے شوہر کی مدد کر سکتی ہیں (4:32) جیسا کہ خدا نے مرد اور عورتوں  کو مختلف معاملوں میں  فضیلت دی ہے۔

  اپنی بیویوں پر ناجائز جنسی تعلقات کا شک کرنے والے مرد ان کی اصلاح کریں، انہیں ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دیں اور آخر میں تادیبی کارروائی کریں، اس میں بھی ناکام رہنے پر طبقے کے لوگوں کو ثالثی  کے لئے شامل کرنا چاہیئے  (-354:34)۔

 اگر ایک شوہر اپنی بیوی پر  بدکاری کی تہمت لگائے اور اس صورت میں وہ خود ہی اکیلا گواہ ہو، تو  بیوی  کی بے گناہی کا حلف شوہر کے الزام کے خلاف قبول ہوگا (-924:6) اس طرح شوہر کے مقابلے میں  بیوی کو استحقاق دیا گیا ہے، اسلام سے قبل اس طرح کے معاملات میں شوہر اپنی بیوی کو موقع پر ہی قتل کر معاملے ختم کر سکتا تھا اور یہ قانونی عمل ہوتا تھا۔

 اگر کوئی عورت اپنے شوہر پر ناجائز جنسی تعلقات  کا شک کرتی ہے تو اسے اس معاملہ کو باہمی طور پر حل کرنا چاہیئے (4:128)، اس میں ناکام رہنے پر  شادی کو ختم کر دینی چاہیئے (4:130)، اور انتہائی صورتوں میں  معاوضہ کی ادائیگی کے بعد انہیں یک طرفہ طور پر طلاق دے سکتی ہیں(2:229) ۔

 مردوں کو  اپنی بیوی پر کسی بھی قانونی یا اعلی سطح کا  حق نہیں دیا گیا ہے اور  نہ ہی ان کے نااہل اطاعت کے حقدار ہیں، اور نہ ہی ایک نافرمان بیوی کی پٹائی کا حق ہے  یا قیدی عورتوں، لونڈیوں کے ساتھ مباشرت کا اختیار نہیں  ہے،جیسا کہ روایتی مادر سرانہ تحریریں اشارہ کرتی ہیں (2:228 4:34،/7 23:6، /30 70:29 (۔

 ایک شخص جو شادی کو ختم کرنا چاہتا ہے، طلاق پر ایک حتمی فیصلہ تک پہنچنے سے پہلے دو مواقع پر اپنی بیوی کو تین قمری ماہ کی مدت کے اندر اندر طلاق کا نوٹس دینا ضروری ہے (2:229، 2:231 65:2) ۔

 ایک شخص جس نے طلاق کا نوٹس اپنی بیوی کو دیا ہے اور اس نوٹس دینے کی تین ماہ کی مدت کے اندر اگر وہ اپنی بیوی کو حاملہ پاتا ہے تو وہ اسے  واپس اپنے نکاح میں لینا ضروری ہے (2:228)۔

• اگر مذکورہ بالا  نہیں ہو پاتا ہے تو  شوہر  پر  اپنی مطلقہ بیوی کے رہنے، اس سے پیدا بچے، اس کے پیدا ہونے کے وقت ہونے والے خرچوں سمیت دو سال تک دیکھ بھال کے اخراجات کو بر داشت کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے (2:233, 65:6-7) ۔

 ایک شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے مطلقہ بیوی سے پیدا بچے  کو دودھ پلانے والی مائوں کا کھانے اور پہننے کا خیال رکھے (2:233) ۔

• نوٹس کی مدت میں  شوہر اپنی مطلقہ بیویوں کو  عدت کے دوران اپنی  وسعت کے مطابق کھلائے اور  رکھے اور انہیں تکلیف نہ پہنچائے اور انہیں ہراساں نہ کرے اور نہ ہی ان کی زندگی  کو مشکل بنائے (65:6)

• مرد جب عورتوں کو طلاق دیں اور وہ اپنی عدت پوری ہونے کو آپہنچیں تو انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، اور انہیں محض تکلیف دینے کے لئے نہ روکے رکھو اور حد سے تجاوز نہ کرو (2:231)  اور نہ ہی انہیں ان کے پسند کے شوہر یا بیوی سے شادی کرنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرو (2:232)۔

• مردوں کو اپنی بیویوں سے کسی بھی طرح کی املاک واپس لینے سے پرہیز کرنا چاہئےجیسے طلاق کے دوران یا مطلقہ عورت کے رشتہ داروں سے ( (2:229 4:19-20۔

 مردوں کو مطلقہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دینا چاہئے (جب تک کہ ان کی دوسری شادی نہ ہو جائے / یا معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ثالث جیسا فیصلہ کریں)  (2:241)۔

 قران کی وسیع تر پیغام کی بنیاد پر ایک شادی  سماجی معیاری ہے [5] لیکن ایک شخص غیر معمولی حالات میں ایک سے زائد نکاح کر سکتا ہے (4:3) ۔

 ایک عورت اپنے شوہر کی موت کے بعد بغیر اپنے شوہر کا گھر چھوڑے ہوئے  ایک سال تک  کا خرچہ لینے کا حق ہے (2:240)  اور خود ہی معاملے کو طے کرنے کا اختیار ہے چار ماہ اور دس دن کی عدت کے بعد  وہ دوسری شادی کی تجاویز پر بھی غور کر سکتی ہے (/2352:234)۔  

  یہ مردوں اور عورتوں پر فرض ہے کہ  وہ  مرنے سے قبل گواہوں کی موجودگی میں وصیت کریں (2:180-182, 5:106-108) ۔

 والدین میں سے ہر ایک (ماں اور والد ) اپنی فوت شدہ  اولاد کی برابر کی وارث ہوتے ہیں (4:12) ۔

 اگرچہ ایک بیٹی، ایک بیٹے کے برابر ہی  آدھے حصے کی حقدار ہوتی ہے (4:12)  ایک شخص کو گواہ کی موجودگی میں وصیت کر ترکہ کو اپنے وارثین کے درمیان تقسیم کرنا چاہیئے۔ یہ ایک لازمی حکم ہے جو وراثت کے قانون کو  استحقاق عطا کرتی ہے۔

2۔ قرآن خاندان / قانونی معاملات میں ولایت کا حق مرد کو نہیں عطا کرتا ہے

اسلامی تہذیب عورتوں سے نفرت کرنے والے کی بجائے مادر سرانہ تھیں اور اس نے عورتوں کو  اپنے سے مقابل تہذیبوں کے مقابلے میں بہت بہتر مقام عطا کیا  جو کہ جابرانہ اور پدرانہ نظام والی تھیں۔ لیکن حالیہ دور میں انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے بارے میں شعور کی بڑھتی ہوئی بیداری نے حالات کو بدل دیا ہے۔  اسلامی تہذیبوں میں عورتیں پدرانہ نظام کے  دبانے والے برتائو، جابرانہ اور  پرتشدد شکل کا نشانہ بن رہی ہیں جبکہ ان کی حریف تہذیبوں میں  ان کے ہم منصبوں کو کہیں بہتر مراعات  اور صنفی مساوات حاصل ہو چکے ہیں۔  تو وہ سوال جن کے فوری طور پر جواب کی ضرورت ہے،  کیا قرآن صنفی مساوات کی وکالت  کرتا ہے یا عورتوں کے ساتھ با اخلاق یا امتیازی انداز میں سلوک کرنے کو کہتا ہے، یا یہ کہ  اعلی صنفی قسم کے طور پر مردوں کو  استحقاق دیتا ہے؟ یہ کوئی حساب کا سوال نہیں ہے  جس میں  ایک حتمی جواب دیا جا سکے جیسے دو ارو دو چار  ہوتا ہے۔  لیکن قرآن ازدوجی تعلقات پر  درج ذیل بیان،  مذکورہ بالا میں  درج  باہمی کردار اور حیاتیاتی اختلافات (درج بالا میں  پیراگراف کی شروعات میں) کے طور پر دیکھا گیا ہے جو چوتھی سورۃ النساء کی افتتاحی آیات کے ذریعہ  صنفی مساوات کی طرف اشارہ کرتا ہے،  جسے عورتوں کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور جو استحقاق کے پیمانے کو عورتوں کی جانب خم کرتا ہے۔

 یہ بتاتا ہے کہ اہل ایمان مرد اور اہل ایمان عورتیں ایک دوسرے کے  رفیق اور مددگار ہیں (9:71) اس طرح جسٹینین قانون  [6] کو ختم کرتا ہے جس کے مطابق دوسری چیزوں کے علاوہ  ایک عورت  پر مالکانہ حق اس کے والد  یا شوہر یا فرزندانہ نظام میں سب سے مناسب آدمی  (مثلا خون کے رشتے کا بھائی) کا ہے۔

 اس کی آیات کی ایک بڑی تعداد میں انسانیت (یعنی مردوں اور عورتوں دونوں) کو خطاب کیا گیا ہے  جبکہ کچھ میں واضح طور پر مردوں اور عورتوں (4:124 33:25) سے خطاب کیا گیا ہے، جو اشارہ کرتا ہے  مردوں اور عورتوں کے لئے ایک ہی جیسے احکامات، اخلاقیات اور سلوک کی مثالیں ہیں۔ قرآن کی آیات  جو خاص طور پر مردوں کو خطاب کرتی ہیں، ان میں ساتویں صدی کے عرب کے سماجی ماحول میں جن معاملات میں  مرد غالب تھے، ان پر خطاب کیا ہے نہ کہ ان کہ صنفی بنیادوں پر برتری کو خطاب کیا ہے۔

  جنسی تعلقات سے متعلق اس کی آیات (30:21، 7:189) محبت  (muwadda)، رحمت (rahma) اور سکون (sukun) ، حمل (haml) کے تصور کے ساتھ عام صنف (zauja)  کی جانب متوجہ کراتی ہیں نہ کہ صرف عورتوں کی جانب۔  دوسرے مقامات پر بھی قرآن نے (2:233، 17:24، 31:14، 46:15)  بچے کی پرورش کے معاملے میں  والدین پر  مشترکہ ذمہ داری کا حوالہ دیا ہے، اگرچہ بچے پیدا کرنے میں  ماں کی  جسمانی مشقت اور تکالیف پر زور دیا گیا ہے۔

 یہ مردوں کو  تخلیق کی ترتیب یا درجہ بندی کا استحقاق مردوں کو نہیں دیتا ہے اور مر د و عورت کو برابر کا درجہ دیتا ہے جو ایک ہی جنس سے پیدا ہوئے ہیں (6:98، 16:72، 30:21، 49:13، 53:44) اور مرد کو زیادہ مراعات یافتہ طبقے کی حیثیت کی کوئی وجہ نہیں پیش کرتا ہے۔

 جنت سے آدم علیہ السلام کے  باہر نکلنے کا معاملہ  (-382:30) اسی طرح ان کی پسلی سے مائی حوّا کے  باہر آنے اور شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے لئے ترغیب یا جیسا بائبل میں دغا باز کردار کے  الہی لعنت، وغیرہ کا ذکر  اس میں نہیں ہے۔ اور بالآخر خدا نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے ... (2:36) اور بعضکم لبعض کی اصطلاح میں  آدم علیہ السلام کو  انسانی نسل کی ایک علامت کے طور پر  نہ کہ  ایک فرد، یا کسی انفرادی مرد کے طور پر پیش کرتا ہے۔

 یہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو  بت پرست لوگوں میں سے اپنا جوڑا منتخب کرنے اور برقرار رکھنے سے منع کرنے   (2:221) اور جنسی اخلاقیات پر (، 24:31 ، آیت 24:30کے ابتدائی کلمات ) متماثل جملے کا استعمال کرتا ہے۔

 اس نے مکی خواتین کو   ان کے شوہر کی  گواہی  میں کھڑے ہوئے بغیر ہی حلف لینے اور نبی کریم صلیہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے معاملے میں  با اختیار بنایا  (60:12) ۔

 یہ کنوارے پن کو  کوئی اہمیت نہیں دیتا، بیوا ہونے کے ساتھ کوئی کلنک نہیں جوڑتا ہے۔  یہاں تک کہ اس کی لغت میں با اخلاق الفاظ کا متبادل لفظ بھی نہیں ہے۔

مسلم خواتین، بڑے ہوگئے بچوں (بیٹیوں سمیت) ان کو  اپنے عیسائی ہم منصبوں کے ساتھ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے انتہائی اہمیت کے حامل معاملے پر حلف لینے کا حکم دیا   (3:59-61)۔

• خواتین، مردوں کی طرح اور ان کے برابر  ایک گواہ ہو سکتی ہیں سوائے  تجارتی معاہدوں کے، یہ اس وقت کے سخت تجارتی حقائق کے مد نظر تھا  (2:282) جسے مندرجہ ذیل میں مزید واضح کیا گیا ہے۔

• مردوں کی طرح خواتین  آزادانہ طور پر  آمدنی اور ملکیت کی مالک ہو سکتی ہیں (4:32) ۔

• مردوں کی طرح خواتین، عالمگیر علم حاصل کر سکتی ہیں اور  خدا کی زمین پر ان کے خلیفہ (khalifah) کے طور پر اپنی صلاحیت کو  تخلیق دے سکتی ہیں (2:30، 6:165، 27:62، 35:39)، خدا نے انسان کو بہترین اعتدال اور توازن والی ساخت میں پیدا فرمایا ہے اور اس طرح خدا  نے تخلیق میں  ان کی  حمایت کی ہے (95:4، 17:70)

قرآن نے  ایک عورت  کے(بغیر نام کے)  زمین کے  (شیبا)  خطہ پر  حکومت کرنے کا ذکر کیا ہے جو اپنے سالاروں سے  مشورہ کرتی ہے اور بعد میں حقیقی ایمان کو  قبول کرتی ہے (-3327:32 ، 27:44)۔

قرآن نے حیض کے خلاف تمام ممانعت  (2:222)  کو ختم کر دیا۔  اس طرح   ایک عورت نماز اور روزہ سمیت اپنے تمام مذہبی فرائض  کو حیض کے دوران انجام دے سکتی ہے،  جب تک اس سے اس پر غیر ضروری مشقت نہ پڑتی ہو۔ اپنی جسمانی اور دماغی حالت کو دھیان میں رکھتے ہوئے فیصلہ اس کا ہوگا۔

خلاصہ یہ کہ، اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کسی حقوق نسواں کی علم بردار کو  قرآن میں مادر سرانہ نظریہ کی جھلک دکھائی دے جو سورۃ النساء کے ابتدائی کلمات میں نظر آتا ہے:

'اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے (4:1)'

3۔ معاشرے میں خواتین کے کردار پر قرآنی نقطہ نظر بمقابلہ تاریخی سازش

عورتوں سے نفرت کرنے والے ایک گہرے ورثے، اور کچھ صاف طور پر  کمزور اقوال کی تحریروں نے  [7]  خواتین پر مختلف پابندیوں کو نافذ کرنے کے لئے 'مسلمان علماء کو ترغیب دی۔  ایسی پابندیوں کے کسی بھی فہرست سے کوئی مقصد حل ہونے والا نہیں ہے، لیکن یہ کہنا صحیح ہے کہ  حالیہ زمانے میں مسلم خواتین کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش، کارپوریٹ دفاتر میں مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے، اکیلے سفر کرنے، یا اپنی پسند کے کسی حلال پیشے کو اپنانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔ یہ کچھ مثالیں ہیں جن کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔  تاہم، جیسا کہ مذکورہ بالا جائزہ میں بیان کیا گیا ہے، قرآن،  خواتین پر اس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کرتا ہے۔  اصل میں قرانی نقطہ نظر سے، اگر مرد خود سفر کر سکتے ہیں یا تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، ذریعہ معاش کے طور پر  حلال پیشہ اختیار  یا کام کر سکتے ہیں، تو اسی طرح خواتین بھی  کر سکتی ہیں۔  تاہم، قرآن کہتا ہے کہ  کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے کے لئے مردوں اور عورتوں دونوں کا  انتخاب ان کے بیرونی ماحول اور دستیاب سہولتوں کی پابند ہوتی ہیں۔  اس طرح آج ایک عورت  پوری دنیا میں بغیر  اپنے ولی کے سفر کر سکتی ہے جبکہ ایک صدی قبل  اسے پڑوس کے گائوں تک جانے اور  اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے کسی مرد محافظ یا  ساتھی کی ضرورت  ہوتی تھی۔ خلاصہ یہ کہ، قرآن مجید نے مردوں کو عورتوں کا ولی نہیں بنایا ہے بلکہ ان سے توقع کی جاتی ہے وہ ان کے رفیق اور مدد گار ہیں (اولیاء '، 9:71)۔  جبکہ مردوں پر خاندان کی مالی ضرورتوں کی ذمہ داری دی گئی ہے، عورت  بھی یہ کردار  ادا کر سکتی ہے اس کا انحصار میاں بیوی  کی آمدنی پر ہے (4:34)۔

یہ تمام قرآنی مثالیں واضح  اور پوری طرح سے اس کے صنفی مساوات کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ لیکن قرآن کے  سماجی اور اخلاقی اصولوں کی روشنی میں اس طرح کی برابری بدلے کے طور پر نہیں ہے، لیکن باہمی افہام و تفہیم اور اشتراک اور دیکھ بھال کی بنیاد پر  ہے۔  مردوں کے ترجیحی قانونی حیثیت کی وکالت کرنے والے اب بھی عورتوں کے خلاف اپنے امتیازی خیالات کو بڑھانے کے لئے آیت 2:282  کا حوالہ دیں گے۔  اس وجہ سے اس  آیت کو  واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا ایک مرد گواہ کا متبادل دو عورتوں (2:282)کی قرآنی ہدایت ابدی  ہے؟

ماہرین قانون  قرآن کی آیت 2:282 میں ایک کاروباری معاہدہ کے لئے ایک مرد گواہ کے لئے دو خواتین گواہ لینے کے حکم کو ایک عورت کی کم عقل / قانونی حیثیت کے ایک ثبوت کے طور پر حوالہ دیتے ہیں۔  کسی ایک قرآنی آیت سے اس طرح کے کسی نتیجے پر پہنچنا گمراہ کن ہے، جیسا کہ قرآن مجید تمام دوسرے گواہی کےحالات میں اپنی صنفی غیر جانبداری کو برقرار رکھتا ہے، خاص طور پر:

جب یتیموں کو ان کی املاک واپس کی جائے،جب وہ ایک سمجھدار عمر تک پہنچ جائے (4:6) ۔

وصیت کی گواہی (-1075:106)۔

ایک مبینہ زنا کی گواہی (4:15، 24:4) ۔

طلاق کی تعمیل میں گواہی (65:2) ۔

تاریخی اعتبار سے  تجارت ایک ایسا پیشہ رہا ہے جسے مردوں کا پیشہ کہا جاتا تھا کیونکہ اس میں  خطرناک علاقوں کے سفر اور گھروں سے دور رہنا شامل ہوتا تھا۔ لہذا، عام ہدایات یہی ہے کہ  دو مرد گواہوں کو لیں، اگر دو مرد گواہ دستیاب نہیں ہیں، تب صرف اس صورت میں ایک مرد اور دو خواتین گواہ لینے ہوں گے۔ احکام کے  اس وجود یاتی طول و عرض آیت کو  ساتویں صدی کے عرب میں زندگی کے  مادّی پہلو کے ذمرے میں رکھتی ہے، جیسے پرندوں کو پکڑنے کے لئے شکاری جانوروں کا استعمال (5:4)  اور دبلے اونٹوں پر کعبہ کا سفر (22:27)، یا گھڑ سواری کا استعمال (8:60)۔  لیکن قرآن مجید بار بار مسلمانوں کو غور و فکر، شعور اور تفہیم کے لئے کہتا ہے، اور طبقاتی معاملات اور یہاں تک کی خاندانی معاملات (2:233) میں بھی مشاورت کے لئے کہتا ہے (3:159 42:38)۔  اس طرح یہ واضح ہے کہ قرآن مسلمانوں کو تہذیب کے  راستے میں ساتویں صدی کے عرب پر ہی نہیں رہنے دینا چاہتا ہے۔  یہ ترقی کے لئے ، وقت کے ساتھ مادّی اور تجارتی مثالوں کو تبدیل کرنے کے لئےگنجائش چھوڑتا ہے ۔  اس وجہ سے ممکنہ طور پر  خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ   نے ایک خاتون شفا بنت عبد اللہ کو مدینہ منورہ میں بازار کی نگرانی سپرد کی تھی [8] جبکہ اسلامی تاریخ میں بے شمار  خواتین پروفیسر ماہر قانون  ہوئی ہیں جنہوں نے بہت سے مردوں کو  تعلیمی اور  فقہی اسناد سے نوازا ہے۔  اس طرح اگر تہذیب کی ترقی خواتین کی تجارت میں سرگرم شراکت کو محدود کرنے  کے روایتی رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے،  توقرآن کی مخصوص گواہی کی  ضروریات کو حالات کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے اور  ایک عورت کاروباری معاہدوں اور دیگر قانونی معاملات میں  مردوں کے برابر  کھڑی ہو سکتی ہے۔

نتیجہ‑ مذکورہ بالا میں  قرآن کی مثالیں  اجتماعی طور پر بغیر کسی شک کے ظاہر کرتی ہیں کہ  یہ مردوں کو عورتوں پر کوئی برتری یا ترجیحی قانونی حیثیت نہیں عطا کرتا ہے۔ صرف چند معاملوں میں، خاص طور پر ایک کاروباری معاہدہ اور بہن بھائیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم کی گواہی میں کرتا ہے،  یہ قرآن کے لئے ممکنہ طور پر  قبل از وقت تھا کہ  کہ وہ عورتوں کو  مردوں کے برابر با اختیار بنائے۔  تاہم،  شادی میں مردوں اور عورتوں کے حقوق اور ذمہ داریاں (اوپر 1) اور جنس سے متعلق مثالیں  جن کا  اس گفتگو میں مختصراً بیان کیا گیا ہے، وہ  تہذیب کی ترقی کے ساتھ خواتین کو مزید بااختیار بنانے کے لئے امکان پیش کرتا ہے۔  اس طرح گزشتہ دو صدیوں کے دوران حریف تہذیبیں جو کہ جابرانہ و غیر انسانی پدارانہ نظام جو خواتین سے نفرت  کی حد پر تھیں اس سے  صنفی مساوات تک آئی ہیں  اور   ان کے  صنفی حرکیات میں انقلابی تبدیلی کی روشنی میں، مردوں کی عورتوں پر سرپرستی اور ترجیحی قانونی حیثیت کے اسلامی شرعی احکامات کو معطل کیا جا سکتا ہے اور مسلم خواتین کو مردوں کے برابر با اختیار کیا جا سکتا ہے، جو سماج میں ان کے بارے میں الٰہی تصور کے مطابق ہو (اوپر 3) ۔  تاہم،  جس طرح ایک عورت اپنے شوہر  کے ساتھ جنسی جبر نہیں کر سکتی ہے اور جیسے ایک مرد بچے  کو جنم نہیں دے سکتا ہے، ویسے ہی اسلام میں بدلہ  یا مکمل جنسی مساوات نہیں ہے، لیکن اس میں صنفی عدم مساوات  بھی نہیں ہے، اور اگر کچھ ہے تو،   استحقاق کا  پیمانہ عورتوں کی طرف جھکا ہوا ہے۔

نوٹس

"1۔ کوئی بھی قرآنی آیت  جو 'ہمارے آقا' کی رائے کے خلاف جائے انہیں منسوخ سمجھا جائے گا، یا ترجیح کے ضابطے کو  اس پر لاگو کیا جائے گا۔ یہ بہتر ہے کہ  آیت کی تشریح اس طرح کی جائے  کہ وہ ان کی رائے کے مطابق ہو - اکسٹریکٹید فرام ڈاکٹرین آف اجماء  ان اسلام ، احمد حسین، نئی دہلی، 1992، صفحہ16۔

2۔ اس ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا مضمون: ' قدیم اسلامی قانون اللہ کے الفاظ نہیں ہیں'

http://www.newageislam.com/urdu-section/قدیم-اسلامی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۱--کس-طرح-قرآن-کے-پیغامات-کو-پلٹ-دیا-گیا/d/6237

http://www.newageislam.com/urdu-section/قدیم-اسلامی-قانون-اللہ-کے-الفاظ-نہیں-ہیں(باب۲--مستقبل-کی-راہ/d/6247

 

3.  دودھ چھڑانے کے لئے آیت 31:14 کے دو سال (24 ماہ) کے مقابلے آیت 46: 15میں 30 ماہ کی مشقت کی مدت کا حوالہ ہے وہ اس لئے کہ اس میں چھ ماہ حمل کی مدت شامل ہے 46:15 ۔   یہ سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ  دس ہفتوں کے اختتام پر جنین  بمشکل چھ سینٹی میٹر طویل ہوتا ہے اور حمل کے تیسرے مہینے کے بعد ہی یہ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔  ڈبلیو جے ہیملٹن،  انٹروڈکشن ٹو بایو لوجی، تھرڈ ایڈیشن، 1976 یو کے، صفحہ 115۔

4. محمد یونس اینڈ اشفاق اللہ سید، ایسنشیءل میسیج آف اسلام ، آمنہ پبلیکیشن، امریکا، 2009 الازہر الشریف، قاہرہ (2002)  سے منظور شدہ اور یو ایل سی اے، امریکہ کے معروف قانون داں اور عالم ڈاکٹر خالد ابو الفضل سے توثیق شدہ۔

5۔ اس ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا مضمون : ' قرآن سماجی معیار کے طور پر ایک نکاح کا حکم دیتا ہے '

http://www.newageislam.com/urdu-section/قرآن-سماجی-معیار-کے-طور-پر-ایک-نکاح-کا-حکم-دیتا-ہے/d/6220

6 ۔ جسٹینین کوڈ:  بازنطینی شہنشاہ جسٹینین اوّل نے (527-565)  سلطنت کے مختلف علاقوں میں اطلاق شدہ قوانین کو ایک جگہ جمع کرنے  اور ترتیب دینے کا کام انجام دلوایا (529) جس میں بعد میں ان کے اپنے قوانین کو شامل کرنے کے لئے توسیع کی گئی (534) اور ایک بہت ہی جامع   تحریری گفتگو (کارپس جیورس سویلس) مرتب ہوئی۔  یہ  قرون وسطی کے زمانے تک عیسائیت میں کینن قانون کی بنیاد تھا، اور آج تک یہ  فقہ پر  حوالے کا ایک جامع تحریر مانی جاتی ہے۔

7 ۔  صحیح احادیث سے سے اس طرح کے معاملوں کی  مثالیں:

صبح تک فرشتے اس عورت پر  لعنت بھیجتے ہیں جو رات میں شوہر کے قریب جانے سے انکار کرتی ہے۔

صحیح بخاری، انگریزی ترجمہ محسن خان، نئی دہلی، 1984 ،  والیوم 7، اکسیسشن 121, 122

صبح تک فرشتے اس عورت پر  لعنت بھیجتے ہیں جو رات میں شوہر کے قریب جانے سے انکار کرتی ہے ، اور (رب) جو آسمان میں ہے ناراض رہتا ہے جب تک  کہ آدمی اپنی عورت سے  خوش نہ ہو جائے۔

عورت جس کا شوہر رات کو اس سے  مطمئن ہے اور رات سکون کے ساتھ گزارتا ہے، وہ جنّت میں داخل ہوگی۔

صحیح امام مسلم، اردو ترجمہ۔ وحید الزماں، دہلی۔ 19 ، والیوم 4...،  کتاب النکاح، اکسیشن 43, 44، صفحہ 55

8۔ مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر : themodernreligion.com/women/recognition.html

خالد ابو الفضل کے مضمون آن ریکگنیشن آف وومن ان اسلام سے  لیا گیا۔

  محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔متعلقہ مضمون: مختلف اسلامی رسومات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/gender-equality-in-islam/d/7560

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/gender-equality-in-islam--اسلام-میں-صنفی-مساوات/d/7624

 

 

Loading..

Loading..