
محمد یونس ، نیو ایج اسلام
شریک مصنف اشفاق اللہ سید ، Essential Message of Islam، آمنہ پبلیکیشن ، یو ایس اے ، 2009 ء
18ستمبر، 2013
یہ اس عنوان پر حال ہی میں شائع کئے گئے غلام رسول دہلوی کی تحریر کا تکمیلی مضمون ہے تاہم اس میں اس عنوان کے تعلق سے کچھ نئی بصیرت پیش کی گئی ہے ۔
قرآن معروف کا حکم دیتا ہے جس کا مطلب دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا اور معاشرے میں لوگوں کے ساتھ انتہائی مہذب اور مناسب طریقے سے پیش آنا ہے، اور منکر سے منع کرتا ہے ، اور منکر وہ تمام حرکات و سکنات اور طرز عمل ہیں جو غیر مناسب اور ہر طرح کے اچھے رویوں کے خلاف ہو ( 3:104 ، 3:110 ، 7:157 ، 9:112 ، 22:41 ، 31:17 ) ۔ آسانی کے لئے، ہم نیکی کے لئے (معروف) اور برائی کے لئے (منکر) کی اصطلاح کا استعمال کریں گے ۔
مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں قرآن اعلان کرتا ہے :
“اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں" (3:104) ۔
‘‘اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔’’ (2:143)
روایتی طور پر مسلم علماء کرام ہمیشہ کے لئے قوم مسلم کی انفرادیت کا دعویٰ کرنے کے لئے آیت 3:104 کی تشریح ایت 2:143 کے ابتدائی حصے کے ساتھ ملا کر کرتے ہیں ۔ جب کہ یہ تصور قرآنی آیت( 49:13 ، 5:48 ) کے تکثیریت پر مبنی پیغام اور الہی انصاف کے اس کے عام معیار ( 2:62 ، 4:124 ، 5:69 ، 22:17 ، 64:9 ، 65:11) سے متصادم ہے، جو کہ الٰہی منصوبہ میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے برابر قرار دیتا ہے ۔ خاص طور پرآیت3:103 اور 3:104 میں اسلام سے پہلے عرب میں کافر قبائل کے باہمی دشمنی کا حوالہ پیش کیا گیا ہے [اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی ......] آیت 104- 3:103 میں اسی دور کے لوگوں اور معاشروں سے خطاب کیاگیا ہےاور اس آیت میں ‘‘ تمہارے درمیان ایک معاشرہ ’’ سے مراد مسلم معاشرہ ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ کی قیادت میں فروغ پا رہا تھا ، نہ کہ مسلم معاشرے کے اندر کوئی اور ‘ منتخب جماعت ’۔ قران مزید یہ اعلان کرتا ہے:
‘‘(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے (مؤ منون)بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں’’ ( 3:110 )۔
آیت 4-3:103 جس کا ابھی جائزہ لیا گیا جس میں مسلمانوں کو ‘بہترین امت ’ کہا گیا ہے اس کا خطاب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیروکاروں (صحابہ کرام )سے ہے : براہ راست نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رہنمائی میں ہونے اور نزول وحی کے اولین مشاہدین ہونے کی وجہ سے وہ کافی حد تک ہمیشہ کے لئے سب سے بہترین امت تھے ۔ تاہم آیت (3:110) چند اہل کتاب کو صحیح معنوں میں مؤمن تسلیم کرتی ہے ، جبکہ 114/3:113 نیکی میں سرعت کرنے اوران کے نیک اور صالح لوگوں میں سے ہونے کی وجہ سے ان کے لئے امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر کی تصدیق کرتی ہے ۔
"یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں (3:113) ۔ (اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں (114) ۔
لہٰذا قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام پیروکارو ں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے ولا منتخب نہیں کرتا ۔
روایتی تشریح اور اس کی تعمیل
روایتی طور پر آیات 3:110 اور 3:104 کے ابتدائی حصے کو'(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو ' ، ' اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے’) کی تشریح مسلمانوں کی ہر جماعت کے درمیان لوگوں کی ایک ( منتخب جماعت) پر امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر کی ترغیب دینے کی معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سے بری کرنے کے لئے تکمیلی آیت کے طور پر کی جاتی ہے ۔ اسی طر، مسلم فقہی اصول میں (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کو فرض کفایہ (ایک ایسا فریضہ جس کی بجا آوری اجتماعی طور پر مسلم معاشرے پر فرض ہے ، اگر اس کی تعمیل معاشرے کے کچھ لوگوں نے کر لی تو بقیہ تمام لوگ خدا کی بارگاہ میں اس فرض کی ادئیگی سے بری ہیں ) کا مقام حاصل ہے ۔ اس کے مطابق، دور قدیم میں مذہبی پولیس جنہیں (محتسب یا نگرانی کرنے والے افسران) کے طور پر جانا جاتا تھا، انہیں اہم قرانی احکام کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے اسلامی ریاستوں میں مقرر کیا جاتا تھا ۔ وہ اپنے احکام کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے سڑکوں، باغات، مدارس ، بازاروں ، ہسپتالوں ، عدالتوں اور انتظامیہ کے مراکز سمیت تمام عوامی مقامات پر گشت کرتے تھے اور وہ پہلے تو منانے کی کوشش کرتے تھے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں جبر اکراہ پر امادہ ہو جاتے تھے ۔
تاہم مذہبی پولیس صرف نظر آنے والے قرآن کے اوامر و نواہی پر ہی ایک چوکس نظر سکتی ہے مثلاً،نماز ادا کرنا ، روزے رکھنا ، حلال غذا کھانا ، وضع قطع ،شراب پینا ، جوا کھیلنا ، رقاصاؤں کی محفل میں شرکت کرنا ، اور کھلے عام غیر اخلاقی رویہ پیش کرنا ۔ اس کے علاوہ ، مذہبی پولیس نے ایک بہت اہم سماجی کردار ادا کیا ہے ۔ اس نے معاشرے کے ایک وسیع اخلاقیت اور معنویت کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے ، جنسی آزادی اور لائسنس پر لگام لگایا جو کہ ان خواتین کے لئے تباہ کن ہو سکتے تھے جن کے پاس کوئی ذاتی حقوق نہیں تھے اور وہ کسی بھی جنسی استحصال سے غیر محفوظ تھیں ۔ مسلسل نگرانی کے تحت ہونے کے خوف سے اس نے امن، ہم آہنگی اور استحکام میں بھی بڑا تعاون کیا ۔
مذہبی کی پولیس کے روحانی کردار کے حدود
قرآن میں معروف اور منکر کے ایسے بہت سے زمرے ہیں جو ناقابل دید ، ناقابل پیمائش اور نا قابل تصدیق ہیں مثلاً ازدواجی معاملات اور خاندانی صورت حال میں ذاتی طرز عمل اور رویے۔ لہٰذا ، مثال کے طور پر قرآن مندرجہ ذیل حالات میں ہر شخص کے ساتھ اچھے رویہ کا مطالبہ کرتا ہے :
طلاق کے نوٹس کے تحت بیوی کے ساتھ پیش آتے وقت ( 2:228 - 2:229 ، 2:231 ، 65:2 ) ،
بچے کی دایہ گری کے لئے خدمات حاصل کی گئی دایہ کو اس کی ادائیگی کرنے میں ( 2:233 ) ،
خون بہا کا تعین کرنے میں ( 2:178 ) ،
نصیحت لکھوانے کے وقت ( 2:180 )،
اس مطلقہ عورت کے ساتھ جو شادی کی تجویز رکھتی ہو ( 2:232 )،
اس مرد کے ساتھ جو شادی کی تجویز پیش کر رہا ہو(2:235)، ایک معاہدے کی شادی شدہ عورت کو معاوضہ کی ادائیگی، وہ مرد جس نے شادی منعقد ہونے سے پہلے ہی طلاق دے دیا ہو (2:236) ،
ایک طلاق شدہ بیوی کو نا ن نفقہ دینا ( 2:241 )،
ایسے کمزور ذہن والو ں سے باتیں کرنے میں جن کی املاک کسی کی امانت میں ہو ( 4:5 )،
چھوٹے یتیموں کا مال دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری لینے میں ( 4:6 ) ،
ایسے بالواسطہ وارث یتیموں سے بات کرنے میں جو وراثت کی تقسیم کے وقت میں موجود ہوں ( 4:8 ) ،
ایک علیحدہ بیوی یا قریبی رشتہ دار کی بیوی کے ساتھ پیش آنے میں ( 4:19 ) ،
ایک لونڈی کو جہیز دینے میں (4:25)۔
ان قرآنی تشریحات کی بنیاد پر لفظ ' معروف کا ایک وسیع تر مفہوم ان تمام کو شامل ہوگا جو آپسی اور کمیونٹی کے معاملات میں مہذب ، باعزت اور قانونی ہو ۔ لہٰذا اسلام میں داخل ہوتے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے حلف کے دوران کافر عورتوں کو بہت سے حلف کے درمیان یہ حلف بھی لینے کی ضرورت پیش آئی کہ ‘‘اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی’’ ( 60:12 ) ۔
انسانی معاملات اور رویے کے وہ تمام پہلو مذہبی پولیس کی نگرانی سے سے باہر تھے اگر چہ ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کی نظر میں کم اہمیت کے حامل نہ ہوں ۔ لہٰذا مذہبی پولیس کا مذہبی یا روحانی کردار اگر معمولی نہیں تو بہت محدود ضرور تھا ۔ سماجی ہم آہنگی کو بحال رکھنے کے علاوہ مذہبی پولیس کا حقیقی کردار سیاسی حلقوں میں تھا ۔
مذہبی پولیس کا سیاسی کردار
اسلامی شعار کی ادائیگی میں کسی بھی کوتاہی پر دنیا میں پٹائی اورآخرت میں جہنم کی سزا کے مسلسل خطرہ نے ایک منظم معاشرے کو جنم دیا ۔ لہٰذا صبح بیدار ہونے سے لیکر رات کو بستراستراحت پر جانے تک مسلمانوں نے موقع کی مناسبت سے خاص مناجات کے ساتھ مذہبی طور پر مشروع طریقے سے روزانہ کے تمام فرائض کی مکمل ادائیگی کی ۔ اس طرح مذہب نے مسلم ذہنوں کو مغلوب کر لیا اور روحانیت غریبوں پسماندہ اور مظلوموں کے لئے افیون بن گئی ،اور امیروں اور امرائے حکومت کے لئے ،پرتعیش زندگی کی ضمانت بن گئی (جو اپنے افراط و بہتات کی تلافی مذہبی پولیس ذریعہ کر رہے تھے ) ، اور خلیفہ کے لئے حکومت کرنے کےلئے ایک الہی فرمان بن گئی اگر چہ وہ کتنے ہی نااہل ظالم اور مطلق العنان ہی کیوں نہ ہوں ۔ مذہبی پولیس ایجنسی کے ذریعے اس کے سماجی اور سیاسی نظام کی ادارہ سازی نے کسی بھی سماجی بیداری، سیاسی اختلاف رائے اور آزاد سوچ کا دروازہ بند کر دیا جو کہ اصلاح یا دانشورانہ سرگرمی کا نقیب ہے ، اور اسلامی معاشروں میں دانشورانہ جمود پیدا کر دیا جو کہ اسلامی خلافت کے استحکام اور اس کی حکومت کے لئے راہ ہموار رنے میں معاون ثابت ہوا ۔ اس طرح، مذہبی پولیس نے جاگیردارانہ نظام کو مذہبی رنگ دینے اور اسلامی معاشروں میں دانشورانہ جمود پیدا کرنے میں ریاستی ایجنٹوں کے طور پر خدمات انجام دیا ۔
قرانی فرمان کا ذاتی تنوع
قرآن کے ذریعہ متعارف کرائے گئے مذہبی انداز فکر میں بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہر فرد کے اعمال کا ذاتی احتساب اور تقوی تھا۔ اسی کے مطابق قرآن ہر فرد کو اچھے اعمال کرنے کا حکم دیتا ہے، طہارت اور تقوی پر عمل کرنے اور اس کے سماجی، اخلاقی اصولوں کی پابندی کرنے اور اخلاقی نمونوں کو اپنانے کا حکم دیتا ہے (مثلاً لالچ، تکبر، بہتان، گندی بات، اور غیبت سے پرہیز کرنا) ۔ قرانی آیات کا حوالہ پیش کرتے ہوئے جیسا کہ ما سبق میں اس کی وضاحت کی گئی ہے ، قرآن روز مرہ کی خاندانی زندگی میں مسلمانوں کو انتہائی عزت اور بھلائی کےساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے اور اس میں ایک حکیم و دانا انسان لقمان کا حوالہ اس طور پر پیش کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو اطاعت کی ذاتی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ‘‘امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر ’’ کا حکم دیتا ہے(31:16)۔ قران کی بے شمار آیات یہ اعلان کرتے ہوئے اس نظریے کی تائید کرتی ہیں کہ: " اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( 6:164 ، 17:15 ، 35:18 ، 39:07 ، اور 53:38 ) " اس کے علاوہ اس کے لئے الفاظ مذکور نہیں ہیں بلکہ دین سے متعلق کسی بھی معاملے میں جہاں کہیں بھی عملی طور پر اجتماعی ذمہ داری کی بات آئی ہے تو اس کا ذکر ہے ۔
لہذا، پورے معاشرے کی جانب سے معاشرے کی ایک مخصوص جماعت، بزرگوں یا مذہبی پولس امر بالمعروف کو عملی شکل دینے کا تصور قرآنی پیغام کے ساتھ ہم آہنگ ظاہر نہیں ہوتا ۔
بھلائی (معروف ) کا حکم دینا اختیاری ہے یا لازمی ہے ؟
(ذاتی رویے اور معاملات ) کے معیاری پہلو ہر قسم کی بھلائی (معروف) میں جبر و اکراہ کے کسی بھی نظریے کی ممانعت کرتے ہیں ۔ حوالے میں پیش کی گئی قرانی آیات کے مدنظر کوئی بھی کسی دوسرے شخص کو طلاق کے نوٹس کے دوران ایک بیوی کے ساتھ یا علیحدہ رہنے والی بیوی کسی قریبی رشتہ دار کی مطلقہ کے ساتھ منصفانہ، مناسب اور معقول رویہ پیش کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اس لئے کہ یہ نا قابل تائید معاملہ ہے اور مختلف لوگوں کے لئے اس کا مطلب مختلف ہو سکتا ہے ۔ یہی معاملہ آیات 3:104 ، 3:110 کے ساتھ ہے جس کا مخاطب وہ مسلم معاشرہ تھا جس کی قیادت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے تھے ۔ اسی کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ ووسلم کو کسی بھی معاملے میں نہ تو جبر کرنے کی اجازت تھی اور نہ ہی انہوں نے کبھی ایسا کیا ایسے حالات میں بھی جب کہ معاشرے کا وجود انتہائی طاقتور فوج سے حملے کی زد میں تھا ۔ نبوی مشن کے مدنی دور (622-632 عیسوی)میں ایسے کئی مواقع آئے جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم لازمی فوجی حکم جاری کر سکتے تھے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ۔
1. اس لئے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طاقتور فوج سے ملنے کے لئے احد کا سفر(625 عیسوی) کرنے کی تیاری کر رہے تھے جو کہ ایک عہد و پیمان کے انتظار میں تھے تو قرآن نے خود کے علاوہ کسی پر اخلاقی بوجھ ڈالنے سے منع کیا (لا تکلف الا نفسک) (4:84 )
II۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ غزوہ احد کی طرف جا رہے تھے تو منافق یہ کہتے ہوئے واپس ہو گئے کہ اگر انہیں پتہ ہوتا، کہ کس طرح جنگ لڑی جاتی ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے (3:167) ۔
III ۔ بلکہ احد کی مہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ہونے کے بجائے نرم رویہ اختیار کیا اور انہیں تنبیہ کرنے یا سزا دینے کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ مشورہ کا حکم دیا گیا (3:159) ۔
IV ۔وہ خانہ بدوش عرب جو غیر مسلح حج قافلے کے ساتھ مکہ (628) جانے سے برأت چاہتے تھے انہیں جماعت میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ اور مسلمان اپنے خاندانوں والوں کے پاس واپس نہیں لوٹ سکیں گے (12 -48:11) ۔
V غزوہ رتبوک (630) جو کہ نبی صلی اللہ علیہ کے تمام اسفار میں سب سے زیادہ خطرناک اور مضر تھااس میں بھی منافقوں کی ایک جماعت کو کسی بھی لازمی فوجی ذمہ داری سے دامن چھڑاتے ہوئے رخصت طلب کرتے ہوئے دیکھا گیا (9:90) ۔
یہ تمام مثالیں معاملات میں یہاں تک کہ نماز یا مذہبی رسومات سے بھی زیادہ سنگین معاملات میں کسی بھی طرح کے لازمی حکم یا ظلم و جبر سے بچنے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پالیسی کوظاہر کرتی ہیں ۔
خلاصہ
مسلمانوں کو قرآن کے مختلف سماجی، اخلاقی اور معنوی احکام کا پابند بنانے یا غیر مسلموں کو اسلام قبول کروانے کے لئے ظلم و جبر کا سہارا لینے کا تصور اسلامی پیغام کے خلاف ہے ۔ روایتی مذہبی پولیس کا کام صرف ایسے اسلامی رسومات کی تعمیل کو یقینی بنانا تھا جو دیکھے جا سکتے ہوں ، جس نے سرگرمیوں کی ایک ایسی جمعیت سازی کی کہ جس کی وجہ سے دانشورانہ سرگرمیاں رک گئیں اور کسی بھی سیاسی حزب اختلاف یا اختلاف رائے کا دروازہ پہلے سے ہی بند کر دیا ۔ اس نے اسلام کے کلاسیکی دور میں معاشرے میں ایک اخلاقی و معنوی محافط کے طور پر اپنے خدمات انجام دئے لیکن صنفی حرکیات کی تبدیلی ، جمہوریت کے لئے لوگوں کی بڑھتی ہوئی خواہشات، ذاتی حقوق اور اختلاف رائے کے حق کے تئیں بڑھتا ہوا شعور اور وسعت اختیار کرتے ہوئےاخلاقیات کے تصور کے ساتھ مذہبی معاملات میں مسلمانوں کا کوئی بھی جبر و اکراہ یا اسلام قبول کروانے کے لئے غیرمسلموں پر کوئی بھی جبر و تشدد یا اسلام میں جو چیز حرام ہے اس سے روکنا واضح طور پر غیر اسلامی ہے اور حرام ہے ۔ اگر چہ خدا سب سے بہتر جانتا ہے، اور صرف وہی جانتا ہےکہ کون ہدایت پر ہے (6:117 ، 17:84 ، 28:56 ، 28:85 اور 68:7)۔
اس دور کے زمینی حقائق کے ساتھ اس مضمون کا ربط پیدا کرنے کے لئے، میں حال ہی میں اس موضوع پر شائع شدہ ایک تحریر [1] کا درج ذیل اختتامی تبصرہ نقل کرنا چاہوں گا :
" آج کے انتہا پسند جہادی عام امن پسند شہریوں کو مارتے ہیں ، معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں ، تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں اور فرقہ وارانہ فساد کی وجہ بنتے ہیں اور دوسرے تمام (غیر وہابی ) مسلمانوں کو کافر قرار دینے اور انہیں قتل کا مستحق قرار دینے کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ گروپ بزعم خویش نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں یہ یقین کرتے ہوئے کہ وہ مکمل طور پر اللہ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کے قائم کردہ حدود سے انتہائی حد تک تجاوز کرچکے ہیں ۔ "
نوٹ: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اسلامی اصول کی آڑ میں انتہا پسندوں نےاسلام کو ایک روحانی نظام کی بجائے ایکتفوق پسند سیاسی نظریہ بنا کر پیش کیا
(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدی ٰ، نیو ایج اسلام )
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009، 2013میں شائع کیا۔
URL for English article:
https://newageislam.com/islamic-ideology/‘bidding-good-forbidding-evil’-(amr/d/13543
URL for English article:
https://newageislam.com/urdu-section/‘bidding-good-forbidding-evil’-/d/13853