New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 05:00 AM

Urdu Section ( 17 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Love, Sex and Marriage in the Quran قرآن مجید میں محبت، جنسیت اور نکاح

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

 (مشترکہ مصنف  اشفاق اللہ سید)، Essential Message of Islam, Amana Publications, USA, 2009

13 مئی، 2012۔

(انگریزی سے ترجمہ  ۔   مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام )

مضمون خود میں ہی مکمل ہے اور طلاق کے عنوان پر میرے مضمون  ‘‘قرآنی شریعت کا موقف -تین  طلاق، عارضی شادی، حلالہ  حرام ہے ’’ ، کا تکملہ ہے ۔

http://www.newageislam.com/NewAgeIslamIslamicShariaLaws_1.aspx?ArticleID=6391

 

اس گفتگو کے دفاع میں  : یہ مضمون توجہ کے ساتھ ایک ایسے تفسیری کا م کا خلاصہ ہے [1],  جو  تقریبا ً پندرہ سال کی مدت پر  پھیلا ہوا ہے جو قرآن کے بنیادی احکام اور خاندانی قوانین کی تصریح کرتا ہے ، بنیادی طور پر اس کی اپنی وضاحت سے۔ اس مواد کے  مصادر کو  الازہر شریف، قاہرہ کی  منظوری حاصل  ہے، اور اسے UCLA اسکول آف لاءکے  معروف  پروفیسر ڈاکٹر خالد ابو الفضل الفی  کی سفارش حاصل  ہے جو کہ کچھ اس طرح ہے " یہ ایک ایسی قابل اعتماد کتاب  ہے  جو نوجوان مسلمانوں کو پڑھایا جانا چاہئے یا ایسے مسلمانوں کو جنہیں قرآن یا اپنے مذہب کے بنیادی اصولوں کا مطالعہ کرنے کا بھی وقت کبھی نہ ملا ہو ۔ " [1. p.xx] اس لئے کہ اس میں عنوان کے موضوع میں الہی احکامات کا خلاصہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،اور مختلف پس منظر کے بہت سارے اسلامی علماء کی طویل کوششوں کا خلاصہ ہے اور کمپیوٹر ڈیٹا بیس کا استعمال کیا گیا ہے ، قارئین کو ایک درخواست ہے کہ وہ اسے ایک سنجیدہ موضوع کی حیثیت سے پڑھیں اور اس کے مطابق اس پر تبصرہ کریں۔

خلاصہ قطعی: موضوع کے متعلق  قرانی احکامات کا مندرجہ ذیل خاکہ  ایسے   جدید قاری کو موقع فراہم کر سکتا ہے جن کے پاس  مختصر وقت  ہے  اور جو اس موضوع پر قرانی پیغام کا ایک جائزہ لینا چاہتے ہیں ۔

قرآن شہوانیت کو  ایک قدرتی نعمت گردانتاہے ۔ یہ جنس مخالف  کے لئے اسے محبت اور رحمت کا محرک  تسلیم کرتا ہے ۔(30:21) ، قرآن  دونوں جنسوں کو کسی عمر کی وضاحت کے بغیر اس بات کی اجازت  دیتا ہے کہ مرد یا عورت  جنس مخالف کیلئے پسندیدگی کا جذبہ رکھ سکتاہے  (2:221) ان  آیات کا تعلق  براہ راست جنسیت  سے ہے  اور رحمت کا  بھی طالب ہے  (7:189) اور خدا کی معرفت (تقوی) ہے  (2:223) اسی وجہ  سے جنسی بے حرمتی  یا جبر کے کسی بھی تصور کی ممانعت کرتا ہے  جیسا کہ  وسیع پیمانے  پر بہت سے مسلم ممالک میں شوہروں کے ذریعہ  ان کی بیویوں کے خلاف کیا جاتا  ہے ۔ بہر حال ماہ رمضان میں روزہ کے اوقات میں جنسی تعلقات  قائم کرنا ممنوع  ہے (2:187) اور ان بیویوں کے ساتھ  جو ان کی ماہانہ مدت میں چل رہی ہیں  (2:222)  تاہم، اس ماہانہ مدت کے دوران خواتین پر ان کے مذہبی یا دنیاوی فرائض اور سرگرمیوں کے تعلق سے  کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس لئے  کہ ایک عورت قدرتی طور پر  حمل کا درد ، بچے کی پیدائش ، اور بچے کی دیکھ بھال  کو برداشت کرنے کے کئے مقرر  ہے اور ایک  مرد  پر اس کے محافظ کی طرح اس کی مکمل طور پر دیکھ بھال کی ذمہ داری کا حکم ہے  ( (4:34  اور اس کے ساتھ جنسی رابطہ قائم کرنے کے  جواز کے لئے عقدنکاح کا اہم حصہ مہر (صدقات ) دے کر اسے تسلیم کرتا ہے   (4:4)۔ شادی میں مرد اور خواتین کا ، آپس میں ایک دوسرے کے (اولیاء ) سرپرست  کا کردار ہوتا ہے  اورمرد کا عورت کے لئے محافظ  ہوتے ہوئے بھی  عورت اپنی خود کی  آمدنی  کر سکتی ہے (4:32) اور اپنے مالی تعاون پر انحصار کرتے ہوئے گھر کے کام کاج میں اس کی محافظت میں شریک ہو سکتی ہے  ۔

اسی وجہ سے اسلام سے پہلے کے دور میں عورتوں  کا وہ دیگر  جنسی رویہ  جو سماجی  طور پر تھوپا گیا تھا  ،  جس پر مضمون کے ابتدائی حصے میں  بحث کی گئی ہے  ،عورتیں رشتہ ازدواج کے  علاوہ  تعلقات قائم کرنے  کے بارے میں مشکوک تھیں  ۔ اسی لئے  ، عارضی طور پر جنسی تعلق ختم کرنے کے لئےتنبیہ اور   مشاورت ضروری قرار دی گئی ،(4:34) ناکام  جوڑے کو  معاملے کو ثالث کے پاس  لے جانے کا  مشورہ دیا گیا  ہے (4:35) اگر وہ دباہمی رضامندی سے  معاملہ حل  کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں  تو شادی کو  ختم کیا جا سکتا ہے۔ بصورت مجبوری  ، ایک عورت ایک معقول معاوضہ کی ادائیگی کر کے یک طرفہ طور پر شادی ختم کر سکتی ہے (2:229) ۔

مختصر اس مقالہ میں ان قرآنی  آیتوں کو  جمع کیا گیا ہے  جن کا  تعلق  جنسی محرکات ،اس کی فریفتگی  اور رفیق حیات کے انتخاب سے لے کر ازدوجی زندگی تک ہے ۔

وحی کی ترکیب

قبل  از اسلام  عرب میں جنسی    روایات ڈھیلے ڈھالے تھے۔ ایک عورت کسی  اجنبی کے ساتھ مباشرت کرسکتی تھی   جب اس کا  شوہر تجارتی مشن پر اس سے دور ہوتا تھا ۔ ویسے بھی، مخالف جنس کے اجنبیوں  کے درمیان  ایک اتفاقی ٹکراؤ  آسانی کے ساتھ قریبی رشتے کی شکل اختیار کر سکتا تھا ،جس کو عورت  اکثر  اعلانیہ  طور پر فروغ دیتی تھی نتیجے میں وہ  عورت ماں بھی بن جاتی تھی۔ نتیجے میں اس سے؛ بچے کی ولدیت کے متعلق بعض اوقات  تنازعہ پیدا ہوجاتاتھا ۔، جس کا  فیصلہ اس کے مشابہ  باپ کے ساتھ اس  بچے کی شکل و صورت  کا موازنہ  کے ذریعہ کیا جاتا تھا ، اور  لوگ اس مقصد کے لئے جمع ہوتے تھے  ۔ اس رواج  نے ایک  سماجی اصول کی شکل اختیار کرلی ، جس نے مردوں کو ان کی اولاد اور عورتوں کی تمام سماجی اور مالی ذمہ داریوں سے بری کر دیا  اور خواتین کو  جسم فروشی  پر مجبور کر دیا ، اور اس طرح سے پیدا ہونے والے  بچوں کو  معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا  ۔ قرآن کو  اس سماجی برائی  کی اصلاح کرنی تھی  جو  انسانی تہذیب کی ظالمانہ سرداری سے متاثر ہوئی تھی  ۔ چونکہ مرد اور  عورت کے تعلق سے  بہت سارے  پہلو ہیں ، اسے ایک مرحلہ وار انداز میں اس رشتے کے مختلف پہلوؤں سے متعلق اصول جاری کرتے ہوئے  آگے بڑھانا ہے ۔ اس مضمون میں  ایک جامع طریقہ  سے اس موضوع پر مرد اور  عورت کے تعلقات کے بارے میں   قرآنی نقطہ نظر بیان کرنے  کے لئے قرآنی اصول کو جمع  کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مرد اور عورت کے  درمیان محبت اور مؤدت  اللہ کی ‘‘ نشانی ’’ہے ۔

"اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں"(30:21) ۔

تاریخی طور پر، اکثر معاشروں میں، شادی سے پہلے محبت کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ شادی میں میاں بیوی اکثر اپنی محبت چھپاتے ہیں ۔یہ  اس وجہ سے  تھا کیونکہ مرد اور عورت کے درمیان محبت کے  احساس کو  حقارت کی نگا ہ یا شاید حسد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ، جبکہ شادی کو افزائش نسل  کے  مقصد سے خالصتاً حیاتیاتی ضرورت شمار کیا جاتا  تھا۔ آیت مخالف جنسوں کے درمیان روحانی اور جذباتی لگاو  کو تسلیم کر تی ہے، اور انسانوں سے اس پر غور و فکر کا مطالبہ کرتی  ہے ۔ مزید برآں، علم لسانیا ت کے اعتبار سے ازواج  (میاں بیوی) کا لفظ  مخالف جنسوں کی ایک جوڑے کی طرف اشارہ  کر نے والا ہے  ، جو ایک سماجی معمول کے طور پر ایک نکاح کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور جوڑے  میں سے  کسی  ایک کو بھی دوسرے پر  فوقیت نہیں دیتا  (جیسا کہ روایتی طور پر لڑکےکو حاصل ہوتا ہے ) ۔

ایک شریک حیات(زوجہ ) کا  انتخاب ۔

"اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور (مسلمان عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ (کافر اور مشرک) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں"(2:221) ۔ * [جوڑے کے طور پر نکاح کے تکنیکی معنی کی بنیاد پر، فعل ایک  شادی کے بندھن کا ثا نوی معنی بھی دیتا ہے ]

مردوں اور عورتوں کو  شوہر یا بیوی کا انتخاب کرنے  اور  مناکحت کے طلبگار مرد کی ستائش کی اجازت دینے میں قرآن ویسا ہی  اظہاربیان  (جو کہ  مندرجہ بالا میں واضح ہے ) کا استعمال کرتا ہے ۔ شادی اور طلاق کے بارے میں  حقیقی  طور پر تمام قرانی آیات  میں اس کے والد یا سرپرست کے  کسی بھی حوالہ کی غیر موجودگی کے ذریعہ  ایک مسلمان عورت کو اس کے اپنے ساتھی کو منتخب کرنے کا حق بھی  بیان کیا گیا ہے۔ روایتی طور پر، علماء کرام  ترجمہ کرتے وقت بریکٹ میں اضافی الفاظ ڈال دیتے ہیں  ، تا کہ  یہ معنی ادا کیا جا سکے کہ ایک لڑکی کے  لئے خاوند منتخب کرنے کا  حتمی حق صرف  والد یا سرپرست کو ہے ۔  اور یہ سب جان بوجھ کر اس لئے کیا جا رہا ہے  کہ:

• تاریخی طور پر کمزور لڑکی کی حفاظت  ایک غلط مرد سے؛ کی جا سکے جو اسے جبراً شادی پر مجبور کر سکتا ہے ، اگر ولی اس کی حفاظت نہ کرے۔

• ایک شریف  اورسادہ لوح  لڑکی کے مفادات کی حفاظت کی جائے ، ایسا نہ ہو کہ وہ ایک جارحانہ، اور  نااہل  لڑکے سے دھوکہ کھا لے ۔

جنس

قرآن اخلاقی تاکید  کے ساتھ انسانی طبعیت کو ملاتے ہوئے جنسیات سے بہت مشابہ  حوالہ پیش کرتا ہے ۔

"اور وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی میں سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر جب مرد نے اس (عورت) کو ڈھانپ لیا تو وہ خفیف بوجھ کے ساتھ حاملہ ہوگئی، پھر وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ گراں بار ہوئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں اچھا تندرست بچہ عطا فرما دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے"(7:189) ۔

جنسی  تعلق  کی رحمت کے لئے سکن کا مادہ ذکر کر کے قرآن جنسی فرحت  اور اس کی تکمیل  کے مبارک ہونے کو  تسلیم کرتا ہے۔ قرآن میں دوسری جگہوں پر یہی مادہ  (سکینہ ) کو خدا کی اس رحمت اور  سکون کے بارے میں بتانے  کے لئے بیان کیا گیا ہے جو  خدا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب پر  انتہائی غم  اور مایوسی کی لمحات میں نازل کیا  [2] ۔

تاہم، قرآن صرف شادی کے ذریعے ایک آدمی اور ایک عورت کے درمیان جنسی تعلقات کی اجازت اور اس سلسلے میں مکمل آزادی دیتا د ہے – ہر چند  کہ اخلاقیات کے وسیع تر نمونے کے  تحت  ہی سہی۔

" تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ، اور اپنے لئے آئندہ کا کچھ سامان کرلو، اور اﷲ کا تقوٰی اختیار کرو اور جان لو کہ تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو ، اور (اے حبیب!) آپ اہلِ ایمان کو خوشخبری سنادیں "(2:223 )۔

اس آیت  میں ان مردوں  سے خطاب ہےجو  کہ  لامحالہ جنسی معاملات  میں ایک فعال کردار ادا کرتے ہیں،  یہ جسمانی تعلقات میں  شائستگی ، مہربانی  اور فہم و فراست  کے طرف دلالت کرتے ہوئے ،آزادی  کی اجازت کو تقدس  کے ساتھ (خدا کی  طرف توجہ ) کو یکجا کرتا ہے ، اور خدا کے ساتھ ایک حتمی ملاقات کی  ایک یاد دہانی کے ساتھ اس آیت کا ختتام ہوتا ہے ۔ بہر حال اس  بیان کے ساتھ جو جلی حروف میں مذکور ہے ،  ابوالکلام آزاد نے  ایک بریکٹ کا  اضافہ کر کے خاندان کو محدود  کرنے کی پالیسی کو بھی منسلک کر دیا ہے  جو ذیل میں مذکورہے [3] (اردو سے ترجمہ) :

"۔۔۔ خود کے لئے اقدامات اٹھاؤ  (اپنی  آنے والی اولاد کے لئے ضروری انتظامات کرو) ۔۔۔"  

قرآنی تفسیر  مشقت کے  بجائے  آسانی پیدا کرنے کے لئے ہے (2:185) اور کسی کو اس کی صلاحیت سے زیادہ ذمہ داریاں دینے کے  خلاف ہے (2:233، 65:7) صحت یا آمدنی کی بنیاد پر خاندان کو مختصر کرنے کے لئے  مزید قرانی  تفسیر  فراہم کرتے ہیں ۔ امام محمد الغزالی ، جو تقریبا ایک ہزار سال  پہلے گذرے ہیں، ان کے  بھی خیالات اسی طرح کے تھے  [4]۔

قرآن اس موضوع پر دو دیگر آیات کا خاکہ پیش کرتا ہے :

آیت 2:187  رمضان المبارک کے مہینے میں  روزہ افطار کرنے کے بعد  ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

آیت 2:222 (اس کے بعد والی) جب عورتیں اپنے  ماہانہ دور سے  گزر رہی  ہو ں تو  ان کے ساتھ ازدوجی تعلق قائم کرنے سے منع کرتی ہے ۔

حیض

قرآن حیض کے خلاف تمام ممانعتوں کو  ختم کرتاہے۔ وہ اسے صرف حرج ، ایک تکلیف قرار دیتا ہے ، اور مردوں کو  حکم دیتا ہے  وہ حیض کے دوران خواتین سے ازدواجی  تعلقات  قائم کرنے کے لئے ان کے پاس نہ جائیں ۔

"اور آپ سے حیض (ایامِ ماہواری) کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: وہ نجاست ہے، سو تم حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کش رہا کرو، اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جایا کرو، اور جب وہ خوب پاک ہو جائیں تو جس راستے سے اﷲ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے پاس جایا کرو، بیشک اﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ("(2:222۔

آیت میں (طہر )مادے کا استعمال پاکیزگی یا صحت مندی  کی حالت  پر دلالت کرنے کے لئے کیا گیا  ہے۔ یہ جسمانی صفائی سے مختلف ہے، اس لئے کہ  قرآن عورتوں پر جنسی معاملات میں مزید اور  صفائی کی ضرورت مسلط نہیں کرتا (2:223، اوپر)۔ مزید برآں، اختتامی الفاظ میں  (توابین ) (وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی) اور (متطہرین) (وہ لوگ جو پاک ہیں) کے  ساتھ  منسلک کیا گیا ہے ،جس کا مادہ (طہر ) ہے ، جو کہ دل اور ایمان کی طہارت کا وسیع تر مفہوم  فراہم کرتا ہے۔ اس طرح بصورت دیگر  ،آیت دنیاوی معاملہ (خواتین کی مدت )میں ایک روحانی نوٹ  کے ساتھ  وہ اختتام پذیر ہوتا ہے  ، جیسا کہ آیت کے  اخیر میں مذکور ہے  ۔(اوپر 2:223)

خواتین کی مدت کے بارے میں یہ واحد آیت  اس مدت کے دوران ان کے مذہبی یا دنیاوی فرائض اور سرگرمیوں  کے معاملے میں خواتین پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتی۔ بصورت  دیگر ، قرآن ایک عورت کی پاکیزگی یا صحت  مندی کے  بارے میں بھی کوئی  سوال نہیں  پیدا کرتا جیسا کہ زمین پر خدا کے نمائندے (خلیفہ ) آدمی کے ساتھ  ساتھ ، اور دونوں کو ایک دوسرے کے   سرپرست کے طور پر بیان کرتا ہے (9:71) ۔ لہذا  عورت کو اس کی ماہانہ مدت کے دوران  مذہبی اور  رسمی  معمول  کو ترک کرنے کی کوئی  بنیاد قران  میں نہیں ہے  ۔

مردکو  شادی کے وقت خواتین کو مہر  دینا ہے

قرآن کا اعلان ہے :

اور عورتوں کو ان کے مَہر خوش دلی سے ادا کیا کرو، پھر اگر وہ اس (مَہر) میں سے کچھ تمہارے لئے اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو تب اسے (اپنے لئے) سازگار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ "(4:4)

جہیز ایک آدمی کے  اپنی  بیوی کی مالی ذمہ داری لینے کے عزم کی علامت  ہے، اور اس کے مطابق یہ ایک اہم قدر ہونی چاہئے ، جیسا کہ دست  برداری کے متعلق جملے کی نشان دہی کر کے اسے نمایا کیا گیا ۔ عقد نکاح میں رسوم و روایات  ہیں ، انتہائی قلت  کی صورت میں ایک حفظ  کردہ سورہ  کے  علامتی  خرچ  کے پرابر [5]، لوہے کی انگوٹی [6]، یا  کھجور کی گٹھلی  کے وزن کے برابر سونا  [7] ۔ تاہم، قرآن تقدیر  کی عظیم مثالیں پیش کرتا ہے ، (4:20)، جو کہ واضح طور پر  خواتین کے لئے اس کی فکر  کی عکاسی کرتی ہیں  ۔

خواتین آزاد انہ  آمدنی کی اہل  ہیں ۔

قرآن انفرادی  صلاحیتوں اور آزادانہ  آمدنی کے ساتھ ، شادی میں مرد خواتین کے ساتھ الگ  الگ جداگا نہ طور پر پیش آتا   ہے۔

‘‘ اور تم اس چیز کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے"(4:32)۔

آیت نے مردوں اور عورتوں  کو یہ یاد دلا کر کہ ان کی اپنی آمدنی میں ایک حصہ ہے یان کے لئے اس کا پورا نہیں ،اپنی ذاتی آمدنی  کی ملکیت  کے اتحاد کے  تصور کو  متعارف کرایا ہے  ۔ یہ  آیت والدین کے ساتھ  مہربانی  کے ساتھ پیش آنے  ، وسیع تر سماجی ذمہ داریوں کے  بارے  میں قرآن کے  واضح  احکامات  کا تکملہ  ہے ، اور اس طرح رشتۂ   ازدواج سے منسلک میاں بیوی  دونوں کو اپنی  آمدنی میں  خاص طور پر والدین کو  اور عام طور پر  ذاتی رشتہ داروں اور ضرورت مندوں  کو شریک کر نے کو  ضروری قرار دیتا  ہے۔ یہ آیت ریاست کی  جانب سے لئے جانے والے ٹیکس کو بھی آمدنی  میں کمیونٹی  کو شریک کرنے کے ایک لازمی طریقے کے طور پر جائز ٹھہراتا ہے ۔

شادی میں مرد اور خواتین کا کردار

قرآن شادی میں مردوں اور خواتین کے باہمی کردار کو واضح کرتا ہے (4:34):

مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے"(4:34)۔

یہ قران کی  سب سے زیادہ نازک  اور اہم آیات میں سے ایک ہے۔ زیادہ تر مفسرین  نے  اس کی تفسیر اس انداز میں  کی ہے کہ ، 1) انہوں نے مرد کا بر تر اور با رعب کردار قبول کیا  ہے ، اور شادی میں عورت کو  کمتر اور ماتحت  کا کردار عطا کیا ہے ، اور 2) اور مرد کو مبینہ طور پر ضدی  یا نافرمان بیوی کو پیٹنے کا  حق دیا ہے۔ ہماری ترجمانی  ایک شوہر کی برتری یا ایک بیوی کی تابعداری   اور وجہ سے قطع نظر اس کی پٹائی کی حمایت نہیں کرتی ہے، اور  اس کے اہم الفاظ کی تشریح اور قران کی تشریحات پر مبنی  ہے۔ [تفصیلی تشریح کے لئے اس لنک پر وزٹ  کریں:

http://www۔newageislam۔com/NewAgeIslamIslamWomenAndFeminism_1۔aspx؟ArticleID=5780

آئے اب ہم اس کلیدی آیت کی تحقیقات قرآن کی تشریحات   سے کرنے کی کوشش کریں ۔

سب سے پہلے ، جیسا کہ ابتدائی بیان سے پتہ چلتا ہے کہ ایک  مرد  سے یہ  توقع کی  جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کی مالی مدد  کرے گا  ۔ اور دوسری صورت میں  ۔ وحی کے تناظر میں، یہ  مخصوص صنفی اعلان  تاریخی ضرورت تھی۔ مرد اپنی  بیویوں کو لوازمات فراہم کرائے  بغیر تجارتی مشن کے لئے  گھروں کو چھوڑ دیتا تھا  ، جو خود کو سہارا دینے کے لئے  اجنبیوں کے ساتھ  مباشرت کرتی تھیں ۔ اس کی اصلاح کی  ضرورت تھی  اور اس وجہ سے کہ یہ ایک مخصوص صنفی ذمہ داری ہے۔ تاہم، قرآن ایک مرد کے کردار کو اس کے اخراجات کے ساتھ اپنی بیوی کے لئے ایک‘‘معاون ’’  کے طور پر جوڑتا ہے۔ لہذا اس معاملے میں ، خدا نے  کمائی  میں  عورت کی اس  کی مرد سے زیادہ اعلی سطح پر  حمایت کی ہے ، اسے بھی ایک مشترکہ خاندان کے اولیاء (محافظ) کی  طرح  ایک  حمایتی (قوامہ )کا کردار ادا  کرنا چاہئے ، (9:71) ۔

"اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے "(9:71)

آیت (4:34)  میں  بڑے پیمانے پر کمیونٹی کو  ہدایت کی  گئی ہے اور وہ ایک  ایسا حکم  نہیں ہے جسے شوہر کی جانب  سےانجام دیا جا  نا چاہئے  ، اور  نہ ہی مرد کو عورت پر کوئی اعلیٰ  مقام فراہم  کیا گیا  ہے ۔

دوسرا، معاہدوں کا ایک ساتھ  مربوط  کرنا  ‘‘ بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں’’، استثنائی جملوں کے ساتھ  ، ‘‘اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو ۔۔۔" سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پارسا عورت وہ ہے جو رشتہ ازدواج کے علاوہ تعلقات سے بچے ، اور اس وجہ سے،  اس غیب سے مراد جس کی حفاظت  کرنے کو کہاگیا ہے اس کی  شرمگاہ ہی ہے۔

تیسرا، بیوی  کی پٹائی کے انتہائی متنازعہ مسئلہ  سے متعلق ہے ، ہماری  ترجمانی  ( زور دینے کے لئے ) صرف مارنے کی ہیت  کو علامت بنا تی ہے  اور  وہ فعل کی اس صور پر مبنی ہے جو  قران کی آیت 38:44 میں استعمال کیا گیا ہے ،  جس  کے بارے  میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کیا گیا ہے  آپ نے عہد توڑنے کے بجائے  ‘‘گھاس کا گچھہ  ’’ اپنے  ہاتھ  میں لیا اور (اپنی بیوی) کو ضرب لگا ئی ، اسلام کے ابتدائی علماء کرام میں سے کچھ  بشمول طبری، امام رازی، امام شافعی  رحمہم اللہ تعالی نے  بھی  آیت 4: 34 ، میں مزکور فعل (واضربو) کی ترجمانی  اسی طرح کی ہے ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی کی بیوی کو پیٹنے کے نظریہ کے تعلق سے نفرت کا اظہار کیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ‘‘خدا کی بندی کو کبھی مت مارو  ’’۔" ​​انگریزی زبان  میں اس صورت حال  سے متعلق کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو مارنے  کے علامتی اشارے  سے بالکل مناسبت رکھتا ہو ۔ لہذ ہماری ترجمانی میں  لفظ  assert’ زیادہ مناسب  ہو سکتا ہے اور روایتی لفظ سے کم گمراہ کن،  اگلی آیتوں کے ساتھ موضوعاتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے  اور اولیاء ایک دوسرے کے  (محافظ) کی طرح  مردوں اور خواتین کی وسیع ترباہمی  اور منصفانہ کردار کے ساتھ  مطابقت کے لئے ہے ، جیسا کہ اس کی  کی تاکید آیت( 9:71 میں اوپر  )ہے ۔

‘‘ اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے،"(4:35) ۔

لہذا ، آیت  4:34  اور 4:35 کو ایک  دوسرے کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو شادی میں  صرف مرد اور خواتین   کاکردار ہی  نہیں واضح ہو گا بلکہ  اگر ایک عورت مسلسل  ازدواجی بے وفائی کا مظاہرہ کرےتو  ایسے اقدام کا بھی   اندازہ ہوگا جو اٹھائے  جانے  چاہئے  ، اور ازدواجی  تنازعات دفع  کرنے کے لئے آخری راستہ  کے طور پر ثالثی کی سفارش بھی پیش کرتی  ہے  ۔ بعد کی کسی آیت میں قرآن نے حالات کو تبدیل کرنے کے لئے  اسی طرح کا حتمی طریقہ بھی بیان کیا ہے   اور اعلان کیا ہے :

‘‘ اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں، اور صلح (حقیقت میں) اچھی چیز ہے اور طبیعتوں میں (تھوڑا بہت) بخل (ضرور) رکھ دیا گیا ہے، اور اگر تم احسان کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک اللہ ان کاموں سے جو تم کر رہے ہو (اچھی طرح) خبردار ہے’’ (4:128)۔

اگر مسلسل عہد شکنی ہوتی رہے  اور خاندان کا  امن اور استحکام تباہ  ہو جائے ،  تو قرآن شادی کو  ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ (4:130) چونکہ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ فیصلہ ہے  جو کہ  شریک حیات کے لئے سنگین مالیاتی حالات بھی پیدا کر سکتا ہے  جو مالی  طور پرمنحصر  ہے، قرآن اعلان کرتا ہے:

" اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہو جائیں تواللہ ہر ایک کو اپنی کشائش سے (ایک دوسرے سے) بے نیاز کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے " (4:130)۔

بہر حا ل ، مجبوری کی صورت میں ،قرآن عورت کو بھی علیحدگی کا یک طرفہ حق دیتا ہے  (2:229) ۔

"۔۔۔ دونوں کو اندیشہ ہو کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے، یہ اﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں، پس تم ان سے آگے مت بڑھو اور جو لوگ اﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں"(2:229)۔

لڑکیوں کے لئے شادی کی  عمر کے بارے میں کیا حکم  ہے؟

اختصار کے ساتھ  ، قانونی آوآز  اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے ولی  یا  والدین کے تعلق سے کسی  حوالہ کا کوئی  سہو ، موضوع کے عنوان اور ایک دوسرے کے سرپرست  کے طور پر میاں بیوی کے باہمی کردار کے واضح اقرا ر (9:71)کے متعلق  تمام قرانی آیات میں چھوٹی بچی کی شادی یا اس لڑکی کی شادی کے تصور کو پوری طرح مسترد کیا گیا ہے جو فوراً بلوغت کی دہلیز پرپہنچی  ہوں ۔ تاہم، قرون وسطی کے دور میں ، خاندان بڑے تھے، آمدنی کم تھی، حالات ناگور  تھے، ذاتی سیکورٹی کی  کمی تھی اور خواتین کا  کوئی قابل ذکر اقتصادی کردار نہیں تھا۔ تب لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد  خاندان پر ایک بوجھ  تھی اور اس سے چھٹکارا پانے کا راستہ قرانی اصول کے مطابق صرف بلوغت سے پہلے  شادی کر دینا  ہی تھا ۔ لیکن صنفی حرکیات کی تبدیل ، تہذیبی نمونوں میں تبدیلی ، مالیاتی کردار  اور ذمہ داریوں میں خواتین کی  افزائش ،اور مردوں  کے ظالمانہ رویے اور استحصال کے خطرات کےاضافے کے اس  حالیہ دور میں ضروری ہے کہ ، ایک لڑکی کی اسی وقت شادی کی جائے جب وہ سمجھدار ی کی عمر تک پہنچ جائے ۔ تاہم یہ ایک  دوسرا  معاملہ  ہے کہ علماء کے ایک طبقے نے  ایک چھوٹی لڑکی یا اس  لڑکی کی شادی  پر زور دیا ہے جو ابھی  بلوغت کو  پہنچی ہے ،اس کی وجہ ان کی  جہالت یا ان کے اپنے جنسی میلان ہو سکتی ہے- اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہا ں سکےکا دوسرا  پہلو بھی ہے۔ اکثر  چھوٹے دیہی علاقوں  میں گندی بستیوں  میں رہنے والے غریب مسلم خاندان کے لئے ان کی بڑھتی ہوئی لڑکیوں  کی حفاظت کرنا اور  کھانا کھلانا  تقریبا ناممکن  ہوتا ہے  ،اکثر  جن کا تعاقب مقامی غنڈے کرتے ہیں  ۔ وہ بلوغت  تک پہنچنے سے پہلے ان کا عقد نکاح کر کے اپنی  نوجوان بیٹیوں  کی بہتر حفاظت کر پائنگے ۔ تاہم ،قرآن، دونوں جنسوں میں سے ایک  کے لئے بھی شادی کی کم از کم  مدت کی وضاحت نہیں کرتا۔

نوٹس

1۔ محمد یونس اور اشفاق اللہ سید، Essential Message of Islam ، Amana Publications ، USA،  2009  ، الازہر شریف، قاہرہ (2002) سے تصدیق شدہ ، اور UCLA، USA کے معروف قانون دان اور عالم دین  ڈاکٹر ابو الفضل خالد  کے ذریعہ توثیق شدہ ، ۔

2۔ خدا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب پر  انتہائی غم و مایوسی کے لمحات میں  سکینہ بھیجتا ہے :

• جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ اور ابو بکر پوشیدہ ہے مدینہ کے راستے پر مکہ سے باہر ایک غار میں اپنے  دشمن سے چھپے (9:40) ۔

جیسا کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیرمسلح صحابہ حدیبیہ کے  کھیت میں انتظار کر رہے تھے، بالکل مایوسی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی  کی صورتحال میں عمرہ  ادا  کرنے کے واسطے  میں مکہ داخل ہونے  کی اجازت کے لئے(48:4)۔

• جیسا کہ حدیبیہ  میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیرمسلح صحابہ نے  ان کی  تابعداری اور مکہ کی  فوج کے  کسی بھی حملے کے دفاع کی  بھی قسم کھائی تھی ۔ (48:18) ۔

• جیسا کہ  مسلمانوں نے  مکہ میں داخل ہونا  شروع کر دیا نے اور قریش کے درمیان انتہائی متشدد لوگوں نے  ان کی مزاحمت کرنے  اور انہیں بھڑکانے کی کوشش کی (48:26) ۔

• جیسا کہ حوازنوں  نے کوچ کرتے ہوئے مسلم افواج کا  گھات لگا، اوراسے ایک شور میں منتشر کر دیا ۔ (9:26)  ۔

3۔ ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن ، 1931، 1989، ، دوبارہ طباعت  نئی دہلی  ، Vol،2۔ صفحہ 182۔

4۔ محمد امام غزالی  ،احیاء العلوم '، احسن صدیقی کراچی ،کے ذریعہ اردو  میں ترجمہ ، 1983 ،حصہ 2 ۔ ، جزء2۔ ، صفحہ  74۔

5۔ صحیح بخاری، محسن خان کے ذریعہ انگریزی ترجمہ ، نئی دہلی، 1984، حصہ،7، Acc ۔ 24، 54، 58، 66، 72، 79۔

Ibid، Vol۔7، Acc ۔ 80۔

Ibid، Vol۔7، Acc ۔ 78، 85۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔۔

 

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-sharia-laws/muhammad-yunus,-new-age-islam/love,-sex-and-marriage-in-the-quran/d/7683

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam---محمد-یونس/love,-sex-and-marriage-in-the-quran---قرآن-مجید-میں-محبت،-جنسیت-اور-نکاح/d/10796

 

Loading..

Loading..