New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 08:10 PM

Urdu Section ( 19 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

The Qur’an Offers Protection and Coequal Personal Rights to Women قرآن خواتین کو تحفظ اور مساوی ذاتی حقوق عطاء کرتا ہے

 

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

  17 جون، 2013

( انگریزی سے ترجمہ ۔ نیو ایج اسلام)

(مشترکہ مصنف اشفاق اللہ سید، Essential Message of Islam ، آمنہ  پبلیکیشن، یو ایس اے، 2009 ء )

-                    یہ مضمون  اس خبر کے رد عمل میں ہے  : " Islamic States Reject UN’s Attempt To Protect Women "

تاریخی اعتبار سے مسلم فقہاء نے ان چیز وں پر زور دیا ہے جس کی وجہ سے مسلم علماء قرآن کی تشریح کرنے  میں نا کام ہیں ، اور اس وجہ سے مذہبی معاملات کی مناسب رہنمائی اور دیئے گئے قانونی نظام سے مطابقت کے لئے  کسی فقہی  مذہب  (مسلک) سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور اسی'شرعی قانون' کی اسلامی تہذیب کی اصل بنیاد کے طور پر ادارہ  سازی  اور   خدا کے کلام کے طور پر اس کی تعظیم و توقیر  کا باعث ہےجس کے احکام کی نہ ہی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے اور جسے  نہ ہی  چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے  کہ  اسلامی شرعی قانون اسلام کی ابتدائی صدیوں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنےوالے علماء اور فقہاء  کے خیالات و آراء کا مجموعہ اور خلاصہ ہے ۔ اس کے مطابق29 مئی 2013 [1]کو واشنگٹن ڈی سی میں CSID (Centre for Study on Islam and Democracy) کی طرف سے منعقدہ ایک سالانہ کانفرنس میں“Universal Dimensions of the Qur'an and Historic Specificity of Islam's Theological Sciences” کے عنوان سےایک تحقیق مقالہ پیش کیا گیا جس میں   اسلامی شرعی قانون کے تصور کی تعریف اور  وضاحت کی گئی :

"بصورت دیگر  اسلامی قانون کو اسلامی شرعی قانون کے طور پر جانا جاتا ہے ، جو  کہ  فقہی  روایت کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے  جو اسلام کے تمام گزشتہ فقہاء کے  قانونی  جواب (فتوی) اور رائے پر مشتمل ہے ۔ UCLA کے پروفیسر خالد ابو فضل نے خوش اسلوبی کے ساتھ یہ بیان  کیا کہ: "شرعی قانون سے مراد مثبت اسلامی قانون یا احکام ہیں ، مثبت قانونی احکام کا استخراج و استنباط  صدیوں تک  ترقی پزیر  قانونی عمل کے ذریعہ ہوتا ہے ۔’’

"اسلامی شرعی قوانین کی تشکیل روایت، سیاسی اور تاریخی حالات، فقہی اصول  اور اسلامی تہذیب کے مختلف تاریخی نکات کے بارے میں  علم کی نوعیت کے ذریعہ کی کی گئی ہے  جس کا زمانہ  قیام خلافت (632 - 661 /40 -10ھ) قرون وسطی سے اس زمانے تک ہے ۔ لہٰذا  انسانی 'کوشش میں خطا کی فطرت  کی وجہ سے یہ بے شمار عظیم احکام پر مشتمل ہےجس میں بہت سارے  احکام قرانی پیغام اور نبی صلی اللہ علیہ کی عظیم  شخصیت کے خلاف ہیں ۔’

اس مقالہ میں  مندرجہ ذیل دلیل بھی پیش کی گئی ہے جو مضمون کے  بظاہر حتمی عنوان کی تکمیل کرتی ہے :

" اپنے سیکولر ہم منصب کی طرح اسلامی جمہوریت مذہبی اقلیتوں کے خلاف بالکل ہی امتیازی سلوک نہیں کرتا اور انسانیت کے عالمی بھائی چارے پر  قرانی اعلانات میں خواتین کے ساتھ مردوں کے برابر (اولیاء) کے طور پر سلوک کرتا ہے  (القرآن  13 :49) اور صنفی مساوات عطا کرتا ہے  (القران 9:71)۔

اس عام مختصر  تعارف  اور اپ ڈیٹ کے ساتھ اب ہم خاص  موضوع  پر آتے ہیں۔

اسلام میں خواتین کا  تحفظ اور مردوں کے ساتھ ان کی برابری  جیسا کہ  قرآن میں محفوظ ہے

اس موضوع پر قرانی پیغام کے مختلف پہلوؤں پر کوئی بھی تفصیلی بات چیت انتہائی  تکنیکی، بوجھل اور  غالباً متنازعہ بھی ہو گی  ۔ لہذا، ہم ذیل میں  حال ہی میں شائع شدہ ‘‘Essential Message of Islam ’’ سے تفسیر کا خلاصہ نقل کر رہے ہیں ، جسے سنی اسلام کے سب سے بڑے ادارے (الازہر الشریف) کی منظوری حاصل ہے  اور اسلام کے ایک معروف امریکی قانون داں، خالد ابو الفضل ، UCLA، امریکہ میں قانون کے پروفیسر  نے توثیق کی ہے ۔ روایتی طریقے (سورت کا نمبر شمار :آیت کا نمبر شمار  ) جبکہ باب نمبر ایک سلیش کے بعد دیا گیا ہے ۔

         مردوں کو اپنی  بیویوں کو ایک مناسب  مہر دینا  ضروری ہے (4:4 Ch / 33.4) اگر چہ شادی مکمل ہو نے  سے پہلے ہی ٹوٹ جا ئے ( 7 . 34 -  6 . 34 / 236 :2)  جب کہ عورت اپنی مرضی  سے مہر کے کچھ  حصے کو ترک کر سکتی  (4:4)۔ ۔

         خواتین کو اپنی آزاد آمدنی کرنے کا حق ہے (4:32 / 50 . 33) ۔

         مرد کو اپنی مدد کرنی چاہئے اور   آمدنی کے ذریعہ اپنی بیویوں کی دیکھ بھال کرنی چاہئے  (4:34 / 6 . 33) جبکہ آمدنی کرنے والی بیوی کو بھی اپنے شوہروں کی دیکھ بھال کرنی چا ہئے(4:32 / 5 . 33) اس لئے کہ خدا نے  مختلف پیمانوں پر مردوں اور عورتوں کو فضیلت دی ہے  (4:34) ۔

         اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو اس کی توثیق کر لو ، بصورت دیگر ان کے اہل  و عیال کے  ذریعہ با ہمی تصفیہ  کرا لو (35 - 4:34 / 33:6) ۔

         اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں جس کے گواہ  تنہاء وہ ہوں  تو اس  صورت میں اس کی بےگناہی کا  حلف کو اس کے شوہر کے الزام کے خلاف قبول کیا جائے گا (9 - 24:6 /6 . 36) یہ ایک ایسے معاملے میں ایک عورت کو اس کے شوہر پر فوقیت دینا  ہے کہ  جس میں شوہر موقع پر ہی اپنی بیوی کے قتل سے اس معاملے کا تصفیہ کر سکتا ہے  اور بھی قانونی طور پر۔

         جنسی دغا بازی کے لئے  ایک عورت کی گواہی کا جواز(9 - 24:6/  6. 36)، حلف کے تحت اضافی گواہوں کے بغیر عصمت دری کی شکار کی واحد گواہی کی کفایت کو ظاہر کرتا ہے  ۔

         اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو میاں بیوی آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں (4:128 /  6. 33) اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں (4:130/ 33.6)اور آخرکار  انہیں معاوضہ ادا کرنے کے بعد  یکطرفہ   طلاق دے دو  (2:229 /  2. 34)۔

         مردوں کو ان کی بیویوں پر کوئی  قانونی یا بڑا اختیار نہیں حاصل ہے ۔( 6 . 33 / 34 : 4 ؛ 2. 34 / 228 :2) ۔

         مرد اپنی بیویوں کی نااہل اطاعت کا حقدار نہیں ہے ، اور نہ ہی اسے  نافرمان بیوی کو پیٹنے کا  اختیار ہے  (4:34 /  6. 33)

         مردوں  کو  قیدی عورت باندیوں کے ساتھ جنسی تعلق بنانے  کی اجازت نہیں ہے  ( 6 - 23:5, 30 - 70:29 -/ 19.1)۔

         جو مرد  شادی کو ختم کرنا چاہتا ہے اس کے لیئے ضروری ہے کہ قمری ماہ کے اعتبار سے تین مہینے کی مدت کے اندر اندر دو مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق کا نوٹس دے ، طلاق پر ایک حتمی فیصلہ لینے سے پہلے (2:229, 2:231, 65:2/ 34.2)

         اگر  نوٹس کی تین ماہ کی مدت کے اندر اندرمرد اپنی بیوی کو حاملہ پاتا ہے  تو اسے  واپس لوٹا نا  واجب ہے (2:228 /  2 . 34) ۔

         اگر سابق کار آمد نہ ہو تو بیوی کے اخراجات اور حمل سے پیدا ہونے والے بچے کے پیدائش سمیت پورے دو سال    کی تیمار داری کے  اخرجات مرد کے ذمہ ہیں (2:233، 5 . 34 / 7 - 6 :65)۔

         آمدنی کے مطابق ،اپنی مطلقہ حاملہ بیوی سے  پیدا ہونے والے  بچے کی رضاعی ماں کے ذریعہ پرورش کا سارا خرچ مرد کے ذمہ ہے (  5. 34 / 233 :2) ۔

         عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو (65:6 /  5 .34) ۔

         اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو (2:231 /  2. 34) ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ (2:232 /  4. 34)۔

         مرد کو  ان کی بیویوں کی کسی چیز کو  رکھنے کا حق نہیں ہے ، جیسا کہ  طلاق کے دوران یا ان کے  رشتہ داروں کی بیواؤں سے۔ (4:19 / 2. 35؛ 2:229، 4:20 /  2. 34)۔

         اور مطلقہ عورتوں کو بھی مناسب نان و نفقہ دینا چاہیئے (جب تک کہ وہ دوبارہ شادی کر لیں / جیسا کہ  حکم معاملے کی نوعیت پر  انحصار کرتے ہوئے  فیصلہ کرتے ہیں ) (2:241 / 8 . 34)۔

         اور جو لوگ مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ حالات کے مطابق  اپنی عورتوں کے لئے ایک سال تک خرچ دیں  اور وہ  گھر سے نہ نکالی جائیں۔ اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کر لیں  اور اپنا نکاح کر لیں( 235- 2:234/ 35.1۔

         اولاد کی موت پر والدین(ماں اور باپ)  میں سے ہر ایک یکساں طور پر  اس کے وارث ہوں گے(4:12 /  2. 38) ۔

         بیٹی بیٹے کو مقابلے میں  نصف کی وارث ہو گی  (4:12 / 2. 38) انسان کو  دو گواہوں کی موجودگی میں وصیت کرنے  کے قابل ہونا چاہئے۔

         مردوں اور عورتوں پر  یہ فرض ہے کہ وہ مرنے سے پہلے گواہوں کی موجودگی میں وصیت کر جائیں ( 182- 2:180، 108 - 5:106 / 37) ۔

         قرآن ایک سماجی معیار کے طور پر ایک شادی کی سفارش کرتا ہے (4:3 / 31:1، 2. 31) ۔

         قرآن نابالغ افراد کی شادی کی حمایت نہیں کرتا (Ch۔ 6 .32) ۔

         مردو عورت  کے درمیان محبت اور رحمت خدا کی ایک 'نشانی' ہے (Ch 1. 33) ۔

         خواتین کو پاؤں تک پردہ کرنے اور سر ڈھکنے کے لئے کسی بھی بیرونی کپڑے، اور صنفی بنیاد پر علیحدگی کا پابند ہونے کی   کوئی مذہبی ضرورت نہیں ہے ۔ (Ch 4 .28)۔

         قرآن مردوں اور خواتین کے ایک دوسرے کے  ولی (محافظ، مشیر اور محافظ) کے کردار کو تسلیم کرتا ہے( 71 :9) ۔

         تخلیقی عمل کے آخری مرحلے میں  ان کے مقدس کردار میں قرآن خواتین کو ، مردوں پر روحانی فوقیت دیتا ہے (4:1) ۔

         شادی اور طلاق کے بارے میں تمام قرانی آیات میں  اس کے والد یا ولی کے عملی طور پر کسی بھی حوالہ کی غیر موجودگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  ایک مسلمان عورت کو اس کا  ساتھی  منتخب کرنے کا پورا حق ہے  (Ch 2. 32)۔

         تجارت  میں خواتین کی فعال شرکت سے باز رکھنے کی روایتی رکاوٹوں کو  ہٹانے کے ساتھ، گواہی کے متعلق قرآن کی مخصوص ضرورت  (دو خواتین اور ایک مرد اگر دو مرد دستیاب نہ ہوں تو) کو مختلف  حالات کے مطابق کیا جا سکتا ہے (2:282 / 24:2) ۔

         قرآن مرد کے کسی بھی  نقص ، عیب  یا بدقسمتی کے لئے  کسی بھی عورت کو ذمہ دار نہیں  ٹھہرا تا ۔ لہٰذا  مثال کے طور پر، یہ شیطان کے بہکاوے اور جنت سے  پہلی مرتبہ نزول کے لئے  آدم اور ان کی زوجہ دونوں کو  ذمہ دار ٹھہراتا ہے  (2:36، 22 - 7:20/ 1 . 5) ۔

         تخلیقی عمل کے آخری مرحلے میں خدا نے جنس سے قطع نظر کے انسانوں میں اپنی  روح پھونک دیا (15:29، 32:9، 38:72 /3 . 5) اور اس طرح صنف سے قطع نظر انسانوں میں ایک ہی فطرت ڈال دیا ۔

         قرآن مومنوں کے لئے اچھے اعمال پر انعامات کے  وعدہ میں صنفی بنیاد پر جانبدار نہیں ہے (4:124 /  4 .2) ۔

         یہ خدا کے لئے ان کے خلوص میں  مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق نہیں کرتا ہے (33:35 / 4 .2)

         وحی کے تناظر میں، خواتین کو  اپنے شوہر یا سرپرستوں کی رضامندی یا موجودگی کے بغیر براہ راست نبی صلی اللہ علیہ یہ کے سا منے اسلام قبول کرنے کی خود مختار اتھارٹی حا صل ہے (60:12 / 1 .36) ۔

         ایک بار پھر، وحی کے تناظر میں یہ مسلم خواتین (بیٹیوں سمیت) بالغ بچوں کو،  ان کے  عیسائی ہم منصبوں کے ساتھ ساتھ حلف اٹھانے کے لئے عیسی علیہ السلام کی پیدائش جیسے حتیٰ الامکان  روحانی طور پر  ایک اہمی معاملے میں  آزاد گواہ  کے طور پر بیان کرتا ہے  ( 61 - 59 :3)۔

         قرآن حیض کے خلاف تمام ممانعتوں کو ختم کرتا ہے (3 .33/ 2:222) ۔ لہذا تکنیکی طور پر ایک عورت اس مدت کے دوران نماز اور روزہ سمیت اپنے تمام مذہبی فرائض انجام دے سکتی ہے  جب تک کہ یہ اس کے لئے  بے جا مشقت کا باعث نہ ہو، اس  کا فیصلہ اس کی جسمانی اور ذہنی حالت کے حساب سے لیا  جائے گا۔

نتیجہ:

قرآن کے سابق  اصول اور اعلانات میں سے  کسی کی بھی  تشخیص اس بات کی بکثرت تائید ہو گی کہ  قرآن خواتین کو تحفظ اور مساوی  ذاتی حقوق عطاء کرتا ہے اور آج اس  کے منکرین  قرآنی پیغام کے منکر ہیں - اگرچہ خدا بہتر  جانتا ہے  ۔ اس زمانے کا اسلامی شرعی قانون قرآن پر مبنی ہونا چاہئے جو کہ بلاشبہ اسلام میں قانون کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے  اور اس کے ان احکام پر انحصار نہیں کرنا چاہئے  جو کہ لامحالہ اس کے ابتدائی دور کے حقائق کی بناد پر مدون ہیں  - قرون وسطی کے ان ابتدائی ادوار  میں جب پدرانہ نظام کو فوقیت حاصل تھی  جس وجہ سے  حقوق نسواں  ناقص تھے ۔

نقاد اس مقالہ کی ایک مخالف  دلیل کے طور پر زنا کے لئے قران کی سزا کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ در حقیقت  قران کی مخصوص سزا مثال کے طور پر کوڑے مارنا ہے ، جو کہ غالب اصول پر مبنی ہے ، جس  کا مقصد قانونی زنا کو  ختم کرنا ہے  جو خواتین کے تحفظ کے  لئےضروری تھا جن کے ساتھ  ماضی میں مال و متاع کی طرح سلوک  کیا جاتا   تھا  ۔ لہذا، اس سزا  کو اس کے تاریخی سیاق و سباق سے باہر یا   علیحدہ کرتے ہوئے اتنا سخت  اور ظالمانہ بنانا گمراہ کن ہو گا۔قران انسانیت کو سزا دینے کے لئے نہیں بلکہ  انسانیت منتقل  کرنے کے لئے نازل کیا گیا تھا، خاص کر  ان اذیت ناک معاشروں سے  عورتوں اور دبے ہوئے طبقوں  کو جو  ان پر مسلط کر دئے گئے تھے -"ور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔" ( 7:157)، اور اس کے عظیم مقاصد کے حصول ناگزیر طور پر کچھ سخت اقدامات کے ساتھ مشروط تھے ، جس نے ہر چند کہ  لوگوں کی ایک جزوی اقلیت کو متاثر کیا ۔

احتیاطی نوٹ

اور خواتین اور صنفی حرکیات کے کردار اور تحفظ پر قرانی نقطہ نظر اس کے دور کے اور  قرون وسطی کے 'حقوق نسواں کے علمبردار' سے بہت پرے تھا، بے شمار احادیث مبارکہ (حدیث کی یا نبی صلی اللہ علیہ کی روایت کی جمع ) جو زبانی گردش میں آگئیں عورتوں کو ان کے  قرانی استحقاق سے  محروم کر دیا ۔ لیکن وہ احادیث زمانے کے لئے مخصوص تھے ، اور جیسا کہ ان کے ابتدائی مدونین کے ذریعہ  تسلیم کر لئے گئے تھے ، اور کئی عظیم احادیث کی صداقت مشکوک ہے، جب کہ قران اسی تاریخی نقطہ پر نازل کیا گیا  ریکارڈ کیا گیا اور حفظ کیا گیا ہے " یہ اس کی غیر مشکوک صداقت کی ایک مضبوط  بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ "[2]۔

نوٹ:

1۔ مندرجہ ذیل لنک  میں  اشفاق سید کی 49 منٹ 30 سیکنڈ کی تقریر ۔

http://www.youtube.com/watch?v=8B2vi-oXuj0

2۔ میکسمی روڈنسن ، محمد، انگریزی ترجمہ، دوسرا ایڈیشن، لندن 1996، پکسلز [مقدمہ ]۔

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

رپورٹ:

Islamic States Reject UN’s Attempt To Protect Women: It Violates Sharia Law, They Claim

اسلامی ریاستوں نے خواتین کی حفاظت کے لئے اقوام متحدہ کی کوشش کو مسترد کر دیا : یہ شرعی قانون کی خلاف ورزی ہے ، ان کا  دعوی

16 جون 2013

کویت کی نیوز ایجنسی کونا نے یہ  رپورٹ دی ہے  کہ  اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اسلامی رکن ممالک نے کونسل کی قرارداد کی دفعات کو اور خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے مطالبہ کو مذمت  کرتے ہوئے مسترد کر دیا اور یہ کہا کہ  کی وہ دفعات شریعی قانون کی خلاف ورزی ہیں ۔

مثال کے طور پر کونا کے مطابق، اسلامی رکن ممالک نے  اس دعویٰ پر اعتراض کیا کہ  خواتین کو " جنسی زندگی سے متعلق اور  ساتھ ہی ساتھ ان کی تولیدی صحت سے متعلق معاملات کو جبر، امتیازی سلوک یا تشدد کے بغیر خود  کنٹرول کرنے کا حق ہے " ۔

تفصیلات بیان کرتے ہوئے ، انہوں نے  شادی کے اندر عصمت دری اور عورتوں کے ساتھ مال و اسباب کے بڑھ کر سلوک کے  کسی بھی نظریے پر اعتراض کیا۔

کونا کی رپورٹ:

انہوں نے اس پیراگراف  کو بھی مسترد کر دیا جو شادی کے اندر عصمت دری کے مقدمات میں عدالتی کارروائی کی اجازت دیتا ہے، ان سہولیات کی تنسیخ جس میں سرٹیفکیٹ کے میچنگ  کی ضرورت ہوتی ہے، جو زانی کو  مظلومہ سے شادی کے ذریعہ استغاثہ سے بچنے کی اجازت دیتا ہے ،  اور اخلاقی جرائم یا بہتان کے لئے جنسی تشدد کے متاثرین کو زیر کرتے ہوئے بھی ۔

1991کی ابتداء  میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم نے  عراقی فورسز سے کویت کو آزاد کرا لیا جو کہ وحشیانہ  تھا ۔

آٹھ سال بعد، کویت انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹفک  ریسرچ  نے ایک تفصیل تیار کی ، "کویت کی ریاست کے خلاف عراقی جارحیت کی گھناؤنی تصاویر ۔" رپورٹ خود، جیسا کہ یہ دعوی کرتی ہے ، "عراقی حکومت کے ذریعہ پیش کئے گئے  تمام انسانی اصول، اقدار و آداب  کے تئیں بربریت، مظالم اور ذلت کی گواہ ہے ۔ "

تہذیب کی بنیاد اس میں نہیں ہے  کہ گیراج میں کتنے  مرسڈیز یا الماری میں کتنے سوٹ لٹک رہے ہیں ۔ بلکہ اس کی بنیاد اس چیز پر ہے کہ  لوگ اپنے  ساتھی شہریوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں  ۔ بربریت اور ظلم کا  خلاصہ نسل، مذہب، قومی اصلیت اور جنس کی بنیاد پر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ  بدسلوکی ہے۔

جہاں تک  میں سمجھ سکتا ہوں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی قرارداد نے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا تھا ۔ اس نے محض "خواتین کے انسانی حقوق کو بڑھانے، تحفظ، اور کمیونٹیز میں مردوں کے  برابر شراکت داری ۔" کا مطالبہ کیا تھا ۔

ہم کبھی کبھار سنتے ہیں کہ  دیگر ممالک، خاص طور پر مشرق وسطی کا کہنا ہے کہ  "ہمیں انہیں پتھر کے زمانے میں واپس پھیر ہی دینا  چاہئے" یہ کچھ ایسا نہیں ہے جس کی میں حمایت کرتا ہوں ، تاہم وہ بعض اعتبار سے  پتھر کے زمانے میں ہی رہتے ہیں ۔

شاید سارہ پالن حق بجانب تھی جب اس نے  حال ہی میں یہ  کہا کہ ہمیں اس خطے سے باہر رہنا چاہئے اور ان کے معاملوں کا تصفیہ ان کے اللہ کو ہی کرنے دیں ۔

URL for English article:

  http://newageislam.com/islam,-women-and-feminism/muhammad-yunus,-new-age-islam/the-qur’an-offers-protection-and-coequal-personal-rights-to-women-and-those-who-deny-them-such-rights-today-are-the-deniers-of-the-message-of-the-qur’an-–-though-god-knows-best/d/12113

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam--محمد-یونس/the-qur’an-offers-protection-and-coequal-personal-rights-to-women--قرآن-خواتین-کو-تحفظ-اور-مساوی--ذاتی-حقوق-عطاء-کرتا-ہے/d/12174

 

Loading..

Loading..