New Age Islam
Sun May 16 2021, 08:43 AM

Urdu Section ( 4 Sept 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sexual Norms of Pre-Islamic Arabia: Essential Message of Islam: Chapter: 36 اسلام سے پہلے عرب کا جنسی معمول: اسلام کا اصل پیغام

 

 محمد یونس اور اشفاق اللہ سید

25 اگست 2015

(مصنفین اور ناشرین کی اجازت کے ساتھ نیو ایج اسلام کی خصوصی اشاعت)

اسلام سے پہلے عرب کا جنسی معمول

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ اسلام سے پہلے عرب میں خواتین کو اجنبی مردوں کے ساتھ مباشرت کرنے کی اجازت تھی جب ان کے شوہر تجارت کے سلسلے میں شہر سے باہر ہوتے تھے (نوٹ 7 / باب۔ 1.1)۔ اس کے علاوہ جنسی اقدار پر سکون تھے، اور مخالف جنسوں کے اجنبیوں کے عام درمیان ملاقات آسانی کے ساتھ جنسی تعلقات میں تبدیل ہو جاتے تھے، جس کی پہل اکثر خواتین ہی کرتی تھیں، جس کا نتیجہ زچگی کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے ان بچوں کے والد کی شناخت کرنے میں اکثر تنازعات پیدا ہو جاتے تھے اور اس کا فیصلہ بچوں سے ملتی جلتی شکل و شباہت والے والد کے ساتھ موازنہ کر کے کیا جاتا تھا۔ اس سماجی معمول نے مردوں کو اپنے بچوں اور ان عورتوں کے تئیں تمام تر سماجی اور مالی ذمہ داریوں سے بری کر دیا تھا جن سے انہوں نے شادی کی تھی یا جن کے ساتھ انہوں نے جنسی تعلق قائم کیا تھا، جس کی وجہ سے عورتیں تجارتی زنا پر مجبور تھی، اور اس طرح کے جنسی تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ یہ خاندان کے قرآنی قوانین کے بالکل خلاف تھا، جس کا مقصد:-

I)                   مردوں کے جنسی، مالی اور سماجی لائسنس کو ختم کرنایہ،

II)                زنا ختم کرنا،

III)              خواتین کو بااختیار بنانا اور

IV)             عورتوں اور بچوں کو مالی تحفظ دینا جیسا کہ گزشتہ ابواب میں اس کا جائزہ لیا گیا۔ قرآن کو اس عمل کا خاتمہ کرنا تھا، جس کے لیے اس نے ایک مخصوص اصطلاح زنا کا استعمال کیا ہے (25:68 / باب 19.1؛ 17:32، 60:12)۔

اس کے لیے سب سے پہلے قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پاس آنے والی مومنہ عورتوں سے اس بات کی اطاعت گزاری کا حلف لینے کا حکم دیا کہ وہ زنا سے گریز کریں گی (60:12)۔

"اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے"(17:32)۔

"اے نبی! جب آپ کی خدمت میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور بدکاری نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے کوئی جھوٹا بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی (یعنی اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے کسی غیر کے بچے کو اپنے پیٹ سے جنا ہوا نہیں بتائیں گی) اور (کسی بھی) امرِ شریعت میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو آپ اُن سے بیعت لے لیا کریں اور اُن کے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے(60:12)۔

روایتی طور پر لفظ زنا کا معنیٰ ایک عورت کا ناجائز جنسی تعلق ہے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ۔ تاہم، ایک زنا کے الزام میں دیگر گواہوں کی غیر موجودگی میں ایک اہم گواہ کے طور پر ایک شوہر کا واضح حوالہ (24:6 / 36.6) بظاہر اس لفظ کا تعین موجودہ دور کے تناظر میں زنا کے ساتھ کرتا ہے۔ تاہم قرآن زنا اور بدکاری سمیت ہر طرح کی بدکاریوں کے لیے ایک عام اصطلاح ‘فاحشہ’ کا استعمال کرتا ہے۔

URL for English article: https://www.newageislam.com/books-and-documents/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/against-unlawful-intimacy--essential-message-of-islam--chapter-34-to-36/d/104366

URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/sexual-norms-of-pre-islamic-arabia--essential-message-of-islam--chapter--36--اسلام-سے-پہلے-عرب-کا-جنسی-معمول--اسلام-کا-اصل-پیغام/d/104494

 

Loading..

Loading..