New Age Islam
Thu Apr 15 2021, 08:32 PM

Urdu Section ( 17 Sept 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Role of Muslims as Witnesses to Humanity: Chapter 42 پوری انسانیت پر گواہ کی حیثیت سے مسلمانوں کا کردار: اسلام کا اصل پیغام

 

 

محمد یونس اور اشفاق اللہ سید

7 ستمبر 2015

(مصنفین اور ناشرین کی اجازت کے ساتھ نیو ایج اسلام پر خصوصی اشاعت)

42۔ کمیونٹی کے معاملات کو انجام دینا

42.1۔ کمیونٹی کے معاملات کو انجام دینے میں مشاورت کرنا

قرآن کمیونٹی کے معاملات کو انجام دینے میں باہمی مشاورت کا حکم دیتا ہے(3:159، 42:38):

‘‘اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں’’ (42:38)۔

نوٹ: پچھلی آیت میں سنگین گناہوں اور برے کاموں سے منع کرتے ہوئے (42:37 / باب 29.2)، قرآن اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اتفاق رائے کے آلہ کار کو غلط کو صحیح ثابت کرنے اور ممنوعات شرعیہ کا جواز پیش کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اپنے گورنروں کے لیے خلیفۃ المسلمین حضرت عمر کے حکم سے واضح ہے، (نوٹ 4 / باب۔ 21.4)۔

"اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے"(3:159)۔

اس آیت (3:159) کا نزول غزوہ احد کے بعد ہوا تھا، جس میں اچانک مسلمانوں کو بہت بڑا فوجی نقصان اٹھانا پڑا تھا اس لیے کہ کچھ تیراندازوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے مال غنیمت پر قبضہ کرنے کے لیے اپنے اپنے متعینہ جگہوں کو چھوڑ دیا تھا۔ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے (نوٹ 96 / باب۔ 3.5)، اور کمیونٹی کے معاملات کو (اور خاص طور پر اس مثال میں جنگ کے معاملوں کو ) باہمی مشاورت کے ذریعے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ جنگ خندق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مشاورت کی ایک اور مثال ملتی ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فارسی نو مسلم کی تجویز پر دفاع کے لئے ایک خندق کھودنے کا حکم دیا تھا (باب 3.7)۔

42.2۔ یکطرفہ طور پر بخشش کا حکم

وحی کے اختتامی مرحلے میں جب مسلمان اپنے اوپر کیے گئے مظالم کا بدلہ لینے کی پوزیشن میں تھے تب قرآن مسلمانوں کو ان کے سابق دشمنوں کو یکطرفہ طور پر معاف کرنےکا حکم دیتا ہے:

"اے ایمان والو! اﷲ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت (و ادب) والے مہینے کی (یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب میں سے کسی ماہ کی) اور نہ حرمِ کعبہ کو بھیجے ہوئے قربانی کے جانوروں کی اور نہ مکّہ لائے جانے والے ان جانوروں کی جن کے گلے میں علامتی پٹے ہوں اور نہ حرمت والے گھر (یعنی خانہ کعبہ) کا قصد کرکے آنے والوں (کے جان و مال اور عزت و آبرو) کی (بے حرمتی کرو کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں) جو اپنے رب کا فضل اور رضا تلاش کر رہے ہیں، اور جب تم حالتِ اِحرام سے باہر نکل آؤ تو تم شکار کرسکتے ہو، اور تمہیں کسی قوم کی (یہ) دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام (یعنی خانہ کعبہ کی حاضری) سے روکا تھا اس بات پر ہرگز نہ ابھارے کہ تم (ان کے ساتھ) زیادتی کرو، اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اﷲ (نافرمانی کرنے والوں کو) سخت سزا دینے والا ہے"(5:2)۔

"اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو ........"(5:8)

اتفاق رائے کا حکم قرآن کی پانچویں صورت (سورہ مائدہ ) میں اس وقت نازل ہوا جب (630ء) میں مکہ فتح کیا جا چکا تھا۔ اس سورہ کی مندرجہ بالا آیات میں مسلمانوں کو ان مکہ والوں کے خلاف دشمنی کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جنہوں نے (628ء) میں ان کے کاروان حج کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے روک دیا تھا۔ (41:34 / باب 12.7) تاہم، یوسف علی اور محمد اسد سمیت اکثر مفسرین نے ان آیات کے احکام کو عالمگیر اور آفاقی نوعیت کا قرار دیا ہے، جیسا کہ اس کی تائید'برائی کا بدلہ بھلائی کے ساتھ دینے’ کے قرآنی حکم سے ہوتی ہے۔ صرف فتح و نصرت ہی نہیں بلکہ مصائب و آلام کے زمانے میں بھی ان احکام کے گہرے سماجی اور سیاسی مضمرات ہیں۔

42.3۔ پوری انسانیت پر گواہ کے طور پر مسلمانوں کا کردار

قرآن پوری انسانیت پر گواہ کے طور پر مسلمانوں کے کردار کا تعین کرتا ہے(2:143، 22:78)۔

"اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو، اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بیشک یہ (قبلہ کا بدلنا) بڑی بھاری بات تھی مگر ان پر نہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت (و معرفت) سے نوازا، اور اﷲ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان (یونہی) ضائع کردے، بیشک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے (2:143)۔

"اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لئے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اﷲ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مددگار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مددگار ہے! "(22:78)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں پر گواہ بتا کر ، قرآن اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیروکاروں کے لیے ایک مثالی طرز عمل اور اسوۂ حسنہ کی زندہ مثال تھے (33:21 / باب 15)۔ اس طرح، ان آیات کے ذریعے قرآن مسلمانوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر گواہ تھے اسی طرح مسلمانوں کو خود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال اخلاقی کردار اور اسوۂ حسنہ کے قالب میں ڈھال کر پوری انسانیت پر گواہ بننا ضروری ہے تاکہ دیگر مذہبی برادریاں بھی ان کے نقش قدم کی پیروی کریں۔ اس سے انسانیت کی آفاقی اخوت کے قرآنی نقطہ نظر کی تکمیل ہوتی ہےجیسا کہ ابھی مذکورہ بالا میں اس کا جائزہ لیا گیا(باب 9)، اور یہ مسلمانوں کے اوپر معتدل کردار پیدا کرنے کی ایک خصوصی ذمہ داری تفویض کرتا ہے-جو کہ ایک ایسا اخلاقی کردا ہے جس کی وجہ سے اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اسلام کی غیر معمولی ترویج و اشاعت ہوئی، اور وقت کے ساتھ ساتھ اسی کی بنیاد پر دنیا بھر میں اسلامی اقدار اور اصولوں کی ترویج ہوئی۔

42.4۔ اسلامی ریاست کا تصور

اپنے سماجی، تجارتی، قانونی اصلاحات، خاندانی قوانین جیسے زندگی کے دوسرے پہلوؤں سے متعلق قرآنی ہدایات، جیسا کہ پچھلے صفحات میں اس کا احاطہ کیا گیا ہے، کے نفاذ کے لیے ایک حقیقی اسلامی معاشرے کے ارتقاء کی ضرورت ہے۔ اس طرح کا معاشرہ (امت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ میں تیار ہوا تھا۔ تاہم، نبی صلی اللہ کی روحانی اور دنیاوی قیادت کے تحت مسلم برادری کو ایک اسلامی ریاست قرار دینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ قرآن خدا کے رسول کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ لہذا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ریاست کا سربراہ یا کمانڈر چیف کہنا قرآن میں اضافہ کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے علاوہ، قرآن سیاسی، سماجی، مالی، یا فوجی انتظامیہ کے بارے میں خاموش ہے جس کی ذمہ داری ایک ریاست کے اوپر ہے۔ علم اور سائنس کے دیگر تمام شعبوں کی طرح اس کے عروج و ارتقاء کو بھی تہذیب کی ترقی کے ساتھ چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ تاہم، انصاف، مساوات، رواداری، سماجی بہبود پر اسلام کی تاکید، اور تمام لوگوں کے لئے امن اور سلامتی کی اس کی ترجیح نے دنیا کی تاریخ میں (خاص طور پر اسپین اور بھارت میں) سب سے زیادہ پرامن اور مبنی بر مساوات کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی معاشروں کے قیام کے لئے بنیادی قوانین فراہم کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اقدار عالمی معاشرے میں سرایت کر کے ایک فلاحی ریاست کے تصور کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ساتھ ہیں ساتھ ایک اسلامی ریاست کا کوئی قابل تعین ماڈل نہیں ہے: آج انتہائی متنوع سیاسی ایجنڈے، نظریات اور انتظامی محکموں والے ممالک اس عنوان کے مدعی بن چکے ہیں، اور وہ آج تک اس پر عمل پیرا ہیں جیسا کہ ہم مسلم ممالک میں دیکھ سکتے ہیں۔

42.5۔ اسلامی خلافت کی پیدائش اور اس کا عروج و ارتقاء

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست جانشینوں کی خلافت کے دوران (661 تا 632) مسلمانوں نے ایک مذہبی و سیاسی قوم کی بنیاد ڈالی تھی جب ریاست کی تمام سرگرمیاں مذہب کی سرپرستی میں انجام دی جاتی تھیں، اور ان کا مقصد اسے ایک تاریخی حقیقت کے طور پر قائم کرنا تھا۔ اور ان چاروں خلفاء (ابو بکر، عمر، عثمان اور علی) کو ہدایت یافتہ خلفاء کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قابل اعتماد صحابہ تھے، اور ان میں سے ہر ایک کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ازدواجی تعلق تھے1، اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی خاندان کے ارکان کے طور پر زندگی بسر کی تھی، اور تقریباً دو دہائیوں تک خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت فرمائی تھی اس لیے کہ ابتدائے اسلام میں ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا 2، اور وہ اپنی حکمت، سادگی، لگن اور بے لوث جذبہ لئے مشہور تھے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے متاثر، قرآن کے اصولوں میں ڈوبے ہوئے، اور اپنے مشنری جوش و جذبہ سے لیث خلفاء راشدین اسلام کو ایک طاقتور روحانی، سماجی، دانشورانہ اور سیاسی طاقت کے طور پر قائم کرنے میں کامیاب رہے، جس پر پوری دنیا حیرت زدہ تھی، اور انہوں نے مشرق میں بحر اوقیانوس کے کنارے سے لیکر مغرب میں بحر الکاہل کے کنارے تک دنیا کو اپنی موجودگی کا احساس کرایا اور اس طرح اسلام کو ایک تاریخی حقیقت کے طور پر قائم کر دیا۔ تاہم، اس نسل کے گزر جانے کے بعد خلافت کی لگام ان لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئی جنہوں نے نبوی مشن کے تقریباً 20 سالوں کے بعد فتح مکہ بعد اسلام قبول کیا تھا؛ نہ تو ان کی تربیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ، اور جنہیں براہ راست وحی کے دھماکہ خیز اثرات کا تجربہ بھی نہیں تھا، اور جن کے پیچھے صرف ان کے ذاتی عزائم کار فرما تھے اور اس طرح وہ ابتدائی خلفاء کے ورثے کو برقرار رکھنے کے اہل نہیں تھے۔ یہ بنو امیہ (750 تا 661) تھے۔ انہوں نے خلیفہ یا جانشین کے عنوان کو برقرار رکھا اور اصولی طور پر دنیاوی اور مذہبی دونوں معاملات میں کمیونٹی کے منتخب کردہ سربراہ کا عہدہ سنبھالا، لیکن حقیقت میں وہ محض خاندانی حکمران اور دنیاوی سربراہ تھے۔ اس طرح مذہبی و سیاسی اسلامی ریاست کا اختتام ہوا اور تاریخ کا رخ بدل گیا۔ فضلاّ ہیری (Fadhalla Haeri) کے مطابق3:

"اسلام کے نام پر ایک سلطنت قائم کی گئی تھی جس کا دارالحکومت دمشق کے قدیم بازنطینی شہر کو بنایا گیا اور کالعدم بازنطینی حکومت کی انتظامی، سیاسی اور فوجی مشینری کو اپنایا گیا۔ تاریخ کے اس موڑ پر اکثر مسلم حکمرانوں کی توجہ مال و دولت جمع کرنے، اپنی قوم پر تسلط قائم کرنے، خود کے لیے تحفظات جمع کرنے اور طاقت و قوت جمع کرنے پر مرکوز ہو گئی۔"

"لہذا، حقیقی معنوں میں، ایک اسلامی ریاست کا کوئی سیاسی ماڈل نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے تحت چلنے والی اسلامی خلافت کو ایک ماڈل کے طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ یہ نظام حکومت خالصتا مذہبی بنیادوں پر قائم تھا۔ اس ماڈل کو دوبارہ تیار کرنا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے ایک مذہبی و سیاسی ریاست کی قیادت کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ناظرین وحی کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ ویسے بھی، آج کی کثیر مذہبی دنیا میں ایک مذہبی و سیاسی ریاست ایک تاریخی ضرورت کے بجائے تاریخی ضرورت کے خلاف ہے۔ چنانچہ مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل بہت سے ممالک کا موجودہ اسلامی نام اور مسلم اور غیر مسلم دنیا کے درمیان مذہبی و سیاسی تقسیم خالصتا تاریخ، وطن پرستی، فرسودہ اور دقیانوسیت پر مبنی ہے، اور قرآنی پیغام میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

URL for English article:  http://newageislam.com/books-and-documents/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/role-of-muslims-as-witnesses-to-humanity--essential-message-of-islam--chapter-42-to-46/d/104503

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/role-of-muslims-as-witnesses-to-humanity--chapter-42---پوری-انسانیت-پر-گواہ-کی-حیثیت-سے-مسلمانوں-کا-کردار--اسلام-کا-اصل-پیغام/d/104617

 

Loading..

Loading..