New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 02:59 AM

Urdu Section ( 22 Jun 2015, NewAgeIslam.Com)

Good Deeds اعمال صالحہ

 

  

محمد یونس اور اشفاق اللہ سید

12 جون 2015

(مصنفین اور ناشرین کی اجازت کے ساتھ نیو ایج اسلام کی خصوصی اشاعت)

مدنی زندگی کے ابتدائی ادوار میں  ‘نیکی (معروف) کی کسی بھی کوشش کی نافرمانی نہ کرنے کو’ ایمان کا ایک رکن مانا جاتا تھا۔1  مگر جب وحی کا سلسلہ جاری تھا تبھی اسے ایمان کے ارکان کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا اس لیے کہ کفار عرب نے قیاساً اس بنیادی ضرورت کو اس نئے دین کی خصوصیت قرار دیا تھا، اور انہیں اسلام قبول کرتے وقت بمشکل ہی کسی یاد دہانی کی ضرورت پڑتی تھی۔ اور اس طرح اسلام کے ابتدائی سالوں سے یہ ستون پردہ خفا میں چلا گیا۔

اب تک نیک کام کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کی قرآن میں بار بار تاکید کے ساتھ نصیحت کی گئی ہے، یا تو اس کا حکم نماز کے ساتھ دیا گیا ہے یا کسی دوسرے احکام کے ساتھ اس کا حکم وارد ہوا ہے۔ عمل صالح کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن اسے تمام لوگوں کے لیے ان کے مذاہب سے قطع نظر رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ایک مشترکہ معیار قرار دیتا ہے (باب 9.4)۔ لہٰذا، قرآن مسلمانوں سے " نیکی میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے" (2:148)۔

"اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت (مقرر) ہے وہ اسی کی طرف رُخ کرتا ہے پس تم نیکیوں کی طرف پیش قدمی کیا کرو، تم جہاں کہیں بھی ہوگے اﷲ تم سب کو جمع کر لے گا، بیشک اﷲ ہر چیز پر خوب قادر ہے (2:148)"۔

اس طرح قرآن میں عمل صالح کے متواتر  حکم سے جیسا کہ یہ نماز، زکوة، حج اور روزے جیسے خالصتا مذہبی ذمہ داریوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لئے عمل صالح کی قرآن کی نصیحتوں سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ قرآن ان تمام اعمال کو عمل صالح مانتا ہے جس کی وجہ سے انسانوں کے اندر مادی اچھائی  پیدا ہوتی ہے۔

16.1۔ ابتدائی مکی سورتوں میں اعمال صالحہ کے متعلق آیات 2

"(77:41) بیشک پرہیزگار ٹھنڈے سایوں اور چشموں میں (عیش و راحت کے ساتھ) ہوں گے، (42) اور پھل اور میوے جس کی بھی وہ خواہش کریں گے (ان کے لئے موجود ہوں گے)، (43) (ان سے کہا جائے گا:) تم خوب مزے سے کھاؤ پیو اُن اَعمالِ (صالحہ) کے عوض جو تم کرتے رہے تھے، (77:44) بے شک ہم اِسی طرح نیکو کاروں کو جزا دیا کرتے ہیں"۔

"(95:3)، اور اس امن والے شہر (مکہ) کی قَسم، (4) بیشک ہم نے انسان کو بہترین (اعتدال اور توازن والی) ساخت میں پیدا فرمایا ہے، (5) پھر ہم نے اسے پست سے پست تر حالت میں لوٹا دیا، (6) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے ختم نہ ہونے والا (دائمی) اجر ہے" (95:6)۔

" بیشک انسان خسارے میں ہے (103:2سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اور (معاشرے میں) ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور (تبلیغِ حق کے نتیجے میں پیش آمدہ مصائب و آلام میں) باہم صبر کی تاکید کرتے رہے" (103:3)۔

16.2۔ وسطی اور اواخر مکی دور میں نازل ہونے والی آیتیں 3

"بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے رہے یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں" (11:23)۔

"بیشک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے اور ان مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری سناتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے" (17:9)۔

"تاکہ اﷲ ان لوگوں کو پورا بدلہ عطا فرمائے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بخشِش اور بزرگی والا (اخروی) رِزق ہے " (34:4)۔

"آپ ظالموں کو اُن (اعمال) سے ڈرنے والا دیکھیں گے جو انہوں نے کما رکھے ہیں اور وہ (عذاب) اُن پر واقع ہو کر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے وہ بہشت کے چَمنوں میں ہوں گے، اُن کے لئے اُن کے رب کے پاس وہ (تمام نعمتیں) ہوں گی جن کی وہ خواہش کریں گے، یہی تو بہت بڑا فضل ہے (42:22)۔

"یہ وہ (انعام) ہے جس کی خوشخبری اللہ ایسے بندوں کو سناتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، فرما دیجئے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر (اپنی اور اللہ کی) قرابت و قربت سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہے (42:23)"۔

اس آیت میں لفظ ‘‘فی’’  کا ترجمہ قیاساً 'سے' کے بجائے ‘‘کے لیے’’ کیا جاتا ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو ہر زمانے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں سے محبت اور عقیدت رکھنی چاہئے۔ مسلمانوں کے لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ، ایسا کرنے کا کوئی حکم قرآن میں نہیں ہے (باب 14.1)۔

16.3۔ مدنی سورتوں کی آیتیں 4

مکہ مکرمہ میں اپنے دشمنوں کو دین کی تعلیم دینے والے ایک محض مبلغ سے لیکر مدینہ میں ایک کمیونٹی کے سربراہ بننے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلتے ہوئے کردار کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی واقع ہوئی، لیکن ہر زمانے میں قرآن نے اعمال صالحہ پر یکساں زور دیا ہے۔ لہٰذا، قرآن کی ایک مدنی سورت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے جدوجہد کرنے والے پیروکاروں سے اس طرح خطاب کیا گیا ہے؛ ‘‘اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے (جس کا ایفا اور تعمیل امت پر لازم ہے) جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اور وہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو (جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گے’’(24:55)۔

"اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو (اﷲ) انہیں ان کا بھرپور اجر دے گا، اور اﷲ ظالموں کو پسند نہیں کرتا" (3:57)۔

"اﷲ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وعدہ فرمایا ہے (کہ) ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے" (5:9)

"بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں، یقیناً اﷲ جو ارادہ فرماتا ہے کر دیتا ہے (22:14)"۔

‘‘اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے (جس کا ایفا اور تعمیل امت پر لازم ہے) جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اور وہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو (جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گے’’(24:55)۔

16.4۔ اسلام میں اعمال صالحہ کی غیر معمولی اہمیت

اعمال صالحہ کے تعلق سے سابقہ آیات، اور ذیل میں مندرج بے شمار آیتوں سے اسلام میں اعمال صالحہ کی غیر معمولی اہمیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ قرآن میں اعمال صالحہ کی افضلیت اور برتریت کا بہتر طریقے سے اندازہ  ذیل میں ان اہم نکات سے لگایا جا سکتا ہے:

ا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل پر ایک واحد آیت میں، قرآن میں صرف ان لوگوں کے لیے خدا کی بخشش اور اجر کا وعدہ کیا گیا ہے "جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے۔"

"محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے ہوئے، سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ (صرف) اﷲ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں۔ اُن کی نشانی اُن کے چہروں پر سجدوں کا اثر ہے (جو بصورتِ نور نمایاں ہے)۔ ان کے یہ اوصاف تورات میں (بھی مذکور) ہیں اور ان کے (یہی) اوصاف انجیل میں (بھی مرقوم) ہیں۔ وہ (صحابہ ہمارے محبوبِ مکرّم کی) کھیتی کی طرح ہیں جس نے (سب سے پہلے) اپنی باریک سی کونپل نکالی، پھر اسے طاقتور اور مضبوط کیا، پھر وہ موٹی اور دبیز ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی (اور جب سرسبز و شاداب ہو کر لہلہائی تو) کاشتکاروں کو کیا ہی اچھی لگنے لگی (اﷲ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو اسی طرح ایمان کے تناور درخت بنایا ہے) تاکہ اِن کے ذریعے وہ (محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جلنے والے) کافروں کے دل جلائے، اﷲ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے"(48:29)۔

ب) سب سے پہلے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے لوگوں کی روحانی برتری کے حق میں نازل ہونے والی قرآن کی واحد آیت میں انہیں اچھے اعمال کرنے والوں کے طور پر ممتاز کیا گیا ہے:

‘‘اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے’’(100: 9)۔

آخر میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عربی میں قرآن کے تراجم میں اعمال صالحہ کا ذکر تواتر کے ساتھ  ہے، لیکن عربی قرآن میں ہر لفظ کا نص قرآنی میں اپنا ایک امتیازی مقام ہے، جس سے قرآن کی باطنی خوبصورتی اور اس کی فصاحت و بلاغت کی عکاسی ہوتی ہے، جو کہ ترجمہ قرآن میں احاطہ سے باہر ہے، لہٰذا، کسی بھی تکرار کے لیے قرآن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا کیا جا سکتا۔

حوالہ جات

1۔ صحیح بخاری، انگریزی ترجمہ، محسن خان، نئی دہلی 1984، جلد۔1۔

2۔ 84:25، 85:11، 8/99:7۔

3۔ 7:42، 10:4، 10:9، 10:26، 13:29، 14:23، 18:2، 18:30، 18: 107/110، 60/19:59، 19:76، 19:96، 20:75، 20:112، 21:94، 28:67، 28:80، 29:7، 29: 9، 29:58، 15/30:14، 45/30:44، 31:8، 32:19، 34:37، 35:7، 38:28، 39:10، 34/39:33، 40:58، 41:8، 41:33، 41:46، 42:26، 45:15، 45:21، 45:30، 67:2۔

4۔ 2:25، 4:57، 4: 122، 4:173، 22:23، 22:50، 22:56، 22:77، 47:2، 47:12، 98:7۔

URL for English article: https://www.newageislam.com/books-and-documents/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/only-god-knows-the-rightly-guided--chapter-14,-15-and-16,-essential-message-of-islam/d/103461

URL for this article: https://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus---ashfaque-ullah-syed/good-deeds--اعمال-صالحہ/d/103610

 

Loading..

Loading..