New Age Islam
Wed Apr 21 2021, 09:20 AM

Urdu Section ( 7 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Munshi Nawal Kishor: Patron of Sciences and Art of the East مشرقی علوم و فنون کے محافظ: منشی نول کشور

 

 محمد وصی صدیقی

قلم کے ذریعہ روٹی کمانے کی رسم تمام دنیا میں ہے اور بہت پرانی ہے چھاپے خانے کی ایجاد کے پہلے قلم کے ذریعہ روٹی پیدا کرنے کے لئے ادیب کو مربی کی ضرورت تھی(مثلاً شاعر کو) یا پھر عوامی امداد کی (مثلاًداستان گو کو) لیکن جب پریس آگیا تو مربیوں کا دور ختم ہونے لگا اور یورپ میں کوئی تین سو برس کے عرصہ میں مربی کا ادارہ بالکل ختم ہو گیا۔ ہندوستان میں پریس بہت دیرمیں آیا۔ پریس کا آغاز اور مربی کا ختم ہونا کم وبیش ایک ہی ساتھ عمل میں آیا۔ مربی اس لئے ختم ہوئے کہ انگریزوں کی لائی ہوئی نئی تہذیب نے مربّیوں کی مالی حیثیت بہت کم کر دی اور بہت تیزی سے کم کر دی۔ مغرب میں یہ ہوا کہ پریس (یعنی ناشر، اخبار) نے مربی کی جگہ لے لی لیکن ہندوستان میں اس کا الٹا ہوا۔ یہاں پریس نے ادیب کو ذریعہ آمدنی بنایا لیکن اپنی ہی شرطوں پر یعنی پریس کے مالک یا کتاب کے ناشر نے ادیب کو کچھ معاوضہ نہ دینے کی رسم بنالی ۔

قرائن بتاتے ہیں کہ منشی نول کشور کے زمانے میں کتابت شدہ پتھر محفوظ رکھے جاتے تھے اور انھیں کتاب کی اگلی اشاعتوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اگر یہ صحیح ہے تو پتھروں کو محفوظ کرنے اور محفوظ رکھنے میں بہت مہارت اور بہت جگہ درکار ہوتی ہوگی پھر یہ بھی ہے کہ انھیں ترتیب سے اس طرح جمع رکھنا کہ آسانی اور ترتیب سے دوبارہ نکالا جا سکے یہ بہت بڑا اور بڑی مہارت کا کام رہا ہوگا ان پتھروں کو دوبارہ صحیح جگہ پر واپس رکھنا بے شک بڑے انتظامی ڈھب کا تقاضا تھا۔ نول کشور پریس کا ایک بہت بڑا کارنامہ داستان امیر حمزہ کی چھیالیس جلدوں کی اشاعت ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے متون جو پریس سے شائع ہوکر محفوظ ہوئے ان میں سے اکثر ہیں جنھیں کوئی نہ کوئی ادارہ یہاں سے یا ایران یا مصرو عرب سے شائع کر ہی دیتا لیکن داستان امیر حمزہ ایسا متن ہے جسے نول کشور کے سوا کوئی بھی شائع نہ کر سکتا تھا لہٰذا اگر نول کشور پریس داستان امیر حمزہ کو شایع نہ کرتا تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناپید ہوجاتی اور ہم ایسی شے سے محروم رہ جاتے جسے دنیا کے تخیلاتی ادب کے عظیم ترین کارناموں میں شمار کیا جانا چاہئے اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں کم ایسا ہوا ہوگا کہ ایک ہی ادارے نے کئی تہذیبوں اور کئی ادبی اور علمی روایتوں کی ایسی وسیع الذیل اور دیر پا خدمات انجام دی ہوں۔ منشی نول کشور کو ہندوستان کی تہذیبی تاریخ میں مرد جلیل کی حیثیت حاصل ہے۔

منشی نول کشور کی پیدائش 3؍جنوری 1836ء کو متھر اکے ریڑھا(اب بلدیو) نامی گاؤں میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام پنڈت جمنا پرشاد بھارگو تھا اور آبائی وطن قصبہ بستوئی تحصیل ساہنی ہے ۔ 1845ء سے 1850ء تک ان کی تعلیم آگرہ کالج آگرہ میں ہوئی۔ 1850ء میں ان کی شادی سرسوتی دیوی سے ہوئی۔ 1851ء میں انھوں نے اخبار’’سفیر‘‘ میں اخبار نویسی کی تربیت حاصل کی 1852ء میں وہ لاہور چلے گئے اور وہاں انھوں نے منشی ہر سکھ رائے کے اردو اخبار ’’کوہِ نور‘‘ اور ان کے پریس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ نول کشور کی لاہور سے واپسی کے بارے میں امیر حسن نورانی لکھتے ہیں ’’لاہور میں منشی نول کشور چار سال رہے ان کی عمر کا اکیسواں سال شروع ہو چکا تھا 1857ء کی تحریک جنگ آزادی کا آغاز بھی ہو گیا تھا جس کے اسباب سے نول کشور بخوبی واقف تھے۔

منشی نول کشور نے ایک صحافی کی حیثیت سے حالات کا بغور مطالعہ کیا تھا انھوں نے دل میں طے کر لیا تھا کہ کوہ نور کی ملازمت ترک کرکے اپنے وطن جاکر مطبع قائم کریں گے اور ایک اخبار جاری رکریں گے۔ اس دوران ہر سکھ رائے سے اختلاف ترک ملازمت کا سبب بن گیا۔ اس لئے آگرہ واپس پہنچ گئے۔ آگرہ میں کچھ عرصہ قیام کرکے انھوں نے حالات کا جائزہ لیا اور محسوس کیا کہ ان کے عزائم کے لئے آگرہ کا ماحول ساز گار نہیں اس لئے انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا جو صدیوں سے علوم و فنون کا گہوارا اور تہذیب کا مرکز تھا اور 1857کے ہنگاموں میں تباہ و برباد ہو گیا تھا لیکن اس شہر میں تہذیب اور علم و فن کا چراغ بالکل گل نہیں ہوا تھا البتہ اس کی لو مدھم پڑ گئی تھی۔

ملبوں میں دبی نیم جاں نعمتوں کو بھانپ کر نول کشور نے اپنی محنت و فراست کے تیشہ و آب سے اپنے لئے بار آور بنانے کا بیڑا اٹھا لیا۔1858کے اوائل میں منشی نول کشور لاہور سے لکھنؤ آئے اور اسی سال نو مبر میں نول کشور پر یس قائم کیا جہاں سے جنوری 1859ء سے اردو کا ’’اودھ اخبار‘‘ شائع کرنا شروع کیا پہلے یہ ہفتہ وار تھا بعد میں روزنامہ ہو گیا اور 1950ء تک چلتا رہا۔ کچھ ہی عرصہ میں ان کا پریس عالمی شہرت یافتہ ہو گیا اور اس نے پیرس کے ایلپائن پریس کے بعد دوسرا مقام حاصل کر لیا۔ منشی جی نے تقریباً پانچ ہزار کتابیں شائع کیں جو تاریخی ریکارڈ تھا۔ اس وقت بجلی نہیں تھی۔ اشاعتوں میں تقریباً 65فیصد اردو، عربی اور فارسی اور باقی 35فیصد سنسکرت ہندی، بنگلہ، گردمکھی، مراٹھی، پشتو اور انگریزی میں تھیں جن میں علوم و فنون کے سبھی موضوعات شامل تھے۔منشی جی کے انتقال کے بعد 1950ء تک جو نہایت اہم ادیب پریس سے وابستہ رہے ان میں نوبت رائے نظر، پنڈت دو ارکا پرشاد وامق، پنڈت وشنو نرائن در، آچاریہ مہاویر پرساد، دویدی، منشی پریم چند، پنڈت روپ نرائن پانڈے، دلارے لال بھارگو، کرشن بہاری مشر اور بانکے بہاری بھٹناگر بھی تھے۔

منشی جی کا ایک اہم کام تھا ہندو، اسلام اور سکھ مذہب کی مقدس کتابوں کا ہندی، اردو اور گرومکھی میں ترجمہ جس میں رامائن کے اردو اور گرو مکھی ایڈیشن شامل ہیں اس کام سے بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بہت تقویت ملی۔ منشی جی ہندوستان میں صف اوّل کے صنعت کار تھے۔ 1871ء میں لکھنؤ کی اپرانڈیا پیپر مل جو شمالی ہندکا پہلا کاغذ بننے کاکارخانہ تھا انھیں کی دین تھی۔ ان کاموں سے منشی جی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور غیر ملکی حکمراں بھی ان کو عزت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ 1885ء میں لدھیانہ دربار میں افغانستان کے شاہ عبد الرحمن نے منشی جی کو دیکھتے ہی کہا تھا’’خدا کا شکر ہے کہ میرا یہ سفر اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ آپ سے ملاقات ہو گئی ہندوستان میں جو مسرت آپ سے مل کر ہوئی وہ کسی کام سے نہیں ہوئی

‘‘1888ء میں شاہ ایران نے کلکتہ میں اخباری نمائندوں کی ایک کانفرنس میں کہا تھا ’’ہندوستان آنے کے میرے دو مقصد ہیں۔ ایک وائسرائے سے ملنا اور دوسرا منشی نول کشور سے‘‘ نول کشور پریس نے بلا شبہ مغربی وسطی اور جنوبی ایشیا سے بھارت کی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں یاد گار خدمات انجام دیں۔ منشی جی کی عام سماجی خدمات بھی قابل ذکر ہیںوہ بہت بڑے سخی تھے انھوںنے ملک کے مختلف اداروں کو نقد ی یا بہت سی کتابیںپیش کیں۔ تعلیمی ادارے، یتیم خانے اور اسپتال وغیرہ بھی ان سے فیضیاب ہوئے۔ 1885ء میں نواب آغا میر کے محل کو خرید کر اس میں منشی نول کشور ہائی اسکول قائم کیا۔ اور بعد میں 1887ء میں اسے حکومت کو منتقل کرکے اس کا نام گورنمنٹ جوبلی کالج کر دیا۔ لکھنؤ کے ڈفرن اسپتال کی عمارت انھیں کی دین ہے۔

حضرت گنج کی رونق بڑھانے میں انھوں نے جو خدمت انجام دیں اس کے اعزاز میں انھیں 1875ء میں لکھنؤ میونسپلٹی کا پہلا ہندوستانی ممبر نامزد کیا گیا۔ سماج اور ملک کے تئیں ان کی اہم خدمات کے لئے حکومت نے 1877ء میں انھیں ’’قیصر ہند‘‘ تمغے سے سرفراز کیا اور 1888ء میں سی آئی ای کی ڈگری سے نوازا۔ 1885ء کے پہلے کانگریسی اجلاس میں بھی منشی جی نے حصہ لیا تھا۔ جنوبی ایشیاء کی ادبی میراث اور ایشیائی انقلابی قومیت کے پاسدار منشی نول کشور کا انتقال 19؍فروری 1895ء کو لکھنؤ میںہوا۔ بھارت سرکار نے مختلف میدانوں میں ان کی اہم خدمات کے اعزاز میں ان کے 75ویں یوم وفات (19.2.1970)پر ایک خاص ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ ہندوستان میں طب یونانی کو زندہ رکھنے اور اطباء کرام کی عظمت کو عالمی پیمانے پر روشناس کرانے میں منشی جی اور ان کے پریس کا بہت بڑا حصہ ہے ان کی زندگی میں تقریباً 150طب کی کتابوں کی اشاعت ہوئی۔

نول کشور ایک ملی جلی تہذیب کی بڑی علامت تھے دار العلوم دیوبند کی روداد میں برابر نول کشور کی خدمات کا ذکر ملتا ہے۔ فی الحال دو مثالیں پیش ہیں۔ پہلی یہ کہ جو کتابیں نایاب ہو رہی تھیں ان کو چھاپنا اور ظاہر ہے دیوبند کو سرکاری امداد نہیں ملتی تھی جیسے کہ جامعہ کو نہیں ملتی تھی۔ دار العلوم کی درسی کتابیں نول کشور نے مفت مہیا کرائیں۔علی گڑھ کے لئے بھی ان کی عطیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔دوسرے یہ کہ ہندی اور سنسکرت کا جو سرمایہ تھا اس کو نول کشور نے اردو میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ منو سمرتی اور شیو پران کے اردو ترجمے شائع ہوئے اور مہابھارت کا منظوم ترجمہ چھاپا گیا۔

یہ حیران کن بات ہے کہ 1960کے آپس پاس تک تقریباً سات سو مسودات جن میں ایک درجن سے زائد داستانیں تھیں نول کشور کے محافظ خانے میں مسودات کی شکل میں موجود تھے اور جو غالباً اب تک نہیں چھپ پائے احترام اور احتیاط کا یہ عالم تھا کہ نول کشور پریس میںکلام پاک کی کتابت باوضو ہوکر کرائی جاتی تھی اور ضرورت پر مشورہ کرنے کے لئے مشیر کار علماء تھے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ مشرقی علوم اور ہند اسلامی تہذیب کی جو خدمات منشی صاحب، ان کے اخلاف اور ان کے پریس نے انجام دیں اس نے ہماری تہذیبی تاریخ کا نقشہ بدل دیا۔ منشی نول کشور نے ہندوستان ہی نہیں وسط ایشائی ممالک اور مشرق و سطی کے ممالک کی بھی تہذیبوں کی زندگی کو قائم رہنے اور پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے انھوں نے اردو کے علاوہ عربی فارسی اور سنسکرت کی بھی قدیم اور نادر کتابوں کے اچھے نسخے مہیا کئے ان کی تصحیح کرائی اور انھیں کم قیمت کے ایڈیشنوں میں شائع کیا اس طرح ہماری ہزاروں قابل قدر کتابیں تباہ ہونے اور مٹ جانے سے محفوظ رہیںاورنہ صرف یہ کہ محفوظ رہیں بلکہ دور دور تک عام بھی ہوئیں۔

نول کشور کے پریس نے اپنے کام میں سبھی مذہبوں اور سبھی تہذیبوں کو عزت دی وہ ہندوستانی فکر و فلسفہ اور رواداری کی وراثت ہے۔ اگر منشی نول کشور نہ ہوتے تو ہندوستان کی تعلیم اور علم و فن کی دنیا کی تاریخ ہی بدل گئی ہوتی ۔ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 7؍جنوری 1970ء کو کہا تھا۔

"Munshi Naval Kishore was one of our intellectual leader of the nineteenth century. He was intensely concerned with the evoluing of a synthesis between old and new knowledge. He was a publisher of phenomend energy and several languages are indebted to him"                                                     

بقول ناظر کاکوروی۔’’لکھنؤ میں مشہور تھا کہ جس قدر حفاظ، مورخ، ادیب، محدث اس مطبع میں تھے ہندوستان کے کسی دوسرے مطبع کو نصیب نہیں ہوئے۔‘‘اس لحاظ سے مطبع نول کشور صرف ایک پریس نہیں بلکہ ایک دارہ ، انجمن، اکیڈمی اور علم و دانش کا گہوارہ تھا۔ علم و ادب اور علوم اسلامی کے اس خدمت گار کو مسلمان ہمیشہ یاد رکھیں گے اور خراج عقیدت پیش کریں گے نصیر ناطقی کے الفاظ میں:

شائع کلام پاک ہو تھی دل کی آرزو

گونجی صدائے نیک فضاؤں میں چار سو

آنے لگی طہارت و پاکیزگی کی بو

لکھوایا پھر کلامِ الٰہی کو باوضو

اللہ رے نفاستِ منشی نول کشور

کتنی حسیں تھی فطرتِ منشی نول کشور

بشکریہ: عزیز الہند، نئی دہلی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-wasi-siddiqi/munshi-nawal-kishor--patron-of-sciences-and-art-of-the-east-مشرقی-علوم-و-فنون-کے-محافظ--منشی-نول-کشور/d/35181

 

Loading..

Loading..