New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:17 AM

Urdu Section ( 3 May 2012, NewAgeIslam.Com)

That Fascinating Sentence of the Mother of the Last Muslim Ruler of Spain ہسپانیہ کے آخری مسلم فرمانروا کی ماں کا وہ فکر انگیز جملہ


محمد طارق غازی

آٹوا، کینڈا:جب (ہسپانیہ کا آخری مسلم فرماں روا) ابو عبداللہ (محمد) البشرات کے پہاڑ کی ایک چوٹی پر پہنچا تو بے ساختہ اس نے مڑ کر غرناطہ کی طرف دیکھا اور اپنے خاندان کی گزشتہ شان و عظمت پر آخری نظر ڈال کر ... زار و قطار رونے لگا (تو) ابو عبداللہ کی ماں (ملکہ عائشہ) نے، جو اس وقت ہمراہ تھی، کہا کہ ” جب تو باوجود ایک مر دسپاہی پیشہ ہونے کے اپنے ملک کو نہ بچا سکا تو مثل عورتوں کے ایک گمشدہ چیز پر رونے سے کیا فائدہ“۔تاریخ میں تقریبا گم نام ایک عورت کا یہ فکر انگیز جملہ مسلم ہسپانیہ کے آخری لگ بھگ چار سو سال کی بد بختانہ تاریخ پر مجمل مگر مکمل تبصرہ ہے۔ مسلم اسپین کی تاریخ اڈورڈگبن نے بھی لکھی ہے، سٹینلی لین پول نے بھی، سیدیو نے بھی اور اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے بھی۔ان تما م ضخیم کتابوں پر ملکہ عائشہ کا یہ چھوٹا سا جملہ بہت بھاری ہے۔اس جملہ میں محرومی کی تاریخ بھی بیان ہوگئی، اس کے اسباب بھی ہویدا ہوگئے اور اس کے نتائج بھی نظروں کے سامنے آگئے۔

 مگر عجیب بات ہے، دنیا کے مسلمان اندلس کے نام پر عورتوں کی طرح رونے والے مسلمان مردوں کے آنسو جمع کئے جائیں تو ایک نیا بحر ظلمات بن سکتا ہے، مگر یہ مردان اشکبار اگر اس بعد بھی کچھ کار مرداں کر دکھاتے تو یہ تاریخ ابو عبداللہ محمد کی بنائی ہوئی تاریخ سے مختلف بھی ہوسکتی تھی. سچ پوچھئے تو جہاں جہاں مَردوں نے مردانگی کے جوہر کو شبستانوں میں ضائع نہیں کیا تھا وہاں وہ تاریخ بنی بھی جو ابو عبداللہ اور اس جیسے حکمرانوں کو شرم دلانے کے لئے کافی تھی۔ وہ تاریخ ہندستان میں بھی بنی جہاں سیکڑوں رجواڑوں میں بٹے ہوئے ایک برصغیر کو انہیں مردان کشودہ کار نے تاریخ میں پہلی بار ایک متحدہ ملک اور سیاسی اکائی کی شکل دی تھی۔یہ تاریخ اناطولیہ سے شروع ہوکر بلغاریہ ماور بیزنطئم کے توپ قاپی قلعہ کی دیواروں سے لےکر آسٹریا میں ویانا کی دیواروں تک پھیلی ہوئی بھی محفوظ ہوگئی اورتاریخ کے یہ دونوں ادوار مراکش کی کسی گمنام گلی کے بوسیدہ گھر میں محرومی کی موت کا شکار ہونے والے ابو عبداللہ محمد کی اشکبار آنکھوں کے خشک ہونے کے صدیوں بعد لکھی گئی تھی۔تاریخ کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے وہ ابو عبداللہ جیسے حکمرانوں کو بھلاتی نہیں، مگر وہ یاد رکھتی ہے فقط ان جیالوں کو جو تہذیب و تمدن میں مثبت اضافے کرتے ہیں۔ہم میں سے بہت لوگ پچھلے چالیس پچاس سال کی تاریخ کے اکثر گوشوں کے عینی شاہد ہیں۔تو ذرا یاد کیجئے گزشتہ نصف صدی میں مسلمانوں نے کتنے نئے ابو عبداللہ محمد جیسے شبستانی حکمراں پیدا کئے اور کتنے وہ مردان عمل پیدا ہوئے جنہوں نے تاریخ میں کوئی مثبت اضافہ کیا۔ ان دونوں گروہوں کی فہرستیں بہت کچھ کھٹے میٹھے قصے بیان کرسکتی ہیں۔تجربہ کر دیکھئے۔

بشکریہ : اردو تہذیب اردو ڈاٹ نیٹ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/that-fascinating-sentence-of-the-mother-of-the-last-muslim-ruler-of-spain--ہسپانیہ-کے-آخری-مسلم-فرمانروا-کی-ماں-کا-وہ-فکر-انگیز-جملہ/d/7224

 

Loading..

Loading..