New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 10:25 AM

Urdu Section ( 10 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Spending in the Cause of Allah and Khidmat-e-Khalq: Self-Training and Reform Prescription انفاق فی سبیل اللہ اور خدمت خلق: تربیت نفس اور اصلاح کے لئے نسخہٌ کیمیا ہیں

محمد الیاس اعظمی

7 جنوری،2022

اسلام، دین فطرت اور دین رحمت ہے۔ اس کا ہرحکم فطرت انسانی کے عین مطابق اور اس کاعطا فرمودہ ہر عمل باعثِ رحمت ہے۔ اس لئے کہ اس کے قوانین و احکام حقیقت پسندانہ، انسانی طبیعت و مزاج کے عین مطابق اور عقل و خرد کے ساتھ طلائی وزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دین حق نے دنیائے انسانی کو عبادت و معاملات میں جو بھی احکام دیئے ہیں، وہ بے مقصد یا محض وقت گزاری کے لئے نہیں، بلکہ اگر کوئی صاحب عقل و دانش ان میں غور وفکر کرتاہے تو وہ بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ جاتاہے کہ دین اسلام کے ہر حکم کے پیچھے ایک حکمت وبصیرت ایک نظاعمل اور ایک فلسفہ حیات موجود ہے۔

ایثار کا میدان بہت وسیع ہے۔عزت و آبرو، جان و مال، مقام و مرتبہ او ران کے علاوہ دیگر کئی امور و معاملات میں انسان ایثار کرتا ہے۔ ایثار کو محض دو چار اقسام تک محدود کرنا ممکن نہیں۔ قرآن مجید نے جو دو سخا اور ایثار کی ضد ”شُحّ“ بیان کی ہے۔ ارشاد فرمایا: اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا۔“(الحشر:9)

اس کی وضاحت کرتے ہوئے پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ لکھتے ہیں:

”یہ ایک حقیقت واقعی ہے کہ دولت او رحاجت دونوں کی موجودگی میں جو دو ایثار کی صفت کا پایا جانا بندے پر خدا تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم ہے، ورنہ ایسی صورت حال میں بندہ بخل کا شکار ہوجاتاہے اور ایثار سے گریز کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے شخ فعل مجہول کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو ”شح سے بچ جائے“ کیونکہ انسان کا ازخود اس بیماری سے بچنا بہت مشکل ہے بلکہ فرمایا: ”جس کو شح سے بچالیا گیا“ یعنی جس پر اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور اس مذموم خصلت سے بچا لیا، وہ بچ سکتا ہے۔“(ضیاء القرآن)

ایثار: قرآن مجید کی روشنی میں:

سرچشمہ ہدایت قرآن مجید زندگی کے ہر پہلو سے مکمل راہنمائی فراہم کرتا ہے خواہ اس کا تعلق انسانی جذبات و خواہشات سے متعلق ہو یا کسی بھی انسانی معاملہ سے۔ مشاہدہ ہے کہ مال و دولت، آل و اولاد اور دنیوی جاہ و منصب انسان کی کمزوری او را س کی خواہشات و جذمات کا مرکزہوتے ہیں۔ وہ ان مذکورہ اشیاء کے لئے جان تک کھپا دیتا ہے، وہ ان کی خاطر ہر جائز و ناجائز اقدام کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اس لئے اصلاح و تربیت نفس اور تزکیہ وتطہیر باطن کے لئے قرآن مجید نے جو نسخہ تجویز کیا ہے، اس میں دو چیزیں بڑی اہم ہیں:

(1) انفاق فی سبیل اللہ (2) خدمت خلق

چنانچہ قرآن مجید نے جا بجا ان دونوں امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دینے کے ساتھ بخل و کنجوسی پر وعید بھی سنائی ہے۔ اسی طرح خدمت خلق کا حکم دیتے ہوئے انسانیت پر ظلم کرنے سے منع بھی کیا ہے۔

ایثار کا عمل صدقہ ہی کی ایک صورت ہے۔ انسان اپنے معمولات یومیہ میں سے کچھ وقت نکال کر اپنے کسی غریب، حاجت مند، پریشان حال، مسکین و تنگ دست مسلمان بھائی یا کسی بھی دوسرے آدمی کی خدمت و مدد کے لئے انسانیت کی بنیاد پر اور رضائے الہٰی کے حصول کے لئے اپنے علم، وقت، قوت وطاقت، منصب و اختیار، مال و دولت یا کسی بھی صلاحیت کو خرچ کرتاہے تو یہ اس کی طرف سے خیرات(نیکی کا کام) اور صدقہ ہے۔ خلق خدا کی یہ خدمت او رعمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ وہ قرآن مجید میں بندوں کو بار بار مختلف اسالیب اور پیرائے میں انفاق کا حکم دیتا ہے اور اس پر اپنی رضا کی خوشخبری دیتا ہے۔

انتخاب مال کا اخلاق ضابطہ

اللہ تعالیٰ نے انفاق کیلئے ایک ”اخلاق ضابطہ“ مقرر کیا ہے تاکہ انفاق و صدقہ کے مقصودِ حقیقی کو صحیح او رکامل طور پر حاصل کیا جاسکے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے کم تر، گھٹیا اور ردی چیز پسند نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ عمدہ، بہترین او راچھی چیز کو پسند کرتاہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کی بابت یہ اخلاقی ضابطہ بیان کیاہے کہ:”او راس میں سے گندے مال کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے کا ارادہ مت کرو کہ (اگر وہی تمہیں دیا جائے تو) تم خود اسے ہرگز نہ لو سوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی کرلو، اور جان لو کہ بے شک اللہ بے نیاز لائق ہر حمد ہے“۔ (البقرۃ: 267)

گویا راہ حق میں خرچ کرنے کیلئے کوئی مقدار نہیں ہے، البتہ معیار ضرور مقرر ہے کہ جو چیز تم خود لینا پسند نہیں کرتے، وہ اللہ کی راہ میں بھی نہ دو۔ مطلب یہ کہ اس کی راہ میں وہی خرچ کرو جو خود پسند کرتے ہو۔

صدقہ: کمال کرم نوازی کی صورت:

وہ خالق کائنات،خزائن کائنات کامالک و مختار مطلق ہے، اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہر کسی کو نوازرہا ہے۔ ہر مخلوق جسے اس نے پیدا کیا ہے، اس کے حسب ضرورت سب کو کھلاتا ہے مگر خود کھاتا نہیں۔ہر کوئی اس کے درِ جود وسخاء سے پل رہا ہے، کون ہے جسے اس در کی خیرات ملی نہیں ہے؟ وہ عطائیں بھی خود کرتاہے مگر اس کی کمال کرم نوازی ہے کہ جب وہ بندوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتاہے تو پھر اپنی خوانِ نعمت سے دئیے گئے صدقہ کو قرض قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے پھر وہ اس لئے اسے کئی گنا بڑھا دے گا، اور اللہ ہی (تمہارے رزق میں) تنگی اور کشادگی کرتاہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔“(البقرۃ:245)

اس آیت کریمہ میں اس ذات کریمہ نے خزائن کا مالک مطلق ہونے کے باوجود صدقہ کو قرض حسنہ قرار دیا ہے۔ قرض کا لفظ ہی اس حقیقت کو واضح کررہاہے کہ بندہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتاہے، وہ ذات کریمہ اس کو کمال مہربانی سے قرض قرار دے رہی ہے تاکہ بندہ اپنے اللہ سے اپنے خرچ کردہ مال کابدلہ لے سکے۔

صدقہ و ایثار کی اہمیت:

اسلام کی تعلیمات میں ایثار و قربانی او رانفاق کی کس قدر اہمیت ہے؟ اس کااندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرامین سے لگایا جاسکتا ہے:

(1) ضرورت سے زائد روکنا برا ہے:

انفاق کی اہمیت اس امر سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد مال کو اپنے پاس روکے رکھنے کو برا قرار دیا ہے۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”اے ابن آدم! تیرے لئے ضرورت سے زائد چیز کا خرچ(خیرات و صدقہ) کرنا بہتر ہے او ر(ضرورت سے زائد پاس) روکے رکھنا تیرے لئے برا ہے او ربقدرِ ضرورت اپنے پاس رکھنے پر تجھے کچھ ملامت نہیں او رپہلے ان پر خرچ کو جو تمہارے زیر کفالت ہیں اور اوپر کا ہاتھ (یعنی دینے والا ہاتھ) نیچے کے ہاتھ (یعنی لینے والے ہاتھ)سے بہترہے“۔(مسلم، الصحیح،کتاب الزکاۃ،باب ان الید العلیا خیر من الیدالسفلی)

(2) انفاق، بیماریوں او ربری موت کو روکتا ہے:

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”او راپنی بیماریوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔“(طبرانی، المجعم الکبیر)

حضرت عمر و بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بے شک صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتاہے اور بری موت کو دو رکرتا ہے (یعنی موت سے بچاتا ہے)۔“ (ترمذی’الجامع الضحیح،ابواب الزکاۃ،ماجاء فی فضل الصدقۃ)

(3)انفاق: ایک دائمی نیکی:

صدقہ وخیرات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان رسالت سے ارشاد فرمایا:”جب انسان فوت ہوجاتاہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے: صدقہ جاریہ، علم نافع او رنیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہتی ہے۔“(مسلم الصحیح، کتاب الوصیۃ)

(4) انفاق سے مال کم نہیں ہوتا:

شیطان جو انسان کا ازلی دشمن ہے، وہ انسان کے دل میں وسوسہ اندازی کرتے ہوئے کہتاہے کہ دیکھا اے انسان! اگر تونے صدقہ و خیرات کیا تو تنگ دست ہوجائے گا،تیرا مال کم ہوجائے گا۔ یوں وہ سخی کو ورغلانے کی کوشش کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ اس شیطانی وسوسہ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:”شیطان تمہیں (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکنے کیلئے) تنگدستی کا خوف دلاتاہے او ربے حیائی کا حکم دیتاہے، او راللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے، او راللہ بہت وسعت والا خوب جاننے والا ہے“۔ (البقرۃ: 268)

محترم قارئین،صدقہ و خیرات سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔چنانچہ صادق و مصدوق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی متعدد احادیث مبارکہ میں اس شیطانی وسو سہ کو رد کیا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”صدقہ دولت کو کم نہیں کرتا، جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ صدقہ کرنے کے لئے بڑھاتا ہے تو وہ سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ڈال دیاجاتا ہے او رجو آدمی مستغنی ہوتے ہوئے مانگنا شروع کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے تنگ دستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“ (الطبرانی المعجم الکبیر)

بخل او رکنجوسی پر وعید:

زکوٰۃ، صدقہ، خیرات، خدمت خلق، ایثار و قربانی کی ضرورت و اہمیت اورفضیلت کامطالعہ کرنے کے بعد چند ارشادات اس کی ضد یعنی ”بخل“ کے بارے میں بھی ملاحظہ ہوں۔ ارشاد الہٰی ہے:”او رجس نے بخل کیا اور (راہ حق میں مال خرچ کرنے سے) بے پروا رہا اور اس نے اچھائی (یعنی دین حق اور آخرت) کو جھٹلا یا۔“(اللیل:8۔9)

دوسرے مقام پر فرمایا: ”اور جو لوگ اس (مال و دولت) میں سے دینے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہرگز اس بخل کواپنے حق میں بہتر خیال نہ کریں، بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے، عنقریب روز قیامت انہیں اس مال کا طوق پہنا یا جائے گا جس میں وہ بخل کرتے رہے ہوں گے۔“(آل عمران:180)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے او رلوگوں سے دور ہے اور جہنم کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جاہل سخی، بخیل عابد سے زیادہ محبوب ہے۔“(ترمذی، الجامع الصحیح، ابواب البرواصلۃ، باب ماجاء فی البخیل)

مذکورہ فرامین سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایک انسان کی مذہبی و معاشرتی زندگی اور انفرادی حالت میں بھی ایثار و صدقہ او رخیرات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

7 جنوری، 2022، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/allah-khidmat-e-khalq-self-training/d/126128

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..