New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:01 AM

Urdu Section ( 30 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

An Interview with Allama Tahirul Qadri علامہ طاہر القادری سے ایک ملاقات

 

محمد اکرم چودھری

30 جنوری 2013      

علامہ طاہر القادری سے مجھے لاکھ اختلاف سہی لیکن ان کی باتیں سُننے والے کو ان سے اختلاف کرنے کی گنجائش نہیں ملتی۔ ان کے فلسفہ سیاست کو سمجھنے کیلئے ان سے ایک ملاقات ضروری تھی اور پھر وہ وقت بھی آ گیا۔ ان سے ملنے سے پہلے ہمیں انہیں مراحل سے گزرنا پڑا جو وزیراعظم، وزیر اعلیٰ یا کسی اعلیٰ پائے کے سیاستدان سے ملنے سے پہلے درپیش ہوتے ہیں تاہم سکیورٹی والوں نے انتہائی تہذیب اور اخلاق سے ان مراحل سے ہمیں گزارا --- اچھا لگا، اخلاق مشکل مراحل بھی آسان کر دیتا ہے۔ میری ڈھائی گھنٹے کی اس ملاقات میں میرے ساتھ ایک مذہبی پروگرام کے معروف اینکر انیق احمد بھی شریک تھے۔ غیر رسمی گفتگو کے دوران ہم نے مختلف امور پر سیر حاصل گفتگو کی۔ جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

یہ خلاصہ میں اپنی یادداشت کے مطابق من و عن پیش کر رہا ہوں۔ میری اپنی رائے اس حوالے سے محفوظ ہے۔ قائدین اپنے ذوق اور علم کے مطابق فیصلہ کریں۔ ملاقات کے دوران میں نے ان سے سوال کیا کہ وہ ایک تاریخی لانگ مارچ لیکر اسلام آباد روانہ ہو گئے تھے اور ان کی براہ راست ٹکر حکومت اور اپوزیشن دونوں سے تھی تو کیا وہ نتائج سے آگاہ تھے جس پر طاہر القادری صاحب نے فرمایا کہ 23 دسمبر کے کامیاب جلسے کے بعد پنجاب حکومت نے ان کیلئے مشکلات کھڑی کرنا شروع کر دی تھیں کیونکہ پنجاب حکومت یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ 23 دسمبر کا جلسہ اس حد تک کامیاب ہو گا اور وہ ایک تاریخی جلسہ ثابت ہو گا اور اس جلسے میں پنجاب حکومت کو زیادہ مداخلت کا اس لئے موقع نہیں مل سکا کیونکہ اسکے شرکاءکا تعلق لاہور اور اسکے گرد و نواح سے تھا تاہم لانگ مارچ سے قبل پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماں نے لانگ مارچ کیلئے بک کی گئیں 25 ہزار سے زائد گاڑیوں کی زبردستی بکنگ منسوخ کروائی اور طاقت کے بل بوتے پر انکے ایڈوانس رقم بھی واپس کروائی۔ اسکے بعد لانگ مارچ کیلئے جو مشکلات کھڑی کی جا سکتی تھیں وہ کی گئیں، تمام شہروں کے داخلی راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی متبادل ٹرانسپورٹ چھپا دی گئی۔ لوگوں کو لانگ مارچ میں شرکت سے روکنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے گئے تاہم اسکے باوجود ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب لانگ مارچ کیا اور اس میں عوام کی دلچسپی کا اندازہ آپ بات سے لگا لیں کہ لاہور سے اسلام آباد کا 5 گھنٹے کا سفر 38 گھنٹوں میں مکمل ہوا اور اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے کے بعد یہ تعداد ہر گھنٹے کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ یہ تاریخ کا پہلا لانگ مارچ ہے جو اسلام آباد پہنچا ورنہ اس سے قبل میاں نواز شریف اور محترمہ بینظیر کے لانگ مارچ کے نتائج طے شدہ تھے اور وہ راستے میں ہی اختتام پذیر ہو گئے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ سے ہر پاکستانی متفق ہے اور میری اس بات کی تصدیق پاکستان کے سب سے مستند گیلپ سروے نے بھی کر دی ہے جس کے مطابق 80 فیصد سے زائد پاکستانی میرے چارٹرڈ کی حمایت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ ہی گیلپ سروے ہے جس کو لیکر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔ مولانا طاہر القادری نے کہا کہ وہ اس بات سے قطعاً فکرمند نہیں کہ انکے حوالے سے منفی پروپیگنڈا اور رائے پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ وہ اور نہ انکے صاحبزادے انتخابات میں حصہ لیں گے تاہم پاکستانی عوام کی بہتری، نظام کی تبدیلی اور بہتر امیدواروں کے انتخاب کے سلسلے میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ انکی جدوجہد کے نتائج فوری برآمد ہوں میری جدوجہد کے ثمرات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔ اگر آئندہ انتخائات میں 50 فیصد یا کم از کم 50 لوگ بھی آئین کی شق 62، 63 کے تحت اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں تو کم از کم اسے انقلاب کا آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اگر انکے ساتھ کئے گئے معاہدے پر حکومت نے عمل نہ کیا تو وہ اپنے لائحہ عمل کا فوری اعلان نہیں کریں گے بلکہ عوام کی مدد سے انہیں اس چارٹر پر عمل کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہیں عوام، مختلف سیاسی جماعتوں اور ملکی اہم شخصیات کی مکمل حاصل حاصل ہے اور وہ دو جماعتوں کو آپس میں ہر چیز کی بندر بانٹ کا مزید موقع فراہم نہیں کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ انہیں فخر الدین جی ابراہیم کی ایمانداری پر کوئی شک نہیں تاہم انکی عمر اور صحت انہیں اس مشکل کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی اور پھر وہ چاہیں بھی تو الیکشن کمشن میں اپنی من مانی نہیں کر سکتے کیونکہ انکے نیچے چار اراکین کا تعلق براہ راست حکومت اور اپوزیشن سے ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں کے الیکشن کمشنرز خرید لئے ہیں اور ان حالات میں ان سے کسی قسم کی ایمانداری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ان سے سوال کیا گیا کہ جب آپ الیکشن کمشن کی تحلیل کا مطالبہ کر رہے تھے تو کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ غیر آئینی مطالبہ ہے تو انہوں نے کہا کہ مطالبہ میں بہتری کی صورت پیش کی جا سکتی تھی۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ وہ اس میں تبدیلی لے آئیں گے اور ان تبدیلیوں کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری ہی ضروری نہیں ایک آرڈیننس ہی کافی ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ کیلئے منہاج القرآن کے فنڈز کا استعمال نہیں کیا بلکہ یہ وہ فنڈز ہیں جو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جمع کرائے۔ طاہر القادری نے عبدالشکور کے نام پر امیگریشن لینے کے الزام کو ایک گھٹیا الزام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل صورتحال اس طرح ہے کہ انہوں نے 1999ءمیں کینیڈا کی شہریت حاصل کر لی تھی تاہم انہوں نے پاسپورٹ حاصل نہیں کیا تھا۔ جب 2005ءمیں انہوں نے اسمبلی سے استعفیٰ دیا تو انہوں نے کینیڈا کا پاسپورٹ بھی حاصل کر لیا جو عبدالشکور نہیں بلکہ طاہر القادری کے نام سے ہے۔ میں جانتا تھا کہ دوہری شہریت کے ساتھ مجھے رکن اسمبلی نہیں رہنا چاہئے تاہم میرے علاوہ اب تک بے شمار منافق اپنی شہریت چھپاتے رہے ہیں جو آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی کسی عدالت نے انہیں طلب نہیں کیا یہ منفی پروپیگنڈہ ہے۔

ماضی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے میاں صاحبان کی درخواست پر اتفاق مسجد میں مشروط خطابت کی ذمہ داری لی تھی وہ جمعہ کا خطبہ اس مسجد میں دیا کریں گے اور وہ کسی قسم کا معاوضہ نہیں لیںگے، اسی طرح شریف فیملی منہاج القرآن ادارے اور اس کی مساجد کا سیاسی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ملاقات کے اختتام پر ایک چینی خاتون بھی تشریف لائیں جن کے متعلق مولانا نے بتایا کہ صوم و صلوٰة کی پابند یہ خاتون اب تک چین کے حکمران خاندان کے 13 افراد کو اپنی تبلیغ اور کردار سے مسلمان کر چکی ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ وہ اسلام کی تبلیغ اور اسکا پیغام پہنچانے کیلئے دنیا کے 90 ممالک میں محنت کر رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب اسلام کا سورج پوری دنیا میں آب و تاب سے چمکے گا۔

30جنوری ،2013  بشکریہ: نوائے وقت، پاکستان

http://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-akram-choudhary-محمد-اکرم-چودھری/an-interview-with-allama-tahirul-qadri-علامہ-طاہر-القادری-سے-ایک-ملاقات/d/10209

Loading..

Loading..