New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:57 AM

Urdu Section ( 17 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Atrocious Use of Loudspeakers لاؤڈ اسپیکر کا ظالمانہ استعمال

 

مفتی تقی عثمانی

ظلم صرف یہ نہیں ہے کہ کسی کا مال چھین لیا جائے، یا اسے جسمانی تکلیف پہنچانے کے لئے اس پر ہاتھ اٹھایا جائے ، بلکہ عربی زبان میں ’’ ظلم‘‘ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ’’ کسی بھی چیز کو بے جگہ استعمال کرنا ظلم ہے‘‘ چونکہ کسی چیز کابے محل استعمال یقیناًکسی نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا موجب ہوتا ہے، اس لئے ہر ایسا استعمال ’’ ظلم‘‘ کی تعریف میں داخل ہے ۔ اور اگر اس سے کسی انسان کو تکلیف پہنچتی ہے ، تو وہ شرعی اعتبار سے گناہ کبیرہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس طرح کے بہت سے گناہ کبیرہ ، اس طرح رواج پاگئے ہیں کہ اب عام طور سے ان کے گناہ ہونے کا بھی احساس باقی نہیں رہا۔

’’ ایذا رسانی‘‘ کی ان بے شمار صورتوں میں سے ایک انتہائی تکلیف دہ صورت لاؤڈاسپیکر کا ظالمانہ استعمال ہے۔ابھی چند روز پہلے ایک انگریزی روز نامہ میں ایک صاحب نے شکایت کی ہے کہ بعض شادی ہالوں میں رات تین بجے تک لاؤڈاسپیکر پر گانے بجانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اور آس پاس کے بسنے والے بے چینی کے عالم میں کروٹیں بدلتے رہتے ہیں ، اور ایک شادی ہال پرکیا موقوف؟ ، ہر جگہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ جب کوئی شخص کہیں لاؤڈاسپیکر نصب کرتا ہے ، تو اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کی آواز کو صرف ضرورت کی حد تک محدود رکھا جائے، اور آس پاس کے ان ضعیفوں او ربیماروں پر رحم کیا جائے جو یہ آواز سننا نہیں چاہتے۔

گانے بجانے کا سلسلہ تو الگ رہا، اس کو بلند آواز سے پھیلانے میں دوہری بُرائی ہے،اگر کوئی خالص دینی اور مذہبی پروگرام ہوتو اس کو بھی لاؤڈاسپیکر کے ذریعے زبردستی شریک کرنا شرعی اعتبار سے ہر گز جائز نہیں ہے،لیکن افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی او رمذہبی پروگرام منعقد کرنے والے حضرات بھی شریعت کے اس اہم حکم کا بالکل خیال نہیں کرتے۔ سیاسی او رمذہبی جلسوں کے لاؤڈاسپیکر بھی دور دور تک مارکرتے ہیں، اوران کی موجودگی میں کوئی شخص اپنے گھر میں نہ آرام سے سوسکتا ہے نہ یکسوئی کے ساتھ اپناکوئی کام کرسکتا ہے ۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان کی آواز دورتک پہنچانا تو برحق ہے،لیکن مسجدوں میں جو وعظ اور تقریریں یا ذکر تلاوت لاؤڈاسپیکر پر ہوتی ہیں، ان کی آواز دور دور تک پہنچانے کاکوئی جواز نہیں ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتاہے کہ مسجد میں بہت تھوڑے سے لوگ وعظ یا درس سننے کے لئے بیٹھے ہیں جن کو آواز پہنچانے کے لئے لاؤڈاسپیکر کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے، یا صرف اندرونی ہارن سے بآسانی کام چل سکتا ہے ، لیکن بیرونی لاؤڈاسپیکر پوری قوت سے کھلا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ آواز محلے کے گھر گھر میں اس طرح پہنچتی ہے کہ کوئی شخص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔

دین کی صحیح فہم رکھنے والے اہل علم خواہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں ،کبھی یہ کام نہیں کرسکتے، لیکن ایسا ان کی مسجدوں میں ہوتا ہے ، جہاں کا انتظام علم دین سے ناواقف حضرات کے ہاتھ میں ہے۔ بسااوقات یہ حضرات پوری نیک نیتی سے کام کرتے ہیں ، اور وہ اسے دین کی تبلیغ کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں اوراسے دین کی خدمت قرار دیتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ اصول بھی بہت غلط مشہور ہوگیا ہے، کہ نیت کی اچھائی سے کوئی غلط کام بھی جائز اور صحیح ہوجاتاہے، واقعہ یہ ہے کہ کسی کام کے درست ہونے کے لئے صرف نیک نیتی ہی کافی نہیں، اس کا طریقہ بھی درست ہونا ضروری ہے ، لاؤڈاسپیکر کا ایسا ظالمانہ استعمال نہ صرف یہ کہ دعوت و تبلیغ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے،بلکہ اس کے الٹے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

جن حضرات کو اس سلسلے میں کوئی غلط فہمی ہو ، ان کی خدمت میں درد مندی اور دلسوزی کے ساتھ چند نکات ذیل میں پیش کرتا ہوں:

(1)مشہور محدث حضرت عمر شبّہ نے مدینہ منورہ کی تاریخ پر چار جلدوں میں بڑی مفصل کتاب لکھی ہے جس کا حوالہ بڑے بڑے علماء و محدثین دیتے رہتے ہیں ۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک واقعہ اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک وعظ صاحب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مکان کے بالکل سامنے بلند آواز سے وعظ کہا کرتے تھے ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں لاؤڈاسپیکر نہیں تھا ، لیکن ان کی آواز بہت بلند تھی ، اور اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یکسوئی میں فرق آتا تھا ، یہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا، اس لئے حضرت عائشہ نے حضرت عمر سے شکایت کی، کہ یہ صاحب بلند آواز سے میرے گھر کے سامنے وعظ کہتے رہتے ہیں ، جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور مجھے کسی اور کی آواز سنائی نہیں دیتی، حضرت عمر نے ان صاحب کو پیغام بھیج کر انہیں وہاں سے وعظ کہنے سے منع کیا، لیکن کچھ عرصے کے بعد واعظ صاحب نے دوبارہ وہی سلسلہ پھر شروع کرد یا۔ حضرت عمر کو اطلاع ہوئی انہوں نے خود جاکر ان صاحب کو پکڑا، او ران پر تعزیری سزا جاری کی ۔( اخبار المدینی لعمر بن شبّہ ، ج :1، ص :15)

(2) بات صرف یہ نہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اپنی تکلیف کا ازالہ کرنا چاہتی تھی ، بلکہ دراصل وہ اسلامی معاشرت کے اس اصول کو واضح او رنافذ کرناچاہتی تھیں کہ کسی کو کسی سے تکلیف نہ پہنچے ، نیز یہ بتانا چاہتی تھیں کہ دین کی دعوت وتبلیغ کا پرُوقار طریقہ کیا ہے؟ چنانچہ امام احمد نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کے ایک واعظ وتبلیغ کے آداب تفصیل کے ساتھ بتائے اور ان آداب میں یہ بھی فر مایا کہ :

’’ اپنی آواز کو انہیں لوگوں کی حد تک محدود رکھو جو تمہاری مجلس میں بیٹھے ہیں او رانہیں بھی اسی وقت تک دین کی باتیں سناؤ جب تک ان کے چہرے تمہاری طرف متوجہ ہوں، جب وہ چہرے پھیر لیں، تو تم بھی رک جاؤ۔ اور ایسا کبھی نہ ہوناچاہئے کہ لوگ آپس میں باتیں کررہے ہوں ، او ر تم ان کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کردوبلکہ ایسے موقع پر خاموش رہو، پھر جب وہ تم سے فرمائش کریں تو انہیں دین کی بات سناؤ‘‘۔ ( مجمع الزوائد ، ج:1، ص:191)

(3) حضرت عطا بن ابی رباح بڑے اونچے درجے کے تابعین میں سے ہیں ، علم تفسیر و حدیث میں ان کا مقام مسلم ہے ان کا مقولہ ہے کہ ’’ عالم کو چاہئے کہ اس کی آواز اس کی مجلس سے آگے نہ بڑھے ‘‘ ( ادب الاملاء والا ستملا ء للسمعانی ،ص 5)

(4) یہ سارے آداب درحقیقت خودحضور سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے تعلیم فرمائے ہیں، مشہور واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر فاروق اعظم کے پاس سے گذرے ، وہ تہجد کی نماز میں بلند آواز سے تلاوت کررہے تھے، حضرت عمر نے جواب دیا کہ میں ’’ سوتے کو جگا تا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی آواز کو تھوڑا اپست کردو‘‘۔ (مشکوۃ،ج1ص:107)

اس کے علاوہ حضرت عائشہ سے ہی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے بستر سے آہستگی کے ساتھ اٹھتے تھے ( تاکہ سونے والوں کی نیند خراب نہ ہو)

(5) انہیں احادیث کی روشنی میں تمام فقہاء امت اس بات پر متفق ہیں کہ تہجد کی نماز میں اتنی بلند آواز سے تلاوت کرنا، جس سے کسی کی نیند خراب ہو، ہر گز جائز نہیں ، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر کی چھت پر سے بلند تلاوت کرے جب کہ سو رہے ہوتو تلاوت کرنے والا گناہ گار ہے‘‘۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ، ج :1،ص 103، شامی ، ج 1، ص 444,403)

ایک مرتبہ ایک صاحب نے یہ سوال ایک استفتاء کی صورت میں مرتب کیا تھا کہ بعض مساجد میں تراویح کی قرآت لاوڈاسپیکر پر اتنی بلند آواز سے کی جاتی ہے کہ اس سے محلے کی خواتین کے لئے گھر وں میں نماز پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے، نیز جن مریض او رکمزور لوگوں کو علاجاً جلدی سونا ضروری ہے وہ سو نہیں سکتے، اس کے علاوہ باہر کے لوگ قرآن کریم کی تلاوت ادب سے سننے پر قادر نہیں ہوتے، اوربعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ تلاوت کے دوران کوئی سجدے کی آیت آجاتی ہے ، سننے والوں پر سجدہ واجب ہوجاتاہے، او ریا توان کو پتہ ہی نہیں چلتا ، یا وہ وضو سے نہیں ہوتے، اور بعد میں بھول جاتے ہیں، کیا ان حالات میں تراویح کے دوران بیرونی لاوڈاسپیکر زورسے کھولنا شرعاً جائز ہے؟

یہ سوال مختلف علماء کے پاس بھیجا گیا اور سب نے مفتقہ جواب یہی دیا کہ ان حالات میں تراویح کی تلاوت میں بیرونی لاؤڈاسپیکر بلا ضرورت زور سے کھولنا شرعاً جائزنہیں ہے ، یہ فتویٰ ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کی محروم 1407ھ کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اور یہ واقعہ ہے کہ کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے اس پر تمام مکاتب فکر کے علماء متفق ہیں ۔

اب رمضان کامقد س مہینہ شروع ہونے والا ہے ، یہ مہینہ ہم سے شرعی احکام کی سختی کے ساتھ پابندی کامطالبہ کرتا ہے، اوریہ عبادتوں کامہینہ ہے اورا س میں نماز ، تلاوت اور ذکر جتنابھی ہوسکے، باعث فضیلت ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ساری عبادتیں اس طرح انجام دی جائیں کہ ان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، اور ناجائز طریقوں کی بدولت ان عبادتوں کا ثواب ضائع نہ ہو۔ لاؤڈاسپیکر کااستعمال بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت کیا جائے ، اس سے آگے نہیں ۔

مذکورہ بالا گذارشات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شریعت نے دوسروں کو تکلیف سے بچانے کاکتنا اہتمام کیا ہے؟ جب قرآن کریم کی تلاوت اور وعظ نصیحت جیسے مقدس کاموں کے بارے میں بھی شریعت کی ہدایت یہ ہے کہ ان کی آواز ضرورت کے مقامات سے آگے نہیں بڑھنی چاہئے ،تو گانے بجانے اور دوسری لغویات کے بارے میں خود اندازہ کر لیجئے کہ ان کو لاؤڈاسپیکر پر انجام دینے کا کس قدر دُہرا وبال ہے۔ ( ختم شد) 6فروری،1994

( رمضان المبارک کے مہینہ میں سحری کے وقت شروع ہونے سے لیکر وقت ختم ہونے تک مستقل طور سے ہر 20منٹ یا آدھا گھنٹہ پہلے اعلان کرنے والے حضرات یا مسجد کے متولیان و ذمہ داران مذکورہ بالا امور کی روشنی میں جائزہ لیں کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ ثواب سمجھ کر یہ کام کررہے ہیں او ران کے اعمال میں گناہ لکھے جائیں۔)

نوٹ: یہ مضمون بر صغیر کے مشہور عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی کا ہے جو انہوں نے لکھا ہے افائدہ عام کے لئے اس کو اردو ، ہندی اور انگلش تینوں زبان میں ترجمہ کر کے تقسیم کیا جارہاہے تاکہ لوگ اس انجانے گناہ سے بچ سکیں۔ اور تمام لوگوں سے گذارش ہے کہ اس مضمون کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں ۔ والسلام۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/mufti-taqi-usmani/atrocious-use-of-loudspeakers--لاؤڈ-اسپیکر-کا-ظالمانہ-استعمال/d/111183

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..