New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:36 PM

Urdu Section ( 8 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Sacrifice: an Islamic and Collective Need ایثار : ایک اسلامی اور اجتماعی ضرورت

 

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

6 جون ، 2014

‘‘ ایثار ’’ کہتے ہیں کہ کسی چیز کو اپنی شدید ضرورت و احتیاج کے باوجود کسی دوسرے شخص کو دے دینا، یعنی اپنے مال یا اپنی کسی  چیز کو جس  کی احتیاج و ضرورت  خود اس کو ہے، لیکن اپنے ضرورت پر دوسرے کی ضرورت  کو ترجیح دیتے ہوئے وہ چیز اسے مرحمت کرنا ، یہ ایثار کہلاتا ہے، اس کے مقابل عربی میں ‘‘ اثرۃ’’ کالفظ مستعمل  ہے،جس کے معنی ہیں دوسرے کی ضرورت پر اپنی  ذات کو ترجیح دینا،  یہ اس کے برخلاف اور ایک مذموم خو ہے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں  کو مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کا حکم کیا ، تو حضرات صحابہ  اپنے  اموال  اور جائیداد کو چھوڑ کر کفار کے خوف اندیشہ سے چھپ چھپاتے ہوئے چپکے سے مدینہ نکل گئے ،  جب یہ مدینہ  پہنچے تو یہ نانِ شبینہ کے محتاج  ہوگئے جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار  کے مابین اخوت او ربھائی چارہ قائم فرمایا ، چنانچہ  اس بھائی اور مواخاۃ کے قیام کااثر تھا کہ انصار  مہاجرین کو اپنی ہر چیز کابرابر کاحصہ دار بنا رہےتھے ، حالانکہ ان اموال اور جائیدادوں  کے خود وہ محتاج اور ضرورت مند تھے، لیکن  اپنے احتیاج  اور ضرورت کے باوجود وہ مہاجرین پر ایثار کررہے تھے،   جس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے : ‘‘ اور ( ان کے لئے ) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی او راپنی طرف ہجرت کر کے آنے  والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو  کچھ دیا جائے اس سے وہ اپنے  دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے ، بلکہ  خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتےہیں گو خود کتنی ہی سخت  حاجت ہو ( بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس  کے بخل سےبچایا گیا وہی کامیاب او ربامراد ہے’’ ( الحشر :9)

حضرات صحابہ  کا یہ وہ ایثار  اور قربانی تھی حضرات   صحابہ  کے بعد نسلیں گذر گئیں ایثار  اور بھائی چارہ کے اعلیٰ نمونہ  کو دیکھنے کے لئے  آنکھیں  ترس جاتی ہیں ، شاید  کہ تاریخ ایثار کی اس عظیم مثال کو پھر سے دہرا سکے ، قرآن  کریم نے اس ایثار  و قربانی کے واقعہ کو دوام  کے لئے اسے ہمیشہ  ہمیش  کے لئے اپنے اندر محفوظ کرلیا،  کیااس سے بڑھ کر کوئی ایثار  اور بھائی چارگی اور اخوت اسلامی کانمونہ ہوسکتا  ہے کہ کوئی شخص نہ صرف اخوت اسلامی کی بنیاد پر اپنے آدھے مال کو اپنے بھائی کو دے دے، بلکہ اپنے شریک حیات  اور اپنی  زوجات میں جو اپنے بھائی کو پسند  ہو اس کو طلاق دےدے کہ اس کا نکاح اس سے کروارہے ہیں؟  تاریخ  اسلامی کے ابتدائی دور میں حضرات صحابہ نے ایثارنفس  اور اخوت  و بھائی چارگی کا یہ نمونہ واقعۃ پیش کیا ہے ، جب حضرات مہاجرین مکہ سے مدینہ  وارد  ہوئے ، وہ بالکل نہتے خالی ہاتھ تھے، انہوں نے اپنے دین کے خاطر اپنے گھر بار اہل و عیال او رمال و متاع ہر چیز سے ہاتھ  دھویا تھا ، جس جوش و خروش اور دینی نسبت پر مہاجرین نے اپنے گھر  بار چھوڑے تھے اسی دینی جذبہ کے ساتھ  حضرات انصار نے اپنے بھائیوں  کو گلے لگا یا تھا، ہر انصاری کی یہ تمنا تھی کہ ایک مہاجر بھائی اس کے گھر  میں بسے، اس کے آدھے مال و جائیداد کا حق دار بنے، بسا اوقات مہاجرین کو اپنے بھائی  بنانے میں  ایسا رشہ کشی  ہوتی  کہ قرعہ اندازی کی ضرورت درپیش ہوجاتی ۔ چنانچہ  حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اس وقت کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ : جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کردیا،  سعد بن ربیع نے کہا میں  انصار میں زیادہ  مالدار ہوں اس لئے میں اپنا آدھا مال تجھ کو دیتا ہوں اور دیکھ لو میری جو بیوی تمہیں پسند آئے میں اس کو تمہارے  لئے چھوڑ دوں،جب وہ عدت سے فارغ ہوجائے  تو تم اس سےنکاح کرلو، عبدالرحمٰن نے کہا : مجھے اس کی ضرورت  نہیں یہاں  کوئی بازار  ہے جہاں تجارت ہوتی ہے ( بخاری ، باب ماجاء فی قول اللہ، حدیث :719) یہ تھا ایثار ، اگر  انصار نے مہاجرین پر ایثار  اور ترجیح  کاثبوت نہ دیا ہوتا تو مہاجرین خانہ بدوشی  کی زندگی  گذارنے پر مجبور ہوتی اور اس  طرح یہ اسلامی مملکت  اور اسلامی پائیدار سلطنت  کا قیام ہی نہ کر پاتے اور اسلام کو فروغ حاصل نہ ہوتا اور اسلام کی تاریخ ہی مختلف ہوتی ۔

ایثار کے واقعات :۔

 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیااور اس نے عرض کیاکہ : میں فاقہ سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ میں سے کسی کی طرف ایک آدمی بھیجا تو زوجہ مطہرہ  نے عرض کیا :اس ذات کی قسم جس نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو حق کےساتھ بھیجا  ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری زوجہ مطہرہ کی  طرف بھیجا تو انہوں نے بھی اسی  طرح کہا : یہا ں تک  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات نے یہی کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے  پانی کے او رکچھ نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی آج رات اس مہمان  کی مہمان نوازی  کرے گا اللہ تعالیٰ  اس پر رحم فرمائے گا، انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم)  میں حاضر ہوں پھر وہ انصاری آدمی  اس مہمان کو لے کر اپنے گھر کی طرف چلے اور اپنی بیوی  سےکہا: کیا تیرے  پاس کچھ ہے وہ کہنے لگی کہ سوائے  میرے بچوں کے کھانے کے میرے پاس کھانے کوکچھ نہیں ہے، انصاری نے کہا : ان بچوں کو کسی چیز سےبہلا دو اور جب  مہمان اندر آجائے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا گویا کہ ہم بھی کھانا کھارہے ہیں ، راوی کہتے ہیں کہ : مہمان  کے ساتھ سب گھر والے بیٹھ گئے او رکھانا صرف مہمان نے ہی کھایا، پھر جب صبح ہوئی اور وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے آج رات  اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ  نے تعجب کیا ہے ۔ ( مسلم : باب اکرام الضیف  وفضل ایثار ہ ، حدیث :2054)۔

حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کوبکری  کا سر بطور ہدیہ دیا گیا، تو اس نے کہا : میرے بھائی  اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے ، چنانچہ  اس نے اسے اپنے بھائی کے پاس بھیجا ، یہ ایک دوسرے کو اسی طرح بھیجتے  رہے،  یہاں تک کہ  وہ سات گھروں کو جاکر پہلےگھر واپس آگیا ( شعب  الایمان ، فضل ماجاء فی الایثار ، حدیث : 3479)۔

ایک غزوہ میں   حضرت عکرمہ ، حضرت حارث بن ہشام ، حضرت سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زخم کھا کر زمین پر گرے اور اس حالت یں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا ، پانی آیا تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت سہیل رضی اللہ عنہ پانی کی طرف دیکھ رہےہیں ، بولے : ان کو پلاؤ ، حضرت سہیل رضی اللہ عنہ  کے پاس پانی آیا تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت حارث رضی اللہ عنہ کی نگاہ بھی پانی کی طرف ہے، بولے : ان کو پلاؤ بالآخر نتیجہ  یہ ہوا کہ کسی کےمنہ  میں پانی کا ایک قطرہ  نہ گیا اور سب نے تشنہ کامی کی حالت میں جان دے دی ۔ ( شعب الایمان : باب ماجاء فی الایثار ، حدیث 3483)۔

حضرت ابودجانہ نے غزوہ احد کے موقع سے اپنی جان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر نثار کیا،جب  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب ہر طرف  سے تیروں کی بوچھار ہونےلگی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے  میں لےلیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر لیٹ گئے ، حضرت ابوبکر صدیق   رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیا کہتےہیں کہ : میں نے ابود جا نہ کی پیٹھ دیکھی وہ تیروں سے چھلنی ہوچکی تھی، یہ جان کا ایثار ہے، صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کے لئے تیر کھائے اور جان کو جوکھم میں ڈالا ۔

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک تیر آرہا ہے تو اس کو اپنے ہاتھ سے روک لیا،تیر نے آپ رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ کو پار کرلیا۔

جب عمر فاروق رضی اللہ کو ابولؤلو مجوسی نے نیزہ بھونکا تو آپ رضی اللہ عنہ  خون میں لت پت ہوکر گر پڑے اور آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی موت  کا یقین  ہوچلا ، اپنے بیٹے سے فرمایا :  ام المؤمنین  حضرت عائشہ کے پاس جاؤ ، اور ان سے کہو: عمر بن خطاب ،امیر المؤمنین نے کہا ، میں تمہارا امیر نہیں رہا، وہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتے ہیں، حضرت عائشہ نے فرمایا : میں نے وہ جگہ اپنے لئے رکھ چھوڑی تھی ، میں اس کو عمر کے ایثار کررہی ہوں،  اس جگہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کو مرحمت  فرما کر خود بقیع میں مدفون ہوئیں۔

ایثار یہ نہ صرف انسان کے ساتھ ہوتا ہے ، بلکہ حیوان اور جانور پر بھی ایثار ہوتاہے، عبداللہ بن  جعفر اپنے ایک زمین کے یہاں گئے وہاں ایک کھجور کے باغیچے  کے پاس ٹھہرے  ، وہاں  انہوں نے  ایک کا لے غلام کو  دیکھا جو باغ  میں کام کررہا تھا ، باغ میں ایک کتا داخل ہوا ، اس غلام کے قریب آیا، غلام نے اس کتے کی جانب ایک لقمہ کھانا ڈال دیا ، پھر دوسرا، تیسرا چنانچہ  وہ کتا سارا کھاناکھا گیا ، عبداللہ یہ منظر دیکھ رہے تھے ، انہوں نے فرمایا : اے غلام! تمہارے روزانہ  کتنی غذا ہے ؟ اس نے کہا : یہی جو آپ  نے دیکھا، انہوں نے فرمایا: کیوں تم نے اسے کتے کو ڈال دیا،  اس نے کہا : یہاں کتے نہیں ہوتے ، شاید یہ دور دراز علاقہ سےآیا ہے، مجھے یہ اچھا نہیں لگا  کہ میں تو آسودہ ہوں اور یہ بھوکا رہ جائے،انہوں نے کہا : تم آج کیا کروگے؟ اس نے کہا : میں ایسے ہی  گذارا کرلوں گا ، عبداللہ نے کہا : یہ سخاوت اور ایثار کی حد ہے، یہ غلام تو مجھ سے زیادہ سخی ہے ، انہوں نے  اس غلام اور باغ خرید کر لیا، غلام کو آزاد  کر کے یہ باغ اس کو مرحمت کردیا ۔

ایثار برکت کا باعث :۔

ایثار او راپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا یہ ایسا  عظیم الشان  اور بابرکت عمل ہے  اس کےثمرات  سے نہ صرف آدمی اپنی آخرت میں مستفید ہوتاہے، بلکہ خود دنیا میں  ایثار نفس کی برکات و ثمرات نظر آنے شروع ہوجاتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں  ، کہ  اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں بھوک کےمارے زمین پر اپنے  پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا او ربھوک کے سبب  سے اپنے پیٹ  پر پتھر باندھ لیتا تھا، میں ایک دن اس راستہ  پر بیٹھ گیا جہاں سے  لوگ گزرتے تھے،  حضرت  ابو بکر رضی اللہ عنہ  گزرے تو میں نے ان  سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی  اور میں نے صرف ا س غرض سے پوچھا  تھا کہ مجھ کو کھانا کھلادیں ، وہ گزر گئے اور انہوں نے نہیں کیا ( یعنی نہیں کھلایا) پھر میرے پاس  سے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  گزرے ، ان سے بھی کتاب اللہ کی آیت پوچھی، میں نے  صرف اس غرض  سے پوچھا تھا کہ  مجھ کو کھانا کھلادیں  ، وہ بھی گزرگئے، او رمجھ کو کھانا نہیں کھلایا ، پھر میرے پاس سے ابو القاسم  صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میرے دل میں ( جو بات تھی اسے میرے چہرے  سے آپ نے پہچان لیا)  پھر فرمایا اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے کہا : لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا : ساتھ چلو، اور آپ آگے بڑھے، میں بھی آپ کے پیچھے ہولیا، آپ گھر میں داخل ہوئے ، میں نے بھی داخل ہونے کی اجازت چاہی، مجھے بھی اجازت ملی  ، جب  آپ اندر تشریف  لے گئے تو آپ نےایک  پیالہ  میں دودھ  دیکھا تو دریافت فرمایا : یہ کہاں سے آیا ہے، لوگوں نے بتایا کہ  فلاں مرد یا فلاں عورت نے  آپ کو ہدیہ بھیجا ہے، آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا ، لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا : اہل صفہ کے پاس جاؤ او رانہیں میرے  پاس بلالاؤ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے ، وہ کسی گھر میں  اور نہ کسی  مال اور نہ کسی آدمی کے پاس جاتے تھے ( رہنے اور کھانے کا کوئی وسیلہ نہیں تھا ) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو آپ ان کے  پاس بھیج دیتے ، اور آپ  ا س میں سے کچھ بھی نہ لیتے  ، اور جب آپ  کے پاس ہدیہ آتا تو آپ ان پاس بھی بھیجتے اور آپ بھی لیتے ۔ اور ان کو اس میں شریک کرتے ۔

مجھے برا معلوم ہوا او راپنے جی میں  کہا  کہ اتنادودھ  اہل صفہ  کو کس طرح کافی  ہوگا میں اس کا زیادہ مستحق ہوں کہ اسے پیوں ، تاکہ  سیری  حاصل ہو،  جب اہل صفہ آئیں گے تو یہ دودھ انہیں دے دوں گا، اورمیرے  لئے کچھ بھی نہیں بچے گا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کا حکم  ماننے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا، چنانچہ  میں اصحاب صفہ  کے پاس آیا ۔ اور ان کو بلالایا، ان لوگوں نے اجازت چاہی جب اجازت ملی  تو اندر آکر اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے آپ نےفرمایا : اے ابوہریرہ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ نے فرمایا : لو اور ان لوگوں میں تقسیم کردو،  ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا بیان ہے کہ میں نے پیالہ لیا ، ایک شخص  کو دیا جب وہ سیر ہوکر پی چکا تو اس نے پیالہ مجھے دے دیا میں نے وہ پیالہ دوسرے کودیا  اس نے بھی خوب سیر ہوکر پیا، پھر پیالہ مجھے دے دیا  ا س طرح سب پی چکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آگئی تمام لوگ پی چکے  تھے۔ آپ نے پیالہ لیا اور اپنے ہاتھ میں رکھا،  میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ نے فرمایا : اب میں اور تم باقی  رہ گئے میں نے کہا ، آپ نے سچ فرمایا یارسول اللہ! آپ نے فرمایا : بیٹھ اور پی، میں بیٹھ گیا او رپینے لگا،  آپ فرماتے جاتے اور پی اور پی ، یہاں کہ میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا  ہے اب گنجائش نہیں، آپ نے فرمایا پیالہ مجھے دکھا میں نے وہ پیالہ آپ کو دے دیا، ۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بسم اللہ کہہ کر بچے ہوئے دودھ کو پی گئے۔ ( بخاری ، کیف کان عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث : 6087)۔

اس کے علاوہ ایثار اور ترجیح  نفس یہ انسان میں اخلاق حمیدہ اور فاضلہ پیدا کرتا ہے ، اس کی وجہ سے انسان میں رحمت وشفقت اور غیرت سےمحبت  اور دوسروں  کو نفع پہنچانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور  ایثار کی عادت اور خوکی وجہ سے بہت سارے  اخلاق  ذمیمہ انسان سے نکل جاتےہیں، بخل، حب نفس، طمع، لالچ جیسے صفات انسان سے ختم ہوجاتے ہیں، اسےآخرت  سے پہلے دنیا میں ہی اپنے ایثار کے ثمرات او ربرکات حاصل ہونے لگتے  ہیں لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی تعریف  و توصیف کرتے ہیں، ا س کو مرنے کے بعد بھی یاد رکھا جاتا ہے، گویا موت پر اسے حیات ہی حاصل رہتی ہے، ایثار کرنے والے کو اس سے بڑھ کر ملتا ہے جس کا اس نے  ایثار کیا ہے، اس کا اس کو یقین ہوتا ہے ، چنانچہ  اس بارے میں  ارشاد خداوندی ہے: ‘‘ اور جو نیکی  تم اپنے لیے آگے بھیجوگے اسےاللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت  زیادہ پاؤگے’’ ( المزمل :20) اور ایک جگہ ارشاد بار ہے : ‘‘ جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں  اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں، اور جو کچھ  ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں پوشیدہ  اور اعلانیہ خرچ کرتےہیں، وہ ایسی  تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارہ میں نہ ہوگی ، تاکہ  ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ دے بیشک وہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہے ۔’’ (فاطر :29) چنانچہ ایثار کرنے والا شخص  دنیا اور اس کے مال و دولت کو حقیر سمجھنے لگتا ہے ، آخرت کی طلب اور اللہ کی  رضا  اور خوشنودی کے لئے ہر رضا کو ٹھکرا دیتا ہے، اور ایثار یہ کمال ایمانی کی علامت اور اس کا ثمرہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ‘‘  تم میں سے کوئی  شخص ا س وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک  کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو دوسروں کے لئے پسند کرتا ہے’’ ( بخاری ، باب من الایمان أن یحب لأ خیہ مایحب لنفسہ ، حدیث :13) ایثار یہ  اللہ کی رضا جوئی  کا ذریعہ ، جنت کے داخلہ اور دوزخ سے نجات کا پروانہ  ہے، اس سے دل میں اللہ کی محبت جاگزیں  ہوتی ہے، اللہ عزوجل نے ایثار کرنے والوں کی تعریف و توصیف فرمائی اور ان کو کامیاب و کامراں اور فلاح یاب بتلایا  ‘‘وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ( سورۃ الحشر :9) معاشرے میں ایثار کا وجود معاشرے کی اقتصادی او رمعاشی توازن کو برقرار رکھتاہے ، ایک کا کھانا دو کے لئے اور دو کا تین کے لئے اور تین کا چار کے لئے کافی ہوجاتاہے، ایک گھر جو آسودہ ہوکر کھاتا ہے ، ایثار کے نتیجے میں کئی ایک گھروں کا وہ مادی  وملجا بن سکتا ہے ، ایثار کا معاشرہ  اور سماج میں وجود ہی  یہ معاشرہ  کی صحت  اور سلامتی  کی علامت  اور آپسی  تعاون و تکافل  کے وجود کی علامت ہے،  آپس  میں محبت  و الفتِ  کا باعث ہے،  اس سے ایک طاقتور اور خود مکفی معاشرہ   وجود میں آتا  ہے ، ایثار  کا سب سے بڑا اور اونچا  فائدہ یہ ہے کہ ایثار کرنے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدار ء اور پیروی کرنے والا ہے۔

ایسا نہیں کہ ایثار کا وجود کا ایک فرد میں ہونا اور دوسرے فرد میں نہ ہونا یہ کافی ہے، بلکہ ایثار یہ اجتماعی  ضرورت ہے، یہ اسلامی فریضہ ہے،ہمارے بچوں کی تربیت ایثار نفس کے ساتھ  ہو، ایثار یہ خود جود و سخا کی اعلیٰ منزل ہے ، دوسرے پر ایثار کرنا، اپنے  ضروریات پر دوسروں کو ترجیح دینا ایک قلب زکی اور طاہر کا ہی کام ہے، اس کو روز قیامت صلاح اور فلاح حاصل ہوگی، اس سلسلے میں ارشاد باری ہے : ‘‘ ( بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا  گیا وہی کامیاب  اور بامرا ہوا ’’ (سورۃ الحجر: 9) بہر حال ایثار ایک ایک اسلامی معاشرے کی ضرورت ، قوت اور اس کی کفالت کابہت بڑا ذریعہ اور قوت  و طاقت کا سرچشمہ ، ذکر خیر کا فیض جاری اور رضا جوئی رب کا بہت بڑا ہتھیار ہے،اس سےنہ صرف لوگوں کے دل جیتےجاسکتے ہیں ، بلکہ رضا جوئی رب العالمین  بھی حاصل کی جاسکتی ہے ، مال میں بڑھوتری اور جیسا کہ تیسا واپسی کا تو اللہ عز وجل کا وعدہ ہے۔

6 جون ، 2014  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/mufti-rafiuddin-hanif-quasmi/sacrifice--an-islamic-and-collective-need--ایثار---ایک-اسلامی-اور-اجتماعی-ضرورت/d/87420

 

Loading..

Loading..