New Age Islam
Tue Jul 28 2026, 06:56 AM

Urdu Section ( 6 Jan 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Life and Services of Maulana Mohammad Akhtar Qasmi مولانا محمد اختر قاسمیؒ کی حیات و خدمات

مفتی محمد صادق قاسمی ثم جامعی

1 جنوری 2025

خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائےپور اپنے قیام ۱۸۸۲ ءسے لے کر آج تک اس کے مشائخ اپنے اس فکرو نظریے پر قائم ہیں جو تسلسل کے ساتھ مولانا گنگوہیؒ سے مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ ان علمائے حق سے ہوتے ہوئےمولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ تک پہنچا اور پھر انہوں نے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق علماء حق کی فکر پر ایک جماعت حقہ تیار کی جس کے رہنما وقائدمولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری موجودہ مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائےپور ہیں۔ اسی جماعت کے فرد فرید ورکن رکین مولانا شاہ سعید احمد رائےپوری کےخلیفہ ومجاز اور جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے سابق مہتمم مولانا محمد اختر قاسمی ہیںؒ۔ جنہوں نےجامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کو پروان چڑھایا اور اپنے پینتالیس سالہ دور اہتمام میں جامعہ کو ہر قسم کےفتنے وفساد سے بچا کر تعلیمی تنظیمی اور تعمیری  وغیرہ ترقیات سے نوازا ،جہاں یہ مدرسہ ایک مکتب کی شکل میں تھا اب یہ جامعہ(یونیورسٹی ) کی شکل اختیارکر چکا ہے۔

مولانا کی ولادت قصبہ ریڑھی محی الدین پورضلع سہارنپور یوپی میں۲۴ اپریل ۱۹۴۳  بروز ہفتہ کو ہوئی۔انہوں  نے ابتدائی تعلیم سے لے کر شرح جامی تک مدرسہ تعلیم القرآن المعروف جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ میں حاصل کی، پھر درس نظامی کی تکمیل کے لئے ۱۹۴۶ میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور ۱۹۶۸ میں سند فراغت حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا کا انڈین آرمی انبالہ زون میں منصب امامت کے لیے انتخاب ہوگیا ،لیکن انہوں نے وہاں جانے کی بجائے مدرسہ میں جنوری ۱۹۶۸ سے جامعہ میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا جو مرض الوفات تک برابر جاری رہا۔۱۴ نومبر۱۹۷۴ کو مجلس شوریٰ نے عارضی طور پر جامعہ کا اہتمام ان کے سپرد کر دیا اور پھر کچھ ماہ کے بعد ان کے نظم و نسق کو دیکھ کر باقاعدہ طور پرمولانا جامعہ کے مہتمم مقرر کر دیئے گئے۔ اس طریقے سے ۱۴ نومبر ۱۹۷۴ سے اپنے وصال یکم جنوری۲۰۲۲ بروز ہفتہ تک ۴۵ سال جامعہ کے منصب اہتمام پر فائز رہے۔

مولانا کو طلبا ء، جامعہ اور اس کے ہر فرد اور ہر چیز سے بے انتہا محبت تھی ۔ اساتذہ کرام، طلبہ عزیز ،اور ملازمین و معاونین جامعہ کے سلسلے میں ہمہ وقت فکر مند رہتے تھے کہ کس طریقہ کار کے مطابق ان کو دنیاوی اور آخروی ترقیات سے ہمکنار کیاجائے ۔ مولانا طلباءکے ساتھ بڑی خیرخواہی کرتے اور اپنے بزرگوں کے طریقے کے مطابق ان کی تربیت فرماتے۔ ان کےدور اہتمام میں اساتذہ کرام کی تعظیم کسی بھی منصب پر فائز رہنے والے فرد یا کسی بھی شخصیت کے اخلاق کے تحلیل و تجزیہ کا طریقہ کار یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان اور اپنے گھر کے افراد کے ساتھ کن اخلاق کا مظاہرہ کرتا ، جب ہم ان کے دوراہتمام کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اساتذہ گرام، جملہ ملازمین ومعاونین جامعہ کے ساتھ مولانا برابری و مساوات کی طرز پر معاملہ فرماتے، حاکم ومحکوم کاسامعاملہ نہیں تھا بلکہ اس سے بڑھ کر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ پدر و پسر والا معاملہ تھا،یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی طرح وہ اساتذہ کرام کو اپنی طرح کے افراد سمجھتے تھے اور ہر اہم معاملے میں ان سے مشورہ  فرماتے،اور ان پر کسی قسم کا حرف نہیں آنے دیتے، ان تمام باتوں کی تصدیق مولانا مفتی شاہد صدرمفتی جامعہ ہذا کے اس قول سے ہوتی ہے جو انہوں نے ان کے انتقال کے بعد مسجد رحیمیہ میں نماز فجر کے بعد کی مجلس میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ مولانا جامعہ کےلیے بےانتہامحسن و مخلص تھےان کے دورہ اہتمام میں اگر کوئی فتنہ اٹھتا تو وہ یا تومولانا کے پاس جانے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے یا پھر ان کی شخصیت پر جا کر رک جاتا۔

جہاں تک ان کے دور اہتمام میں تعلیمی شعبہ کی بات ہے تو اس شعبہ میں بھی جامعہ نے ترقی کی اور ایسی ترقی کی کہ تعلیم القرآن سے ترقی کرکے جامعہ بن گیا۔

ان کےدورمیں شعبہ عربی میں علوم عالیہ کی ترقی کے ساتھ علوم عالیہ کی تکمیل یعنی دورہ حدیث شریف کی داغ بیل پڑی، پھر مزید تعلیمی شعبہ میں مختلف شعبوں کا اضافہ ہوا ان میں سے ایک شعبہ تجوید وقرآت کا شعبہ ہے جس کا باقاعدہ آغازان کے دورمیں ہوا۔ یہی وہ شعبہ جس پرمولانا کو کتاب مقدس قرآن حکیم سے محبت اور عشق کی وجہ سےفخر تھا ۔ اسی طرح علوم دینیہ کے ساتھ علوم عصریہ کی تعلیم بھی ضروری ہے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میدان میں بھی جامعہ پیچھے نہیں رہا ۔چنانچہ ان کےدور میں ہی شعبہ کمپیوٹر کا قیام عمل میں آیا۔انہوں نے اس مدرسے کو جو ایک مکتب تھا ایک جامعہ بنایا۔ان کی سخت محنت اور کوشش کے نتیجے میں دار جدید، حشمت لائبریری کی تعمیر اور اس کا قیام، رحیمیہ مسجد کی توسیع، اور اس کی بالائی منزل کی تعمیر، رحیمیہ دروازے کی تزئین و آرائش، دار القرآن کے نام سے موسوم ایک عظیم عمارت کی تعمیر، دفتر اہتمام کی تبدیلی و توسیع ،جدید دارالحدیث کی تعمیر، شعبۂ تجوید و قرأت کی ہال نما درسگاہ کی تعمیر اور جدید دارالطعام کی تعمیر شامل ہیں۔اسی طرح ان کے دور اہتمام میں جامعہ ہذا کو متعدد اشخاص نے مختلف اماکن پر متعدد اراضی سے بھی نوازجس سے جامعہ کو فائدہ حاصل ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاں ایک طرف تنظیمی وتنسیقی صلاحیتوں اور مہارتوں سے نوازا تھا وہیں افرادسازی کا بھی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ ان کو۱۹۹۹ میں جب مولانا شاہ سعید احمد رائپوریؒ نے اجازت وخلافت سے سرفراز فرمایا تو اس وقت سے ان کی طرف خاص و عام کا رجوع شروع ہو گیا اور ان سے راہ سلوک کے طالبین نے اپنی استعداد و صلاحیت کے مطابق مولانا سے استفادہ کیا اور پھر آپنے متعلقین اور طلبہ عزیز کے لیے تربیت کا نظام بنایا، مثلاً عصر کے بعد مجلس کا ہونا اور تعلق مع اللہ کے حصول کے لئے صبح نماز فجر کے بعد ذکرواذکارکی مجلس کا انعقاد جس میں   اساتذہ کرام، طلباء اور واردین جامعہ شرکت کرکے اپنے قلوب کو مجلی ومصفی کرتے، اس کے علاوہ رمضان المبارک میں اخیر عشرہ کا اعتکاف فرماتے اور اس میں طلبہ کی تربیت کے خاطر نوافل کا اہتمام قرآن کریم کی تلاوت و سماعت فرماتے تاکہ متعلقین و متوسلین تربیت حاصل کرکے اس کے مطابق اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکیں ۔ان کے دور میں جامعہ کو جو ترقی حاصل ہوئی اس کے پیچھے مولاناکی وہ۴۵ سالہ محنت ہے جس میں مولانا کو مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا جیسے جیسے جامعہ کو ترقی ملتی گئی ویسے ویسے ان پر کبھی موافق ہوا نے اور کبھی مخالف سمتوں سے ہوا نے آ کرحملہ کیا،کبھی ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا کبھی اہتمام کو ناکام کرنے کی کوشش کی گئی یعنی اندرونی سازشیں ہوئی اور کبھی باہر سے ان کو پریشان کیا گیا۔

 مولانا محمد اختر قاسمی کا ۴۵سالہ دور اہتمام وہ مثالی دور ہے جس سے سلف صالحین، مسلم حکمرانوں، اور علمائے حق کے ادوار کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔انہوں نے اپنے ۴۵ سالہ دور میں باوجود مصائب و آزمائش کے جامعہ کے طلباء کی تعلیمی و تربیتی نگرانی کے نظام سے لے کر اساتذہ کرام وجملہ ملازمین کی خیر خواہی اور خود جامعہ کی تعلیمی ، تدریسی،اور تعمیری ترقی کے نظام کو ترتیب دے کر جامعہ کو پروان چڑھایا،نیز دوران اہتمام قوم کے سماجی،عائلی، اوراصلاحی پروگراموں میں شرکت کرکے جامعہ کی فکر کو عام کیا، اور اندرونی و بیرونی سازشوں اور منافقانہ چالوں کا اپنے صبر و استقامت کے ذریعہ سے مقابلہ کرکے ان کو ناکام بنادیا ، اور اپنی موجودگی میں ہی مجلس شوریٰ کے ذریعے سے جامعہ کے اہتمام کے قائم مقامی کے لیےمولانا جمشید علی قاسمی کو اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اپنانائب بنادیا تھا،اب مولانا جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے مہتمم ہیں۔

آج جامعہ ہر قسم کے شروروفتن سے محفوظ ہے، اور الحمدللہ جامعہ مزید ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے،اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مخلص باصفاشخصیت ڈپٹی عبدالرحیم کے لگائے ہوئے اس چمن کو مزید ترقیات سے نوازے اور مولانا کی خدمات عظیمہ کو قبولیت سے سرفراز فرمائے اور جامعہ کے فیض کو عام فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ بھی ان کے اہتمام کی خصوصیت ہے کہ اپنا نائب مقرر کرکے آئندہ پیدا ہونے والے فتنہ وفساد کے اندیشہ کا سدباب کر گئے اور یکم جنوری ۲۰۲۲بروز ہفتہ کو غم فرقت دےکراپنےمالک حقیقی سے جاملے۔ آج جامعہ ہر قسم کے شروروفتن سے محفوظ ہے، اور الحمدللہ جامعہ مزید ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے،اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مخلص باصفاشخصیت ڈپٹی عبدالرحیم کے لگائے ہوئے اس چمن کو مزید ترقیات سے نوازے، اور مولانا کی خدمات عظیمہ کو قبولیت سے سرفراز فرمائے اور جامعہ کے فیض کو عام فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ تیرے گھر کی نگہبانی کرے

1 جنوری، 2025، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/services-maulana-mohammad-akhtar-qasmi/d/134255

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..