New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:07 PM

Urdu Section ( 29 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Suicide Bombers Are Hell-Bound د جالی فتنہ پرور، ظالمین، خود کش ، دہشت گردوں کا ٹھکا نہ جہنم ہے

 

قاضی شہر مفتی ابوالعرفان

5 جولائی ، 2013

سورہ ٔ نسا ء کی آیت نمبر 168 اور 169 کا ترجمہ ہے۔‘‘ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم و ستم کیا، اللہ تعالیٰ ان کو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں  کوئی راستہ بجز جہنم کے راستے کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کوئی مشکل  کام نہیں ۔’’

سورۂ آل عمران کی آیت 86 سے 88 کا ترجمہ ۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ ظالموں  کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا، ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں  اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے، اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں، نہ ان کی سزا کم ہوگی اور نہ ان کو مہلت ملے گی، البتہ وہ بچ جائیں گے جو اس  کے بعد توبہ کرلیں ، اور اپنی اصلاح کرلیں، بیشک اللہ تعالیٰ  بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔’’

بخاری و مسلم شریف میں ابو بکر اور جریر اور عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ‘‘ روایت  ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد پلٹ کر کافر نہ ہوجانا کہ تم لوگوں سے بعض بعضوں کو قتل کریں۔’’

مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقرر لوگو ں پر ایک زمانہ آئے گا کہ قاتل  کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ کس لئے قتل کیا، اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا کہ کس وجہ سے اس کو مارا گیا’’ یعنی بلا سبب خونریزی ہوگی۔ اس میں وہ تمام دہشت گرد خود کش حملہ آور جہنمی اور یہودی و سعود ی و امریکی آجاتے ہیں جو اپنی دولت و حکومت و مفادات حاصل کرنے کےلئے ساری دنیا کو قتل و غارت گری کا میدان بنائے ہوئے ہیں ۔ کبھی مسلکی و مذہبی طور پر اور کہیں ہتھیاروں کی کھپت کے لئے ، پٹرول کے حصول کے لئے، یا فرضی الزام تراشیوں  کے ذریعہ فلسطین ، افغانستان اور عراق او رپاکستان و ایران کو تباہ کر نے کے لئے اور اسرائیل  کو مضبوط کرنے کے لئے ۔

بخاری و مسلم شریف میں ‘‘ روایت ہے کہ ظلم اور ستم سیاہیاں ہوں گی قیامت کے دن’’

بخاری و مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو لوگوں سے لڑنے کا حکم ہوا ہے یہاں  کہ وے لا الہ الا اللہ نہ کہیں، سوچئے ، لا الہ الا اللہ کہا۔ اس نے اپنا مال اور جان کو بچایا ۔ مگر حق تلفی کا بدلہ لیا جائے گا اور  اس کا حساب خدا کے ذمے ہے’’۔  اس طرح کلمہ گو کی جان ومال  حرام ہے۔ خونِ ناحق اور مالِ ضامن کا بدلہ، ظاہری مسلمان اور دلی کافر کا حساب خدالے گا جو علام الغیوب ، عادل و منصف ہے، حاکم اور قاضی کو نہیں،  فرضی توحید پرست ، دنیا پرست، عیش پرست، امریکہ و اسرائیل پرست، طالبانی ، وہابی، سلفی، دہشت گردوں ، خود کش حملہ آوروں ، مساجد و مدارس و مزارات کو گرانے والوں، انسانوں کا گوشت چبانے والوں، قتل و غارت گری،  زناکاری و عصمت دری کرنے والے ، خونخوار درندہ نماا نسانوں  کو یا ان کے آقا ؤں  اور رہبروں کو صرف ڈھیل  ہے وقت معینہ تک ۔ ورنہ ان کا انجام دنیا میں نمرود ، فرعون، شداد وہاما ن سے بد تر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہی عزیز ذوانتقام ہے۔ وہی ظالمین و قاتلین  ، مفسدین دجالیں ،شیاطین اور ان کے پیروکاروں  کو بدلہ دینےوالا ہے۔

بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور نعمان بن مقرن سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بار کہ مقرر اللہ تعالیٰ  اس دین کی مدد گنہگار سے  کرتا ہے۔ حنین کی لڑائی میں ایک مسلمان کا فروں سے خوب لڑا۔ پھر جب اس کے زخموں نے بہت تکلیف  دی تو اپنی تلوار سے خود کو مار کر مر گیا۔ تب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین کے لئے یہ شہید نہیں ہوا۔ خود کشی کر کے حرام موت اور فاجر ہوکر مر اہے۔ اسی طرح  کتنے شہید آج پوجے جارہے ہیں  جو انگریزوں  یہودیوں کی خوشنودی  کے لئے دنیا  وی مفادات او رلالچ کے لئے مارے گئے اور ان کی شہادت کے قصیدے گا کر ان کے متبعین  اپنی دنیا بنارہے ہیں۔ اس بنیاد پر آج سے خود کش  حملہ آور دنیا وی مفادات، ملک و دولت کے حصول  کے لئے پوری دنیا میں،  خاص طور سے کلمہ گو لوگوں کا قتل و خونریزی ، عورتوں کی عصمت دری کرنے والے گوشت خور ، اور جو فقیر و عالم و علما ء دنیا وی مفادات کے حصول کے لئے وعظ و نصیحت اور فتویٰ  نویسی کر کے جنت کے ٹھیکیدار  بن کر، بے بنیاد باتوں کے ذریعے  ہرایک کو دین سے خارج کررہےہیں، شیعہ سنی اور کہیں وہابی و سلفی بن کر ، توحید پرست بن کر اختلافات و فتنہ و فساد کو ہوا دے رہے ہیں خونریزی کررہے  یا کروارہے ہیں ۔ ان کا انجام بس دور نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے سب کو۔

بخاری ومسلم شریف ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں نہیں ہے ۔ اُس کی قسم جس کےقابو میں  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ مقرر کملی تو اس کےبدن پر بھڑک رہی ہے۔ آگ سے ، اس نے کملی کو جنگ خیبر میں غنیمت کی تقسیم سے پہلے  لے لیا تھا’’۔ وادی القریٰ میں خیبر کی فتح سے پلٹتے وقت جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو ایک تیر لگنے سے رفاعہ  قتل ہوا۔ اصحاب نے تعریف کی کہ وہ  شہید ہواہے ۔ تب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شہید نہیں ہوا ہے ۔ وہ تو غنیمت  کی چوری  میں آگ میں جل رہا ہے ، اس حدیث کی بناء پر یہ خود کش حملہ  آور قاتلین و ظالمین جو یہود و نصاریٰ  اور سعودیوں کی وفاداریوں میں دنیا وی لالچ میں قتل کررہے ہیں اور قتل ہورہے ہیں اپنے انجام کو سوچیں۔

مسلم شریف  میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میں خدا کی پنا ہ مانگتا ہوں، اس سے  کہ لوگ چرچا کریں کہ  میں اپنے ساتھیوں کو قتل  کرتا ہوں۔ البتہ یہ شخص اور اس کے ساتھی قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان کے نرخروں سے نیچےنہیں اترتا۔ یعنی دل میں تاثیر نہیں ہوتی قرآن کی۔ یہ لوگ دین سے نکلے  جیسے تیر  جانور سے پار ہوجاتا ہے ’’۔ذی الخویرہ منافق نے مال کی تقسیم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو الزام دیا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘ میں انصاف نہ کروں گا تو اور کون کرے گا۔ ’’صحابی اس کےقتل پر آمادہ  ہوئے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اگر چہ یہ بیدین واجب القتل  ہے مگر اس کو قتل نہ کرو کہ  اسلام کی بدنامی ہوگی۔ آج اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اور خونریزی  کو عام کرنے کے لئے یہ یہودی سعودی ایجنٹ وطالبانی  ، مسلمانوں کو بدنام کررہے ہیں اور یہودی ونصاریٰ کو دعوت عام دے رہے ہیں کہ وہ اس دہشت گردی کو آڑ بنا کر دنیا سے اسلام و مسلمانوں کو نیست ونابود کردیں۔ اپنے مفادات حاصل کریں ان ظالم دہشت گردوں، دجالیں کےمقابلے کے لئے شیعہ  سنیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔

بخاری و مسلم شریف کی روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سےکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقرر خدا ظالم کو فرصت اورڈھیل  دیتا ہے ۔ اور پھر جب اس کو پکڑتا ہے تو نہیں چھوڑتا ہے۔ پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے قرآن کی آیت پڑھ کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ‘‘ اسی  طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب ظالم  بستیوں  کے لوگوں  کو پکڑا ، بیشک اس کی پکڑ سخت دردناک ہے’’ ظالم فرصت اور موقعہ  اصلاح کا دیا جاتا ہے ۔ یاظلم کی انتہا پر ،آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیا  میں بھی پکڑ ہوتی ہے۔ اس وقت سبھی ظالم و قاتل و جفا کار اپنے  انجام سے بے خبر ظلم کی انتہا پر آمادہ  ہیں۔ لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ظالموں کے حربوں  سے اپنے بچانے کی تدبیر کریں ۔ اسلام نے شور مچاتے یا سارس کی طرح اپنی گردن کو چھپانے  کے بجائے اپنی ہمت و شجاعت  کو عمل و تدبیر کے ذریعہ ، اتفاق  و اتحاد  اختیار کر کے ظالموں  کو مٹانے پر آمادہ اورتیار ہونے ۔  توڑ کر نے کی ضرورت بتائی ہے۔

بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقرر جب خدا نے خلق  کو پیدا  کیا تو عرش پر اپنے پاس لکھ رکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر آگے بڑھ گئی ’’ اسی لئے کافروں ، گنہگاروں ،ظالموں ، قاتلوں، زانیوں،  شرابیوں، رشوت خوروں، بدیانتوں ، دہشت گردوں،  بادشاہو ں ، دنیا دار حاکموں  کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا ۔ ان کی روزی بند نہیں کرتا ۔ ان کو چھوٹ دی جاتی ہے موقعہ دیا جاتا ہے ۔

بخاری  شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اختلاف نہ کیا کرو  اس واسطے کہ جو لوگ تم سے پہلے تھے انہوں نے اختلاف کیا پھر برباد ہوگئے ۔’’ مصابیح  میں عبداللہ بن مسعود نے دولوگوں کو الگ الگ  طریقے سے قرآن کی قرأت کرنے کو بتایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں خو ب پڑھتے ہو قرآن جس طرح  بھی ثابت ہو ۔ مگر  اختلاف نہ کرو۔

یہ حدیث دین میں اختلاف کرنے سے بھی منع  کرتی ہے۔ او رکلمۂ گو کو بھی  اختلاف ،مناظر ہ و مجادلہ کر کے نفرت و عدوات پھیلا کر دشمنوں  کو کامیاب  ہونے کا موقع نہ دینا چاہیئے  ۔ ہر آدمی اپنے افعال  و اعما ل  وعقیدے  کا جواب د ہ خدا کو ہوگا ۔

قرآن نے بھی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی رسی کو مضبوط پکڑو سب مل کر اور آپس  میں بلا وجہ  شیطانی  وسوسوں میں مبتلا  ہوکر ایک دوسرے کے خلاف ہوکر دشمن  نہ بنو۔

ہر صاحب عقل  و فہم  فکر و نظر کے سامنے آج کل کے حالات ہیں ۔ دشمنان اسلام منظّم  و متحد ہوکر اسلام و مسلمانوں اور مقدس مقامات کو نیست  ونابود کرنے کےلئے شیطان  کے منصوبہ پر چھ  طرف سے حملہ آور ہیں ۔ ہتھیاروں اور مکاریوں سے پورے طور پرلیس ہیں ۔ افغانستان ، عراق کو تباہ کرچکے ہیں لاکھوں کو شہید کردیاگیا ہے ۔ یمن،  شام، مصر ، فلسطین، ترکی اوربحرین وغیرہ میں سازشیں چل رہی ہیں ۔ ایران کو تباہ کرنا مقصود ہے، پاکستان پورے طور پرنرغے میں ہے، ہندوستان میں اسرائیلی  امریکی  ایجنٹ اپنے ایجنڈا پر کام کررہے ہیں اور دوسری طرف  سعودی عرب نمائندے اپنی دولت  اپنے ایجنٹوں  کو پہنچا کر یہاں مسلکی  مذہبی  نفرتوں کو بڑھاوا دے کر  وہابیت و سلفیت کو مدد پہنچارہے ہیں  ، ایسے حالات میں تمام سنیوں و شیعوں کو متحد ہوکر امام مہدی علیہ السلام  کے پرچم  کے نیچے جمع ہونے کی تدبیر کرنا چاہیے۔ و ما علینا  الا البلاغ

5 جولائی ، 2013  بشکریہ روز نامہ صحافت، لکھنؤ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mufti-abul-irfan-مفتی-ابوالعرفان/suicide-bombers-are-hell-bound--د-جالی-فتنہ-پرور،-ظالمین،-خود-کش-،-دہشت-گردوں-کا-ٹھکا-نہ-جہنم-ہے/d/12814

 

Loading..

Loading..