New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 01:25 PM

Urdu Section ( 26 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Reclaiming the Spirit of Hajj عکف یا عاکفین

 

 

عکف کسی چیز کو بکھرنے سےبچانے کے لئے لڑی میں پرونا، جس طرح موتیوں کو پرو دیا جاتا ہے۔ عکف الجوھرفی انظم ۔ گوہر لڑی میں پرودیا گیا، شَعر ‘‘ مَعْکُوف’’ کنگی کئے ہوئے ، گُندھے ہوئے بال۔ عَکَف کے معنی ہیں معاملات کو درست کرنا، پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروکر رکھنا۔ کعبہ کے متعلق  ہے کہ ، اللہ تعالیٰ نےحضرت ابراہیم علیہ السلام  اور اسمٰعیل  علیہ السلام  سے کہا کہ اس مرکز کو انسانوں کے خود ساختہ تصورات  و اعتقاد ات  سے پاک رکھا جائے، اور اسے طائفین  اور عاکفین کے لئے وقف کیا جائے، یعنی ان کے لئے جو پوری انسانیت کے حقوق کے نگراں ہیں، اور جو انسانیت کے الجھے ہوئے معاملات کو سنواریں ، اور ان کےبکھرے ہوئے شیرازہ کو ایک لڑی میں پرودیں ۔(2:125) یہ ہے منصب قرآنی جماعت کا، جسے  شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ کہا گیا ہے،(2:143) یعنی پوری نوع انساں کے حقوق و فرائض کے نگراں ۔

لیکن ہم مسلمانوں نےجب اللہ کے دیئے ہوئے زندہ دین کواپنے خود ساختہ بے جان مذہب میں تبدیل کرلیا ، تو اس کے زندگی  بخش  پروگراموں ، صوم و صلوٰۃ کو بھی بے روح  رسوم بنا گیا ۔  چنانچہ ہمارے ہاں بھی دیگر  خود ساختہ  مذاہب کی طرح قبلہ  کا مرکز انسانی کا تصور باقی  نہیں رہا  اور نہ حج و عمرہ ہی بین الانسانی اجتماعات کی حیثیت  رکھتے ہیں ۔  اب ہم نے بھی دیگر مذاہب کی طرح خانہ کعبہ کی عمارت اور اس کے پتھروں کو تقدس دے دیا ہے، اس عمارت کے پتھروں کو منوں خوشبو یات سے غسل دیا جاتاہے ،اور ان پر اطلس و کمخواب کے غلاف چڑھائے جاتےہیں۔ ہم لوگ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ان کی زیارت کےلئے جاتے ہیں اور اس عمارت کے پتھروں کو چومتے  اور ان کے گرد طواف کرتے ہیں ۔ پنجابی کے  ایک شاعر کے بقول:۔

پتھردی پوجا ہوندی اے              کی کعبے تے کی بُت خانے وچ

ہے فرق دُہاں وچ ایناں ہی           اک گھڑیا اے تے اک ان گھڑیا

ترجمہ: ‘‘ دونوں جگہ پتھر ہی  کی پوجا ہوتی ہے، کعبہ میں بھی اور بُت خانہ میں بھی، فرق دونوں میں صرف اتنا ہے کہ، بت خانہ والے پتھر کو تراش کر اس کی مورتی بناتےہیں  ، اور پھر اس کی پوچا کرتے ہیں ، لیکن کعبہ والے بے گھڑے اور بے تراشے پتھر کی پوجا کرتے ہیں ۔’’  سورہ اعراف میں اللہ کا حکم ہے ۔وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (7:31) ‘‘ کھاؤ پیو، لیکن بیکار ضائع مت کرو، یاد رکھو ، اللہ ایسے  لوگوں کو پسند نہیں کرتا، جو چیزوں کو بیکار ضائع کردیتےہیں ۔’’ اور اسی سلسلے میں سورہ بنی اسرائیل میں مذید وضاحت فرمائی ۔ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ( 17:26:27) ‘‘ مال کو بے جا صرف مت کرو، یاد رکھو، بے جا ضائع  کرنے والے ، شیطان کے بھائی بند ہیں ، اور شیطان وہ ہیں جو اپنےرب کی نعمتوں کی ناقدری کرتےہیں ۔’’ اللہ  کے ان واضح احکام کے باوجود، ہم ہر سال  حج کے موقعہ پر قربانی کے نام پر کر وڑوں جانور ذبح کردیتے ہیں،  اور پھر  بُلڈوزروں سے بڑے بڑے گھڑے کھود کر ان ذبح  شدہ جانوروں کو ان گھڑوں میں دبا دیا جاتاہے ۔ کیا ہم ان حقائق  پر غور کریں گے؟

فروری، 2004 بشکریہ : صوت الحق ، کراچی--عکف-یا-عاکفین/d/98758 

Loading..

Loading..