New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 01:13 AM

Urdu Section ( 28 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Need For both Light and Darkness روشنی اور تاریکی دونوں کی ضرورت

 

مونی موہن بھٹہ چاریہ

25  اکتوبر 2011

(انگریزی سے ترجمہ ، نیو ایج اسلام)

تاریکی روشنی کی چکاچوندھ کو  نہیں جھیل سکتی ۔لیکن  روشنی کی مکمل چمک کو سمجھنے کے لئے انسان کو مکمل تارکی  کی ضرورت ہوتی ہے  اس لئے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئےتکمیلی ہیں  اور مخالف بھی۔ روشنی کے لئے جو اندھیرا ہے ، اسی طرح  منفیت روشن خیالی کے لئے ہے۔ ایک روشن خیال ذہن میں منفیت کبھی نہیں آ سکتی  اس لئے کہ ایسا  ذہن حواس پر  مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے ۔ لہٰذا  کسی بھی شکل میں منفیت ایک روحانی سالک کے ذہن کو کمربستہ  رکھنے تحقیقات کرنے اور  روشن کرنے  میں مددگار ہے۔

خانہ بدوش دیبرشی  ایک برہمچاری  اور اور برہمجننی بھی تھے وہ وشنو کے ایک بہت بڑے  پرستار تھے ۔ انہوں نے  ایک مرتبہ محبت کے خدا  کام دیو کو ٹھکرا دیا تھا، انا کا احساس ان پر غالب ہو گیا۔ انتر یامی  ( عالم غیب  ) ہونے کی حیثیت سے ، وشنو ان کا دماغ پڑھ سکتے تھے ، انہوں  نے ایک باطل  سلطلنت قائم کر لیا تھا جہاں  نارد کی راہ میں ایک خوبصورت شہزادی کو رکھا گیا تھا ۔جیسا کہ ہوا  ، نارد اس شہزادی کی خوبصورتی  کا اس قدر  گرویدہ تھے کہ انہوں نےازدواج کے  ایک خواستگار کے طور پر سوینور تقریب میں شرکت کی۔ دریں اثنا وشنو نے ان  کے علم کے بغیر نارد کا چہرہ ایک بندر کے چہرے سے  تبدیل کر دیا تھا، نارد کو  شہزادی کے ذریعہ سرسری طور پر مسترد کر دیا گیا ۔ اس طرح اسے  الہی فضل سے اس کی خود کی سچائی کو دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی گئی تھی اور وہ سلطنت اس کی نظروں سے غائب ہو گیا ۔

ادویتا کے حامی  شنکراچاریہ ابتدائی عمر میں جنن  - یوگی بن گئے ۔ ایک دن وہ نہانے کے لئے گنگا کی طرف جا رہے تھا۔ اچانک انہوں نے اپنے پیچھے سے ایک چنڈال کو آتا ہوا  دیکھا  ۔ انہوں نے  چھوت سے بچنے کے لئے چنڈال  کو ایک قدم پیچے رہنے کو  کہا  لیکن اس نے ان کی درخواست پر غور نہیں کیا۔ شنکر پریشان ہوئے اور انہوں نے  دوبارہ اسے خبردار کیا ۔ شنکر کے غصے کو دیکھ کر چنڈال کے  روپ میں شیوا نے جواب دیا، ‘‘ اے برہمن ! تم پیچھ ہٹنے کا حکم دینے والے کون ہو جسم یا آتما ؟ وہ کس طرح حرکت کریں گے جب کہ دونوں ساکن ہیں؟ لہٰذا اب ایک برہمن اور ایک چنڈال کے درمیان کوئی  فرق باقی ہے؟ " شنکر نے عاجزی کے ساتھ حقیقت کو قبول کر لیا ۔

مہا بھارت میں ایک بار بادشاہ وشومتر  برہمرشی وسشٹاکی الہی طاقت سےچونک اٹھا تھا  اس نے اس عظیم  بزرگ سے برہمارشی عطا کرنے کی التماس کی ۔ وشسٹ نے اس کے غصے کے خطرے کے باوجود اسے قبول نہیں کیا ۔ اداس وشومترا  اپنی  بادشاہی کو  ترک کر کے کئی سالوں کے لئے مراقبہ  کرنے کے لئے جنگل میں چلا گیا۔ دیواس کا بادشاہ اندرا  کو اس  کی وجاہت و جلالت سے خوف لاحق ہوا ، اس نے اس  کی سادھنا میں خلل پیدا کرنے کے لئے اس کے دربار کی رقاصہ مینکا کو بھیجا اس نے  شکنتلا کی پیدائش کے لئے راستہ ہموار کیا ۔

نارد اور شنکر دونوں کے  برہما – جننی ہونے کی حیثیت سے  منفیت  پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ وہ  دونوں حقیقت کے سامنے ناکام رہے جو کہ ا س بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہوں نے  مراقبے کے ذریعے بلند مرتبہ حاصل کر لیا تھا لہٰذاوہ  صرف نظریاتی طور پر الگ تھے ۔ لہٰذا   انہیں حقیقت کا سامنا کرنے کی ضرورت پیش آئی تھی جو کہ ان کے مطلق کمال کے لئےترش  ثابت ہوئی ۔ جہاں تک وشومترا کا تعلق ہے، جب وہ  اپسرا (حسینہ ) کا گرویدہ ہو گیا تو یقینی طور پر ' چتّہ شدھی ' کا مرتبہ  حاصل نہیں کیا۔ تاہم، اس واقعے کے بعد انہوں نے حصول معرفت میں  اپنے نامکمل سفر کی تلاش میں جگہ کو چھوڑ دیا اور آخر کار کامیاب ہو گئے ۔

رام کرشن پرم ہنس  کا کہنا ہے  کہ ابلا ہوا دھان  اگنے کے قابل نہیں رہ جاتا ، ایک ایسی  روح جسے معرفت حاصل ہو چکی ہو  کبھی کسی کے جھانسے  میں نہیں آسکتی ۔ اس کے بعد بھی  اس طرح کی ارواح  کو آزمائے جانے کی ضرورت  ہوتی ہے ،کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ روحانی حصول کس قدر نازک ہے اور اس میں انتہائی کمال مطلوب ہےجو کہ شوقین متلاشیوں کے لئے سیکھنے کا ایک عظیم عمل ہے ۔

گیتا میں کرشنا کا کہنا ہے کہ اگر چہ ایک  روحانی سالک یوگا کی راہ سے ہٹ جائے وہ نہ  تو ایسا ہے کہ  اس سے نفرت کی جائے  اور نہ ہی ذلیل ہے  ۔ وہ ارجن کو اس بات کا بھی یقین دلاتے ہیں کہ ایک سالک اچھا عامل ہونے کی حیثیت سے کبھی بھی زوال کا  شکار نہیں ہو سکتا اور وہ اپنا نامکمل سفر دوبارہ تازہ دم طاقت کے ساتھ شروع کرتا ۔

ماخذ: The Times of India, New Delhi

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/need-for-both-light-and-darkness/d/5763

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/moni-mohan-bhattacharyya,-tr-new-age-islam/need-for-both-light-and-darkness-روشنی-اور-تاریکی-دونوں-کی-ضرورت/d/13262

 

Loading..

Loading..