New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 12:47 AM

Urdu Section ( 29 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

The Last Sermon of the Prophet Muhammad پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ



معین قاضی، نیو ایج اسلام

27 نومبر 2017

(جشن عید میلاد النبی)

جب یہ مضمون آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوگا مراکش سے جکارتا تک دنیا بھر کے 1.6 بلین مسلمان پیغمبر اسلام ﷺ کی یوم پیدائش کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کریں گے۔

آج کے دن، 1 ہزار428 سال قبل حضرت محمد ﷺ نے جبل رحمت پر اپنا آخری تاریخی خطبہ (خطبۃ الوداع) فرمایا تھا جو کہ مشرقی مکہ کے 20 کلومیٹر دور وادی عرنۃ میں واقع ہے۔ اور دن 9 ذوالحجة (جو کہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے – بمطابق 6 مارچ 632) 10 ہجری کاتھا اور اس دن پیغمبر اسلام ﷺ نے 1 لاکھ 44 ہزار حجاج کرام کے سامنے یہ خطبہ پیش کیا تھا کہ جس کا پیغام عالمی اہمیت و افادیت کا حامل تھا۔ یہ قرآن اور سنت (نبوی طرز عمل) کی کچھ بنیادی تعلیمات پر مبنی ملخص نصیحتوں پر مشتمل ہے۔یہ اسلامی اقدار کا احاطہ کرتا ہے اور دین کو سمجھنے کے لئے ایک عظیم نظریہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی بعض تعلیمات اسلامی عقیدہ کی بنیادی کسوٹی بن چکی ہیں۔

مسلمان اس موقع کو زندگی اور ملکیت کے تقدس، مساوات، انصاف، امن، بخشش، عدم تشدد، خواتین کے حقوق اور اسلام کے ستونوں وغیرہ جیسے عالمی انسانی اقدار کو تازہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان بلند اصولوں پر مذہب اسلام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم عالم عرب کو متحد کرنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم کی ترغیب دی کلاسیکی علم میں تعاون کیا اور جس زمانے میں عالم عیسائیت تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں آپ نے فارسی علم و ادب کی روایت برقرار رکھی۔

صدیوں تک پیغمبر اسلام ﷺ نے مسلم دنیا کو اقتصادی ، ثقافتی، سائنسی اور فنکارانہ طور پر فروغ حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ 14 سو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اور دیگر سماجی و اقتصادی اور سیاسی عوامل کے درمیان ان کا فلسفہ اب بھی مسلم تہذیب کو فروغ ہی دے رہا ہے۔

ہمیں آپ ﷺ کی 1400 سال سے زائد ان قدیم ترین تعلیمات سے بہت کچھ سیکھنا ہے اور ہمیں اس پرآشوب زمانے کے زخموں کو مندمل کرنے کے لئے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس پیغام کی سخت ضرورت ہے جس میں ہم عالمی انسانی برادری کو انہیں مسائل کا سامنا ہے۔

اس پیغام کا مواد مؤ ثر اور شدید تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان جملوں کے ساتھ اپنے پیغام کا آغاز کیا کہ ‘‘مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم حجاج سے اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔’’ خدا کی تعریف اور بنیادی عقائد کا اعلان کرنے بعد آپ نے فرمایا ، ‘‘اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں’’، اور اس کے بعد آپ نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اس مقام اور مہینے کا تقدس اور ساتھ ہی ساتھ ان کی زندگی، ان کی عصمت اور ان کی جائداد کی عصمت بھی یاد دلائی۔

انہوں نے بتایا کہ ایام جاہلیت کا دور ختم ہو گیا اور اسی طرح طاقت اور منافع پر مبنی اس دور کے معمولات ، دشمنی اور اختلافات کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔ لہذا، تمام مسلمان ایمان، برادری اور محبت کے رشتے میں متحد ہو چکے ہیں جو انہیں اسلام کے پیغام کا گواہ بنانے والے ہیں۔ انہیں کسی بھی صورت میں 'نہ تو ظالم بننا چاہئے اور نہ ہی مظلوم'۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیئےکہ خدا کے سامنے تمام افراد برابر ہیں اس لئے کہ "تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے تم میں خدا کی نظر میں سب سے زیادہ عزت و الا وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔

انہوں نے تمام انسانیت کے ساتھ رواداری کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا : ‘‘کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید کو کسی سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سفید پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ اور نیک اعمال کے سبب سے’’۔

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی اور مزیدفرمایا: "عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہو اور ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو۔" اس کے بعد آپ ﷺ نے ان تمام مؤمنوں سے جو صدیوں تک آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے تھے مزید فرمایا کہ: "میں نے تمہارے درمیان میں ایسی چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے تو ہمیشہ گمراہی سے محفوظ رہو گےاور وہ اللہ کی کتاب اور میری سنت ہے۔" اپنی ہر تعلیم کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے پیغام پہونچا دیا ہے؟ اے خدا! تو میرا گواہ رہنا! "خطبہ کے اختتام پر تمام حجاج کرام نے جواب دیا:" ہم گواہ ہیں اس بات پر کہ آپ نے خدا کا پیغام ہم تک پوری دیانت داری کے ساتھ پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا اور اپنی امت کو نیک نصیحت سے نوازا"۔

خطبہ کے اختتام پر نبی نے کہا، " لوگو! قیامت کے دن خدا میرے بارے میں پوچھے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا’’۔اس کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔‘‘اے خدا تو گواہ رہنا’’، ‘‘اے خدا تو گواہ رہنا’’، ‘‘اے خدا تو گواہ رہنا’’ اور (اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ) ‘‘جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں’’۔

اس خطبہ کے چند گھنٹوں کے بعد عرفات میں یہ وحی نازل ہوئی: "۔۔۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔۔۔" (قرآن 5:3 )۔

اب نبوت کا سلسلہ اپنے اختتام پر تھا اور رسول اللہ ﷺ اپنے اصل وطن کی طرف لوٹنے والے تھے جو اس دنیا سے ماورا خدا کی قربت میں ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل خطبہ ملاحظہ فرمائیں۔

" لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں یا نہیں۔ جو حاضر ہیں وہ میری ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہ ہو سکے’’۔

"لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ امانتوں کو ان کے مستحقین کے حوالے کر دو۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال فرمائے گا۔ خدا نے تمہارے اوپر سود لینے کو حرام قرار دیا ہے لہٰذا، آج سے تمام سودی بقایا جات ختم کر دئے گئے۔ تاہم، تمہارے لئے تمہارا اصل مال ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی تم ظلم کا شکار ہو۔ خدا فیصلہ کر چکا ہے کہ اب کوئی سودی لین دین نہیں ہوگا لہٰذا ، عباس بن عبدالمطّلب کا سود سارے کا سارا ختم کیا جاتا ہے۔

‘‘ایام جاہلیت کے قتلوں کے تمام مطالبوں کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور ایسا پہلا حق جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے قتل سے پیدا ہونے والا حق ہے ۔’’

"اے لوگو، کافر کیلنڈر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں تاکہ خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر دیں اور حلال کردہ چیزوں کو حرام کر دیں۔ مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور چار مہینے حرام ہیں یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ اپنے مذہب کی حفاظت کے لئے شیطان سے بچو۔ ‘‘شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ اب وہ بڑی باتوں میں تمہیں بہکا سکے لہٰذا، چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس کی پیروی سے بچو۔

‘‘لوگو! یہ سچ ہے کہ تمہارے عورتوں کے اوپر کچھ حقوق ہیں لیکن ان کے بھی تمہارے اوپر حقوق ہیں ، عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو ان کے ساتھ حسن سلوک کرو کیوں کہ وہ اﷲ کے کلام کے تحت تم پر حلال کی گئیں۔ اگر وہ فرماں برداری کریں تو ان پر کسی قسم کی زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں، ان کا کھانا، کپڑا تمہارے ذمے ہے۔ ان کے ساتھ محبت اور نرمی کا معاملہ کرو اس لئے کہ وہ تمہاری شریک حیات اور مخلص معاون ہیں۔ عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے شخص کو تمہاری غیر موجودگی میں بلائے جسے تم پسند نہیں کرتے یا بے حیائی اور بد کاری کے کام کرے۔’’

‘‘لوگو! ’’اپنے پروردگار کی عبادت کرو، نماز، پنج گانہ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اپنی زکوٰۃ دیا کرو اور اپنے رب کے گھر کا حج کرو اگر اس کی استطاعت رکھتے ہو’’۔

‘‘لوگو! سب انسان آدم کی اولاد ہیں کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت نہیں ہے ، نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت ہے اور نہ ہی کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت ہے مگر تقویٰ اور نیک اعمال کے سبب سے۔ یاد رکھو ہر مسلمان ایک دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان ایک امت ہیں، کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز کسی دوسرے مسلمان کے لئے اس وقت تک جائز نہیں ہوگی جب تک وہ اپنی مرضی سے اسے نہ دے ، لہٰذا اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔’’

"یاد رکھو، عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا۔

"اے لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ لہٰذا اے لوگو! میری باتیں اچھی طرح سنو اور سمجھو۔ "میں نے تمہارے درمیان میں دو ایسی چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے تو ہمیشہ گمراہی سے محفوظ رہو گےاور وہ اللہ کی کتاب اور میری سنت ہے۔"

"جو لوگ حاضر ہیں اور میری بات سن رہے ہیں وہ میری ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں۔ اور خدا کرے کہ بعد کے لوگ میری باتوں کو ان سے بہتر سمجھیں جو مجھے براہ راست سن رہے ہیں۔ اے خدا تو گواہ رہنا میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا ہے۔ "

 (حوالہ: (امام بخاری حدیث نمبر 1623، 1626، 6361) صحیح امام مسلم حدیث نمبر 98۔ امام امام ترمذی نے حدیث نمبر 1628، 2046، 2085میں اس خطبہ کا ذکر کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حدیث نمبر 19774 تفصیل کے ساتھ یہ خطبہ نقل کیا ہے)

URL: http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/moin-qazi,-new-age-islam/the-last-sermon-of-the-prophet-muhammad/d/113367

URL: http://newageislam.com/urdu-section/moin-qazi,-new-age-islam/the-last-sermon-of-the-prophet-muhammad--پیغمبر-اسلام-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-آخری-خطبہ/d/113396

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..