New Age Islam
Wed Apr 21 2021, 09:43 AM

Urdu Section ( 4 Feb 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Social Change In The Face Of Terrorism دہشت گردی کے سامنے سماجی تبدیلیاں

 

 

 

 

 

 محمد فہد الحارثی

3 فروری 2016

دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے ہماری محتاط توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کتنا حقیر اور متشدد ہو سکتا ہے۔ چند روز قبل الاحساء میں ایک مسجد پر حملہ انتہائی سخت دہشت گردانہ نظریات کی ایک مثال ہے جس کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کا جواز کسی بھی مذہب کی آڑ میں نہیں پیش کیا جا سکتا اور مسجد پر حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والوں میں سے بعض لوگ جھوٹے اور دھوکے باز بھی ہیں۔

یہ برائی مذہب یا قومیت سے قطع نظر اپنے ارد گرد اپنا زہر پھیلا رہی ہے۔ اس کی علامت عبادت گاہوں کو نشانا بنانا ہے جنہیں محفوظ ہونا چاہئے تھا۔ فوجی اور ذہنی دونوں طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف تو سعودی سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں تنظیموں کے ان ارکان کو گرفتار کر کے ان کے حملوں کو ناکام کیا ہے جو مہلک کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ دوسری طرف بہت سی مختلف سطحوں پر انتہا پسند نظریہ کا مقابلہ کرنے کے لئے خوش آئند دانشورانہ کوششیں کی گئی ہیں۔

علما اور دانشوران دہشت گردی کے خطرات اور اس کی نظریاتی خرابیوں کو بے نقاب کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں۔ مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے الاحساء میں وحشتناک حملے کی مذمت کی ہے اور اسے ایک "شرمناک" عمل اور "زمین پر فساد کا عمل " قرار دیا ہے ۔ اور انہوں نے مزید یہ کہا کہ اس طرح کے جرائم مسلمانوں کے دلوں میں خوف پیدا کر کے قوم میں اختلاف، تفرقہ اور انتشار پھیلانے کے لئے انجام دیے جا رہے ہیں۔

بہت سے علماء کرام اور دیگر متقی مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صرف گمراہ اور غیر مومن ہی اس طرح کی خونی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم، یہ سوال، اب بھی باقی ہے کہ کس طرح ایک انسان اپنی مرضی سے ایک ہی وقت میں خود کو بم سے اڑا سکتا ہے اور دوسروں کو قتل کر سکتا ہے؟ کس قسم کے ذہنی تصورات کسی نوجوان یا کسی عمردراز انسان کو اس قسم کی بدکاری اور برا عمل کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں؟ اگر ہم اس کا ذمہ دار اقتصادی حالات کو ٹھہراتے ہیں تو پھر ہمارے سامنے ایسے لوگوں کی بھی تاریخ موجود ہے جنہیں اسی طرح کے حالات کا سامنا تھا لیکن انہوں نے اس طرح کے اقدامات کا سہارا نہیں لیا۔ لہٰذا، ہمیں دہشت گردی کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کس طرح کوئی انسان اپنے ہی کسی رشتہ دار یا اپنی ماں کا قتل کر کے یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ خدا کے نام پر لڑ رہا ہے؟ سیکورٹی حکام اور دانشور اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اس ضمن میں ایک سماجی پہلو کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

سماجی تبدیلیاں پوری تاریخ انسانیت میں تمام معاشروں میں پائی جاتی رہی ہیں جن کے نتائج معاشرے اور وقت کے مطابق مختلف برآمد ہوئے ہے۔

تبدیلیاں اکثر نئے اقدار، نئے سماجی ڈھانچے اور تعلقات کو جنم دیتی ہیں۔ عالمگیریت کی وجہ سے موجود کشادگی ، مواصلاتی انقلاب اور ساتھ ہی ساتھ بیرون ملک میں حصول تعلیم کے اقدار نے معاشرے کی داخلی ساخت کی تعمیر کی ہے۔ کبھی کبھی تغیرات کی رفتار کی وجہ سے انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ کمزور طبقہ وہ ہے جو تبدیلیوں کے حاشیہ پر ہیں یا جو خود کو تبدیلوں کا شکار ہو۔ وہ سب سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔

لہذا، وہ اپنے کھوئے ہوئے توازن کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں کسی بھی عمل کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی کچھ بھی پیش کرتا ہے تو وہ اسے غداری کے ساتھ مذہبی جذبے اور سطحی نظریہ اور معاشرے کے ساتھ ایک عام عدم اطمینان کے جذبات کے ساتھ مخلوط کر دیتے ہیں۔

جبکہ اوائل معاشروں میں تبدیلیا یکلخت بھی واقع ہوئی ہوں گی، آج سماجی تبدیلیاں مرضی اور بصیرت کے تابع ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تبدیلی ناگزیر ہے، جب تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اکثر ہم اسے محسوس نہیں کر پاتے، لیکن واقعات اور اعمال کا تخمینہ اسے واضح اور پھر شفاف کر دیتا ہے۔ سماجی تبدیلی کا عمل مسلسل جاری ہے جیسا کہ جوزف ڈیوس نے بیان کیا ہے کہ سماجی تنظیم میں تبدیلی کا اثر اس کے ڈھانچے اور اور نظام دونوں پر مرتب ہوتا ہے۔

ہمارے معاشروں میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ ہم نے اس کی مختلف شکلوں میں سماجی تبدیلی کے سماجی پہلوؤں پر کافی توجہ نہیں دی ہے۔ سماجی نظریات کا کہنا ہے کہ تبدیلی کا مطلب ترقی اور خوشحالی ضروری نہیں ہے۔ تبدیلی مکمل طور پر ترقی اور خوشحالی کے مترادف نہیں ہے۔

سماجی تبدیلی کے عمل میں قیادت کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ تبدیلی کا سیاسی فیصلہ اور ایک نقطہ نظر کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ شاید اس کے لیے فیصلوں کی ضرورت ہوگی جس کے نتیجے میں تبدیلی ظاہر ہو اور یہاں تک کہ بعض اوقات میں وہ تبدیلی کو نافظ بھی کرے۔ یہ تبدیلی کو یکلخت واقع ہونے کے بجائے ایک سوچا سمجھا عمل بنا دیتا ہے۔

سلامتی، فکری اور سماجی کوششوں سمیت متعدد سطحوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ایک اہم منصوبہ ہے۔ سماجی تبدیلیوں کو دہشت گردی کی ایک قابل پیمائش خطرے کا ایک عنصر ماننا بہت ضروری ہے، جس کے پہلوؤں اور مضمرات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ عظیم معاشرے ہمیشہ فائدہ مند تبدیلی کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ قیادت کر رہے ہیں۔

ماخذ:

arabnews.com/columns/news/874626

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/mohammed-fahad-al-harthi/social-change-in-the-face-of-terrorism/d/106213

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/mohammed-fahad-al-harthi,-tr-new-age-islam/social-change-in-the-face-of-terrorism--دہشت-گردی-کے-سامنے-سماجی-تبدیلیاں/d/106234

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..