New Age Islam
Wed Apr 21 2021, 10:31 AM

Urdu Section ( 21 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Holy Quran has Nothing But the Message of Guidance for Humanity قرآن کریم میں انسانیت کی ہدایت کا پیغام ہی تو ہے


ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی ، نیو ایج اسلام

چند روز قبل ”سویڈن“ میں قرآن کریم کا نسخہ جلانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ گزشتہ سال بھی یورپ کے ہی ایک دوسرے ملک ”ناروے“ میں اس نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ نہ صرف مسلمان بلکہ عقل سلیم رکھنے والا ہر شخص اس واقعہ کی مذمت کررہا ہے۔ دنیا میں امن وسکون کے ظاہری ٹھیددوار مغربی ملکوں میں مسلمانوں کی مذہبی کتاب کو نذرِ آتش کرنے کی مذموم کوشش اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت وتعصب کی وجہ سے ہے جو اسلام مخالف طاقتیں اپنے ناپاک منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس نوعیت کے واقعات رونما کراتی ہیں۔ ہم اِن واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ کسی بھی مذہبی کتاب یا مذہبی رہنماکے خلاف اس نوعیت کے واقعات پر سزا کے لیے سخت قانون بنایا جائے کیونکہ اس طرح کے واقعات سے دنیا میں امن وامان کے بجائے افراتفری، عدم رواداری اور عدم تحمل میں اضافہ ہی ہوگا، جس سے لوگوں میں نفرت اور عداوت پیدا ہوگی۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ایسے موقع پر قرآن کریم کے متعلق اپنے قول وعمل سے عام لوگوں کو بتائے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے جو صرف اور صرف انسانیت کی رہنمائی کے لئے نازل کیا گیاہے، اس میں دہشت گردی کی نہیں بلکہ امن وسکون کی تعلیم دیگئی ہے۔ قرآن کریم کے اعلان کے مطابق کسی شخص کو مذہب اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے۔

قرآن کیا ہے؟: قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انس وجن کی رہنمائی کے لئے آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ عربی زبان میں ۲۳ سال کے عرصہ میں نازل فرمایا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مخلوق نہیں اور وہ لوح محفوظ میں ہمیشہ سے ہے۔

قرآن کے نزول کا مقصد؟: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے مگر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہی اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ  فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (سورۃ البقرۃ آیت ۲)یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے (اللہ سے ) ڈر رکھنے والوں کے لئے۔

قرآن کریم کس طرح اور کب نازل ہوا؟: ماہ رمضان کی ایک بابرکت رات لیلۃ القدر میں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے سماء دنیا (زمین سے قریب والا آسمان) پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کا تدریجی نزول اُس وقت شروع ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ قرآن کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں غارِ حرا میں اتریں وہ سورۂ علق کی ابتدائی آیات ہیں: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍاقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُپڑھو اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو منجمد خون سے پیدا کیا۔ پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کریم ہے۔ اس پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا۔ تین سال کے بعد وہی فرشتہ جو غار حرا میں آیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سورۃ المدثر کی ابتدائی چند آیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائیں: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْاے کپڑے میں لپٹنے والے۔ اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو۔ اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ اور گندگی سے کنارہ کرلو۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک وحی کے نزول کا تدریجی سلسلہ جاری رہا۔ غرض تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔

قرآن کریم کس طرح ہمارے پاس پہنچا؟: قرآن کریم ایک ہی دفعہ میں نازل نہیں ہوا بلکہ ضرورت اورحالات کے اعتبار سے مختلف آیات نازل ہوتی رہیں۔ قرآن کریم کی حفاظت کے لئے سب سے پہلے حفظ قرآن پر زور دیا گیا، چنانچہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الفاظ کو اسی وقت دہرانے لگتے تھے تاکہ وہ اچھی طرح یاد ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی نازل ہوئی کہ عین نزول وحی کے وقت جلدی جلدی الفاظ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ خود آپ میں ایسا حافظہ پیدا فرمادے گا کہ ایک مرتبہ نزول وحی کے بعد آپ اسے بھول نہیں سکیں گے۔ اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے حافظ قرآن ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کو قرآن کے معانی کی تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں اس کے الفاظ بھی یاد کراتے تھے۔ خود صحابۂ کرام کو قرآن کریم یاد کرنے کا اتنا شوق تھا کہ ہر شخص ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتا تھا۔ چنانچہ ہمیشہ صحابۂ کرام میں ایک اچھی خاصی جماعت ایسی رہتی جو نازل شدہ قرآن کی آیات کو یاد کرلیتی اور راتوں کو نماز میں اسے دہراتی تھی۔ غرضیکہ قرآن کی حفاظت کے لئے سب سے پہلے حفظ قرآ ن پر زور دیا گیا اور اُس وقت کے لحاظ سے یہی طریقہ زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد تھا۔

قرآن کریم کی حفاظت کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو لکھوانے کا بھی خاص اہتمام فرمایا چنانچہ نزول وحی کے بعد آپ کاتبین وحی کو لکھوادیا کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتب وحی کو یہ ہدایت بھی فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں فلاں آیات کے بعد لکھا جائے۔ اس زمانہ میں کاغذ دستیاب نہیں تھا اس لئے یہ قرآنی آیات زیادہ تر پتھر کی سلوں، چمڑے کے پارچوں، کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں، درخت کے پتوں اور جانور کی ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں۔ کاتبین وحی میں حضرت زید بن ثابت، خلفاء راشدین، حضرت ابی بن کعب، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے نام خاص طور پر ذکر کئے جاتے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے قرآن کریم کے نسخے لکھے گئے تھے وہ عموماً متفرق اشیاء پر لکھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جب جنگ یمامہ کے دوران حفاظ قرآن کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم ایک جگہ جمع کروانے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ابتداء میں اس کام کے لئے تیار نہیں تھے لیکن شرح صدر کے بعد وہ بھی اس عظیم کام کے لئے تیار ہوگئے اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس اہم وعظیم عمل کا ذمہ دار بنایا۔ اس طرح قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرنے کا اہم کام شروع ہوگیا۔

حضرت زید بن ثابت خود کاتب وحی ہونے کے ساتھ پورے قرآن کریم کے حافظ تھے۔وہ اپنی یادداشت سے بھی پورا قرآن لکھ سکتے تھے، اُن کے عالوہ اُس وقت سینکڑوں حفاظ قرآن موجود تھے ،مگر انہوں نے احتیاط کے پیش نظر صرف ایک طریقہ پر بس نہیں کیا بلکہ ان تمام ذرائع سے بیک وقت کام لے کر اُس وقت تک کوئی آیت اپنے صحیفے میں درج نہیں کی جب تک اس کے متواتر ہونے کی تحریری اور زبانی شہادتیں نہیں مل گئیں۔ اس کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی جو آیات اپنی نگرانی میں لکھوائی تھیں، وہ مختلف صحابۂ کرام کے پاس محفوظ تھیں، حضرت زید بن ثابت نے انہیں یکجا فرمایاتاکہ نیا نسخہ ان ہی سے نقل کیا جائے۔ اس طرح خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں قرآن کریم ایک جگہ جمع کردیا گیا۔

جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر دور دراز عجمی علاقوں تک پھیل گیا تھا۔ ہر نئے علاقہ کے لوگ ان صحابہ وتابعین سے قرآن سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوئی تھی ۔ صحابۂ کرام نے قرآن کریم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمسے مختلف قرأتوں کے مطابق سیکھا تھا۔ اس لئے ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی قراء ت کے مطابق قرآن پڑھایا جس کے مطابق خود انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا تھا۔ اس طرح قرأتوں کا یہ اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا۔ لوگوں نے اپنی قراء ت کو حق اور دوسری قرأتوں کو غلط سمجھنا شروع کردیا حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اجازت ہے کہ مختلف قرأتوں میں قرآن کریم پڑھا جائے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ اُن کے پاس (حضرت ابوبکر صدیق کے تیار کرائے ہوئے) جوصحیفے موجود ہیں ، وہ ہمارے پاس بھیج دیں۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر ان کو مکلف کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق کے صحیفہ سے نقل کرکے قرآن کریم کے چند ایسے نسخے تیار کریں جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم کے چند نسخے تیار ہوئے اور ان کو مختلف جگہوں پر ارسال کردیا گیا تاکہ اسی کے مطابق نسخے تیار کرکے تقسیم کردئے جائیں۔ اس طرح امت مسلمہ میں اختلاف باقی نہ رہا اور پوری امت مسلمہ اسی نسخہ کے مطابق قرآن کریم پڑھنے لگی۔ بعد میں لوگوں کی سہولت کے لئے قرآن کریم پر نقطے وحرکات (یعنی زبر، زیر اور پیش) بھی لگائے گئے، نیز بچوں کو پڑھانے کی سہولت کے مدنظر قرآن کریم کو تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا۔ نماز میں تلاوت قرآن کی سہولت کے لئے رکوع کی ترتیب بھی رکھی گئی۔

معلومات قرآن:

منزلیں: قرآن کریم میں ۷ منزلیں ہیں۔ یہ منزلیں اس لئے مقرر کی گئی ہیں تاکہ جو لوگ ایک ہفتہ میں ختم قرآن کریم کرنا چاہیں وہ روزانہ ایک منزل تلاوت فرمائیں۔

پارے: قرآن کریم میں ۳۰ پارے ہیں، انہی کو جز بھی کہا جاتا ہے۔ جوحضرات ایک ماہ میں قرآن کریم ختم کرنا چاہیں وہ روزانہ ایک پارہ تلاوت فرمائیں۔ بچوں کو قرآن کریم سیکھنے کے لئے بھی اس سے سہولت ہوتی ہے۔

سورتیں: قرآن کریم میں ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ ہر سورۃ کے شروع میں بسم اللہ لکھی ہوئی ہے سوائے سورۂ توبہ کے۔ سورۃ النمل میں بسم اللہ ایک آیت کا جز بھی ہے، اس طرح قرآن کریم میں بسم اللہ کی تعداد بھی سورتوں کی طرح ۱۱۴ ہی ہے۔ ان تمام سورتوں کے نام بھی ہیں جو بطور علامت رکھے گئے ہیں بطور عنوان نہیں۔ مثلاً سورۃالفیل کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سورہ جو ہاتھی کے موضوع پر نازل ہوئی، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں ہاتھی کا ذکر آیا ہے۔ اسی طرح سورۃالبقرہ کا مطلب وہ سورہ جس میں گائے کا ذکر آیا ہے۔

آیات: قرآن کریم میں چھ ہزار سے کچھ زیادہ آیات ہیں۔

سجدۂ تلاوت: قرآن کریم میں ۱۴ آیات ہیں، جن کی تلاوت کے وقت اور سننے کے وقت سجدہ کرنا واجب ہوتا ہے۔

مکی ومدنی آیات وسورتیں: ہجرت مدینہ منورہ سے قبل تقریباً ۱۳ سال تک قرآن کریم کے نزول کی آیات وسورتوں کو مکی اور مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد تقریباً ۱۰ سال تک قرآن کریم کے نزول کی آیات وسورتوں کو مدنی کہا جاتا ہے۔

مضامین قرآن: علماء کرام نے قرآن کریم کے مضامین کی مختلف قسمیں ذکر فرمائی ہیں، تفصیلات سے قطع نظر ان مضامین کی بنیادی تقسیم اس طرح ہے:

۱)عقائد۔ ۲) احکام۔ ۳)قصص قرآن کریم میں عمومی طور پر صرف اصول ذکر کئے گئے ہیں لہٰذا عقائد واحکام کی تفصیل احادیث نبویہ میں ہی ملتی ہے، یعنی قرآن کریم کے مضامین کو ہم احادیث نبویہ کے بغیر نہیں سمجھ سکتے ہیں۔

۱)عقائد: توحید ، رسالت، آخرت وغیرہ کے مضامین اسی کے تحت آتے ہیں۔ عقائد پر قرآن کریم نے بہت زور دیاہے اور ان بنیادی عقائد کو مختلف الفاظ سے بار بار ذکر فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، جزاوسزا، جنت ودوزخ، عذاب قبر، ثواب قبر، قیامت کی تفصیلات وغیرہ بھی مختلف عقیدوں پر قرآن کریم میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

۲) احکام: اس کے تحت مندرجہ ذیل احکام اور ان سے متعلق مسائل آتے ہیں:

عبادتی احکام: نماز، روزہ، زکاۃ اور حج وغیرہ کے احکام ومسائل۔ قرآن کریم میں سب زیادہ تاکید نماز پڑھنے کے متعلق وارد ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں نماز کی ادائیگی کے حکم کے ساتھ ہی عموماً زکاۃ کی ادائیگی کا حکم بھی وارد ہوا ہے۔

معاشرتی احکام: مثلاً حقوق العباد کی ساری تفصیلات۔

معاشی احکام: خرید وفروخت، حلال اور حرام اور مال کمانے اور خرچ کرنے کے مسائل۔

اخلاقی وسماجی احکام: انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق احکام ومسائل۔

سیاسی احکام: حکومت اور رعایا کے حقوق سے متعلق احکام ومسائل۔

عدالتی احکام: حدود وتعزیرات کے احکام ومسائل۔

۳)قصص: گزشتہ ابنیاء کرام اور ان کی امتوں کے واقعات کی تفصیلات۔

قرآن کریم کا ہمارے اوپر کیا حق ہے؟

۱)تلاوت قرآن:احادیث میں تلاوت قرآن کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآ ن مجید کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے او رایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اآآ ایک حرف ہے بلکہ" ا" ایک حرف ہے، "ل" ایک حرف ہے اور" م" ایک حرف ہے۔ ترمذی

۲)حفظِ قرآن: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا۔ پس تیرا مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہونچے۔ صحیح مسلم

۳)قرآن فہمی: چونکہ قرآن کریم کے نزول کا اہم مقصد بنی نوع انسان کی ہدایت ہے اور اگر سمجھے بغیر قرآن پڑھا جائے گا تو اس کا اہم مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم علماء کرام جنہوں نے قرآن وحدیث کو سمجھنے اور سمجھانے میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ لگایا، ان کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جس ذات عالی پر قرآن کریم نازل ہوا اس کے اقوال وافعال کے بغیر قرآن کریم کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مرتبہ اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے، ایک آیت پیش ہے: وَاَنْزَلْنَا اِلَکَپڑ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيہهمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَفَکَّرُوْنَ (سورۃ النحل ۴۴) یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے تاکہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔ لہٰذا ہم روزانہ تلاوتِ قرآن کے اہتمام کے ساتھ کم از کم علماء کرام وائمہ مساجد کے درس قرآن میں پابندی سے شریک ہوں۔

۴)العمل بالقرآن: یہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کی تطبیق ہے اور اسی میں بنی نوع انسانی کی دنیاوی واخروی سعادت مضمر ہے ، اور نزول قرآن کی غایت ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہیں تو گویا ہم قرآن کریم کے نزول کا سب سے اہم مقصد ہی فوت کررہے ہیں۔ لہٰذا جن امور کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کو بجالائیں اور جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے رک جائیں۔

۵)قرآنی پیغام کو دوسروں تک پہنچانا: امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ اپنی ذات سے قرآن وحدیث پر عمل کرکے اس بات کی کوشش وفکر کی جائے کہ ہمارے بچے، خاندان والے، محلہ والے، شہر والے بلکہ انسانیت کا ہر ہر فرد اللہ کو معبود حقیقی مان کر قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے والا بن جائے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (اچھائیوں کا حکم کرنا اور برائیوں سے روکنا) کی ذمہ داری کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار بیان کیا ہے۔ سورۂ العصر میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی کامیابی کے لئے چار صفات میں سے ایک صفت دوسروں کو حق بات کی تلقین کرنا ضروری قرار دیا۔ لہٰذا ہم احکام الٰہی پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔

قرآن اور ہم:یہ کتاب مقدس حضور پاک ﷺ کے زمانہ سے لے کر رہتی دنیا تک مشعل راہ بنی رہے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اتنا جامع اور مانع بنایا ہے کہ ایمانیات، عبادات، معاملات ، سماجیات ، معاشیات واقتصادیات کے اصول قرآن کریم میں مذکور ہیں، ہاں ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارا تعلق اس کتاب سے روز بروز منقطع ہوتا جارہا ہے۔ یہ کتاب ہماری مسجدوں اور گھروں میں جزدانوں میں قید ہوکر رہ گئی ہے، نہ تلاوت ہے نہ تدبر ہے اور نہ ہی اس کے احکام پر عمل، آج کا مسلمان دنیا کی دوڑ میں اس طرح گم ہوگیا ہے کہ قرآن کریم کے احکام ومسائل کو سمجھنا تو درکنار اس کی تلاوت کے لئے بھی وقت نہیں ہے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دور کے مسلمانوں کے حال پر رونا روتے ہوئے اسلاف سے اس وقت کے مسلمان کا مقارنہ ان الفاظ میں کیا تھا:

وہ زمانہ میں معزز تھے مسلمان ہوکر

اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

آج ہم اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں، انہیں عصری علوم کی تعلیم دینے پر اپنی تمام محنت وتوجہ صرف کرتے ہیں اور ہماری نظر صرف اور صرف اس عارضی دنیا اور اس کی آرام وآسائش پر ہوتی ہے اور اُس ابدی ولافانی دنیا کے لئے کوئی خاص جدوجہد نہیں کرتے، الا ما شاء اللہ۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا اور اپنے بچوں کا تعلق وشغف قرآن وحدیث سے جوڑیں، اس کی تلاوت کا اہتمام کریں، علماء کی سرپرستی میں قرآن وحدیث کے احکام سمجھ کر ان پر عمل کریں اور اس بات کی کوشش وفکر کریں کہ ہمارے ساتھ، ہمارے بچے، گھر والے، پڑوسی ، دوست واحباب ومتعلقین بھی حضور اکرم ﷺ کے لائے ہوئے طریقہ پر زندگی گزارنے والے بن جائیں۔

آج عصری تعلیم کو اس قدر فوقیت واہمیت دی جارہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو قرآن کریم ناظرہ کی بھی تعلیم نہیں دی جارہی ہے کیونکہ ان کو اسکول جانا ہے، ہوم ورک کرنا ہے، پروجیکٹ تیار کرنا ہے، امتحانات کی تیاری کرنی ہے وغیرہ وغیرہ یعنی دنیاوی زندگی کی تعلیم کے لئے ہر طرح کی جان ومال اوروقت کی قربانی دینا آسان ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے کلام کو سیکھنے میں ہمیں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ غور فرمائیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے ہماری رہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے اور اس کے پڑھنے پر اللہ تعالیٰ نے بڑا اجر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے والا اور قرآن وحدیث کے احکام پر عمل کرنے والا بنائے، آمین۔

URL:https://www.newageislam.com/urdu-section/mohammad-najeeb-qasmi-new-age-islam/holy-quran-has-nothing-but-the-message-of-guidance-for-humanity-قرآن-کریم-میں-انسانیت-کی-ہدایت-کا-پیغام-ہی-تو-ہے/d/122910


New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..