New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:24 AM

Urdu Section ( 7 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

Religious Clashes: Death of Democracy مذہبی تصادم : جمہوریت کا خون

 

محمد عمران

7 نومبر، 2012

اپنے دامن میں صدیوں سےسیکولر روایتوں کے ستارے ٹانک کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا خوبصورت اور جاذب لباس زیب تن کرنے والا ہندوستان ،اب اسی لباس کے بوسیدہ ہونے کا رونا رونے پر مجبور ہورہا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ یہ لباس بوسیدگی کی عمر کو پہنچ گیا ہے، بلکہ یہ تو ایسی خوب صورتی کا جامہ ہے جس کے حسن میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا ہے۔ سابقہ روایتیں اس کی کامل عکاسی کرتی ہیں۔ صوفیوں اور سنتوں کے اس ملک میں تفریق کی کسی گنجائش کو کبھی جگہ نہیں ملی۔ اکبر اور اشوک کی حکومتیں اس کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تاریخ کی کتابوں کے علاوہ عام لوگوں کی زبانیں بھی ان حقائق کو بیان کرتی ہیں۔ کسی مذہب کے ذریعہ کسی مذہب کے برا کہنے کی روایت نہیں ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب اپنیشد میں بھی ہر دھرم کا احترام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ہندوستان نے آزادی کے بعد بھی آئین کے ذریعہ ان روایتوں کو آگے بڑھایا ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کو ایک سیکولر ملک تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کثیر مذاہب کے ماننے والےاپنی اپنی عبادتوں کے لیے اپنے اپنے طریقے اپناتے ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے قومی یکجہتی کا ثبوت پیش کرتے ہیں، ہندوستان اسی خصوصیت کی وجہ سے اپنا بلند مقام رکھتا ہے ، لیکن یہ بھی بہت بڑا سچ ہے کہ اب اس یکجہتی کو منصو بہ بند سازشوں کے تحت پارہ پارہ کرنے کی کوششیں کی جانے لگی ہیں۔ مذہب کے نام پر تصادم کو انجام دینے والےشر پسند عناصر کو مختلف ذرائع سے تقویت ملنے لگی ہے اور ان فرقہ پرستوں نے براہ راست ملک کی دوسری بڑی اکثریت یعنی مسلمانو ں کو اپنا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اس طری فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا لبادہ فرقہ پرستی کا داغ لگنے کی وجہ سے بوسیدگی کی حد کو پار کرنے لگا ہے۔ملک کے یہ حالات واقعی ہر درد مند کے لیے تشویشناک ہیں۔

موجودہ حالات میں بھی ‘مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ’ ہر دل کی آواز ہے ، لیکن چونکہ دشمنی اور بغض و عداوت کی سیاست کرنے والے شرپسندوں کی آنکھیں کبھی حق و انصاف کر دیکھنے کا مزاج نہیں رکھتیں اور ان کے بے رحم دل اس کو کبھی قبول نہیں کرتے، اسی لیے ایسے لوگ بار بار مذہبی جنون کے نام پر تصادم کی فضا تیار کرتے ہیں اور سیکولر اور روایت کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ وطن پرستی کا جھوٹا دم بھرنے والے ملک دشمن اور اپنے مذہب سے بھی بیزار یہ لوگ معصوم وطن پرستوں کو جانی و مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور انہی کے گلے میں ملک دشمنی کا طوق ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد جو چالیس ہزار سے بھی زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر کا ظہور ملک کی سب سے بڑی اکثریت یعنی ہندوؤں اور وطن عزیز کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کے تصادم کی شکل میں ہوا ہے اور ہر بار مسلمانوں کے وجود کو ہی نشانہ بناگیا ہے ۔ جو سراسر ظلم اور نا انصافی کا مظہر ہے۔ اکثر وبیشتر بلا تفریق مذہب وملت بڑے بڑے اسکالرس اس کی نشاندہی کرتے  رہتے ہیں اور حکومتوں کی بھی متنبہ کرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانا ملک کے مفاد کے عین منافی ہے، اس لیے اس ضمن میں خاص پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ان کے یہ اشارے عملی سانچے میں ڈھلنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ لاعلمی یا شعور کی کمی نہیں ہے، کیونکہ اب یہ بات جگ ظاہر ہوچکی ہے اور چھوٹے بڑے سطح کے ادارے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلمانوں کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کیے جائیں ، بلکہ ان کے لیے تو بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے  ، تاکہ ان کی ترقی کے امکانات بھی روشن ہوسکیں، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ ناروا سلوک کیے جاتے ہیں ، جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی منظّم سازش کی جارہی ہے۔

اتر پردیش میں پچھلے دنوں جو فسادات ہوئے ہیں، ان میں بھی اسی طرح کے اشارے ملے ہیں۔ بے قصور مسلمانوں کے پنڈال میں مورتی رکھنا، اس پنڈال کو آگ کی نذر کردینا اور اس کا الزام مسلمانوں کے ہی سر پر رکھ کر افواہوں کا بازار گرم کرنا اور پرسکون ماحول میں شر پسند ی کا زہر گھول کر اشتعال انگیزی کو فروغ دینا اور پھر مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو خاکستر کرنا اور تہوار کے موقع پر بھی خوفزدہ رہنے پر مجبور رکھنا وغیرہ جیسے واقعات اتفاقیہ نہیں ہوسکتے۔ تھوڑا بھی غور کریں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب وار داتیں کچھ کہتی ہیں؟اگر با لفرض مان لیا جائے کہ ان کے منہ میں بھی زبان ہے تو ان کے کہے کو سنے گا کون؟ کوئی ایسا سننے والا چاہئے جو انہیں ان کا حق دلا سکے۔ اس سلسلے میں اس امید کے ساتھ حکومتوں پر نظر جاتی ہے کہ وہ خاطر خواہ قدم اٹھائیں گی ، لیکن اس تعلق سے ان کا بھی روایتی اعلان ہوتا ہے کہ مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا اور متاثرین کو معقول معاوضہ دیا جائےگا ، لیکن مجرموں کے نام پر متاثرین کی گرفتاری کیوں عمل میں آتی ہے؟ کیا اس بابت حکومت کے پاس سوچنے کاکچھ مواقع ہوتا ہے؟ معاوضہ کے نام پر اعلان شدہ رقم کا کتنا حصہ ان تک پہنچ پاتا ہے؟ اس کی جانکاری عوام کو تو ہوتی ہے، حکومتیں بھی اس سے بے خبر نہیں ہوتیں تو کیا اس کے لیے مناسب اقدام کی ضرورت نہیں ہے کہ انہیں معقول رقم بر وقت مل سکے؟ بر وقت کا لفظ استعمال کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ اس حقیر رقم کو بھی حاصل کرنے کے لیے متاثرین کو کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے، تب کہیں جاکر ان کا حصول ممکن ہوپاتا ہے ۔ غور کرنے کا مقام  ہے کہ ان کے لیے یہ معاوضہ ان کے بیش بہا نقصانات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ کیا کسی کی جان کا معاوضہ چند سکّے ہیں؟ معیشت کی تباہی ہے کیا؟ کیا خوف و ہراس کا بھی کوئی معاوضہ متعین کیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں دینے سے بھی قبل اس حقیقت سے روشناس ہونے کی ضرورت ہے کہ ملک میں ایسے حالات ہی کیوں پیدا ہوں کہ حکومتوں کو اس پہلو سے سوچنے کی ضرورت پیش آئے۔ اگر بر وقت حقیقت پسندانہ فیصلے کے لیے جائیں تو فرقہ واریت کا گھناؤنا فعل کبھی بھی انجام کو نہیں پہنچ سکتا ۔ یہ انکشاف ہوچکا ہے کہ انتظامیہ کی لا پروائی ہی ایسے افعال کی وجہ بنتی ہے ۔ کوسی کلاں میں بھی اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ شرپسند عناصر اقلیتوں کو زد و کوب کرتے رہے اور انتظامیہ تا دیر تماشائی بنی رہی ۔ ایستھان میں بھی مسلمانوں کو بے وجہ کھلے مہار نشانہ بنایا گیا ۔ بریلی کا واقعہ بھی دل دہلانے والا ثابت ہوا۔ عین نماز کے وقت فسادات کی فضا ہموار کرنا اور انتظامیہ کے پاس اس پر قابو پانے کا موقع ہونے کے باوجود قابو نہ کرنا اور مسلمانوں پر ہورہے مظالم کو دیکھتے رہنا کس متعصّبانہ ذہنیت کی عکاسی ہیں، اس کی وضاحت کی ضرورت تو بہت ہے لیکن یہ وضاحت بھی بالآخر اپنی ذات کو ہی تکلیف پہنچا کر خاموش ہوجائے گی۔ گجرات کےمسلم  کش فسادات پر کیا کچھ نہیں کہا جاچکا ہے ؟ لیکن انجام کے اعتبار سے اس کا خاطر خواہ فائدہ ابھی تک کتنا ہوسکا ہے ۔ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے۔

مذکورہ بالا ماحول میں پیدا کردہ حالات مسلمانوں کو ہمہ وقت کشمکش ، شش و پنج او ر تذ بذب جیسی کیفیتوں سے گزرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اپنا نصب العین مرتب کرنا ان کے لیے سہل نہیں ہوپاتا ، کیونکہ اس کے لیے سکون اور یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے اور مسلمان اپنی جمہوری ذمہ داریوں کی کامل ادائیگی کے باوجود بھی کافی حد تک اس حق سے محروم رہتے ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ سیکولر ملک میں مذہبی تصادم کا وقوع اور ایک خاص مذہب اور اس کے ماننے والوں پر ایک طرفہ حملہ ملک کی قدیمی روایت کے برخلاف اور آئینی غیرت کو للکار نے والا ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت ایک مثالی جمہوریت ہے، جو مساوی مواقع فراہم کرتی  ہے۔ اس لیے یہ بات پورے یقین  واعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ جب کبھی بھی تعصب کی بنیاد پر مسلمانوں پر حملہ ہوتا ہے ، خون تو یقیناً ہندوستان کی جمہوریت کا ہی بہتا ہے ۔ جو لوگ ایسے برے افعال کو اپنا مقصد بناتے ہیں ، وہ دراصل محسوس یا غیر محسوس طور پر وطن سے غداری کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں مورتی چوری کرنے والے اور دنگا بھڑکانے والے عناصر کے خلاف عبرت ناک کارروائی کی سخت ضرورت ہے ۔ انتظامیہ اور حکومتوں کو اس جانب خصوصی سے توجہ دینا چاہئے ۔

7 نومبر، 2012   بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL: 

http://www.newageislam.com/urdu-section/religious-clashes--death-of-democracy-مذہبی-تصادم---جمہوریت-کا-خون/d/9236

 

Loading..

Loading..