New Age Islam
Thu Sep 23 2021, 11:47 AM

Urdu Section ( 1 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Identity Crisis and Violent Religious Behaviour شناخت کا بحران اور پرتشدد مذہبی رویے


محمد عمار خان ناصر

ستمبر،2020

پشاور میں بھری عدالت میں ایک مدعی نبوت کے قتل جیسے واقعات پر مذمتی بیانات اور شریعت وقانون کے حدود کی مکرروضاحت سے بات کچھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔یہ انفرادی واقعات نہیں ہیں اورنہ انہیں آخری تجزیے میں ”افراد“ کے رویے سمجھنا درست ہے، کیونکہ تشخیص ہی ناقص ہوتو تجویز کاناقص ہونا ناگریز ہے۔ یہ شناخت کے اس بحران کی علامات ہیں جس سے جنوبی ایشیائی اسلام پچھلے دو سو سال سے دوچار ہے۔ اس پورے عرصے میں مذہبی یاغیر مذہبی سیاسی شناخت کی تشکیل کا عمل ہمارے ہاں بنیادی طور پر مثبت اصولوں پر نہیں،بلکہ منفی اصولو ں پر ہوا ہے جس میں بنیادی محنت کسی ”دوسرے“ کو اپنی شناخت کے لیے خطرہ قرار دینے اور پھر اس کے خلاف تن من دھن کی بازی لگادینے کا جذبہ پیدا کرنے پر کی گئی ہے۔

تحفظ شناخت کی اس سیاست کی ابتدااستعمال دور سے پہلے اہل تشیع کی تکفیر کی صورت میں ہوچکی تھی جس میں حضرت مجددرحمۃ اللہ جیسی بلند قامت شخصیت نمایاں تھی۔ استعماری دور میں شناخت کے تحفظ کایہی اصول بریلوی علماء نے باقی تمام گروہوں اور خاص طور پر دیوبندی علماء کے خلاف استعمال کیا۔ نیچر یوں، قادیانیوں او رمنکرین حدیث وغیرہ کے ظہور نے تمام روایتی مذہبی گروہوں کے لیے شناخت کے تحفظ کے لیے کچھ مزید”اہداف“ کا اضافہ کردیا۔بیسویں صدی کے نصف اول میں سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ نے بھی بتدریج اسی طرز کو اختیار کیا اور مکمل کامیابی حاصل کی۔ اس کی تشکیل کردہ شناخت اپنے تمام ترلوازم کے ساتھ آج بھی پاکستان کی قومی ریاست کا اثاثہ ہے۔

استعاری دور میں مختلف مذہبی شناختوں کے لیے ایک دوسرے سے بھڑنا استعماری طاقت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن نہیں تھا، لیکن حصول وطن کے بعد اس میں یہ رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مختلف مراحل پر پہلے قادیانی،پھر انقلاب ایران کے پس منظر میں شیعہ،پھر سلمان رشدی کے واقعے کے تناظر میں مقامی مسیحی آبادی، پھر سیکولرزم کے نمائندے،اورآخر کار خود ریاست اور ریاستی ادارے اس کانشانہ بنے۔توہین مذہب کے الزام نے ایک مذہبی ہتھیار کی صورت اختیار کرلی ہے جس سے لگتا نہیں کہ کوئی طبقہ بچ جائے گا،یہاں تک کہ خود ناموس رسالت کے محافظ اس کی زد میں آچکے ہیں۔Blasphemy Hunting کا ایک ہجان ہے جو معاشرے میں برپا کردیا گیا ہے اور یو ں محسوس ہوتا ہے جیسے سلمان رشدی او راس جیسے بدبختوں کا انتقام مذہبی جنونی خود اپنے ہی معاشرے سے لیا چاہ رہے ہیں۔ دشمنان اسلام کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی مہم کے جواب میں قرآن نے صبر و تقویٰ کی جو تعلیم دی تھی، نہ وہ ہماری توجہ کی حقدار رہی ہے اور نہ رسول اکرم کا یہ اسوہ یاد رہ گیا ہے کہ آداب مسجد سے ناواقف کوئی بدو مسجد میں پیشاب کے لیے بیٹھ جائے تو اسے ڈانٹ ڈپٹ تک نہ کی جائے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ معاشرے کی موجودہ کیفیت واقعی ایمانی جذبات کامظہر ہے یا کوئی اجتماعی نفسیاتی عارضہ ہمیں لاحق ہوگیا ہے۔پہلے وقتاً فوقتاً اور اب زیادہ تیز رفتاری سے رونما ہونے والے مختلف انفرادی واقعات کا بنیادی سیاق شناخت او راس کے تحفظ کی یہی کشمکش ہے۔ ان کی کوئی اور تفہیم اس کے علاوہ ممکن نہیں۔ ان میں عملی اقدام کرنے والے افراد صرف ایک آلہ ہیں اور ان کی شخصی سوچ یا حالات کادخل اس میں محض ضمنی اور ثانوی ہے۔ یہ سوچ کی اپنی وضع کردہ نہیں ہے، انہیں ان مختلف شناختی بیانیوں سے ملی ہے جو ماحول میں موجود ہیں۔ شناخت کے مسئلے کو اس کے تاریخی سیاق میں موضوع بنائے بغیر ان واقعات کی کوئی تفہیم اور اصلاح کی کوئی تجویز قطعا بے معنی ہے۔

مختلف مذہبی عنوانات کے تحت تشدد کاظہور،جیسا کہ عرض کیا گیا، کوئی نئی پیداہونے والی بیماری نہیں،بلکہ استعماری دور میں جنم لینے والے شناخت کے بحران کا تسلسل اور بدلتے ہوئے حالات میں اس عدم تحفظ کے احساس کا اظہار ہے جو مختلف مذہبی شناختوں کے ہاں پایا جاتاہے اور تخفیف کے بعض ظاہری اشاریو ں کے برخلاف،معاشرے میں مذہب کے سکڑتے ہوئے اثر ورسوخ کے پیش نظر درحقیقت شدید تر ہوتا جارہا ہے۔یہاں دو عمل بیک وقت ہورہے ہیں او رالگ الگ زاویوں سے اس عمل کو دیکھنے سے بظاہر دو متضاد تعبیرات کی گنجائش پید ا ہوجاتی ہے۔مذہبی شناختیں بالکل درست طور پر محسوس کرتی ہیں کہ وہ خطرے میں ہیں اور سیکولر ائزیشن کادائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ اس کے رد عمل میں مذہبی بیانیوں میں خوف اور عدم تحفظ کااظہار بلندآہنگ ہوجاتاہے او راس سے تشدد کاذہنی رویہ پیدا ہوتاہے جسے، ظاہری شکل میں مرتبہ نتائج کے حوالے سے قبول نہ کرنے کے باوجود،مذہبی بیانئے کسی نہ کسی صورت میں جواز مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ ہم سلمان تاثیر، مشال خان اور اس طرح کے دیگر واقعات میں مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ اب اس رد عمل کو اور اس کی شدت کو جب سیکولر حلقے دیکھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ یہ تو معاشرے پر مذہبی طبقوں کی گرفت زیادہ مضبوط ہورہی ہے او رمعاشرہ مذہبی شدت پسند ی کا یرغمال بنتا جارہا ہے۔

اس ساری صورت حال میں ریاستی طاقت بھی ایک کھلاڑی بن جاتی ہے۔ وہ ایک طرف مذہبی شناختوں کے ساتھ معاملہ کرکے انہیں استعمال کرتی ہے، ان کے ذریعے سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتی ہے، اور بقدر ضرورت انہیں اوپر چڑھا کر بوقت ضرورت انہیں اٹھا کر پٹخ بھی دیتی ہے،جیسا کہ ہم جہادی تنظیموں،سپاہ صحابہ اور تحریک لبیک وغیرہ کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ قطع تعلق کسی حال میں نہیں کرتی بلکہ، ایک دروازہ بند کرکے کوئی دوسرا دروازہ کھول لیتی ہے تاکہ مذہبی شناختوں میں عدم تحفظ یالاوارثی کا احساس اتناسنگین نہ ہوجائے کہ خود ریاست کے لیے خطرہ بن جائے۔اس سارے عمل میں ریاست بتدریج ایک او رمقصد بھی حاصل کرتی جارہی ہے، یعنی مذہبی اور مذہبی اظہارات پرمکمل ریاستی کنٹرول قائم کرنے کی طرف پیش قدمی۔مذہبی شناختیں اپنے بھولے پن کی وجہ سے بعض چیزوں میں ریاست کو ”دباؤ“ قبول کرتا ہوا دیکھ کر سمجھتی ہیں کہ وہ پیش قدمی کررہی ہیں، جب کہ حقیقت میں وہ مذہب کے دائرے میں ریاست کے دخل کو جواز دینے میں نہ صرف آلہ کار کا کردار ادا کررہی ہیں،بلکہ خود دعوت دے کر ریاست کو مذہب میں دخیل بنارہی ہے۔ اس سارے کھیل کا آخری نتیجہ مذہب او رمذہبی ڈسکور س کے مکمل طور پرسیکولرائزڈ ہوجانے کی صورت میں نکلنا نوشتہ دیوار ہے،اور یہی وہ نکتہ ہے جس کا فہم عام جذباتی مذہبی ذہن تو کیا،مذہبی لیڈر شپ کوبھی حاصل ہونا قطعی طور پر مشکوک ہے۔

جنوبی ایشیائی اسلام کواور خاص طور پر مذہبی گروہوں کو تاریخ او رنئے سیاسی و معاشرتی حقائق کی ایک نئی او رمعروضی تفہیم کی ضرورت ہے جس میں مختلف مذہبی شناختوں کی بقائے باہمی کو شعوری طور پر، نہ کر صرف حالات کے جبر کے طور پر،قابل قبول بنایا جاسکے۔ یہ مذہب کے معاشرتی کردار کو باقی رکھنے اور اسے مکمل ریاستی کنٹرول سے بچانے کی واحد ممکن ضمانت ہے۔ ہذا ماعندی واللہ اعلم

ستمبر،2020،بشکریہ: ماہنامہ الشریعہ

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/identity-crisis-violent-religious-behaviour/d/122770


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..