New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 07:11 PM

Urdu Section ( 6 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Saudi Influence and the Adoption of Extremist Demands انتہا پسندی کے تئیں رواداری قطعی نہیں

 

محمد احمد

28 فروری، 2013

(انگریزی سے ترجمہ : نیو ایج اسلام)

ہر وقت قتل کرنے والی مشینوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے ۔ ہزارہ نسل کشی جاری ہے۔ پاکستان کی روح کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جیسا کہ ایک کے بعد ایک حملے کے ذریعہ کوئٹہ میں خون ریزی کی جارہی  ہے۔ بسیں حجاج کرام کو ایران جہاں انہیں پہلے ہدف بنایا گیا تھا ۔ اسی لئے آسانی سے یہ کہا گیا تھا کہ شہر سے دور مقامات پر ایران کے راستے پر نقل و حمل کو  تحفظ فراہم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہے۔ اب ہدف پوراشہر ہے لیکن اب بھی عدم تحفظ کا راج ہے ۔ دہشت گردوں کو ختم کرنے کےلئے موثر اقدامات کرنے کے بجائے، وفاقی وزیر داخلہ صرف ہزارہ علاقے کو ریڈ زون بنانے کی بات کر رہے ہیں ۔ کیا ضمنی طور پر اس کا مطلب یہ نہیں ہے  کہ، دہشت گردوں کو  رہنے کی اجازت دی جائے گی لیکن صرف ہزارہ علاقے میں ان کا داخلہ  مشکل بنا یا  جائے گا ؟

پاک زمین میں، کچھ لوگوں  کی نظروں میں مختلف عقیدہ رکھنا  موت کی سزا  کے لائق جرم بن گیا ہے۔ تمام مسائل کی جڑ، وہ تنگ ذہن قاتل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ان کے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں، وہ کافر  اور مرتد ہیں ، اور اس طرح وہ موت کی سزا کے مستحق ہیں ۔ یہ ذہنیت پاکستان میں نئی نہیں ہے۔ بدقسمتی سے، مختلف مکاتب فکر کے  علماء کرام کے ذریعہ دئے گئے فتوں میں ، اس طرح کی قسمت کا اعلان ، ان لوگوں کے لئے کیا جا رہا ہےجو  کلمہ شہادہ کا ورد کرتے ہیں ،موجود ہیں ۔ یہاں تک کہ  1953 میں ، علماء کی اکثریت اس طرح کے خیالات کو قبول کرنے والی تھی ، 1953 میں منیر کمیشن آن دی اینٹی احمدیہ رائٹس نے اس قسم کی نفرت انگیزی کو ریکارڈ کیا تھا۔ شرم کی بات یہ ہے کہ، وی جس  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام  پر ایسا کر رہے ہیں  وہ تو خود ایسی نفرت سے گریز کر رہے ہیں ،۔وہ اس معاملے میں ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔

تاریخی طور پر، اس طرح کے خیالات، بعد کے دنوں میں، صرف مسلمان علماء تک ہی محدود نہیں رہے۔ حیرت کی بات ہے، عیسائیوں نے  بھی چوتھی صدی میں ان خیالات کو اپنانا  شروع کر دیا جب ( (483-565 میں  جسٹنین ، نے مرتد کے لئے سزائے موت کو مشروع کیا ، اور اس پر جرمانہ AD 535 میں رومن کے قانون کا حصہ بن گیا ۔یہاں تک کہ  16ویں صدی میں، اس طرح کے خیالات جاری رہے ،جیسا کہ ،فرانس کے ایک پروٹسٹنٹ (دين مسيحي کا ايک فرقہ) مذہبی عالم جان کیلوئن (64-1509) جس نے  تلوار کے زور پر، مذہب کو پھیلانے کی خواہش کیاور مرتد کے لئے  سزائے موت مقرر کیا ، کے ذریعہ دئے گئے  فتوی سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ، "کیتھولک لوگوں کو بھی  اسی طرح کے جرمانے کا شکار ہونا چاہئے، جیسا کہ  بغاوت کے مجرم ہو تے ہیں، بنیاد یہ  ہے کہ خدا کی عظمت و سلطنت کا  انتقام  اتنی ہی  سختی سے لیا جا نا چاہئے جتنا کہ بادشاہ کا تخت" جدید عیسائیوں نے سبق سیکھ لیا،اور اب مزید اس کی وکالت نہیں کرتے ۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ  ہمارے علماء کو  سبق سیکھنے سے کون سی چیز روکتی ہے ۔

1950 میں، انتہا پسندی کا زہر انتہاپسند علماء تک ہی محدود رہا، اس لئے کہ ریاست انتہا پسندی کے تئیں رودار  نہیں تھی۔ بعدمیں ، جب سیاسی مصلحت و مجبوری  ، میں  ذوالفقار علی بھٹو نے  ، احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے انتہا پسندوں کے  مطالبہ کو گلے لگا لیا تو اس نے  ابتدائی فروغ حاصل کرلیا ، ریاست جسے کہ بنیادی طور پر مذہبی ساخت کے  تنازعہ میں غیر جانبدار رہنا چاہئے، اس کی ایک فریق بن گئی ۔ آگے چل کر ، بنیاد پرست صدر جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت نے ، انتہا پسندی کو زمیں فراہم کیا ، جب، اقلیتوں کو ہدف بناتے ہوئے، امتیازی قانون نافذ کیا گیا،  اور جعلی مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کو  بنانے اور چلانے کی اجازت دی گئی ۔

شیعہ اور احمدی کی ٹارگٹ کلنگ، اور ان پر دہشت گردانہ حملے، انتہا پسند ذہنیت کی توسیع ہیں ، جو کہ اشتراک مقاصد کی وجہ سے دہشت گردی کو آسانی سے گلے لگا سکتے ہیں ۔ برصغیر نے ماضی میں اس طرح کی بربریت نہیں دیکھی ہے۔ جدید دور کے منظم مذہبی قتل سے قبل، برصغیر میں ایسی بربریت کی مثال صرف  17ویں صدی میں بنیاد پرست مغل شہنشاہ اورنگزیب کے ذریعہ سرمد کو ایک ملحد قرار دیتے ہوئے  قتل ہے۔ طنز  یہ ہے کہ صرف چند لوگ ہی اورنگ زیب کے قبر پر جاتے ہیں ، اور اس ولی کی قبر پر، صدیوں کے بعد بھی بہت سارے لوگ جاتے ہیں۔

برصغیر کے عام مسلمان اعتدال پسند رہے ہیں، اور سنیوں اور شیعوں دونوں کے عام لوگ امن سے رہ رہے تھے ، بہت عرصہ نہیں گزرا  کہ لوگ سنی اصول پر عمل کرتے ہوئے ،عاشورہ کے جلوس کا چھتوں سے مشاہدہ کرتے  تھے۔ کچھ جگہوں پر، وہ سوگواروں کے لئے پانی کابھی انتظام کرتے تھے ۔ اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود، عام مسلمان دوسروں کو کافر  یا مرتد نہیں سمجھتے تھے ۔ یہ اب ماضی کی باتیں ہیں۔

سعودی اثر و رسوخ اور انتہاپسندوں کے مطالبات کو تسلیم کرنا پاکستان میں بےمزاحم انتہا پسندی کو عروج بخشے گا ۔ ملک نے مالی امداد کے لئے سعودی عرب پر منحصر ہونا شروع کر دیا ہے ،اور یہاں تک کہ اسے اپنے سیاسی معاملات میں ملوث کر دیا ۔ پاکستان کا سعودی امداد پر انحصار ایک ایسا  قیمت نامہ تھا، جس کے بارے میں عام پاکستانی کو کوئی خیال نہیں تھا۔ قیمت نامہ سلفی اصول کو  اپنے مذہبی اسکولوں یا مدرسوں کو ،گورنمنٹ کے ذریعہ ان کے نصاب پر نگرانی کے بغیر، قائم کرنے کی  مکمل آزادی تھا۔ نتیجے کے طور پر ، اس نظریے کا نمایا عروج، اکثریت کے طور پر نسبتا، سنیوں سے زیادہ جامع نوعیت کا تھا ۔ انہیں غیر منصبط عروج کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھلا دیا گیا کہ،سلفی اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے ہیں ، اور یہ سب تھا، مگر ، انہوں نے اپنے سیاسی غلبے والے علاقوں میں اسے پوری طرح  ختم کر دیا  ۔ اس نظریے کو ، جنرل ضیاء کی سرگرم حمایت نے خود ایران کو، شیعوں کی ان پر حملوں کے خلاف جنگ میں مدد  کرنے پر مجبور کیا، اور اس نے معاملات کو اور پیچیدہ بنا دیا ۔ فرقہ وارانہ قتل، ان عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کے نتیجے کے طور پر شروع ہوا، جن کی اس نے تشکیل ہونے دی ، اس کے بعد ہی ملک کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ ماضی میں ستم رسیدہ لوگوں  کی جانب سے کچھ جوابی سرگرمیاں ظاہر ہوئی ہیں ، یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ، انہوں نے یہ نتیجہ نکالاکہ انتقام لینا ذاتی خسارہ ہے، اور ماضی قریب میں، یہ احساس غالب ہوا ہے، اور ان کا ردعمل اب تک محدود اور غیرعسکری  رہا ہے۔

ان مدارس کے طالب علموں کی اکثریت جہاں بغاوت  سکھائی جاتی ہے، ملحد ہے، اور اس طرح موت کا مستحق ہونا ، پاکستان میں انتہا پسندی کی ریڑھ کی ہڈی بن گئی ہے۔ جب دہشت گرد تنظیموں نے دنیا کے اس حصے میں کام شروع کر دیا، ان ہی لوگوں کو ان کی سرگرمیوں کے ساتھ ہمدردی جتائی گئی ،اور انہیں سیاسی حمایت کی پیشکش کی گئی۔ جب امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر دیا، اس نے ساتھ ہی ساتھ انتہا پسندی کے تئیں قطعی رواداری نہیں ،کی شرط نہیں لگائی ، جو کہ دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم کے لیے ضروری تھی ۔ اسی لئے دہشت گرد تنظیموں کی خفیہ سیاسی حمایت، دہشت گردی کی کارروائیوں پر عوامی رد عمل کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی، جیسا کہ یہ ملالہ کے واقعہ سے واضح ہے، جب معاشرے کے ایک حصے کو ایک سازش کی بو سنگھائی گئی ، اور اس طرح ردعمل کو کمزور کر دیا گیا ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ، جو دراصل پاکستان کی روح کے تحفظ کے لئے جنگ ہے، اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی، جب تک انتہا پسندی کے کینسر کے تئیں قطعی رواداری نہ برتی جائے ، جو کہ ہمیں ضائع کر رہا ہے۔ ایسا کرنے میں ، ان تمام اداروں کی طرف سے ایک تنقیہ  کی ضرورت ہوتی ہے، جن کے قبصے میں اقتدار ہے ،تاکہ ان غلطیوں کی نشاندہی ہو سکے جو ماضی میں کی گئیں ، تا کہ جناح کے نظریہ کے دوبارہ احیاء کے ایک واحد مقصد کے ساتھ ،صحیح قدم اٹھایا جا سکے  ۔ آئین آرٹیکل 20 (a)، کے تحت لوگوں کو مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے،جو قانون کے عنوان ، عوامی نظام اور اخلاقیات  کی گارنٹی لیتا ہے ، ہر شہری کو اپنے دین کا اقرار  کرنے، اس پر عمل کرنے  اور اس  کی تشہیر کرنے کا حق ہو گا،  اور آرٹیکل 25(1) کے تحت تمام  لوگوں کو مساوی تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے ۔ ان حقوق کی صرف منتخب طور پر ضمانت دی گئی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ  انتہا پسندی مزید مضبوط ہو رہی ۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بات چیت کو ختم کر دیا گیا ہے، اور لوگوں کو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انتہا پسندی کی منسوخی اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ ، آرٹیکلز 20 (a) اور 25 (1) کو  حروف اور  روح میں  نافذ کیا گیا ہے ، تاکہ لوگ ایک ایسی دنیا میں جینا سیکھیں، جہاں مختلف مذاہب کے لوگوں کا با ہمی وجود ہو، اور انہیں منطقی گفتگو کی عادت ہو۔ کسی بھی  جبر کے بغیر  کسی بھی مذہب کے ماننے والےتمام شہریوں کے بنیادی حقوق کو  مصلحت کا  یرغمال بنایا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، نفرت انگیز تقریر کی سختی سے نگرانی کی جانی چاہئے۔ تکفیری فتوی اور مدارس میں ان کی تعلیم پر ضرور پابندی عائد کی جانی  چائے ، اور مجرموں کو سزا ملنی چاہئے ۔ پولیس ان تمام آباد  علاقوں میں موجود ہے، اور جہاں اس طرح کے الفاظ بولے جاتے ہیں،  ان کا انہیں مکمل علم ہے۔ ان سے ان کا کام کروانا چاہئے ، اور دھمکیوں سے اس کی بنیاد سے نمٹنا چاہئے ۔ سیکورٹی سسٹم کو  یہ سمجھایا جانا  چاہئے  کہ انتہا پسندی ملک کا سب سے بڑا دشمن ہے، اور اسی کے مطابق اس سے کام لیا جانا چاہئے۔ انہیں اس بات کا احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ، 'اچھے' انتہا پسند کی طرح یہاں  کچھ بھی نہیں ہے ۔

 یہ بات اب پاکستان کی صورت حال  کے لئے کوئی  معاملہ نہیں ہے۔ ملک کی بقا داؤ پر لگی ہے۔ انتہا پسندی کے تئیں قطعی رواداری نہیں کی پالیسی اپنانے میں ذرا بھی تاخیر پاکستان کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگی ، اور خدا  نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ فورس کوئی ایسی کارروائی کرے جو  اس کے لئے خودکش  ہو۔

ماخذ:

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013\02\28\story_28-2-2013_pg3_5

URL for English article:

 http://newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/mohammad-ahmad/saudi-influence-and-the-adoption-of-extremist-demands-led-to-the-unhindered-growth-of-extremism-in-pakistan/d/10599

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mohammad-ahmad--محمد-احمد/saudi-influence-and-the-adoption-of-extremist-demands--انتہا-پسندی-کے-تئیں-رواداری-قطعی-نہیں/d/11446

 

Loading..

Loading..