New Age Islam
Sun Aug 09 2020, 10:48 PM

Urdu Section ( 22 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Cultural Narcissism- Part 14 (تہذیبی نرگسیت حصہ (14

 

 

مبارک حیدر

چت بھی میرا پٹ بھی میرا

مریضانہ نرگسیت کی ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض چت بھی میرا پٹ بھی میرا کے اصول پر عمل کرتا ہے۔ اپنے ارد گرد باصلاحیت شخص سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف کردار کشی یا تذلیل و تحقیر کی مہم چلاتا ہے۔ اس عمل میں وہ عام اخلاقیات کے برعکس اپنی فضیلت اور صلاحیت کا طرح طرح سے بیان کرتا ہے۔ اس بیان کی نفاست یا کثافت کا انحصار فرد کی تہذیبی اور فکری سطح پر ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ فضیلت کا یہ اظہار صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ کبھی اپنی کوتاہی ، کمزوری کا اعتراف یا اپنے کسی جرم کا اقبال نہیں کرتا۔ لیکن اگر اس کا حریف اپنی کوتاہی کا اعتراف یا جرم کا اقبال کرے تو یہ اس بات کو اخلاقی جرأت کے طور پر لائقِ تحسین ہرگز قرار نہیں دیتا بلکہ لپک کر اس اقرارکو اپنی پاکبازی اور مزید فضیلت کا ثبوت بنا لیتا ہے۔

تہذیبی نرگسیت میں اس کی صورت اس طرح سے ہے کہ ہم اپنی ثقافت، اپنے مذہب، اپنے آباؤ اجداد غرضیکہ جس کا بھی تذکرہ چل پڑے، ہر ایک کی فضیلت بیان کرنے میں کسی احتیاط یا انحصار کو ضروری نہیں سمجھتے۔ آئے دن نئے نئے حضرت اور مولانا اور پیر اور مرشد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اپنی تعریف میں ہمیں کوئی دوڑ کوئی واقعہ افسوسناک نظر نہیں آتا۔ اگر ہم نے دنیا فتح کی ، قوموں کوذمّی بنایا، غلام رکھے، لونڈیاں رکھیں، اگر ہمارے محترم عرب رہنما آج بھی دنیا بھر سے غلام اور لونڈیاں خریدتے اور حرم بھرتے ہیں تو ہمیں کسی خفت کا سامنا نہیں۔ مگر ہم امریکہ، یورپ ، بھارت اور اسرائیل کی عریانی ، بے حیائی، بدکاری، ظلم، وحشت و بربریت کی مثالیں گنواتے بس نہیں کرتے۔ اگر امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں میں چند معصوم قبائلی مارے جائیں تو اس کے انتقام کے طور پر سینکڑوں بے قصور پاکستانیوں کا قتل اس لئے جائز قرار دے دیا جاتا ہے کہ یہ ہماری تہذیبی مظلومیت کا انتقام ہے۔ اس میں پاکستان کے مظلوم کم مظلوم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں مجاہد قبائلیوں کا مقام بالاتر ہے۔ تقدس اور مظلومیت کی طویل داستان گوئی کا اندازہ لگانے کے لئے صرف چند اقتباسات یعنی دیگ میں سے چند چاول ملاحظہ ہوں (یہ اقتباسات ڈاکٹر اسرار احمد کے مضمون ’’علامہ اقبال، قائد اعظم اور نظریہ پاکستان‘‘ سے لیے گئے ہیں جو نوائے وقت 23 اکتوبر 2008ء میں شائع ہوا)

اقتباس 1۔ ’’ مسلمان حاکم تھے، جبکہ یہاں (ہندوستان) کے دوسرے ابنائے وطن محکوم تھے۔۔۔ لیکن حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد زوال کا عمل شروع ہوا‘‘۔

یعنی حاکم ہونا عروج ہے اور اس منصب سے اترنا زوال۔ اور دوسرے ابنائے وطن کی ترکیب پر غور کریں یعنی یہ بھی دعویٰ ہے کہ مسلمان بھی وطن کے بیٹے تھے حالانکہ وطنیت کو اسی مضمون میں بُت پرستی بھی قراردیتے ہیں۔ جہاں تک حضرت کا تعلق ہے یہ وہی حضرت اورنگ زیب عالمگیر ہیں جنہوں اپنے والد یعنی شاہجہان سے حکومت چھین کر اسے کوئی فرد جرم عائد کیے بغیر تاحیات قید میں رکھا، تخت و تاج کے لئے اپنے تین بھائیوں کو قتل کیا یعنی یہ ثابت ہے کہ ان پر کسی جرم کا الزام نہ تھا سوائے اس کے وہ اقتدار کے شریک امیدوار تھے۔ اور اسی اقتدار کے لئے پورے ہندوستان میں کئی عشروں تک فوج کشی کی۔ اپنے بھائی دارا شکوہ کے قتل کے بعد اس کے مرشد سرمد کو عریانی کی سزا میں قتل کروا دیا حالانکہ یہ بات اکثر محققین نے بیان کی ہے کہ سرمد کا قصور صرف اورنگزیب کی فکری مخالفت تھا اور اسی وقت میں ہندوستان کے شہروں میں سرمد کے علاوہ سینکڑوں مجذوب اور ننگے فقیر موجود تھے جو سب سلامت رہے۔ لیکن غور کریں اس مغل بادشاہ کو حضرت اس لئے کہا جا رہا ہے کہ اس نے شخصی اور خاندانی اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے اسلام کا نام استعمال کیا اور شاہ پرست مسلم علماء کو مراعات دے کر اپنی مرضی کے فتوے تیار کروائے۔ فتووں کا مجموعہ فتاویئ عالمگیری کے نام سے جاری کیا گیا جس سے مسلم نرگسیت پرستوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ انہوں نے ہندوستان میں اسلامی شریعت کا بول بالا کرنے کے لئے حکومت کی، نہ کہ اقتدار کے لیے۔ اورنگزیب کو تقدس دینے کا سلسلہ یوں تو برصغیر کے شاہ پرست مسلم علماء میں دیر سے چل رہا ہے، تاہم خون میں بھیگی ہوئی تلوار کو قوسِ قزح کہنے کا عمل جنرل ضیاء کے دور میں خصوصاً تیز ہوا، کیونکہ موصوف خود بھی ایسی ہی ٹیڑھی تلوار تھے جو جھک جھک کر اور لچک لچک کر پاکستان کے مستقبل کو کاٹ گئی۔ دونوں حضرتوں میں غالباً یہ قدر مشترک تھی کہ دونوں نے اپنے طویل دورِ اقتدار میں اپنی اپنی مملکتوں کو فیصلہ کن زوال کی راہ پر روانہ کیا۔ لیکن اس دعوے کے ساتھ کہ اسلام کسی علاقائی سرحد کا پابند نہیں۔

اقتباس 2۔ ’’(انگریز) سے پہلے چونکہ شمشیرو سناں کا معاملہ چل رہا تھا، تو گئے گزرے حالات میں بھی مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا۔۔۔

’’اب تلوار تو نیام میں چلی گئی اور صرف تعدادِ نفوس کا معاملہ رہ گیا۔ لہٰذا ہندوؤں کی عددی اکثریت سے مسلمانوں میں خفیف سا خوف پیدا ہونا شروع ہوا کہ جن پر ہم نے آٹھ سو برس حکومت کی ہے، یہ اب ہم سے انتقام لیں گے۔۔۔

’’ انگریزی حکومت کے خلاف ہندوؤں اور مسلمانوں کے ردعمل میں فرق تھا۔ ہندوؤں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ پہلے بھی غلام تھے، اب بھی غلام ہو گئے۔۔۔ لیکن مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ صدمے اور غم کا معاملہ تھا۔۔۔ لہٰذا تحریک شہیدین شروع ہوئی۔۔۔ تاکہ ہندوستان کو ازسرنو ہندوؤں کے غلبے سے بھی اور انگریز کے غلبے سے بھی نجات دلائی جائے اور دارالسلام کا جو سٹیٹس چلا آ رہا تھا اسے بحال کیا جائے‘‘۔

تہذیبی نرگسیت اور تکبر ایسی کیفیت ہے جس میں اپنے گناہ بھی ثواب نظر آتے ہیں۔ موصوف محترم خود ہی تلوار کو مسلمانوں کی برتری کا سبب کہہ رہے ہیں، لیکن اگر کوئی کہے کہ مسلمانوں نے جبر سے حکومت کی تو شدید احتجاج کے بعد کہا جائے گا کہ مسلمان اس لئے آٹھ سو برس حکمران رہے کہ ان کا کردار، علم، نیکی اور انسان دوستی کا جواب نہ تھا۔ حالانکہ اسی تلوار کے زور سے ہند کو دارالسلام بنانے کا بیان ہمارے سامنے ہے۔ ہندوؤں کو آٹھ سو برس غلام رکھنا اور دوبارہ غلام بنانے کا عزم کسی صدمے اور غم کا معاملہ نہیں، کیونکہ ہندوؤں کو تو غلام ہونے میں مزا آتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا اقتدار سے محروم ہونا ’’بہت زیادہ صدمے اور غم کا معاملہ‘‘ ہے۔ اور دارالسلام کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ یعنی مسلمان بادشاہوں اور ہر طرح کے مسلمانوں کا حکمران ہونا اسلام ہے۔ یعنی حکمِ الٰہی کی تکمیل ہے، دینی درجہ کی سعادت ہے۔ اور یہ کہ شمشیرو سناں کی مدد سے آٹھ سو برس تک اکثریت کو غلام رکھنا عین اسلام ہے۔ اور اس میں کسی معذرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جمہوریت اور دوسروں کی برابری سے نفرت بھی نرگسیت کی ایک علامت ہے۔ تہذیبی نرگسیت میں ایسا بالکل فطری ہے کہ مریض کو اپنے مندرجہ ذیل بیان میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔

(ا) ’’ وہ ہم سے زیادہ قابل ہیں لیکن اگر انہوں نے ہم سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ہم تلوار سے ماریں گے۔ (ب) ہم علم و ہنر میں پیچھے ہیں اور تعداد میں کم، وہ علم و ہنر میں بہتر اور تعداد میں زیادہ، لیکن جمہوریت اسی لیے غلط ہے کیونکہ اس میں تعدادِ نفوس کا معاملہ ہے یعنی بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔(ج) ہم تعدادِ نفوس میں کم ہیں لیکن میرٹ میں اعلیٰ ہیں لیکن وہ علم و ہنر میں ہم سے آگے ہیں لیکن تلوار چلانے میں ہم ان سے تگڑے ہیں ، لہٰذا تلوار چلانا میرٹ ہونی چاہیے‘‘۔

نرگسیت میں چت بھی میرا اور پٹ بھی میرا ہوتا ہے ۔ یہی معاملہ تہذیبی نرگسیت کا ہے۔ جس تہذیب سے ہمارا تعلق ہے اسے تمام حقوق حاصل ہیں۔ جو دوسروں کو ہرگز نہیں دئیے جا سکتے۔

URL for Part 13:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-13---(تہذیبی-نرگسیت-حصہ-(13/d/97657

URL for this part:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-14

Loading..

Loading..