New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 08:09 PM

Urdu Section ( 21 Jul 2019, NewAgeIslam.Com)

Who Are The People We Should Learn Religion from? –Conclusion دین کیسے لوگوں سے سیکھی جائے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

4 جولائی 2019

قبل اس سے کہ موضوع پر گفتگو آگے بڑھے میں ایک اصولی بات قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن علم قطعی کا فائدہ دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کے باب میں قرآن نے جو پیمانہ مقرر کیا ہے وہ حق اور ثابت ہے اور بحیثیت مسلم اس میں ہمارے لئے شک و شبہ کا کوئی راستہ نہیں بچتا ۔اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ہم ان قرآنی احکام و ہدایات کو پڑھیں ، اچھی طرح سمجھیں اور ان پر تدبر و تفکر کریں کہ اللہ نے ہمارے لئے قرآن میں ایسی نصیحتیں اور ایسے احکام و ہدایات کیوں نازل کیا اور اس کے پیچھے حکمت اور منشائے الٰہیہ کیا ہے!اب ہم اصل موضوع پر آتے ہیں ۔ راہ حقو ہدایت سے برگشتہ ہونے کے کئی راستے اور ذرائع ہیںکبھی ہمارے بچے اور بچیاں اسکول ، کالج اور اپنے ارد گرد کے ماحول میں پائے جانے والے برے اور شیطانیعناصر کا شکار ہو کر اللہ سے دور ہو جاتے ہیں اور بدی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اورذریعہ ہے جس سے شیطان انسانی شخصیت میں نقب زنی کرتا ہے اور اس کی روحانی دنیا تباہ و برباد کر کے اسے اپنا ساتھی بنا لیتا ہے۔اسی کو قرآن کی اس آیت میں واضح کیا ہے:

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ (36) وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ (37) حَتَّىٰ إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ (43:38)

ترجمہ: اور جو شخص (خدائے) رحمان کییاد سے صرف نظر کر لے تو ہم اُس کے لئے ایک شیطان مسلّط کر دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے - اور وہ (شیاطین) انہیں (ہدایت کے) راستہ سے روکتے ہیں اور وہ یہی گمان کئے رہتے ہیں کہ وہ ہدایتیافتہ ہیں - یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی شیطان سے) کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا پس (تو) بہت ہی برا ساتھی تھا۔

معزز قارئین !دیکھا آپ نے کیسے مذکورہ بالا آیت یہ بیان کرتی ہے کہ جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں شیطان ان کا مقارن بن جاتا ہے یعنی ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور راہ حق و ہدایت سے انہیں گمراہ کرتا رہتا ہے اور ان کی نشانی یہ ہے کہ جب انہیں تنبیہ کی جاتی ہےاور عمل و عقیدے میں پیدا ہونے والے فساد سے جب انہیں آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ اہل حق کی نصیحتوں کو خاطر میں نہیں لاتے اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔اور قرآن یہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ ہدایت سے ہمیشہ محروم ہی رہیں گے حتی کہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں پیش کر دئے جائیں۔اور جب وہ دن آئے گا تب انہیں اس بات کا احساس ہو گا کہ وہ زندگی بھر شیطان کے پھندے میں پھنے رہے اور افسوس کریں گے لیکن اس دن کا افسوس اور بچھتاوا کسی کام کا نہیں ۔

اس سے بھی زیادہ واضح انداز میں اہل شیاطین کی خبر سورہ الشعراء کی درج ذیل آیت میں دی گئی ہے ، ملاحظہ ہو:

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ (221) تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ (222) يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ (26:223)

ترجمہ: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں - وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں - جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔

اس آیت میں اللہ نے اس قدر صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ ایک سطحی عقل رکھنے والا انسان بھی ایسے لوگوں کو پہچان سکتا ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ بہتان تراشی کرنے والوں اور معصیت کی گندگی میں لپٹے رہنے والوں پر شیطان اترتے ہیں اور اپنی سنی سنائی باتیں ان کے دلوں میں القا کرتے ہیں اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ کثرت کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔ مگر جو ایمان لائے نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ کو یاد کرتے ہیں وہ اس سے محفوظ ہیں ۔

یہ تو ایسے لوگوں کا تذکرہ تھا جو اللہ کے راستے سے بھٹکے ہوئے اور ہدایت سےلاتعلق و بے پرواہ ہیں جن کی پیروی کسی بھی معاملے میں نقصاندہ ہے اور خاص طور پر دین کے معاملے میں ان کی اتباع ایمان کے لیے سم قابل ہے ۔ اور اس کی وجہ واضح ہے کہ قرآن کی رو سے جو خود شیطان کا پیرو ہو وہ ہدایت کا سبب کیسے بن سکتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن ایسے لوگوں کی کوئی نشان دہی کرتا ہے جو سراپا ہدایت ہوں ۔ کیا ایسے لوگ دنیا میں ہیں جن پر شیطان کو غلبہ حاصل نہ ہو۔تو اس جواب بھی یہی ہے کہ ہدایت انسانی کے حوالے سے کوئی بھی باب اللہ نے تشنہ نہیں چھوڑا ہےاور ہدایت کے لئے انسانوں کے لئے جو باتیں ضروری ہیں قرآن نے ان باتوں کو آیات مبینات کے ذریعہ مثالوں اور واقعات کے ساتھ اس قدر واضح کر دیا ہے کہ ان پر سطحی طور پر بھی غور و فکر کرنے سے انسان درست نتیجہ اخذ کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بلا تبصرہ قرآن کی درج ذیل آیتوں کو دیکھیں اور خوب اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں کیوں کہ یہ آیتیں اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے اس قدر واضح ہیں کہ ان پر تبصرہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ؛

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (30) إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (31) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (32) قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ (33) قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ (34) وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ (35) قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (36) قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ (37) إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (38) قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (39) إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (40) قَالَ هَٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ (41) إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ (15:42)

ترجمہ : اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوں - پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکرِ (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گر پڑنا - پس (اس پیکرِ بشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی) سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا - سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا - (اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا - (ابلیس نے) کہا: میں ہر گز ایسا نہیں (ہو سکتا) کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے تخلیق کیا ہے - (اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا پس بیشک تو مردود (راندۂ درگاہ) ہے - اور بیشک تجھ پر روزِ جزا تک لعنت (پڑتی) رہے گی - اُس نے کہا: اے پروردگار! پس تو مجھے اُس دن تک مہلت دے دے (جس دن) لوگ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے - اللہ نے فرمایا: سو بیشک تو مہلت یافتہ لوگوں میں سے ہے - وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تک - ابلیس نے کہا: اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا - سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیں - اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہے - بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کی -

سورہ فصلت کی یہ آیتیں بھی دیکھیں :

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (30) نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (31) نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (32) وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (41:33)

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا - ہم دنیا کی زندگی میں (بھی) تمہارے دوست اور مددگار ہیں اور آخرت میں (بھی)، اور تمہارے لئے وہاں ہر وہ نعمت ہے جسے تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے وہاں وہ تمام چیزیں (حاضر) ہیں جو تم طلب کرو - (یہ) بڑے بخشنے والے، بہت رحم فرمانے والے (رب) کی طرف سے مہمانی ہے - اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے: بے شک میں (اﷲ عزّ و جل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں ۔

اب سورہ النحل کی یہ آیتیں دیکھیں؛

فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (98) إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (99) إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ (16:100)

ترجمہ: سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں -بیشک اسے ان لوگوں پر کچھ (بھی) غلبہ حاصل نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں - بس اس کا غلبہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو اسے دوست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہیں ۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/who-are-the-people-we-should-learn-religion-from?–part-1--دین-کیسے-لوگوں-سے-سیکھی-جائے/d/119231

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/who-are-the-people-we-should-learn-religion-from?-–conclusion--دین-کیسے-لوگوں-سے-سیکھی-جائے/d/119255

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..