New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 11:09 AM

Urdu Section ( 18 Jul 2019, NewAgeIslam.Com)

Who Are The People We Should Learn Religion from?–Part-1 دین کیسے لوگوں سے سیکھی جائے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

2 جولائی 2019

آج انسانیت کا قافلہ جہالت و تاریکی کے دور سے نکل کر علم اور سائنسی ترقیات کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ آج علم کی توسیع کسی خاص دائرے یا کسی مخصوص عنوان تک محدود نہیں ہےبلکہ جس طرح مختلف قسم کے دنیاوی اور سائنسی علوماور اس کے مبادیات ہماری مٹھی میں ہیں اسی طرح دینی اور مذہبی علوم بھی ہمیں آج آسانی کے ساتھ انگلیوں (fingertip)پر دستیاب ہیں۔انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ نے ہمارے لئے کسی بھی موضوع پر اپنا مطالعہ پیش کرنے یا اپنی رائے رکھنےکو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ جس کا تصور خود انسانوں نے بھی کبھی نہیں کیا ہو گا ۔ٹلی ویژن کی دنیا بھی اس سے خارج نہیں ہے جہاں کبھی کبھی انتہائی اہم اور حساس موضوعات پر یا تو نیم مولوی اپنی رائے پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں یا کبھی کسی مسئلے کو سنسنی خیز بنانے کے لئے ایسے لوگوں کوبلا لیا جاتا ہے جنہیں ان موضوعات پر نہ تو کوئی علم ہے اور نہ ہے کوئی تجربہ۔جس کے نتیجے میں معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھنوں کا شکار ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔اور سامعین و ناظرین اس کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں کہ کسی کی بات معتبر ے اور کسی کی نہیں؟

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انفارمیشن (Information)اور ذرائع ابلاغ کی بہتات کےاس دور میں قرآنی اور اسلامی تعلیمات پر مبنی جانکاریوں (Information)کے لئے کس طرح کے لوگوں پر اعتماد کریں اور دین کے معاملے میں کس طرح کے لوگوں کی تحریروںکو اپنا ماخذ علم و فہم بنائیں؟ اس سوال کے ساتھ جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو قرآن اس معاملے میں بھی ایک معیار پیش کرتا ہے اور اہل شیاطین اور اہل حق و ہدایت کی نشان دہی کرتا ہے ۔ با لفاظ دیگر قرآن ایسے لوگوں کے بارے میں بھی ہمیں بتاتا ہے جنکی زبان سے حق جاری ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کے چہرے سے بھی نقاب اٹھاتا ہے جو شیطان کے دوست ہیں اور ہر وقت شیطان کی معیت میں رہتے ہیں ‘ لہٰذا دین کے معاملات میں ایسے لوگوں سے کسی بھی قسم کا علمی استفادہ ہدایت و رہنمائی کے بجائے دین و ایمان کے لئے سم قاتل اور زہر ہلاہل ہے۔

اس سے قبل کہ ہم اپنی گفتگو کا سلسلہ بڑھائیں سب سے پہلے قرآن سے اس بات کا ثبوت حاصل کر لیتے ہیں کہ کیا ایسے شیاطین موجود ہیں جن کا کام ہی کچھ مخصوص قسم کے لوگوں کے ذہن و دماغ پر غلبہ حاصل کرنا ہےتاکہ ان کی شخصیت کو ضلالت و گمراہی کا مصدر و سرچشمہ بنایا جا سکے ۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی قسمت سے گمراہی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے یا اس میں شیطان کا بھی کوئی دخل ہے ۔ بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ قرآن کے خلاف کوئی اصول وضع کر لیتے ہیں یا کوئی دینی نظریہ قائم کر لیتے ہیں اور جب اس پر مواخذہ کیا جاتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہم اس نتیجے پر علم و تحقیق کے ایک غیر جانب دار اور فطری طریقہ کار (Natural process) کے ذریعہ پہونچے ہیں ۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں شیطان غلط باتوں کی القاء کرتا ہےاور انہیں ہدایت سے ہٹا کر گمراہی کے راستے پر لاکر کھڑا کر دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ (221) تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ (222) يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ (223) وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ (224) أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ (225) وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ (226) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ (26:227)

ترجمہ:کیا میں تمہیں بتادوں کہ کس پر اترتے ہیں شیطان - اترتے ہیں بڑے بہتان والے گناہگار پر -شیطان اپنی سنی ہوئی ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں - اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں - کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں - اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے - مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔کنزالایمان

اس آیت میں ارشاد ربانی ہے کہ بہتان تراشی کرنے والوں اور معصیت کی گندگی میں لپٹے رہنے والوں پر شیطان اترتے ہیں اور اپنی سنی سنائی باتیں ان کے دلوں میں القا کرتے ہیں اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ کثرت کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔مگر جو ایمان لائے نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ کو یاد کرتے ہیں وہ اس سے محفوظ ہیں ۔

شیاطین کے قبیلے ہیں جو ہمیں دیکھتے رہتے ہیں اور ان کی دوستی کافروں سے ہے اور ان کا کام ہی انسانوں کو گمراہ کرنا اور جہنم میں گرانا ہے، قرآن کہتا ہے:

يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (7:27)

ترجمہ:اے آدم کی اولاد! خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔کنزالایمان

جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں شیطان ان کا ساتھی بن جاتا ہےجو انہیں گمراہ کرتا رہتا ہے درآنحالیکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ (36) وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ (43:37)

ترجمہ:اور جسے رند تو آئے (شب کوری ہو) رحمن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے - اور بیشک وہ شیاطین ان کو راہ سے روکتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں ۔کنزالایمان

شیاطین اپنے دوستوں کو ایمان والوں سے لڑنے جھگڑنے پر ورغلاتے ہیں ؛ قرآن کہتا ہے:

وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ (6:121)

ترجمہ:اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو اس وقت تم مشرک ہو۔کنزالایمان

ایمان لانے والوں کا نگہبان اللہ ہے اور کفر کرنے والوں کا نگہبان و ساتھی شیطان ہےجو انہیں ایمان کے نور سے نکال کر کفر کی تاریکی میں ڈال دیتا ہےایسے لوگوں کا ٹھکانہ ابدی جہنم ہے، ارشاد ربانی ہے:

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (2:257)

ترجمہ:اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔ کنزالایمان

جاری…………………

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/who-are-the-people-we-should-learn-religion-from?–part-1--دین-کیسے-لوگوں-سے-سیکھی-جائے/d/119231

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..