New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:55 PM

Urdu Section ( 26 Feb 2019, NewAgeIslam.Com)

What is Shirk-e-Asghar (Minor Shirk) Mentioned in Hadith آخرت میں شرک اصغر کا انجامِ بد


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

 ہمارے پیارے نبی ﷺ ہم تک صرف اللہ کا پیغام رساں بن کر ہی تشریف نہیں لائے تھے ، جیسا کہ بعض اہل فکر و نظر کا گمان ہے ، بلکہ آپ اس دنیا میں ہادیٔ برحق بن کر جلوہ گر  ہوئے  تھے۔ یہی وہ جہ ہے کہ آپ نے ایک طرف جہاں ہمارے سامنے ایک ایسا مکمل اور ہمہ گیر اسلامی نظام  حیات پیش کیا جو نظام شریعت ، نظام معاشرت ، نظام معیشت اور نظام عبادت ، سب کا جامع ہے، وہیں آپ نے دوسری طرف ہمیں اپنی نیکیوں کو ضائع ہونے سے بچانے اور انہیں مقبول بارگاہ رب العزت بنانے کا سلیقہ بھی سکھایا ۔ اور ایسا کرنے کے لئے جہاں ڈر سنانے کی ضرورت تھی وہاں آپ ﷺ نے ہمیں ڈر سنایا اور جہاں رضائے الٰہی اور اخروی ناز  و نعم کی بشارتیں  درکار تھیں وہاں آپ نے ہمیں جنت اور کوثر  و تسنیم کی خوشخبریاں بھی عطاء کیں۔ اور  اگر آپ ﷺ کی ان تمام تعلیمات کو یکجا کر دیا جائے تو ایک ایسا کامل دینی فریم ورک تیار ہوتا ہے جو  دنیا و آخرت میں ہماری صلاح و فلاح کا مکمل ضامن ہے ۔  جن میں سے بعض حسب ذیل ہیں:

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا دکھاوا اور نام و نمود شرک اصغر ہے؛

‘‘اخوف ما اخاف علیکم الشرک الاصغر’’ قالوا: یا رسول اللہ ، ماالشرک الاصغر؟ قال: ‘‘الریاء ، یقول اللہ تعالیٰ لھم یوم یجازی العباد باعمالھم: اذھبو الی اللہ الذین کنتم تراؤون لھم فی الدنیا فانظروا ھل تجدون عندھم خیراً’’۔ (مسند احمد ، شعب الایمان ، شرح السنۃ)

ترجمہ مع مفہوم: ‘‘مجھے  تمہارے حق میں جن (مضرت رساں) باتوں کا اندیشہ ہے ان میں سب سے بڑی بات  شرک اصغر (چھوٹا شرک) ہے ’’ ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا : ‘‘یارسول اللہ ﷺ یہ شرک اصغر کیا ہے؟  آپ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کے دن لوگوں کا حساب و کتاب ہو گا اور لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ ان (ریاکاروں) سے فرمائے گا: ‘‘ان کے پاس ہی جاؤ  جن کے دکھاوے اور نام و نمود کے لئے تم دنیا میں نیک عمل کیا کرتے تھے ،  اور دیکھو کہ کیا آج ان کے پاس تمہارے لئے کوئی بھلائی ہے (جو تمہیں کام آ سکے) ۔ (مسند احمد ، شعب الایمان ، شرح السنۃ)

نرم دلی اور خوش خوئی دونوں جہان کی بھلائی کا ضامن

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا – ان النبی ﷺقال: ‘‘یا عائشۃ من اعطی حظہ من الرفق فقد اعطی خیر الدنیاو الآخرۃ، و من حرم حظہ من الرفق فقد حرم حظہ من خیر الدنیاو الآخرۃ (مسند شہاب ، شرح السنۃ)

ترجمہ :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ! جس شخص کو نرم دلی اور نرم خوئی سے کچھ حصہ ملا اسے دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہوئی اور جو نرم دلی اور نرم خوئی کی نعمت سے محروم رہا وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے محروم رہا۔

عن سعید ابن مسیب رضی اللہ عنی – عن النبی ﷺ انہ قال: رأس العقل بعد الایمان باللہ مداراۃ الناس، و التودد الی الناس، و ما ھلک رجل عن مشورۃ ، و ما سعد رجل باستغنائہ برأیہ۔ و اذا اراد اللہ ان یھلک عبدا کا ان اول ما یفسد منہ رأیہ ، و ان اہل المعروف فی الدنیاھم اھل المعروف فی الآخرۃ ، و ان اہل المنکر فی الدنیا ھم اھل المنکر فی الآخرت ۔ (شعب الایمان)

مشورے سے کام کرنے والا کبھی ہلاک نہیں ہوتا

ترجمہ : اللہ و رسول پر ایمان لانے کے بعد سب سے بڑی حکمت اور عقلمندی یہ ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ مروت و ہمدردی کا معاملہ کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے الفت و محبت رکھے ، مشورے سے کام کرنے والا کبھی ہلاک نہیں ہوااور جس نے محض اپنی رائے پر بھروسہ کیا وہ ہمیشہ بے مراد پھرا۔ جب اللہ کسی کی ہلاکت و بربادی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کی سوجھ بوجھ بیکار کر دیتا ہے ۔ اور اس دنیا کے اندر نیکی اور بھلائی جن کا مقدر ہے آخرت میں بھی نیکی اور بھلائی ان کا مقدر ہو گی اور اس دنیا کے اندر شر اور خسران جن کا مقدر ہے آخرت میں بھی برائی اور خسارہ ان کا مقدر ہو گی۔

جب اللہ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے نرم دلی اور نرم خوئی کی نعمت سے نواز دیتا ہے

و عن عائشہ رضی اللہ عنھاعن النبی ﷺ انہ قال: ‘‘اذا اراد اللہ تعالیٰ باھل البیت خیراً ادخل علیھم الرفق، و ان الرفق لو کان خلقاً لم رأی الناس خلقاً احسن منہ، و ان الخرقَ لو کان خلقاً لما رای الناس خلقاً اقبح منہ’’۔ (مسند احمد ، الکنی للحاکم)

ترجمہ :ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب اللہ کسی کھرانے یا کسی خاندان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو انہیں نرم دلی اور نرم خوئی کی نعمت سے نواز دیتا ہے ۔ اور اگر صفت رفق کوئی ظاہری مخلوق ہوتی تو لوگ اس سے زیادہ خوبصورت کوئی مخلوق نہیں پاتے اور اگر (عنف) سخت کلامی ، ترش گوئی اور سنگ دلی کوئی ظاہری مخلوق ہوتی تو لوگ اس سے زیادہ مکروہ اور بدصورت کسی مخلوق کو نہیں پاتے۔

 اگر ہمارے عمل میں ریاء کی ملاوٹ ہے تو اللہ ہم سے اور ہمارے ایسے اعمال سے بالکل بے نیاز ہے

ایک حدیث قدسی؛

‘‘عن النبی ﷺ - یقول اللہ تعالیٰ : انا اغنی الشرکاء عن الشرک ، فمن عمل عملاً اشرک فیہ غیری؛ فانا منہ مریء’’۔  (ابن ماجہ ، صحیح مسلم)

ترجمہ مع مفہوم: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے فرمایا : ‘‘میں شرک سے تمام شرکاء میں سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ، لہٰذا، جس نے کوئی نیک عمل کیا اور اس میں میرے سوا کسی اور کو شریک کیا (یعنی اس کا مقصد طلبِ رضائے الٰہی کے بجائے لوگوں کو دکھانا تھا) تو وہ سن لے  ! میں اس کے اس عمل سے بری (یعنی بے نیاز) ہوں ۔ (ابن ماجہ ، صحیح مسلم)

(نوٹ :عربی متن ماخوذ از ذکر للذاکرین)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/what-is-shirk-e-asghar-(minor-shirk)-mentioned-in-hadith--آخرت-میں-شرک-اصغر-کا-انجامِ-بد/d/117865

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..