New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:14 AM

Urdu Section ( 26 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Wahhabism –background and foreground (2) نظریہ وہابیت –پس منظر و پیش منظر

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

26 مئی 2017

اس سے پہلے کہ ہم اپنی گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھائیں ضروری ہے کہ ہم  وہابی مکتبہ فکر کے بانی شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی   (1703ء ، 1115 ہجری تا 1792ء ،1206 ہجری) کی  پیدائش، پرورش و پرداخت، تعلیم و تربیت، ذہنی اور فکری نشو نما، خاندان، آبا و اجداد، اساتذہ اور وادیٔ نجد کے سماجی حالات پر شیخ محمد بن عبد الالوہاب نجدی کے معاصر علماء کی تحریروں کی روشنی میں سرسری طور پر نظر ڈالیں تاکہ یہ عنوان کسی بھی پہلو سے تشنہ نہ رہ جائے۔

شیخ محمد بن عبد الالوہاب نجدی کی پیدائش 1703ء میں نجد کے جنوبی خطے حنیفہ کے ایک مقام عینیہ میں ہوئی۔  شیخ نجدی کے خاندان کے علماء اور فقہاء کو اس خطے میں کافی اثر و رسوخ حاصل تھا،  ان کے دادا سلیمان بن علی اشرف ایک جید حنبلی المسلک عالم دین تھے اور ان کے والد  متوفی 1740ء 1153 ہجری، ایک صحیح العقیدہ بزرگ اور اپنے زمانے کے ایک مشہور عالم دین  تھے۔

شیخ علی طنطاوی متوفی 1335 ہجری لکھتے ہیں کہ ابتداءً شیخ نجدی اپنے والد کے درس میں شامل ہوا  کرتے تھے اور اپنے والد سے عالم اسلام کے مراسم و معمولات اور جائز اصول و معتقدات  اور شعار اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں تکرار کرتے  اور ان پر اعتراضات کرتے تھے۔ ان کے والد عبد الوہاب جو کہ ایک صلح جُو اور امن پسند انسان تھے اپنے بیٹے کو ہر چند کہ ان عادتوں سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے، درسگاہ میں اپنے بیٹے کی ان شرانگیز حرکتوں پر ناراض ہوتے اور ان کی سرزنش کرتے، لیکن وہ اپنی ان حرکتوں سے باز نہ آئے اور اپنے والد کی درسگاہ میں معمولاتِ اہل سنت و جماعت اور شعار اسلام و اہل اسلام کی توہین و تذلیل پر قائم رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی باتوں سے متأثر ہو کر کچھ طلباء ان کے ساتھ ہو گئے اور اکثر طلباء ان کے مخالف ہو گئے حتیّٰ کہ شیخ عبد الوہاب کے حلقۂ درس کے طلباء دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے[1]۔  شیخ نجدی کے والد تا حیات تنقیص شان رسالت مآب، توہین مأثرِ صحابہ اور تکفیرِ مسلمین جیسے غیر اسلامی اور گمراہ کن معتقدات و معمولات کے لیے شیخ نجدی کی سرزنش کرتے رہے[2]۔ اسی طرح بالعموم شیخ نجدی کے اساتذہ بھی ان کے ان تخریبی افکار و نظریات کے لیے ملامت کرتے رہے[3]۔

چونکہ شیخ نجد کے والد ایک صحیح العقیدہ بزرگ اور جید عالمِ دین بھی تھے اور اپنے بیٹے کی تخریبی ریشہ دانیوں اور ان کی نظریاتی بنیادوں سے اچھی طرح واقف بھی تھے اسی لئے وہ تاحیات  اپنے بیٹے محمد کی برپا کی ہوئی وہابی تحریک سے عملاً کنارہ کش رہے۔ یہاں تک کہ وہ شیخ نجدی  کی اس تکفیری تحریک سے اس قدر بدظن ہوئے کہ انہوں نے اپنے اصل وطن ‘‘عینیہ’’ کو چھوڑ کر اسی علاقے ایک دوسرے شہر ‘‘حریملا’’  کو  منتقل ہو گئے، کیوں کہ تب تک ‘‘عینیہ’’ شیخ نجد کی تحریک کا مرکز بن چکا تھا[4]۔ حتیٰ کہ شیخ نجدی کے والد عبدا لوہاب 1153 میں وفات پا گئے۔ اور آپ کی وفات کے بعد شیخ نجدی نے  کھل کر اپنے تکفیری افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کی شروع کر دی[5]۔ اگر چہ ‘‘عینیہ’’ میں شیخ نجد کو عقائد فاسدہ کے حامل اساتذہ نہ ملے لیکن حجاز میں تحصیل علم کے درمیان انہیں ابن السیف اور شیخ محمد حیات سندھی نامی ابن تیمیہ کے افکار و نظریات سے متاثر دو ایسے غیر مقلد استاذ ملے جنہوں نے شیخ نجد کو ابن تیمیہ کی کتابیں پڑھائیں جس سے مذہبی انتہاپسندی کی طرف ان کا رجحان تیز ہوا، اور رفتہ رفتہ تکفیری نظریہ پر مبنی اپنی خود ساختہ (خالص توحید پرستی) کی بالا دستی کا جنون اتنا شدید ہو کہ انہوں نے کاغذو قرطاس پر موجود ابن تیمیہ کے تکفیری نظریات کی تعبیر شمشیرِ بے نیام اور سادہ لوح مسلمانوں کے خون سے لکھ دی۔

ابن سیف کے بارے میں علی طنطاوی لکھتے ہیں:

‘‘شیخ نجدی نے کہا کہ میں ایک دن ابن سیف کے پاس بیٹھا ہوا تھا، دریں اثناء انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا میں  تمہیں وہ ہتھیار نہ دکھا دوں جو میں  نے مجمعہ (سعودی عرب کا ایک شہر) والوں کے لیے تیار کیے ہیں، میں نے کہا ہاں، پھر وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئے جو ابن تیمیہ کی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔  پھت انہوں نے کہا کہ یہی وہ ہتھیار ہے جو میں نے مجمعہ والوں کے لیے تیار کیے ہیں۔  اور ابن سیف وہی شخص ہے جس نے شیخ نجدی کو ابن تیمیہ کی کتابوں کے بارے میں بتایا اور انہیں پڑھنے اور سمجھنے میں شیخ نجدی کی مدد کی[6]۔

محمد حیات سندھی کے بارے میں علی طنطاوی لکھتے ہیں:

دوسرا شخص محمد حیات سندھی نامی ایک ہندوستانی غیر مقلد عالم تھا۔ جو (نام نہاد) بدعات (یعنی حضور اکرم ﷺ، بزرگان دین اور سلف صالحین کی تعظیم) کا رد کرتا تھا اور ان بدعات کا ارتکاب کرنے والوں کو کافر کہتا تھا۔ اور مشرکین کے حق میں نازل ہونے والی آیتوں کو مسلمانوں پر مسلط کرتا تھا۔ اس نے شیخ نجدی کو حضور ﷺ کے روضہ اقدس کے پر انجام دیئے جانے والے تعظیمی امور کو دکھائے  اور ان پر مشرکین کے حق میں نازل ہونے والی آیتیں چسپاں کی اور کہا کہ یہ لوگ تباہ ہونے والے ہیں اور یہ لوگ جس کام میں مشغول ہیں اس کا انجام تباہی و بربادی ہے۔ معلوم ہوا کہ شیخ نجدی نے تمام لوگوں کو جو کافر قرار دیا وہ ہندوستان کے اسی غیر مقلد عالم دین کی تعلیمات کا اثر تھا[7]۔

ابن تیمیہ کے فاسد مذہبی نظریات سے متاثر ایسے ہی اساتذہ کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ آگے چل کر شیخ نجد نے ایک ایسے کفری ٹکسال کی بنیاد رکھی جس کے سکّوں نے عالم اسلام کو متزلزل کر کے رکھ دیا۔ اور سب سے انوکھی بات تو یہ ہے کہ ان کے ایجاد کردہ عقائد کے پیمانے پر نہ صرف صوفی، سنی، بریلوی ہی مسلمان ثابت نہیں ہوتے بلکہ خود وہابی، دیوبندی، تبلیغی اور سلفی عوام بھی خود کو اس پیمانے پر مسلمان نہیں  ثابت کر سکتے۔ ذیل میں نجدی وہابیوں کے بنائے ہوئے ‘‘کافروں’’ کی ایک مختصر فہرست حاضر خدمت ہے، قائین ملاحظہ فرمائیں اور عش عش کریں:

1.    کافروں سے مدارت رکھنے والا کافر

2.    کافروں کی باتوں پر عمل کرنے والا کافر

3.    کافروں کو امرائے اسلام کے پاس لے جانے والا اور ان کو ہم مجلس بنانے والا کافر

4.    کافروں سے کسی امر میں مشورہ کرنے والا کافر

5.    مسلمانوں کے امور میں سے کسی ایک مسئلۂ امارت (و خلافت) وغیرہ میں کافروں سے کام لینے والا کافر

6.    کافروں کے پاس بیٹھنے اور ان کے پاس جانے والا کافر

7.    کافروں سے خوش مزاجی کے ساتھ پیش آنے والا کافر

8.    کافروں کا اکرام کرنے والا کافر

9.    کافروں سے امن طلب کرنے والا کافر

10.                       کافروں کی خیر خواہی کرنے والا کافر

11.                       کافروں سے مصاحبت (دوستی کرنے) و معاشرت رکھنے والا کافر

12.                      کافروں کو سردار کہنے والا کافر

13.                      علم طب جاننے والے کو ‘‘حکیم’’ کہنے والا کافر

14.                      کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہنے والا کافر

...................

[1] شیخ علی طنطاوی جوہر مصری، متوفی 1335 ہجری ،محمد بن عبد الوہاب صفحہ 20-21

[2] عثمان بن بشیر نجدی متوفی1288 ہجری، عنوان المجد فی تاریخ نجد  (مطبوعہ ریاض، ج 1، ص6)

[3] عثمان بن بشیر نجدی متوفی1288 ہجری، عنوان المجد فی تاریخ نجد  (مطبوعہ ریاض، ج 1، ص8)

[4] محمد منظور نعمانی: ماہنامہ المنیر فیصل آباد، ج3، شمارہ6۔

[5] عثمان بن بشیر نجدی متوفی1288 ہجری، عنوان المجد فی تاریخ نجد  (مطبوعہ ریاض، ج 1، ص8)

[6] شیخ علی طنطاوی جوہر مصری، متوفی 1335 ہجری ،محمد بن عبد الوہاب صفحہ 16

[7] شیخ علی طنطاوی جوہر مصری، متوفی 1335 ہجری ،محمد بن عبد الوہاب صفحہ 16-17

[8] ملخص اردو از مجموعۃ التوحید مطبوعہ ام لقریٰ مکہ معظمہ1322 ہجری، صفحہ 86-87 (بحوالہ تاریخ نجد و حجاز)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/wahhabism-–background-and-foreground-(2)-نظریہ-وہابت–پس-منظر-و-پش-منظر/d/111301

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..