New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 05:23 AM

Urdu Section ( 10 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 7) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت






مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017/02/09

ابھی ہماری گفتگو کا محور یہ امر ہے کہ تصوف، طریقت، سلوک اور معرفت کا دروازہ علم سے کھلتا ہے۔ اور نفس اور قلب کو انوار و تجلیاتِ الٰہیہ کا مہبط بنانے کے لیےپہلے اسے ہموار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ انسان مال اور نفس کی بخالت اور تنگی کو ختم کر کے اس کی جگہ سخاوت اور کشادہ قلبی پیدا کرے، اپنی طبعیت سے تکبر اور رعونت کو ختم کر کے اس کی جگہ تواضع اور انکساری پیدا کرے، اپنے مزاج سے خود نمائی اور خود پسندی کو ختم کر کے سادگی اور اخلاص پیدا کرے، کذب اور دروغ گوئی کی جگہ اپنی خصلت کو صداقت سے، وعدہ خلافی کی جگہ ایفائے عہد سے، بے وفائی کی جگہ وفاء سے، تلخ گوئی کے بجائے نرم گوئی سے، اپنے چہرے کو تلخی اور درشتگی کے بجائے نرمی اور ملائمت سے آراستہ کرے۔ چونکہ اللہ نے ہمارے نبی ﷺ کو ’’اِنک لعلیٰ خلقٍعظیم‘‘ کاحامل بنایا تھااور آپ کو ساری کائنات کے لیے رحمت و شفقت اور محبت ومؤدت کا مصدر و سرچشمہ بنایا تھا اسی لیے اس کی سب سے اعلیٰ مثال ہمیں نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ملتی ہے۔

یہ واقعہ غزوہ احد کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے چنندہ مجاہدین اسلام کو اپنی جنگی تدبیر اور حکمت عملی کے طور پر چند مختلف مقامات پر متعین فرما دیا اور انہیں تاکید کے ساتھ یہ ہدایت فرما دی کہ جنگ ختم ہونے کے بعد جب تک میں نہ کہوں کوئی اپنی جگہ چھوڑ کر نہ ہٹیں۔ لیکن جب کفار شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے تو جن مجاہدین کو نبی ﷺ نے پہاڑیوں اور گھاٹیوں میں مختلف مقامات پر کمان سنبھالنے کے لیے متعین کیا تھا انہیں یہ مغالطہ ہوا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہ آپ ﷺ کا حکم آنے سے پہلے ہی اپنی اپنی پوزیشن سے ہٹ گئے اور مال غنیمت کی طرف بڑھنے لگے۔ اور مجاہدین کی اس لاپرواہی سے فائدہ اٹھا کر میدان جنگ سے الٹے پاؤں بھاگتی ہوئی کفار کی فوج پھر سے بہ قوت تمام ہر چہار جانب سے حملہ آور ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجاہدین اسلام کے پاؤں اکھڑنے لگےاور دیکھتےہی دیکھتے 70 مجاہدین اسلام شہید بھی ہو گئے اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا،خود نبی اکرم ﷺ کو بھی نیزے لگے، آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے،آپ اپنے گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے اور چند لمحوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہوشی کی کیفیت بھی طاری ہو گئی۔صرف یہی نہیں بلکہ لشکر کفار کا حملہ اتنا سخت تھا کہ میدان جنگ میں نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ بھی پھیل گئی اور یہ افواہ پھیلنے کے بعد لشکر اسلام کے حوصلے پست ہو گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔اس کربناک عالم میں جب لشکر اسلام کے پاؤں کچھ سنبھلے تو نبی ﷺ نے میدان جنگ سے بھاگنے والے ان سپاہیوں کو واپس بلانے کے لیے کہ جن کی لاپرواہی کی وجہ سے ان کے سروں پر اتنی بڑی تباہی مسلط ہو گئی تھی اور جن کی وجہ سے لشکر اسلام کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا تھا، یہ فرمایا کہ میدان جنگ کی طرف پلٹ آؤ اور آج جو پلٹ کر آئے گا اس کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کا یہ اسوہ اور اس قدر مصیبت اور سختی کے عالم میں بھی کہ جب چند لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے لشکر اسلام کی فتح شکست سے بدل گئی، 70 جانثار صحابہ کرام کی لاشیں نگاہوں کے سامنے پڑی ہیں، میدان جنگ کا نقشہ بدل چکا ہےاور مجاہدین حواس باختہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں،آپ ﷺ کا یہ کردار سالکانِ راہ تصوف و طریقت کے لیےایک مشعل راہ ہے۔ اس لیے کہ یہ اخلاق حسنہ کی اتنی اعلیٰ مثال ہے کہ پوری تاریخ انسانیت خلق حسن کا اس سے اعلیٰ نمونہ نہیں پیش کر سکتی۔

معزز قارئین! آپ اس واقعہ میں حالات کی نوعیت پر ذرا بھی غور کریں تو آپ کو راقم الحروف کا یہ استدلال حق بجانب معلوم ہوگا۔ اس لیے کہ میدان جنگ ہے اوردشمن میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، لیکن چند لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یکایک میدان جنگ کا نقشہ بدل چکا ہے،چند لمحوں میں 70 صحابہ کرام جاں بحق ہو چکے ہیں، اور دشمنوں کا حملہ اتنا شدید ہے کہ خود آپ ﷺ زخمی ہو چکے ہیں اور لشکر اسلام کے سپاہی میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اس قیامت خیز عالم میں جب مجاہدین میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں جبکہ اس وقت ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،زیادہ مناسب یہ تھا کہ آپ انہیں ڈراتے، انہیں ان کی غلطی کا احساس دلاتے اور یہ کہتے کہ آج جو میدان چھوڑ کربھاگے گا اس کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ لیکن ان حوصلہ شکن حالات میں بھی آپ خلق عظیم کے مرتبہ پر قائم رہے اور آپ نے نہ انہیں ان کی غلطی کا احساس دلایا اورنہ ہی ان کی زجر و توبیخ کی، بلکہ آپ نے فرمایا کہ آج جو میدان جنگ میں واپس آئے گا اس کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ اور یہ فرما کر آپ نے اس کربناک عالم میں ان سینکڑوں مجاہدین اسلام کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کی اور ان کے لیے فرحت و سکون کا سامان پیدا کیا۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سختی اور مصیبت کے عالم میں بھی صبر کا مظاہرہ کرنا اور اخلاق حسنہ کا دامن نہ چھوڑنا، جن کے سبب آپ کو جانی اور مالی نقصان ہوا ہو ان کے ساتھ بھی اس طرح پیش آنا کہ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو تو آپ کے سامنے پیش ہونے میں انہیں کوئی شرمندگی محسوس نہ ہو۔ اور سخت مایوسی اور تنگی کے عالم میں خلق خدا کے ساتھ ایسا برتاؤ پیش کرنے سے بچنا کہ ان کے دل بیٹھ جائیں اور انہیں مایوسی اور نامیدی کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آئے اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا کہ انہیں ناامیدی اور مایوسی میں امید کی کرن نظر آئے، ان کے مرجھائے ہوئے زخمی دل کھل اُٹھیں اور ان کے اندر حیات کی ایک نئی لہر دوڑ جائے ، تصوف، سلوک اور طریقت کے بے شمار چشموں میں سے ایک چشمہ ہےجسے نبی اکرم ﷺ کے اخلاق حسنہ کا فیض مل رہا ہے۔ اور راہ تصوف و طریقت کا کوئی مسافر جب تصوف اور طریقت کے اس چشمے سے سیرابی حاصل کرتا ہے اور اپنی ذات کو ان اخلاقی خوبیوں کا حامل بناتا ہے تب اس کے نفس اور قلب و باطن میں وصول الی اللہ اور حصولِ معرفت کی استعداد پیدا ہوتی ہے او پھر اس نفس کو اللہ کے فرمان ’’لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا‘‘ کا فیض نصیب ہوتا ہے اور اس پر عالم ملکوت و جبروت کے اسرار اور معارفِ ذات و صفاتِ الٰہیہ کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

جاری.........................

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--7)-حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/110034

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..