New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:07 AM

Urdu Section ( 24 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Unfolding The Real Face of Sufism (Part: 12) حقیقت تصوف اور طریقہ معرفت

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2017-02-42

جیسا کہ ہم یہ جان چکے کہ عبادات میں عزیمت اور سخت مجاہدات و ریاضت کا راستہ اختیار کرنا تصوف کی ابتداء ہے اور اس کی انتہاء اس دنیا میں اپنے نفس، قلب، اخلاق اور کردار کا ایسا تزکیہ، ایسی تہذیب اور ایسی تحسین کرنا ہے کہ پاکیزگی و طہارتِ نفس میں انسان شکم مادر کے حال پر لوٹ جائے۔ یعنی وہ اپنی مرضی اور اپنی خواہش کو خدا کی مشیت پر قربان کر دے اور اپنے سارے معاملات مالک حقیقی کے سپرد کر دے۔ اور اللہ نعمتوں سے نوازے تو بھی بندہ خوش رہے اور نعمتیں چھین لے تو بھی بندہ اس کے فیصلے پر راضی رہے۔ وہ جس حال میں اسے رکھے اس پر خوش رہے اور اپنے اندر ناشکری کی بو بھی پیدا نہ ہونے دے۔ اور جب کوئی بندہ تسلیم و رضاء اور طمانیتِ قلب و باطن کے اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو پھر اللہ اپنے اِس کلام کے ساتھ اپنے اس بندۂ خاص کی طرف متوجہ ہوتا ہے: ‘‘یا ایتہا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ ( سورہ فجر آیت / ۲۸ ، ۲۷)’’ یعنی اے اللہ کے ذکر اور اس کی طاعت و بندگی سے اطمینان پا جانے والی نفس! آ، اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آ کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔

لہٰذا، جب کوئی سیر الی اللہ کا ارادہ کر لیتا ہے اور سلوک و طریقت میں اپنے قدم بڑھا دیتا ہے تو اس کے راستے میں مختلف منزلیں آتی ہیں، اس کے اوپر مختلف کیفیتیں وارد ہوتی ہیں، اس پر بہت سے احوال منکشف ہوتے ہیں اور اسے مختلف مقامات طئے کرنے ہوتے ہیں۔ اور سب سے پہلے جب سالک اللہ کے ذکر سے اپنے لیل و نہار سجا لیتا ہےاور شب و روز اسماء و صفات الٰہیہ کے ذکر میں خود کو مستغرق کر لیتا ہے تو اس کی ذات پر ان اوراد و اذکار کے انوار اور ان کی کیفیات کا ورود ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہر ذکر کے انوار جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب وہ تلاوت قرآن کرتا ہے تو اس کے قلب و باطن پر آیات قرآنیہ کے انوار وارد ہوتے ہیں اور جب وہ اسمائے ذات حق تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اس پر اس کے انوار ظاہر ہوتے ہیں۔ الغرض!فرائض، واجبات اور نوافل نماز، عبادات اور طاعات کے بھی انوار و تجلیات اس پر جدا جدا وارد ہوتے ہیں، حتیّٰ کہ سیر الی اللہ میں سالک ایک ایسے مقام پر بھی پہنچتا ہے کہ جب عالم ملکوت، عالم جبروت، عالم لاہوت، عالم ہاھوت، ملاء اعلیٰ اور فرشتوں کی جانب سے بھی اس پر انوار و تجلیات وارد ہوتے ہیں۔ اور ان تمام مقامات میں کیفیت سب سے کم وقت کے لیے ہوتی ہے اور اس میں تغیر و تبدل کثرت کے ساتھ واقع ہوتا ہے۔

 لہٰذا، اس مقام پر بندے کو ہر عمل، ہر ذکر اور ہر طاعت کی ایک الگ تجلی، ایک الگ رنگ اور ایک الگ ذائقہ حاصل ہوتا ہے۔ جس کا اشارہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک میں ملتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

۱۵۱)

حضرت عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اُس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو شخص خدا کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔

معزز قارئین! قابل توجہ امر یہ ہے کہ ہم تمام مسلمان اقرار بالسان اور تصدیق بالقلب کے اعتبار سے مؤمن ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین حق ہونے اور محمد ﷺ کے رسول برحق ہونے پر راضی ہو گیا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور قلب سے اس کی تصدیق کر لینا ایک بات ہے اور اس کے رب ہونے پر راضی ہو جانا دیگر بات ہے۔ اور اسلام کو ایک دین مان لینا ایک بات ہے اور اس کے دینِ حق ہونے پر راضی ہو جانا دیگر بات ہے۔ اور سی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت و رسالت کا اقرار کر لینا ایک بات ہے اور آپ ﷺ کی رسالت پر راضی ہو جانا دیگر بات ہے۔ اور ایمان کی حلاوت صرف اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنے، دین اسلام کو ماننے اور نبی ﷺ کی نبوت کی گواہی دینے سے حاصل نہیں ہوگی، بلکہ ایمان کی حلاوت اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دینِ حق ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہونے میں ہے۔

لہٰذا، واضح ہوا کہ ان تمام امور کا اقرار کرنے اور ان پر راضی ہونے میں فرق ہے۔ مثال کے طور پر مفسرین فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو تمام امور میں حتمی فیصل اور حکم مان لیا جائے اور کسی امر میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ صادر ہو جائے تو اسے بغیر کسی چوں و چرا کے تسلیم کر لیا جائے، خواہ وہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو یا ہمارے خلاف ہو۔

جیسا کہ قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ہے،

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔

ترجمہ:

‘‘تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں’’۔

جاری.........

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/unfolding-the-real-face-of-sufism-(part--12)--حقیقت-تصوف-اور-طریقہ-معرفت/d/110197

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..