New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 08:34 AM

Urdu Section ( 17 Jul 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi discourse: Piety Urges us to Purify Our soul and Heart – Part-2 بزبان تصوف: تقویٰ تصفیہ ٔقلب و باطن کا داعی

 

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

14 جولائی 2018

حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری (المتوفى: 465 ہجری ) رسالہ قشیریہ میں ایک حدیث نقل فرماتے ہیں:

‘‘علیک بتقویٰ اللہ فانہ جماع کل خیر و علیک فانہ رھبانیَّۃ ُ المسلمِ و علیک بذکر اللہِ فانہ نور لک’’۔ (مسند احمدبن حنبل)*

ترجمہ: تم پر تقویٰ( اللہ کا خوف) لازم ہے بلاشبہ یہ تمام نیکیوں کا جامع ہے، تم پر جہاد لازم ہے بیشک یہی ایک مسلمان کی رہبانیت ہے ، اور تم پر اللہ کا ذکر لازم ہے ، بےشک اللہ کا ذکر تمہارے (دل کے) لئے نور ہے’’۔

مخدوم الملک حضرت شیخ شرف الدین حمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

‘‘برادر شمس الدین بدانکہ دروازۂ سعادتِ ابدی و دولتِ دو جہانی تقویٰ است۔ ہر منزل کہ آراستہ اند در عالم لا الہ الا اللہ متقیان را آراستہ اند۔ و ہر مرتبہ کہ در جنتِ فردوس بنا فرمودہ اند بنامِ متقیان فرمودہ اند ۔ پس بندانکہ متقی آنست کہ از بلائے خویش رستہ بود و از بندِ خواش جستہ تا مرد از خویشتن باز نرہد، و از ہر چہ نصیبِ نفس است پاک نشود دوزخ را یادگاہ خواہد بود کہ وَ اِن مِنکُم اِلاَّ وَاردھا ، ہمہ خلائق را در حوصلۂ دوزخ خواہند نہاد تا نصیب خویش از تمردان بردارد ۔ آنگاہ متقیان را از آنجا بیرون آرند و خویشتن پرستاران را در قعرِ دوزخ بگذارند ثُمَّ نُنجی الذین اتقو ، این فتوہ دادہ است۔ ای برادر متقیان در ہفت طبقۂ دوزخ چنان روند کہ ماہی در آب، و دوزخ را طاقتِ ہیبتِ ایشان خود کجا باشد کہ ایشان سلطانیانِ ہمت اند، و توفیق ایشان اینست کہ ان اللہ یحب المتقین۔ و چنانکہ متقی درہفت دوزخ نگنجد در ہشت بہشت ہم نگنجد، و اگر گوئی کجا گنجد فضائ کہ آنرا فضاء ربوبیت گویند محشر متقیان آنجا پیش بنود’’۔(بحوالہ : مکتوبات صدی ۔مطبع علوی محمد علی بخش خان نقشبندی - سن طباعت 1286 ہجری -صفحہ 199)

قطعہ،

ما چو فردا شہیم در ہمہ مصر           چہ غم امروز گر بزندانیم

تو چہ دانی کہ ما چہ مرغانیم      ہر نفس زیر لب چہ می کوانیم

گر بصورتِ گداے این کوئیم          تو بمعنیٰ نگر کہ سلطانیم

گر چہ خود مفلسیم در ظاہر تو بہ باطن نگر کہ ما کانیم

ترجمہ: ‘‘برادرم شمس الدین یہ جان لو کہ ابدی سعادتوں کا دروازہ تقویٰ سے کھلتا ہے اور دونوں جہانوں کی دولت (یعنی اس دنیا میں اللہ رحمت اور اس کی لطف عنایت اور آخرت میں اللہ کی بخشش اور عفو و درگزر کی بنیاد) تقویٰ ہے۔لاالٰہ الا اللہ کی دنیا (عالم توحید) کے اندر تمام منزلیں متقی بندوں کے لئے ہی آراستہ کی گئی ہیں۔ اور جنت الفردوس کے جتنے مقامات و محلات ہیں وہ سب متقی بندوں کی جاگیر ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ متقی کہلانے کا حقدار وہی انسان ہے جو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور اپنے نفس کی خواہشات اور فریب کاریوں کے چنگل سے آزاد ہو چکا ہو۔ اس لئے کہ جس نے خود کو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور خواہشات نفسانی کی غلاظتوں سے پاک نہیں کیا وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ‘‘وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا’’(سورۃ المریم: 71)، ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو’’کنز الایمان۔ تمام انسانوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تاکہ (جہنم)تمرد و سرکشی میں پڑے رہنے والوں سے اپنا حصہ (بدلہ) لے لے ۔ پھر نیک اور متقیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا اور نفس پرستوں کو جہنم کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا ، یہی معنیٰ ہے اللہ کے اس فرمان کا ‘‘ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا’’(سورۃ المریم: 72)، ترجمہ: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے’’ کنز الایمان۔ اے میرے بھائی حقیقت یہ ہے کہ متقی بندے دوزخ کے ساتوں طبق سے ایسی مستی میں گزر جائیں گے جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔اور دوزخ کے اندر اتنی طاقت کہاں کہ وہ ان حضرات کی ہیبت کی شدت برداشت کر سکے اس لئے         کہ یہ تو میدان ہمت و جرأت کے شہسوار ہیں۔ اور ان کی امتیازی شان یہ ہے ، ‘‘ان اللہ یحب المتقین-قرآن۔ اللہ متقی بندوں سے محبت کرتا ہے’’۔ اور جس طرح ایک متقی بندے کا احاطہ جہنم کے ساتوں طبقے نہیں کر سکتے اسی طرح اس کا مقام جنت الفردوس کی ساتوں منزلوں سے بھی بالا تر ہے۔ پھر اگر تم یہ پوچھو کہ ان کا مقام و مستقر کیا ہے ؟ تو سن لو کہ متقی بندوں کا مقام و مستقر (جنت سے بھی آگے) فضائے ربوبیت ہے’’۔

کسی عارف کا کہنا ہے کہ:

1.     ما چو فردا شہیم در ہمہ مصر                    *        چہ غم امروز گر بزندانیم

ترجمہ: کل جب ہمیں مصر کی بادشاہت ملنے ہی والی ہے تو ہمیں اس کا کیا غم کہ آج ہم قید و بند کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

2.    تو چہ دانی کہ ما چہ مرغانیم      *        ہر نفس زیر لب چہ می خوانیم

ترجمہ: یہ جاننا تیرے بس کا روگ نہیں کہ ہم کس باغ کے پرندے ہیں اور ہر سانس زیر لب کیا ترانے الآپ رہے ہیں۔

3.     گر بصورتِ گداے این کوئیم                   *        تو بمعنیٰ نگر کہ سلطانیم

 

ترجمہ: اگر چہ ہم اس دنیا میں بظاہر گداگر نظر آتے ہیں ، لیکن تو یہ یقین جان کہ ہم بادشاہ ہیں۔

4.     گر چہ خود مفلسیم در ظاہر           *        تو بہ باطن نگر کہ ما کانیم

ترجمہ: اگر چہ ہم بظاہر اس دنیا کے اندر مفلس و قلاش نظر آتے ہیں ، لیکن تو یہ جان لے کہ ہم حقیقت میں چھپے ہوے خزانے ہیں۔

 

مذکورہ بالا اقتباس میں مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے اختصار کے ساتھ تقویٰ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ‘‘متقی کہلانے کا حقدار وہی انسان ہے جو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور اپنے نفس کی خواہشات اور فریب کاریوں کے چنگل سے آزاد ہو چکا ہو۔ اس لئے کہ جس نے خود کو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور خواہشات نفسانی کی غلاظتوں سے پاک نہیں کیا وہ جہنم کا ایندھن ہے’’۔  اب ذیل میں تقویٰ کے حوالے سے صوفیائے کرام کے اقوال و فرمودات نقل کئے جاتے ہیں:

حضرت سہل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

‘‘لا معین الا اللہ و لا دلیل الا رسولُ اللہ و لا زادَ الا التقویٰ و الا عمل الا الصبرُ علیہ’’*۔

ترجمہ: ‘‘(اس راہ سلوک و معرفت میں) اللہ کے علاوہ کوئی معین و مدد گار نہیں ، نبی اکرم ﷺ کے علاوہ کوئی ہادی و رہنما نہیں اور تقویٰ کے علاوہ کوئی زادِ سفر نہیں اور صبر کے علاوہ کوئی عمل نہیں’’۔ (یعنی راہ سلوک و معرفت میں اللہ کی مدد و نصرت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ ، تقویٰ کے ساتھ تمسک اور اس راہ میں پیش آنے والی پریشانیوں پر صبر کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔)

حضرت کتانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘دنیا کی تقسیم آزمائش کے مطابق کی گئی اور آخرت کی تقسیم تقویٰ کے مطابق کی گئی’’۔*

حضرت جریری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘جس شخص اور اللہ کے درمیان تقویٰ اور مراقبہ مضبوط نہیں وہ کشف اور مشاہدہ تک نہیں پہنچ سکتا’’۔*

حضرت نصر اباذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘تقویٰ یہ ہے کہ انسان اللہ عز و جل کے سوا ہر چیز سے بچے’’۔ *

حضرت نصر اباذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘جو شخص تقویٰ کو اختیار کرتا ہے وہ دنیا کو چھوڑ نے کا مشتاق ہوتا ہے کیوں کہ ارشاد خدا وندی ہے: ‘‘وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ، سورۃ الانعام :32 ’’، ترجمہ: اور بے شک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں’’۔ *

جاری....................

*(بحوالہ: رسالہ قشیریہ اردو۔ صفحہ 219۔مطبع : مکتبہ اعلیٰ حضرت دربار مارکیٹ لاہور۔ سن اشاعت مئی 2009 بمطابق جمادی الاولیٰ 1430 ہجری۔ تقسیم کار دربار مارکیٹ لاہور -مصنفہ :عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری المتوفى: 465 ہجری)

URL for Part -1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--piety-enables-us-to-achieve-salvation-–part-1---بزبان-تصوف--تقویٰ-حصول-نجات-کا-ذریعہ-ہے/d/115819

URLhttp://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--piety-urges-us-to-purify-our-soul-and-heart-–-part-2---بزبان-تصوف--تقویٰ-تصفیہ-ٔقلب-و-باطن-کا-داعی/d/115864

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..