New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:34 PM

Urdu Section ( 24 March 2017, NewAgeIslam.Com)

Muslims Need To Reclaim Their Spiritual Values -6 زوال بندۂ مؤمن کا بے زری سے نہیں





مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

23   مارچ 2017

بہ بند صوفی و ملا اسیری

حیات از حکمت قرآن نگیری

بآیاتش ترا کاری جز این نیست

کہ از (یٰسن) او آسان بمیری (اقبال)

ہم نے قرآن کو خوشبوؤں سے معطر کر کے اسے ریشمی غلاف میں لپیٹ کر طاقوں کی زینت بنائی، ہم نے اس کے نام کی قسمیں بھی کھائی، لیکن نزول قرآن کا جو اصل مقصد تھا ہم اسے پورا کرنے میں ناکام  و نامراد رہے۔  اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر قرآن کی تلاوت کر کے مردوں کے نام ایصال ثواب کیا جائے تو ان کی قبروں پر رحمت و انوار کی بارش ہوتی ہے، اس بات کا بھی ہمیں انکار نہیں  کہ اگر قرآن کی آیتوں کو پانی پر دم کر کے مریض کو پلایا جائے  تو اس سے شفا ملتی ہے،  اور نہ ہی اس سے انکار کی کوئی مجال ہے کہ قرآن کے نور کے سامنے بھوت، پریت، اجنہ اور کوئی ناری مخلوق دم نہیں مار سکتی۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ نہیں ہے۔

اقبال نے اسی لیے کہا تھا:

بہ بند صوفی و ملا اسیری

حیات از حکمت قرآن نگیری

بآیاتش ترا کاری جز این نیست

کہ از (یٰسن) او آسان بمیری (اقبال)

(ترجمہ: تو نام نہاد صوفی اور خشک ملا کے دام مکر میں ایسا گھرا کہ قرآنی حکمتوں سے نشانِ حیات تلاش کرنے کی صلاحیت تیرے اندر سے دم توڑ گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن سے  تیرا علاقہ صرف اتنا ہی رہ گیا کہ تو نے اس سے صرف مرنا ہی سیکھا۔)

ایک حساس مسلمان کے لئے اقبال کا یہ حسین طنز احساس شرمندگی میں ڈوب مرنے کے لئے کافی ہے، کہ جو قرآن جاں بہ لب قوم کے اندر شعورِ حیات بیدار کرنے کے لئے نازل ہوا تھاآج وہی قوم بہ آسانی موت کے آغوش میں جانے کے لئے قرآن کا سہارا لے رہی ہے، اب ایک مسلمان کو قرآن سے صرف اتنا ہی سرو کار باقی ہے کہ جب کسی مرنے والے کی جان اٹک جائے تو وہ اس کی روح کو بہ آسانی  بدن سے نکالنے کے لئے قرآن کو ہاتھوں میں اٹھالے اور سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کر دے۔

اقبال کہتا ہے کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں ہے کہ مرتے ہوئے شخص کے قریب سورہ یٰسین کی تلاوت کرنے سے اس کی جان آسانی کے ساتھ نکلتی ہے،  بلکہ میرا رونا تو اس بات کا ہے کہ تو ذہنی اور فکری طور پر اس قدر پسماندگی کا شکار ہوا کہ تو اگر قرآن سے کچھ تلاش کر سکا تو موت کو ہی تلاش کر سکا اور قرآن سے کچھ سیکھا بھی تو وہ مرنے کا سلیقہ سیکھا؟ جس قرآن سے تم نےمرنے کی سہولت تلاش کر لی اسی قرآن سے جینے کا سلیقہ بھی سیکھ لیا ہوتا۔  قرآن کے دامن میں علم و حکمت کی جو روشنیاں ہیں اور قرآن کے حرف حرف میں حیات کے جو اصول پوشیدہ ہیں کاش کہ ان سے نور حاصل کر کے  ہم اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرتے تو ہماری زندگی میں ذلت و رسوائی اور بے بسی و بے کسی کا ماتم نہ ہوتا بلکہ ہماری زندگی میں بہاریں ہی بہاریں ہوتیں۔

معزز قارئین! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو فقط رسماً ہی اپنایا اور ہم اس کی تعلیمات اور حکمتوں کے نور سے اپنے دلوں کو منور نہ کر سکے، ورنہ تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ  قرآن کی آیتوں نے مردہ دلوں میں بھی زندگی کی حرارت پیدا کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو ننگی تلوار لے کر اٹھے تھے کہ آج بانیٔ اسلام کا کام ہی تمام کر دوں گا، لیکن اچانک کانوں میں سورہ طٰہٰ کی چند آیتوں کی ندائے سرمدی پڑتی ہے  اور آن واحد میں پیغمبر اسلام ﷺ کے قتل کا نشہ پانی پانی  ہو جاتا ہے اور عمر کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔  اب تک عمر کے دل میں پیغمبر اسلام ﷺ سے  عداوت کے احساسات انگڑائیاں لے رہے تھے، لیکن جونہی آپ کے کانوں میں قرآن کی آیتیں پڑتی ہیں آپ کے دل میں دامن اسلام میں پناہ لینے کے جذبات مچلنے لگتے ہیں۔  یہ کچھ اور نہیں صرف قرآن کی تاثیر تھی اور  اس کے بعد قرآن ان کے دلوں کے آئینے میں ایسا اترا کہ پھر ان کی  زبان سے قرآن کا جو نغمہ بلند ہوا وہ لوگوں کی تقدیر بدلتا چلا گیا۔

حضرت عمر فاروق کا دور خلافت ہے،  آپ کے دور خلافت میں عورتیں بھی مسجد میں نماز ادا کرنے آتی تھیں۔  ایک خوب رو خاتون جسے اللہ نے بلا کے حسن و جمال سے نوازا ہے ، روزانہ مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے آتی ہے،  اور جب وہ مسجد سے واپس ہوتی ہے تو  دیکھتی ہے کہ ایک نوجوان اس کے راستے میں کھڑا ہے اور اس کی طرف ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہا ہے،  ابتدائی چند  دنوں تک تو اس خاتون نے اس کی حرکتوں کو نظر انداز کیا  لیکن جب اس سے رہا نہ گیا تو ایک دن اس خاتون سے اس مرد سے دریافت کیا کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ اس نے اپنے دل کی کیفیت کا اظہار کیا کہ میں تیرا متوالا ہو اور تیرا چاہنے والا ہوں، تیری ایک ایک ادا پر سو سو جان سے قربان ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں،  یہ سن کر اس پاکباز خاتون نے کہا کہ تمہارے آرزوؤں کی تکمیل ہو سکتی ہے مگر میری ایک شرط ہے، اس مرد نے کہا جلدی بتاؤ میں تو  آسمان سے چاند تارے بھی توڑ کر تمہارے قدموں پہ وارنے کے لئے تیار ہوں، اس خاتون نے کہا کہ میری شرط بہت بڑی یا بہت سخت نہیں ہے بلکہ میری خواہش صرف یہ ہے کہ چالیس دن تک حضرت عمر فاروق کے پیچھے نماز پنج گانہ ادا کر لو پھر تم جیسا چاہو گے میں ویسا ہی کروں گی، مرد نے کہا کہ  بس صرف اتنا ہی! تمہیں حاصل کرنے کے لئے تو یہ بہت معمولی شرط ہے ۔ بہر کیف، اس نے حسب وعدہ حضرت عمر فاروق کی اقتدا میں نمازیں ادا کرنا شروع کر دی اور اسی طرح دن گزرتے گئے۔ آخر کار جب وہ مرد چالسویں دن کی آخری نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا اور اپنے گھر کو جانے لگا تو وہ عورت حسب وعدہ اسی جگہ کھڑی  ہے اور وہ نوجوان اپنی باحیاء نظریں جھکا کر اس کے قریب سے گزر رہا ہے، یہ دکھتے ہی اس عورت نے دریافت کیا  کہ کہاں جا رہے ہو میں حسب وعدہ یہاں کھڑی ہوں، اس نوجوان نے کہا اب مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں  ہے عمر نے میرے دل کا رشتہ  رب کائنات کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

یہ واقعہ ہمارے لئے اور ہمارے ائمہ اور خطباء کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ لوگ ہمارے پیچے چالیس چالیس سال تک نمازیں ادا کرتے ہیں پھر بھی کیوں ان کے دلوں کے آئینے سے معصیت کے غبار نہیں چھنٹتے ،  چالیس سال پہلے جو شخص جھوٹ بول رہا تھا، جو  چوریاں کرتا تھا، بد دیانتی کرتا تھا، خیانت کرتا تھا، بند درازے کے پیچھے چغلیاں کھایا کرتا تھا،  اپنے بھائی پر افتراء باندھا کرتا تھا،  اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتا تھا، جنکی نگاہیں آلودہ تھیں اور جن کے دل طرح طرح کی خباثتوں سے بھرے ہوئے تھے آج بھی ان کا وہی حال ہے۔ اور عظمت قرآن کے ایک وہ امین و قسیم تھے کہ جو ان کے پیچھے چالیس دن نمازیں ادا کر لے اس کی دل کی دنیا ہی بدل جاتی تھی۔ قرآن ان کے دل سے نکلتا تھا اور زبان کے ذریعہ سامع کے دل میں جا کر پیوست ہو جاتا تھا،  اور اس کے دل میں بسنے والی تاریکیوں اور ظلمتوں کی دنیا تہہ و بالا ہو کر رہ جاتی تھی۔ ایک مدت گزر گئی اور چشم فلک اب بھی ایسی پاکباز ہستیوں کی منتظر ہے کہ جن کے  لبوں سے قرآن کے کلمات نکلتے ہیں تو فرشتے بھی آفرین آفرین کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔کاش کہ وہ ہستیاں دوبارہ مصلوں کی زینت بنیں کہ جن کے لبوں سے جب قرآن جاری ہوتا ہے تو دلوں کے زنگ اترتے ہیں اور بے قرار دلوں کو سکون نصیب ہوتا ہے۔

اقبال کہتا ہے:

عطا کن شور رومی ، سوز خسرو

عطا کن صدق و اخلاص سنائی

چنان با بندگی در ساختم من

نگیرم گر مرا بخشی خدائی

جاری..........

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/muslims-need-to-reclaim-their-spiritual-values--6--زوال-بندۂ-مؤمن-کا-بے-زری-سے-نہیں/d/110521

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..