New Age Islam
Mon Apr 12 2021, 12:55 PM

Urdu Section ( 17 March 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims Need To Reclaim Spiritual Values زوال بندۂ مؤمن کا بے زری سے نہیں




مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

15 مارچ 2017

کب تلک طُور پہ دَرْیُوزَہ گَرِی مثلِ کلیم

اپنی ہستی سے عَیاں شعلۂ سینائی کر

ہو تری خاک کے ہر ذرّے سے تعمیر حرم

دل کو بیگانۂ اندازِ کلیسائی کر (اقبال)

قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ہے:

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(آل عمران:139)

ترجمہ:

‘‘اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو’’۔

آج جب ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ آج دنیا کے ہر خطے میں مسلمان ذلت و رسوائی اور قتل و غارت گری کی چکی میں پس رہا ہے۔ برما، کابل، قندھار، قلعہ جنگی، تقریط، موصل ،بغداد، القدس، غزہ، آزربائیجان، صومالیا، بغداد، عراق، فلسطین، شام، مصر، الغرض عرب و عجم میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ بیت رہا ہے کیاہم اس سے واقف نہیں؟ آج پوری امت جس کربناک صورت حال سے گزر رہی ہے کہ کیا وہ کسی سے مخفی ہے؟

حالآنکہ آج امت مسلمہ جس عددی کثرت کی حامل ہے اس سے قبل کبھی نہیں رہی، اور آج جو مادی وسائل ہمیں میسر ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔ ان تمام کے با وجود آج ہمیں جس قدر ذلت و رسوائی، پستی، زبوں حالی اور شکست و ریخت کا سامنا ہے اس کی مثال پوری تاریخ انسانیت میں ہمیں نہیں ملتی۔ آج ہمارے اوپر اتنے مصائب اور اتنے مسائل مسلط کئے جا چکے ہیں کہ اگر ہم انہیں شمار کرنا چاہیں تو وقت کا دامن بھی تنگ پڑ جائے۔ لہٰذا، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آج امت مسلمہ اس قعر مذلت میں کیوں گری۔

کچھ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ آج ہم اس پستی میں اس لیے ہیں کہ ہم نے مادی طور پر اتنی ترقی نہیں کی جو دوسری قوموں نے کی ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی دنیا میں ایجادات اور فتوحات کی داستانیں ہم رقم نہیں کر رہے۔ آج تسخیرِ کائنات کا سہرا ہمارے سر نہیں۔ تعلیمی طور پر ہم پسماندہ ہیں اور معاشی وسائل سے ہمارے دامن خالی ہیں۔

لیکن شاعر مشرق اور اپنے دور کے ایک عظیم مفکر اقبال کی رائے اس معاملے میں کچھ اور ہی ہے جو کہ ترقی اور فتح و نصرت کے قرآنی نظریہ کے عین مطابق ہے، اقبال کہتا ہے:

سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے!

زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں

بات ایسی نہیں ہے کہ اسلام نے ترقی اور عروج و سربلندی کا جو نظریہ پیش کیا ہے اس میں مادی اور معاشی ترقی کی نفی کی گئی ہے ، اور اقبال بھی اس امر سے بخوبی واقف ہے۔ لہٰذا، اقبال کہتا ہے:

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات!

جو فقر سے ہے میّسر تو نگری سے نہیں

اگر جواں ہوں مری قوم کے جُسور و غیور!

قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں

معلوم ہوا کہ تمام شعبۂ حیات میں ہماری پستی اور پسماندگی کی وجہ مادی زوال نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری قوتِ فکر وعمل پہلے فنا ہوئی ہے اور اس کے بعد ہماری شان و شوکت پر زوال کا خزاں طاری ہوا ہے۔ فکری بحران اور عملی سرطان نے پہلے ہمارے دامن میں پناہ لی ہے اور اس کے بعد صحتِ عمل اور اصول و معتقدات کی تصحیح و تطہیر کی فکر نے ہمارے اندر سے دم توڑا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خالق ارض وسماوات کی ان خاص عنایتوں سے ہم محروم ہو گئے جو اس نے ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے عطا فرمایا تھا۔

اللہ کا فرمان ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ۔ (الجمعہ:2)

‘‘وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں’’۔

اس آیت کی روشنی میں یہ امر واضح ہے کہ اسلام کی بنیاد مادیت پر نہیں بلکہ روحانیت پر رکھی گئی ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ بھی بے زری نہیں بلکہ اس کی حقیقی وجہ مسلمانوں کے اندر سے روحانیت اور روحانی اقدار کا دم توڑناہے۔ اور مسلمانوں کا اس مرکزِ روحانیت سے دور ہو جانا ہے جس نے مسلمانوں کو فتح و نصرت اور عزت و سرخروئی سے ہمکنار کیا تھا۔

رہی بات شکست و ریخت اور غربت و بے بسی کی تو اسلام کے دامن میں اس کی داستانیں بڑی دل آویز اور لرزہ خیز ہیں۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ شکست و ریخت اور غربت و افلاس کے اس دل آویز دور میں بھی ہم نے عزیمت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ جن کی طرف دنیاآج بھی حیرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اقبال کہتا ہے:

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر

چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر

تو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تک

بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر

نفس گرم کی تاثیر ہے اعجاز حیات

تیرے سینے میں اگر ہے تو مسیحائی کر

کب تلک طور پہ دریوزہ گری مثل کلیم

اپنی ہستی سے عیاں شعلۂ سینائی کر

ہو تری خاک کے ہر ذرے سے تعمیر حرم

دل کو بیگانۂ انداز کلیسائی کر

اس گلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھا

ناز بھی کر تو بہ اندازۂ رعنائی کر

پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے

پھر جہاں میں ہوس شوکت دارائی کر

مل ہی جائے گی کبھی منزل لیلی اقبال!

کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر

جاری.......

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/muslims-need-to-reclaim-spiritual-values--زوال-بندۂ-مؤمن-کا-بے-زری-سے-نہیں/d/110435

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..