New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 12:52 PM

Urdu Section ( 25 Aug 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Many Ways to Get Closer to Allah Almighty تقرب الی اللہ کے قرآنی راستے

 مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

20 اگست 2019

ارشاد ربانی ہے؛

لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (10:26)

ترجمہ : ایسے لوگوں کے لئے جو نیک کام کرتے ہیں نیک جزا ہے بلکہ (اس پر) اضافہ بھی ہے، اور نہ ان کے چہروں پر (غبار اور) سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت و رسوائی، یہی اہلِ جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ عرفان القرآن

نیکی ایک ایسی شئی ہے جو انسان کو مقام عبدیت کا مستحق بنا دیتی ہے۔ مقام عبدیت کیا ہے؟ مقام عبدیت وہ مقام ہے جہاں تمام اخروی نعمتوں اور قربتوں کی انتہا ہو جاتی ہے اور رب تبارک و تعالیٰ کا دیدار بندے کو کھلی آنکھوں سے بلا حجاب ہوتا ہے۔ ایسے نفوس قدسیہ جب قیامت میں اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو ان کے چہرے سورج کی مانند روشن ہوں گے اور ان کے چہروں پر فرحت کے آثار اور خوشی و مسرت کے جذبات اس قدر نمایاں ہوں گے کہ اہل محشر بھی انہیں دیکھ کر یہ جان جائیں گے کہ یہ گروہ عام لوگوں کا نہیں بلکہ خاصان خدا کا گروہ ہے۔ ایسی نیک اور صالح ہستیوں کے لئے قیامت میں سب سے بڑا انعام اللہ رب العزت کی زیارت ہے۔ اسی کیفیت کو قرآن نے اس انداز میں بیان کیا ہے؛

ارشاد ربانی ہے؛

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ (22) إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (75:23)

ترجمہ : بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و ترو تازہ ہوں گے، اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے۔ عرفان القرآن

مندرجہ بالا آیت میں جن نفوس قدسیہ کی کیفیت بیان ہوئی ہے انہیں اللہ نے لفظ ولی کے ساتھ قرآن میں ذکر کیا ہے۔ گویا کہ قیامت کے دن یہ شان و شوکت ان لوگوں کو میسر ہوگی ولایت کے مسند نشین ہوں گے ۔

ارشاد ربانی ہے؛

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (63) لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (10:64)

ترجمہ : خبردار! بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے، (وہ) ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقوٰی شعار رہے، ان کے لئے دنیا کی زندگی میں (بھی عزت و مقبولیت کی) بشارت ہے اور آخرت میں (بھی مغفرت و شفاعت کی/ یا دنیا میں بھی نیک خوابوں کی صورت میں پاکیزہ روحانی مشاہدات ہیں اور آخرت میں بھی حُسنِ مطلق کے جلوے اور دیدار)، اللہ کے فرمان بدلا نہیں کرتے، یہی وہ عظیم کامیابی ہے۔ عرفان القرآن

قرآن کے مطابق جب قیامت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں نہ کوئی حزن و ملال ہوگا اور نہ ہی کوئی رنج و غم تو ہمیں قرآن سے یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اس دنیا میں ایسے لوگوں کی کیا نشانیاں ہیں ؟ ان کے اعمال کیسے ہیں ؟ اور ان کا طرز حیات کیا ہے ؟ تاکہ ہم بھی ان کے نشان قدم پر چل کر اس گروہ میں شامل ہو سکیں اور اس دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کو اپنا مقدر بنا سکیں۔

اس زاویہ سے جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو چند باتیں سامنے آتی ہیں جن میں سے یہاں اختصار کے ساتھ میں صرف دو باتوں کو بیان کرنا چاہوں گا۔ اول، ایسے لوگ جن کے لئے قرآن میں دنیا و آخرت کی صلاح و فلاح اور کامیابی و کامرانی کی بشارتیں وارد ہوئی ہیں ان کے تمام اعمال صرف اور صرف اللہ کی محبت میں ہوتے ہیں ، کیوں کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنے تمام اعمال کی جزا کی امید صرف اپنے رب سے ہی رکھتے ہیں۔ دوئم، یہ وہ نفوس قدسیہ ہیں جن سے خود اللہ بھی ان کے متعدد اعمال صالحہ کی بنیاد پر محبت کرتا ہے۔

پہلا گروہ جن کے تمام اعمال صرف اور صرف اللہ کی محبت میں ہوتے ہیں ، وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنے تمام اعمال کی جزا کی امید صرف اپنے رب سے ہی رکھتے ہیں

ارشاد ربانی ہے؛

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (8) إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (9) إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (10) فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (11) وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا (12) مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا (76:13)

ترجمہ: اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں، (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کے لئے تمہیں کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلہ کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے (خواہش مند) ہیں، ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کا خوف رہتا ہے جو (چہروں کو) نہایت سیاہ (اور) بدنما کر دینے والا ہے، پس اللہ انہیں (خوفِ اِلٰہی کے سبب سے) اس دن کی سختی سے بچا لے گا اور انہیں (چہروں پر) رونق و تازگی اور (دلوں میں) سرور و مسرّت بخشے گا، اور اِس بات کے عوض کہ انہوں نے صبر کیا ہے (رہنے کو) جنت اور (پہننے کو) ریشمی پوشاک عطا کرے گا، یہ لوگ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں دھوپ کی تپش پائیں گے اور نہ سردی کی شدّت۔ عرفان القرآن

ان نفوس قدسیہ کا ذکر جن سے خود اللہ بھی ان کے متعدد اعمال صالحہ کی بنیاد پر محبت کرتا ہے

بکثرت توبہ کرنے والے اور پاکیزگی اختیار کرنے والے

ارشاد ربانی ہے؛

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (2:222)

ترجمہ : بیشک اﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ عرفان القرآن

رسول اکرم ﷺ کی اتباع کرنے والے

ارشاد ربانی ہے؛

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (3:31)

ترجمہ : اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔ عرفان القرآن

ایفائے عہد اور تقویٰ اختیار کرنے والے

ارشاد ربانی ہے؛

بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (3:76)

ترجمہ : ہاں جو اپنا وعدہ پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے (اس پر واقعی کوئی مؤاخذہ نہیں) سو بیشک اﷲ پرہیز گاروں سے محبت فرماتا ہے۔ عرفان القرآن

محسنین جو فراخی و تنگی دونوں حالتوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، غصہ ضبط کرنے اور لوگوں کو درگزر کرنے والے ہیں

ارشاد ربانی ہے؛

الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (3:134)

ترجمہ : یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ عرفان القرآن

ظلم و زیادتی سے گریز اور عدل و انصاف کو زندہ کرنے والے

ارشاد ربانی ہے؛

لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (60:8)

ترجمہ : اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ عرفان القرآن

یہ وہ قرآنی اقدار ہیں کہ جن پر عمل کر لیا جائے تو ہماری بھی دنیا و آخرت سنورتی ہوئی نظر آئے گی ۔ اللہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے اور قرآن کے نور سے اپنے قلوب کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/many-ways-get-closer-allah/d/119563

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..