New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 07:26 PM

Urdu Section ( 26 March 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Let us Unite on common grounds to defeat intolerance and exclusiveness--Part-1 کیا ہم کسی مشترکہ بنیاد کو نقطہ اتحاد نہیں بنا سکتے؟


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

23 مارچ 2019

گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی سطح پر پیش آنے والے واقعات و حادثات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آج عالمی امن و شانتی کو سب سے بڑا خطرہ عدم روادری (intolerance) اور علیحدگی پسندی (exclusiveness) سے ہے اور ہمارے معاشرے کے ان دو خطرناک جراثیم نے سب سے زیادہ نقصان امت مسلمہ کا ہی کیا ہے۔ مغربی میڈیا میں بھی عہد حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ عدم رواداری اور علیحدگی پسندی کو کس طرح شکست دی جائے؟ ابھی پلوامہ حملے کے زخم بھرے بھی نہیں تھےکہ نیو زی لینڈ کے کرسٹ چرچ شہر میں دومساجد کے اندر انتہائی وحشت ناک حملوں کی خبر نے پوری دنیا کے امن پسند لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ خبروں کے مطابق ان حملوں میں 50 افراد جاں بحق ہوئے اور دیگر 50 زخمی۔ کیا ہندو ، کیامسلمان، کیا سکھ، کیا عیسائی، کیا سیاستدان اور کیا ادیب و فنکار تمام امن پسند لوگوں کی آنکھیں اس خبر کو سننے کے بعد لہو کے اشک بہانے لگیں ۔ اس حملے نے مغربی میڈیا کے ذریعہ گڑھے گئے اسلامی دہشت گردی (Islamic Terrorism) کے نعرے کی ساری قلعی کھول کر رکھ دی ۔ اس دردناک حادثے نے ہمیں یہ سبق اچھی طرح سکھا دیا کہ دہشت گردی صرف دہشت گردی ہوتی ہے ۔ اور دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے وہ نہ مسلمان ہو تا ہے اور نہ ہی کسی اور دین دھرم کا۔ وہ نہ گورا ہوتا ہے اور نہ ہی کالا۔ اور اس کی جڑ ایک ہی ہے اور وہ عدم روادری (intolerance) اور علیحدگی پسندی (exclusiveness) کا زہر ہے ۔

عدم روادری معاشرے کے صرف ایک ہی طبقے تک محدود نہیں

آئے دن ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات اور معاملات پیش آتے رہتے ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ عدم روادری ہمارے معاشرے کے مختلف طبقوں میں موجود ہے اور دہشت گردی کے 80 فیصد معاملات کی بنیاد عدم رواداری ہی ہوتی ہے ۔ جبکہ ہر مذہب ، ہر ذات برادری اور ہر طبقے میں عدم رواداری کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں ۔ لیکن ان سب سے قطع نظر میرا مقصد یہاں صرف اس امر کا تجزیہ کرنا ہے کہ مسلم معاشرے میں عدم رواداری کی بنیاد اور اس کے عوامل کیا ہیں؟ کیا معاشرے کے محض کسی ایک طبقے اور میں عدم رواداری محدود ہے ؟ اور بحیثیت ایک عالمی برادری مجموعی طور پر اس وبا کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

 اس ضمن میں سب سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ عدم رواداری معاشرے کے کسی ایک خاص طبقے میں محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے مختلف طبقات اس کی لپیٹ میں ہیں۔ اس کی مثال خود ہمارے ملک میں گائے بچانے کے نام پر بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جانا ہے اور برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ الغرض ، مقصد ان سب باتوں کا یہ بتانا ہے کہ اگر عدم روادری (intolerance) اور علیحدگی پسندی (exclusiveness) کے خلاف ہماری جدوجہد درست تجزیہ اور حقیقت پسندانہ عزائم پر مبنی ہے تو ہمیں اپنے معاشرے کے ہر طبقے اور ہر مذہب و ملت سے رواداری کو ختم کرنے کی مہم چلانی ہوگی، ورنہ ہماری یہ کوششیں وہ نتیجہ نہیں پیدا کر سکتیں جس کے ہم متمنی ہیں ۔

مسلم معاشرے میں عدم رواداری

اگر بات کی جائے مسلم معاشرے میں عدم رواداری کے عوامل کی تو اس کی سب سے بڑی وجہ خود ہمارے علماء اور نام نہاد مذہبی قائدین کا عدم روادری اور علیحدگی پسندی کا شکار ہو جانا ہے ۔ و ہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسلامی کی ایک ایسی شبیہ پیش کرتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ وہ قرآنی تعلیمات کے ان پہلوؤں کو غیر ضروری سمجھ کر عوام کی نظروں سے چھپا دیتے ہیں کہ سادہ لوح مسلمانوں کے اندر سے دیگر مذاہب اور ان کے پیروکاروں کے احترام کا جذبہ دم توڑ دیتا ہے جس کے نتیجے میں عدم رواداری کی بیج ان کے ذہن دماغ میں پنپ اٹھتی ہے، اور اس کے بعد عدم رواداری کا درخت کیا گل کھلاتا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ایسے علمائے دین اور عوام الناس کو درج ذیل نصیحت غور سے پڑھنا چاہئے اور اپنی زندگیوں میں اس کا نور اتارنے کی کوشش کرنی چاہئے:

حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ارشادفرمایا:

ان اللہ سبحانہ انزل کتابا ھادیا بین فیہ الخیر و الشر فخذوانھج الخیر تھتدوا- واصدفواعن سمت الشر تقصدوا الفرائض الفرائض! اَدوھآ الی اللہ تُودکم الی الجنۃ - ان اللہ تعالیٰ حرم حراما غیر مجہول، و احل حلالاً غیر مدخول - و فضل حرمۃ المسلم علی الحرم کلھا- و شد بالاخلاص والتوحید حقوق المسلمین فی معاقدھا- فالمسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ الا بالحق - ولا یحل اذی المسلم الا بما یجب بادروا امر العامۃ و خاصۃ احدکم وھوالموت- فان الناس امامکم، و ان الساعۃ تحدوکم من خلفکم ، تخففوا تلحقوا ، فانما ینتظر باولکم آخرکم ، اتقوا اللہ فی عبادہ و بلادہ ، فانکم مسؤولون حتیٰ عن البقاع و البھائم ، اطیعواللہ و لا تعصوہ ، و اِذا رأیتم الخیر فخذو بہ ، و اِذا رأیتم الشر فاعرضوا عنہ۔ (نہج البلاغہ خطبہ نمبر۱۶۶- مطبوعہ اعظم پبلیکیشنز )

ترجمہ و مفہوم:

اللہ رب العزت نے تمہیں ایک کتاب ہدایت عطا کی ہے جس میں اس نے ہر خیر و شر کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے، لہٰذا تم نیکی کے راستے پر چلو ہدایت پا جاؤ گے اور برائی سے دامن بچا کر چلو تمہیں سیدھی راہ پر ثابت قدمی نصیب ہوگی ۔ خلوص و للہیت کے ساتھ اللہ کے فرائض و واجب احکامات ادا کرو ’ وہ تمہارے لئے دخول جنت کا باعث بنیں گے ۔ اللہ نے جن باتوں کو حرام قرار دیا ہےوہ تم سے مخفی نہیں اور جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ان میں کوئی عیب نہیں (لہٰذا ، حلت و حرمت کے ان حدود کی پاسداری سے تمہیں کون سی چیز مانع ہے؟) ۔ [خونِ مسلم کی حرمت کو ہلکا نہ سمجھو اس لئے کہ] اللہ نے خون مسلم کی حرمت کو تمام حرمتوں پر فضیلت عطا کی ہے ۔ اور اللہ نے مسلمانوں کے حقوق کو اپنے اپنے موقع و محل میں رشتہ توحید و اخلاص کے ساتھ آپس میں مربوط کر رکھا ہے۔ سن لو! حقیقی مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان کے ناحق شر سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ۔ لہٰذا، کسی بھی مسلمان کو اذیت دینا جائز نہیں ’ مگر یہ کہ جہاں ایسا کرنا واجب ہو ۔ اس حقیقت کا سامنا کرنے کی تیاری کر لو جو سب کے لئے عام ہے اور ہر انسان کے ساتھ اس کا وقوع متعین ہے ’ اور وہ موت ہے ۔ اس دار فانی سے کوچ کر جانے والوں کی داستانیں تمہارے سامنے ہیں اور تمہیں موت [تمہارے انجام کی طرف] پیچھے سے ہانک رہی ہے۔ اپنے سر سے گناہوں کی گٹھریاں اتار پھینکو تاکہ یہاں سے کوچ کر جانے والوں سے ملنے کے قابل ہو سکو ’ اس لئے کہ تم سے قبل اس دار فانی سے کوچ کر جانے والے (اب) تمہارے انتظار میں ہیں ۔ اللہ کے بندوں (کے حقوق اور ان کے خون کی حرمت) کے بارے میں اور اللہ کے شہروں (یعنی اللہ کی زمین پر امن و امان) کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اس لئے کہ تم سے ہر شئے کے بارے میں سوال کیا جائے گا ’ حتی کہ زمینوں اور چوپایوں سے متعلق بھی اللہ تم سے سوال کرے گا ۔ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہوں اور کبھی بھی اس کی نافرمانی اور اس کے احکام سے سرتابی کا ارتکاب نہ کرو ۔ جب ( اس دنیا میں تمہیں) کوئی اچھی بات نظر آئے تو اسے اختیار کر لواور تمہارا سامنا جب کسی شر سے ہو جائے تو اس سے دامن بچا کر نکل جاؤ (یہی حکمت مؤمنانہ ہے)۔

جاری...........

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/let-unite-common-grounds-defeat-part-1/d/118136

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..