New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 06:07 PM

Urdu Section ( 6 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 13) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء







مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

5/1/2017

کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی معرفت رکھتا ہے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مستغرق ہے، بس ایک انسان ہے اس کی معرفت سے غافل ہے۔

بے صدا و بے نوا و بے کلام

دے رہاہے ذرہ ذرہ یہ پیام

پتے پتے کی یہی ہے گفتگو

اشہدان لاالہ الا ھو

سبزۂ روئے زمیں ہے ذکر میں

محو حیرت غنچہ و گل فکر میں*

سلسلہ گفتگو کو آگے بڑھانے سے پہلے میں اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کشف، مشاہدہ، عرفان اور باطنی اسرار و رموز کہ جن پر نظریہ وحدۃ الوجود کی بنیاد ہے ، ایسے امور ہیں کہ میدان قلم اور زبان و بیان کا کوئی بھی شہسوار صنعت الفاظ کا سہارا لیکر کسی انسان کو ان حقائق پر قائل نہیں کر سکتا یہاں تک کہ اگر اپنے زمانے کا سحبان بھی چاہے تو وہ محض زبان و بیان کی بنیاد پر عشق و عرفانِ الٰہی کی لذتِ حیات آفریں سے کسی کو آشناں نہیں کر سکتا۔ محبوبان خدا اور ذات حق تعالیٰ کے مابین راز و نیاز کی سرمستیاں احاطہ کلام سے باہر ہیں۔ جو کچھ الفاظ و بیان کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا وہ محض ان رازہائے سربستہ کے ہلکے نشانات ہیں جس کا خزانہ عرفاء کے سینے میں پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کی بے مثال چمک ان کی آنکھوں سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہے۔ اور پھر وہ اک نشانِ بے نشاں بن جاتے ہیں۔

بلکہ ان کا تو حال یہ ہے کہ:

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

          اس کا تعلق عالم تجربات و مشاہدات سے ہے۔ جنہوں نے عبادات و ریاضات اور سخت مجاہدات کی پر خار وادیوں پر چل کر اس کا تجربہ کیا وہ غریق بحرِ وحدۃ اور اسیر بارگاہِ احدیت ہوئے۔ اور ان کی ذات سے علوم و معارف کے ایسے ایسے چشمے جاری ہوئےکہ آج تک سالکانِ راہ حق ان سے سیرابی حاصل کر رہے ہیں اور ان کے نقوش قدم کو مشعل راہ بنا کر سلوک و معرفت کی منزلیں طئے کر رہے ہیں۔ اور جو محض عقل و استدلال اور الفاظ و معانی کے پیچ و خم میں الجھے وہ اب تک اسی میں الجھے ہیں اور "نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن" کے بھنور میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ آج تک کوئی حکیم اور کوئی داناں انہیں اس کیفیت سے نجات نہ دلا سکا۔

          اس باب میں راقم لحروف کی رائے یہ ہے کہ جب اس موضوع کے مخاطَب منکرین تصوف ہوں تو انہیں عقلی دلائل اور نقلی شوائد کی روشنی میں حقیقت تصوف اور نظریہ وحدۃ الوجود کی معرفت عطا کرنے کی کوشش دلائل کی مدد سے کسی کور چشم کی آنکھوں میں مظاہر کائنات کے حسین مناظر اتارنے کے مترادف ہے جس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ اس لیے کہ اگر دنیا کے بڑے سے بڑے فصیح و بلیغ اور اپنے زمانے کے عظیم تر حکیم اور دانشور کو بھی اس مہم پر مامور کر دیا جائے پھر بھی ان کے دلائل و شواہد کم پڑنے لگیں گے اور ان کے الفاظ کا خزانہ ختم ہو جائے گا اور وہ کور چشم مخاطَب یہی کہے گا کہ آپ کی باتیں بڑی دل فریب تھیں اور آپ کے دلائل بڑے فکر انگیز تھے لیکن ہم اب بھی ان مظاہر کائنات کے حسین مناظر کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ کیوں کہ ان کے اس طرز عمل میں خامی یہ ہے کہ جس چیز کی معرفت مشاہدے سے پیدا ہوتی ہے اس کی معرفت دلائل کی روشنی میں حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بالکل یہی حال تصوف، احسان اور سلوک و معرفت کا ہے۔

بے خبر اک راز کی دنیا ہے تو

شان حق کی تجھ سے ہوتی ہے نمو

تیری رگ رگ میں تجلی ہے نہاں

تو سراپا ہے نشانِ بے نشاں

تر ی ہستی ہے ظہور حسن ذات

تو حقیقت میں ہے نور کائنات

تجھ میں شنوا اور بینا ہے وہی

شعرکے پردہ میں گویا ہے وہی*

          اس کی سب سے شاندار مثال حضرت یوسف اور زلیخا کی سرگزشت زندگی میں ملتی ہے۔ جب زلیخا حسن یوسف پر قربان ہوئیں تو لوگوں نے انہیں یہ طعنے دیے کہ تمہاری عقل ماری گئی ہے کہ بازارِ مصر سے خریدے ہوئے ایک غلام کو تم دل دے بیٹھی ہو۔ لیکن قرآن اس بات پر شاہد ہے کہ جب اُن زنانِ مصر کی نظر حسنِ یوسف پر پڑی تو ایک طرف ان کے سارے طعنے گم ہوگئے، ان کی زبانیں بند ہو گئیں اور دوسری طرف ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور انہیں اس کا احساس تک نہ ہوا۔ اور وہ تمام زنانِ مصر بے ساختہ یہ پکار اٹھیں "ما ھذا بشر" یہ تو کوئی انسان ہی نہیں بلکہ کوئی فرشتہ ہے۔ بالکل یہی حال معرفتِ ذات حق تعالیٰ کا ہے کہ جسے جلوہ ذات حق کی لذتِ آشنائی نصیب ہو جاتی ہے وہ تمام "موجودات اعتباریہ" سے نظریں پھیر لیتا ہے اور کائنات کے ذرے ذرے میں تجلیات ذات حق کی جلوہ نمائی کا بہ بانگ دہل اعلان کرتا ہے۔ پھر وہ منصور حلاج بھی ہوتا ہے جسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اظہار حق کی پاداش میں مجھے قید و بند کی زندگی ملے گی یا مجھے سولی پر لٹکا دیا جائے گا۔

مولاناروم فرماتے ہیں:

اتصال بے تکیف بے قیاس

ہست رب الناس را با جانِ ناس

حق تعالیٰ کو اپنے بندوں سے جو اتصال اور جو لگاؤ ہے وہ کسی کیفیت اور کسی وہم و گمان سے بالا تر ہے۔

*شیح ابو سعید

جاری.............

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/evolution-of-wahdatul-wajud-throughout-the-islamic-history-(part--13)-تاریخ-اسلام-میں-تصورِ-وحدۃ-الوجود-کا-عروج-و-ارتقاء/d/109627

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..