New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:53 PM

Urdu Section ( 2 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 11) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

2 جنوری ، 2017

رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی

سدو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھو کوئی

رانجھا میں وچ میں رانجھے وچ، ہور نہ خیال کوئی

میں نہیں اُوہ آپ ہے، اپنی آپ کرے دل جوئی

ہتھ کھونڈی میرے آگے منگو موہڈے بھورا لوئی

بلھا ہیر سلیٹی ویکھو کتھے جا کھلوئی

بلھے شاہ

جب ہم یہ جان چکے  کہ نظریہ وحدۃ الوجود کا  موضوع حقیقت اور باطنی احوال و معارف اور اسرار و رموز ہیں اور اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس امر میں کسی کو مجال اعتراض نہیں ہے کہ حقیقی وجود صرف ذات حق سبحانہ تعالٰی کا ہی ہے،  وہی ازلی ہے وہی ابدی ہے، جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا، اور جب کچھ نہ ہو گا تو بھی وہ ہوگا، اور منکر و معترض اس فریب کا شکار ہو کر راہ حق سے بھٹک گئے کہ "میں" بھی ہوں، اور اسی "میں" نے انہیں ہلاک کر دیا۔

بقول غالب:

نہ تھا کچھ تو خدا تھا  کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈوبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا "میں" تو کیا ہوتا

اور نظریہ وحدۃ الوجود کی شکل میں صوفیا اور عرفائے کاملین نے اسی نظریہ کو پیش کیا ہے کہ حقیقی وجود صرف ذات حق تعالیٰ کا ہے، وہی قائم بالذات ہے، وہی ازلی ہے، وہی ابدی ہے اور وہی باقی ہے اور  ماسوا اللہ کل کائنات کی حقیقت فنا ہونا ہے۔ جیسا کہ قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ہے:

"کل شئی ھالک الا وجھہ"۔ (القصص:88) "

ترجمہ:

"اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔"

 اور قرآن میں دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے:

"كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ۔ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ(الرحمن 27-26)۔"

ترجمہ:

"ہر کوئی جو بھی زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے، اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہے۔"

اگر خالص علمی  نقطہ نظر سے ان دونوں آیتوں کا تجزیہ کیا جائے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں اللہ رب العزت نے خود ہر شئی  کو مرتبہ  فناء یا حالت عدم میں رکھا ہے اور قرآن میں اس کا اعلان بھی فرمایا ہے۔ اور وہ اس طرح ہے کہ جب اللہ نے فرمایا "کل شئی" یعنی ہر شئی، تو ہم نے ہر شئی کا وجود مان لیا۔  اب اگلا لفظ ہے "ھالک" جو کہ عربی گرامر کی رو سے اسم فاعل ہے اور   اس کی شرط یہ ہے کہ شئی کی شئیت پر فاعل کی صفت یعنی "ہلاکت" کا ورود ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی صورت یہ ممکن ہی نہیں کہ جس شئی کو "ھالک" یعنی ہلاک ہونے والا کہا گیا اس کا وجود صفت ہلاکت کے ساتھ قائم نہ ہو۔

 اور ہلاک ہونا معدوم ہونے کی ہی ایک صورت ہے۔ اور مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ما سواء اللہ کائنات کی ہر شئی کے اندر ہلاکت یا معدومیت پائی جاتی ہے اور یہی اس کی حقیقت بھی ہے۔لہٰذا، ثابت ہوا کہ  اس کائنات میں حقیقی وجود صرف ذات حق تعالیٰ کا ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام چیزیں "معرض ہلاکت" میں ہیں۔ اور صوفیاء اور عرفائے کاملین کی اصطلاح میں ان کے "وجودِ اعتباری" کا دار و مدار کاملاً اسی وجودِ حقیقی (ذات حق تعالیٰ) کے دست قدرت پر ہے اور جس وقت اس کی دست قدرت ہٹ جائے وہ سب کے سب ہلاک اور معدوم ہو جائیں۔

اور یہی مفہوم ہے اللہ کے اس فرمان کا:

"إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيئًا أَنْ يقُولَ لَهُ كُنْ فَيكُونُ"

ترجمہ:

(اس کا امرِ (تخلیق) فقط یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو (پیدا فرمانا) چاہتا ہے تو اسے فرماتا ہے: ہو جا، پس وہ فوراً (موجود یا ظاہر) ہو جاتی ہے (اور ہوتی چلی جاتی ہے۔(یٰسین:82)۔ 

اس آیت کریمہ کے مطابق لفظ "کن" وجود حقیقی یعنی ذات حق تعالیٰ کے تصرف کی نمائندگی کرتا ہے اور "فیکون" وجود حقیقی کے اس تصرف کے مظاہر کی نمائندگی کرتا۔ اور کائنات کی ہر شئی  اسی وجود حقیقی کے تصرفات کے مظاہر اور اثار ہیں۔ کچھ آثارِ ذاتی ہیں، کچھ آثارِ اسمائی ہیں، کچھ آثارِ صفاتی ہیں اور کچھ اثارِ افعالی ہیں ۔ 

اور نظریہ وحدۃ الوجود کی مکمل تشریح اور تفہیم وجودِ حقیقی اور وجودِ اعتباری کی اسی تقسیم سے عبارت ہے جسے تمام صوفیاء اور عرفاء نے اپنے اپنے حال اور اپنے اپنے مرتبہ کے مطابق بیان کیا ہے۔  اس لیے کہ اولیائے کرام جب کثرت کے ساتھ ریاضات و مجاہدات کرتے ہیں تو ان کے حجابات مرتفع ہوتے چلے جاتے ہیں۔  کیوں کہ جلوہ حق اور بندوں کے درمیان بے شمار حجابات ہیں مثلاً نفس کے حجابات ہیں، ابدان کے حجابات ہیں،  افعال کے حجابات ہیں، صفات کے حجابات ہیں،  عقل کے حجات ہیں،  روح کے حجابات ہیں،  سر کے حجابات ہیں، خفی کے حجابات ہیں پھر اخفا حجابات ہیں اور اسی طرح بے شمار حجابات ہیں۔

 اولیاء اور عرفاء  ان حجابات کو عبور کرتے ہوئے جیسے جیسے وجود حقیقی کے پر تو اور اس کی تجلیات کے قریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں ویسے ویسے ان پر یہ امر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے  کہ یہ تمام وجود جن کے حجابات کو ہم نے عبور کیا ہے وجود اعتباری تھے، ان کا اپنا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ قائم بالغیر تھے  قائم بالذات نہ تھے۔ اور پھر وہ وجودی توحید کے باب میں اس وجودِ اعتباری کا انکار کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح وہ  اپنے روحانی سفر کے ہر مقام اور ہر حجاب کو عبور کرتے  جاتے ہیں اور یکے با دیگرے ہر وجودِ اعتباری کا انکار کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرفان اور انکشاف کے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری کائنات بشمول "میں" کچھ بھی نہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ ان تمام میں اپنا کسی کا کچھ بھی نہیں بلکہ یہ تمام کسی اور کی وجہ سے موجود ہیں۔

  لہٰذا، کوئی بندہ مؤمن جب روحانی ترقی اور کشف و مشاہدہ  کا یہ مقام حاصل کر لیتا ہے تو پھر سارے وجوہ، ساری علتیں اور سارے مظاہر اس کی نگاہوں سے محو ہو جاتے ہیں اور جو ظاہر (ذات حق تعالیٰ)ہے وہ اس کی نظر میں آشکار ہو جاتا ہے۔  چونکہ اس مقام پر پہنچنے کے بعد صوفیاء اور عرفاء  خود کو بھی معدوم پاتے ہیں اسی لیے جب وہ کہتے ہیں کہ "رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی" تو اس مطلب یہ ہے کہ "رانجھا" "رانجھا" کرنے یعنی یہ وہ ریاضات کا عمل ہے کہ جس کی کثر سے  محبوب حقیقی کی معرفت اور اس کی قربت کا وہ مقام مجھے حاصل  ہوا ہے کہ مجھے حقیقت کا پتہ چل گیا اور وہ یہ ہے کہ "رانجھا" کچھ نہیں تھا بلکہ ایک اعتباری وجود تھا اور اصل حقیقت تو وہ ہیر (محبوب حقیقی یعنی ذات حق تعالیٰ) ہے۔  اور  رانجھا ررانجھا کرتے کرتے یعنی اللہ اللہ کے ذکر کی کثرت سے اتنے حجابات اٹھتے چلے گئے کہ  میرا یہ خیال ایک فریب ثابت ہوا کہ میں ہیر ہوں اور وہ میرا رانجھا ہے بلکہ حجابات اٹھنے سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ سارے وجود اعتباری تھے  اور مزید یہ کہ حجابات اٹھنے سے وجود حقیقی کا جو پر تَو نظر آیا تو اب حال یہ ہے کہ "آپے رانجھا ہوئی" یعنی میں اپنی جگہ سے مٹ گئی اور جب میں مٹ گئی تو دیکھا کہ وہ وجود حقیقی یا محبوب حقیقی ہی تھا۔

فناء کے اسی تصور کو ایک عظیم صوفی اور عارفِ ربانی پیر مہر علی شاہ  (متوفی – 1937 عیسوی)نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

ذاکر و مذکور و ذکرت یک شود

اندریں دم غیرِ حق بے شک رود

                (اے اللہ ! جب کوئی بندہ مؤمن تیرے ذکر میں محو ہو کر مقام فناء حاصل کر لیتا ہے تو ذکر، خود تو اور ذاکر ایک ہو جاتے  ہیں اور اس طرح ایک ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان حق کے علاوہ کسی کے اندر  بھی دم مارنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔)

جاری...........

URL: http://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/evolution-of--wahdatul-wajud-throughout-the-islamic-history-(part--11)-تاریخ-اسلام-میں-تصورِ-وحدۃ-الوجود-کا-عروج-و-ارتقاء/d/109576

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..