New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:42 AM

Urdu Section ( 26 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Eid al-Fitr and the Lesson of Mercy, compassion and Introspection عید الفطر اخوت و محبت اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

24 جون 2017

عید الفطر کا دن رمضان المبارک میں روزے کی رحمت و برکت، قیام لیل، نزول قرآن، لیلۃ القدر جیسی اللہ کی متعدد عظیم نعمتوں کے بعد روزہ داروں کے لئے رحمت و بخشش اور عذاب جہنم سے آزادی کی خوشیوں کے ساتھ مؤمنوں کے لئے اللہ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ اس دن اللہ کے نیک بندے اللہ کی ضیافت میں ہوتے ہیں اور پوری اطاعت شعاری کے ساتھ ماہ رمضان گزارنے والوں کی میزبانی عید کے دن اللہ رب العزت خود فرماتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس دن اللہ اسلام نے مؤمنوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ یعنی جب عید کے دن اللہ کے نیک بندے اپنے اعزاء و اقرباء اور دوست و احباب کو مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کرنے کے لئے ان کے گھروں کا رخ کرتے ہیں تو وہ اللہ کی راہ میں ہوتے ہیں اور وہاں ان کے استقبال میں در اصل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بیکراں رحمتیں اور برکتیں ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ اس دن اللہ اپنے نیک اور اطاعت شعار بندوں کو پورے مہینے کی عبادتوں، ریاضتوں، فرمانبرداریوں اور صرف اللہ کی محبت میں پورے مہینے بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنے کی جزا خود عطا فرماتا ہے۔

عید کی رات (چاند رات)

ماہ رمضان کے اختتام پر جو عید الفطر کی رات یعنی چاند رات ہوتی ہےاس کا نام"لیلة الجائزة" یعنی انعام کی رات ہے۔ اور جب عید کا فجر طلوع ہوتا ہے تو اللہ رب العزت اپنے فرشتوں کو اس دنیا کے ہر خطے میں اتار دیتا ہے اور وہ زمین میں پھیل کر تمام گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز میں کہ جسے جن و انس کے علاوہ پوری مخلوق سنتی ہے یہ ندا دیتے ہیں: اے امتِ محمدیہ ! اُس رب کریم کی طرف چلو جو کثرت کے ساتھ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔اور جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے:اس مزدور کی اجرت کیا ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اےہمارے رب! اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے اس کی مزدوری پوری ادا کر دی جائے،اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:'' فرشتو! تم سب گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں رمضان کے روزے اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضاء اور مغفرت سے نواز دیا ہے۔''

اس کے بعد اللہ تعالیٰ سبحانہ اپنے بندوں سے یوں خطاب فرماتا ہے:

اے میرے بندو ! مانگو کیا مانگتے ہو ؟ میری عزت و جلال کی قسم ! آج کے دن اس نماز عید کے اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے میں وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مجھ سے مانگو گے اس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا۔ میری عزت و جلال کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں پر پردہ پوشی فرماتا رہوں گا، میری عزت و جلال کی قسم ! میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (مجرموں) کے ساتھ رسوا نہ کروں گا، بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت پاکرلوٹ جاؤ ، تم نے مجھے راضی کر لیا اور مین بھی تم سے راضی ہو گیا۔" ( الترغیب و الترہیب)

عید کی چاند رات اور ہماری مصروفیات

 مذکورہ بالا حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عید کی چاند رات اللہ کی بارگاہ سے پورے ماہ رمضان میں رکھے گئے روزے اور اس میں کی گئی عبادتوں اور طاعتوں کی جزا ملنے کی رات ہے۔ لہٰذا، اس مبارک شب کی اہمیت و افادیت ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس رات کو ہم بازاروں، چوک اور چوراہوں پر گھومنے پھرنے اور عید کی خریداری میں ضائع نہ کریں، جیسا کہ یہ رجحان بڑی تیزی کے ساتھ ہماری نئی اور نوجوان نسلوں کے اندر فروغ پا رہا ہے۔ بلکہ اس مبارک رات کی رحمتوں اور برکتوں سے پوری طرح مستفیض ہونے کے لئےضروری ہے کہ ہم پہلے ہی عید کی تمام تیاریاں مکمل کر لیں اور عید الفطر کی اس رات کو اللہ کی بارگاہ میں گوشہ تنہائی اختیار کر کے بیٹھ جائیں پورے مہینے کے اپنے روزے، نماز اور دیگر عبادات اور پورے ماہ رمضان کے اندر اپنے شب و روز کے معمولات پر نظر ڈالیں اور اگر ان میں ہمیں کوئی نیکی نظر آئے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ان کی مقبولیت کی دعا کریں اور ان پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے اس کی رضا اور خوشنودی کے طلبگار بنیں۔ اور اگر ہم ماہ رمضان کے شب و روز میں اپنی جانب سے کوئی کوتاہی، غفلت اور معصیت پائیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ان کی بخشش اور عفو درگزر کی دعا کریں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش کی امید بھی رکھیں اس لیے کہ اس کی رحمت سے گناہوں کا معاف ہونا کوئی بعید نہیں ہے خواہ وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔

اس کا مطلب قطعی یہ نہ لیا جائے کہ اسلام اہل ایمان کو خوشیاں منانے کے مواقع نہیں دیتا اور تہواروں کے موقع پر بھی ایک مسلمان کو ہنسی خوشی اور تفریح طبع سے گریز کرنا چاہئے۔ بلکہ اسلام جائز حدود کے اندر ایک عام زندگی سے متعلق ان تمام باتوں کی اجازت دیتا ہے جن کا تقاضا ایک بشری فطرت کرتی ہےاور ساتھ ہی ساتھ بندوں کو ہرحال میں خدا کی قائم کردہ حدود کا پابند رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور اسلام مسلمانوں کو  ان تمام معمولات زندگی سے رک جانے کی ترغیب دیتا ہے جو بندے کو اللہ کے احکام سے غافل کر دیں اور اسے ان خاص نعمتوں اور انعامات سے محروم کر دیں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خاص اوقات میں اپنے بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔

معزز قارئین! اسلام ایک ایسا ہمہ گیر، انسانیت نواز اور اخوت پسند مذہب ہے جس نے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا ایک ایسا متوازی نظام قائم کیا ہے جو اپنی مثال خود آپ ہے۔ اگر ہم اس زاویہ نظر سے عید کے تہوار کو دیکھیں تو یہ پائیں گے کہ عید کا تہوار حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا ایک عظیم الشان سنگم ہے۔ اس لیے کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کے لئے عید کے دن صدقہ فطر کا ایک ایسا انوکھا نظام عطا کیا ہے کہ اگر تمام مسلمان اس پر عمل پیرا ہو جائیں اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق تمام لوگ صدقہ فطر کی ادائیگی وقت پر اس کے مستحقین کو کرنے لگیں تو امت کے ہر غریب طبقے کی کفالت پوری خوش اسلوبی کے ساتھ ہو جائے اور کوئی طبقہ عید کی خوشیوں اور اس کی نعمتوں سے محروم بھی نہ رہے۔

عید کے مستحبات

عید کے دن یہ امور سنت (مستحب) ہیں:۔

(1) حجامت بنوانا۔ (2) ناخن تراشوانا۔ (3) غسل کرنا۔ (4) مسواک کرنا۔ (5) اچھے کپڑے پہننا، نئے کپڑے ہوں تو نئے ورنہ دھلے ہوئے۔ (6) خوشبو لگانا۔ (7) انگوٹھی پہننا۔ (8) عید الفطر کی نماز کو جانے سے پہلے طاق عدد میں چند کھجوریں کھا لینا اور اگر کھجور نہ ہو تو کچھ بھی میٹھی چیز کھا لینا۔ (9) نماز عید، عید گاہ میں ہی ادا کرنا۔ (10) پیدل عید گاہ جانا۔ (11) عید کی نماز کے لئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔ (12) عدل کی نماز سے پہلے صدقہء فطر ادا کرنا۔ (13) خوشی و مسرت کا اظہار کرنا۔ (14) کثرت کے ساتھ صدقہ دینا۔ (15) نگاہیں نیچے کر کے عید گاہ کی طرف نکلنا۔ ( 16 ) آپس میں ایک دوسرے کو مبارک باد دینا۔ (17) بعد نماز عید صافحہ اور معانقہ کرنا۔ (18) عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں آہستہ آہستہ تکبیر کہتے ہوئے جانا تکبیر کے الفاظ یہ ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر واللہ اکبر وللہ الحمد۔ (کتب عامہ)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/eid-al-fitr-and-the-lesson-of-mercy,-compassion-and-introspection--عید-الفطر-اخوت-و-محبت-اور-خود-احتسابی-کا-درس-دیتا-ہے/d/111674

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..