New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:16 AM

Urdu Section ( 11 Dec 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Egotism And Arrogance Hide The Truth غرور و تکبر حق کی راہ کے روکاوٹ

 مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

(بہار ادب: قسط 19)

مذہب اور عقل دونوں اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ دنیا کے بڑے گناہوں میں اللہ کے ساتھ شرک اور تمرد و سرکشی سر فہرست ہیں۔ اسی لیے انہیں ام المعاصی (گناہوں کی جڑ) بھی کہا جاتا ہے۔جب ہم قرآنی آیتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرک و کفر اور تمرد و سرکشی کے درمیان ایک گہرا ربط ہے۔ اس لیے کہ حق اور اللہ کی نشانیوں کے مبین و مبرہن ہو جانے کے بعد صرف غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی کی بنیاد پر ہی ان کا انکار کیا جاتا ہے۔ غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی اثرات اور نتائج کے اعتبار سے کفر و شرک سے بھی زیادہ مہلک اور نقصاندہ ہے۔ بے شک شرک ایک گناہ عظیم ہے اور اس میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ لیکن غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی کے اثرات شرک سے بھی زیادہ خطرناک اس لیے ہیں کہ شرک کا اعلاج ممکن ہے لیکن غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی ایک ایسا کینسر ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ ممکن ہے کہ اگر علم اور دلائل کی روشنی میں اللہ کی وحدانیت کو پیش کیا جائے تو مشرک توحید پرستی کا قائل ہو جائے اور شرک سے باز آ جائے اور ایسا ہوا بھی ہے، لیکن جو غرور و تکبر کے نشے میں چور ہو اس کا ہدایت کو قبول کرنا غیر ممکن ہے۔ اور تاریخ بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ انبیائے کرام کی دعوت اور ان کی تعلیمات کو سب سے پہلے غرور و تکبر کی نخوت سے پاک عام اور سادہ ذہن لوگوں نے ہی قبول کیا ہے۔

قرآن مجید کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق کی دعوت وہی قبول کرتے ہیں جن کے دل غرور و تکبر سے پاک ہوتے ہیں اور صدق و صفا کا راستہ وہی اختیار کرتے ہیں جن کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اخلاص ہوتا ہے۔

اس ضمن میں چند آیتیں ملاحظہ ہوں:

        "آپ یقیناً ایمان والوں کے حق میں بلحاظِ عداوت سب لوگوں سے زیادہ سخت یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے، اور آپ یقیناً ایمان والوں کے حق میں بلحاظِ محبت سب سے قریب تر ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں: بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان میں علماءِ (شریعت بھی) ہیں اور (عبادت گزار) گوشہ نشین بھی ہیں اور (نیز) وہ تکبر نہیں کرتے۔" (مائدہ :82)

        "اور (یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض سچے عیسائی جب اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو اشک ریز دیکھتے ہیں۔ (یہ آنسوؤں کا چھلکنا) اس حق کے باعث (ہے) جس کی انہیں معرفت (نصیب) ہوگئی ہے۔ (ساتھ یہ) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم (تیرے بھیجے ہوئے حق پر) ایمان لے آئے ہیں سو تو ہمیں (بھی حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔ اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق (یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید) پر جو ہمارے پاس آیا ہے، ایمان نہ لائیں حالانکہ ہم (بھی یہ) طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ (اپنی رحمت و جنت میں) داخل فرما دے۔" (مائدہ :83 – 84)

        "پس ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں اُن (آیتوں) کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبّر نہیں کرتے۔" (سجدہ :15)

        "اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت میں سب آسمان اور زمین آجاتے ہیں، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔" (آل عمران: 34-33)

اکثر لوگوں نے غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی کی بناء پر ہی انبیاء علیہم السلام کے پیغامات کو مسترد کیا ہے۔

قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:

        "اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ غرور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں (بہرے پن کی) گرانی ہے، سو آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیں۔"(لقمان :7)

        "جو اللہ کی (اُن) آیتوں کو سنتا ہے جو اُس پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے تکبّر کرتے ہوئے، گویا اُس نے انہیں سنا ہی نہیں، تو آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیں" (الجاثیہ:8)

مغرور و متکبر انسان دوسروں کو بھی حق بات سننے اور اس پر عمل کرنے سے روکتا ہے۔

        "اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ کلام خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوجھ بوجھ کے لوگوں کو اﷲ کی راہ سے بھٹکا دیں اور اس (راہ) کا مذاق اڑائیں، ان ہی لوگوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔" (لقمان :6)

غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی میں ڈوبے ہوئے لوگ حق کا مذاق اڑاتے ہیں اور انبیائے کرام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔

        "پھر جب اُن کے پاس ڈر سنانے والے (نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو اس سے اُن کی حق سے بیزاری میں اضافہ ہی ہوا۔ انہوں نے) زمین میں اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنا اور بری چالیں چلنا (اختیار کیا)، اور برُی چالیں اُسی چال چلنے والے کو ہی گھیر لیتی ہیں" (فاطر :42 –43)

        "اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رُوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گے۔" (کہف :57)

اب ہم قرآن پاک کی ان آیتوں کا مطالعہ کرتے ہیں جن میں واضح طور پر اس بات کاذکر ہے کہ جن قوموں پر اللہ نے اپنا عذاب نازل کیا اور انہیں تباہ و برباد کر کے اہل زمین کے لیے نشان عبرت بنایا ان کے اندر بھی بنیادی طور پر یہی خرابی موجود تھی اور انہوں نے غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی کی بنیاد پر خدا کے حکم سے رو گردانی کی اور انبیائے کرام کی دعوت اور ان کے پیغامات کی ہر محاذ پر پورے شد و مد کے ساتھ مخالفت کی جس کا انجام یہ ہوا کہ انہیں اللہ کے عذاب نے اپنی چپیٹ میں لے لیے اور اللہ نے ان کے لیے آخرت میں بھی دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔        "اور میں نے جب (بھی) اُنہیں (ایمان کی طرف) بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور (کفر پر) ہٹ دھرمی کی اور شدید تکبر کیا۔" (نوح :7)

        "بے شک اگر تو اُنہیں (زندہ) چھوڑے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے، اور وہ بدکار (اور) سخت کافر اولاد کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے۔" (نوح :27)

احادیث مبارکہ:

        ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا کہ مجھے کچھ وصیت فرمایئے آپ ﷺ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو اس نے یہ سوال بار بار پوچھا اور آپ ﷺ نے بھی ہر مرتبہ یہی فرمایا کہ غصہ نہ کا کرو ۔ (بخاری)

        رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص کشتی سے پہلوان نہیں بنتا بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں خود پر قابو رکھے ۔ (بخاری، مسلم)

        رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی نشان دہی نہ کر دوں (اور پھر فرمایا کہ اہل جنت) ہر وہ کمزور ہے جسے کمزور سمجھا جائے اگر وہ الله کی قسم کھائے تو اسے پوری کردے۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی نشان دہی نہ کر دوں (اور پھر فرمایا کہ اہل نار) ہر سخت دل، بدکار اور متکبر ہے۔(مسلم،بخاری)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جہنم میں نہیں داخل ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو ۱ور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی غرور ہو۔ (مسلم)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی غرور ہو وہ جنت میں نہیں داخل ہوگا، (یہ سن کر) ایک شخص نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ الله جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہےغرور تو حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے(مسلم)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن الله نہ تو ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گااور ایک روایت میں ہے کہ ان کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور وہ تین حسب ذیل ہیں:

1.      بوڑھا زانی

2.      جھوٹا بادشاہ

3.       مغرور و متکبر فقیر (مسلم)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ متکبر لوگوں کو قیامت کے دن مردوں کی صورت میں چیونٹو ں کی طرح جمع کیا جائے گا، جن پر ہر جانب سے ذلت ہی ذلت چھائی ہوگی، انہیں بولس نامی دوزخ کے ایک قید خانے کی طرف دھکہ دیا جائے گاان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی اور انہیں دوزخیوں کا پیپ پلایا جائے گا۔ (ترمذی)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے سرد کیا جاتا ہے لہٰذا، جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے۔ ابوداؤد)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سےکسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر غصہ ختم ہو جائے توٹھیک ہے ورنہ لیٹ جائے۔ (احمد،ترمذی)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے الله کے نزدیک کوئی گھونٹ اس غصہ کے گھونٹ سے بہتر نہیں ہے جسے بندہ الله کی رضا جوئی کے لیے پی لے۔(احمد)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ ایمان کو اس طرح برباد کر دیتا ہے جسے ایلوا شہد کو۔ (مشکوٰۃ)

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے رب ترَے بندوں میں تر ے نزدیک کون زیادہ عزت والا ہے؟ (اللہ نے فرمایا) میرے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے کہ جب قدرت پائے بخش دے ۔

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنی زبان کی حفاظت کرے الله تعالٰی اس کے عیب چھپالے گا اور جو اپنا غصہ پی جائے الله تعالٰی اس سے قیامت کے دن اپنا عذاب اٹھا لے گا  اور جو الله تعالٰی کی بارگاہ میں معذرت کرے الله تعالٰی اس کے عذر کو قبول فرمائے گا۔

        ابن عمر (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ عزوجل کے غضب سے مجھے کونسی چیز بچائے گی؟ توآپ ﷺنے فرمایا: غصہ مت کیا کرو۔( احمد ، ابن حبان )

         ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : مجھے ایسا کام ارشاد فرمائیں کہ جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غصہ مت کرو تمہیں جنت ملے گی ۔(طبرانی)

 سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی بارگاہ میں دو لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کیا ان میں سے ایک کی آنکھیں غصہ سے لال ہو گئیں اور گلے کی رگیں پھول گئیں تبھی نبی ﷺنے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے کہے گا تو اس کا غصہ اتر جائے گا اور وہ کلمہ ہے ، اس (غصہ کرنے والے)شخص کی طرف سے ایک شخص اٹھ کر گیا جس نے یہ بات نبی ﷺ سے سنی تھی اور کہا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ نبی ﷺ نے ابھی کیا فرمایا ؟ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ: مجھے ایک ایساکلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اس سے کہے تو اس کا غصہ اتر جائے گا اور وہ کلمہ ہے یہ سن کو اس (غصہ کرنے والے )شخص نے کہا : کیا تو مجھے دیوانہ سمجھتاہے ۔( مسلم)

جاری...........................

URL: https://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/egotism-and-arrogance-hide-the-truth--غرور-و-تکبر--حق-کی-راہ-کے-روکاوٹ/d/109348

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..