New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 06:31 AM

Urdu Section ( 16 Sept 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Abrogation in Quran, Part-2 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث

مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام

14 ستمبر 2018

قیاس اور اجماع نسخ کی اہمیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ اس حوالے سے ملا احمد جیون رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب تفسیرات احمدیہ میں لکھتے ہیں;

‘‘ قیاس ناسخ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس پر سب کا اتفاق ہے اور اکثر علماء کے نزدیک اجماع بھی ناسخ نہیں ہوسکتا۔ رہا کتاب اللہ کا کتاب اللہ سے نسخ اور کتاب اللہ کا سنت سے نسخ تو یہ جائز ہے ۔ اسی طرح سنت کا نسخ سنت سے جائز ہے۔ البتہ سنت کا نسخ کتاب اللہ سے ہم احناف کے نزدیک جائز ہے۔ حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ کا نسخ صرف کتاب اللہ کرسکتی ہے اور سنت کا نسخ صرف سنت کر سکتی ہے۔ یعنی آپ کے نزدیک کتاب اللہ سے سنت کا نسخ اور سنت سے کتاب اللہ کا نسخ درست نہیں۔ آپ اپنے موقف پر دلیل یہ پیش فرماتے ہیں کہ اگر کتاب اللہ کا نسخ سنت سے جائزمان لیا جائے تو منکرین اور جھگڑالو ہو کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالی کی باتوں اور احکام کو سب سے پہلے جھٹلانے والا خود اس کا رسول ہے۔ جب معاملہ یہ ہے تو ہم ایسے پیغمبر کی تبلیغ سے کیوں کر اللہ تعالی پر ایمان لائیں؟ اسی طرح اگر سنت کا نسخ کتاب اللہ سے تسلیم کر لیا جائے تو دین اسلام پر طعن کرنے والے کہتے پھریں گے ، دیکھو! مسلمانوں کے خدا نے اپنے بھیجے ہوئے پیغمبر کو سب سے پہلے جھٹلا دیا۔ جب یہ حالت ہے تو پھر ہم ان کے نبوت کے دعوے کو کیسے درست قرار دیں۔ ( کل کو اللہ تعالی ان کے اس دعویٰ کی بھی تکذیب کر سکتا ہے)

 ہم احناف ان دلائل کے جواب میں کہتے ہیں کہ نسخ فی الواقع کسی قسم کی تبدیلی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ’’بیان محض‘‘ ہے۔ جب نسخ کا مطلب صرف بیان کرنا ہے تو پھر ازروئے عقل یہ جائزہے کہ اللہ تعالی اپنے رسول کے کلام میں‘‘ مدت انتہاء’’ بیان فرما دے، یا رسول ﷺ اللہ کے کلام کی ‘‘مدت انتہاء’’ بیان کردیں۔ رہا مذکورہ طعن کا معاملہ تو یہ صرف مذکورہ دو صورتوں پر ہی نہیں بلکہ نسخ کی ہر صورت پر ہو سکتا ہے۔ ( مثلا امام شافعی رضی اللہ عنہ کتاب اللہ کا کتاب اللہ سے نسخ تسلیم کرتے ہیں۔ اس پر طعن کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود سب سے پہلے اپنی تکذیب آپ کردی۔ تو ہمیں سچا ماننے اور ایمان لانے کا حکم دینا بیکار ہے۔ کل کو اس کی بھی تکذیب ہوسکتی ہے) اس لیے ایسے طعن و اعتراض سے جب نسخ کی کوئی صورت محفوظ نہیں تو پھر یا تو‘‘نسخ’’ کا اقرار ہی نہ کیا جائے یا پھر اسے درخور اعتنا سمجھا جائے۔ اصول فقہ میں اس موضوع پر اسی قسم کی گفتگو مذکور ہے’’۔ (تفسیرات احمدیہ۔ صفحہ 37)

اسی مقدمہ کی مزید توضیح کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعدی نور اللہ مرقدہ تبیان القرآن میں لکھتے ہیں؛

 امام مالک ، اصحاب امام ابی حنیفہ ، جمہور اشاعرہ اور معتزلہ اس بات کے قائل ہیں کہ سنت سے قرآن کا نسخ ہو سکتا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ سنت بھی اسی طرح وحی الٰہی ہے جس طرح قرآن وحی الٰہی ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى

ترجمہ: ‘‘اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے’’۔( النجم آیت نمبر4-3)

 اور قرآن اور حدیث میں اس کے سوا اور کوئی فرق نہیں کہ قرآن کے الفاظ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئے ہیں اور حدیث کے الفاظ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی انشاء اور ترتیب پر مبنی ہیں، اور دونوں کے معنی اللہ تعالی کی طرف سے منزل ہیں۔ اس لیے عقلاً اور شرعاً یہ جائز ہے کہ کسی ایک وحی سے ثابت ہونے والا حکم دوسری وحی سے منسوخ کر دیا جائے۔

 امام شافعی، امام احمد کے ایک قول اور اہل ظاہر کے نزدیک سنت سے قرآن کا نسخ جائز نہیں ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے؛

بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

ترجمہ: ‘‘روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری ہی طرف یہ یاد گار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔’’ ( النحل آیت نمبر 44)

 اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا منصب قرآن کے معنی بیان کرنے میں منحصر ہے اور اگر سنت اور ان کی ناسخ ہو تو سنت قرآن کے بیان کے بجائے اس کی رافع ہو جائے گی۔

 اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں کوئی کلمہ حصر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف بیان کرنے والے ہیں، مثلا اللہ کا ارشاد ہے؛

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

ترجمہ: ‘‘بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو۔’’ (الفرقان آیت نمبر 1)

اس آیت میں رسول اللہ صلی وسلم کو نذیر فرمایا ہے،  حالآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر بھی ہیں،  تو آپ کو نذیر کہنے سے آپ کے بشیر ہونے کی نفی نہیں ہوتی اسی طرح آپ کی سنت کے بیان ہونے سے اس کے ناسخ ہونے کی نفی نہیں ہوتی اور بالفرض آپ کا منصب صرف قرآن کے بیان کرنے میں منحصر ہو تو پھر آپ کا شارع ہونا اور بعض چیزوں کو حلال کرنا اور بعض چیزوں کو حرام کرنا بھی اس حصر کے خلاف ہوگا حالآنکہ قرآن مجید سے آپ کا شارع ہونا آپ کے لیے تحلیل و تحریم کا منصب بھی ثابت ہے۔

مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ: ‘‘جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے’’۔ (الحشر آیت نمبر 7)

 اس آیت میں آپ ﷺ کے شارع ہونے کا بیان ہے۔

 الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔

ترجمہ: ‘‘وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتا رے گا، تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد ہوئے۔’’ (الاعراف آیت نمبر 157)

 اس آیت میں آپ کے منصب تحلیل و تحریم کا بیان ہے۔

 نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ نسخ بیان کے منافی نہیں ہے، کیونکہ سنت سے قرآن کا کوئی حکم بھی کلیۃً منسوخ نہیں ہوا بلکہ قرآن مجید کی بعض آیات کے عموم کو سنت سے خاص کرلیا گیا ہے اور سنت سے یہ متعین کرنا کے اس آیت کے عموم سے فلاں فرد کو خاص کر لیا گیا ہے یہ بھی قرآن کا بیان ہے۔

 مخالفین کی دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن سے سنت کی حجیت ثابت ہے اب اگر سنت خود قرآن کی ناسخ ہو تو سنت بھی حجت نہیں رہے گی کیونکہ نسخ رفع ہے اور جب اصل اٹھ جائے گی تو فرع بھی اٹھ جائے گی ، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی جن آیت سے سنت کی حجیت ثابت ہے سنت ان کے لیے ناسخ نہیں حتی کہ یہ اعتراض لازم آئے ، بلکہ وہ دوسری بعض آیت کے عموم کی ناسخ ہے۔

 مخالفین کی تیسری دلیل یہ آیت ہے:

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔

ترجمہ: ‘‘اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجیے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔’’ (یونس آیت نمبر 15)

 اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا تقاضہ یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں تبدیلی کرنا آپ کے اختیار میں نہیں اور سنت کے ناسخ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کے الفاظ تبدیل کردیے جائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے عموم سے بعض افراد کو خاص کر لیا جائے۔

 مخالفین کی چوتھی دلیل یہ آیت ہے:

مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ: ‘‘جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔’’ (البقرہ آیت نمبر 106)

 دلیل کی تقریر یہ ہے کہ اگر سنت قرآن کی ناسخ ہو تو اس سے لازم آئے گا سنت قرآن کی مثل ہو یا اس سے افضل ہو، اور یہ محال ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ سنت کے الفاظ اور نظم قرآن کی مثل نہیں ہوسکتے اور سنت کے ناسخِ قرآن ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ قرآن کے عموم اور اطلاق کی تقیید کرتی ہے اور سنت متواترہ سے ثابت ہونے والا حکم بھی اسی طرح قطعی ہے جس طرح قرآن قطعی ہے۔ نیز ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سنت بھی وحی الہی ہے، اس لیے درحقیقت منسوخ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقط مبلغ اور معبر ہیں’’۔ (تبیان القرآن صفحہ 83-82)

URL for Part-1: https://www.newageislam.com/urdu-section/abrogation-quran-part-1-/d/116373

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/abrogation-quran-part-2-/d/116397


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..