New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 08:34 AM

Urdu Section ( 15 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hazrat Sheikh Hamza - Struggles and Services! !حضرت شیخ حمزہؒ- جدوجہد وخدمات


میر غلام حسن

14اکتوبر 2020

انبیائی مشن کو جہاں خود انبیاء حضرات نے بڑی محنت کے ساتھ آگے بڑھانے کی مثالی کوشش کی،وہیں ان کے ساتھیوں اور پیروں کاروں نے بھی اس کار عظیم کی آبیاری میں اپناکلیدی رول ادا کیا، دعوت انبیاء یہی تھی کہ صرف ایک اللہ کی عبادت ہوجائے اور وہی حقیقی خالق او رمالک ہے۔ یہ دعوت حضرت آدمؑ سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر نبی نے دی اور اس دعوت عظیم کے پھیلاؤ میں خود انبیاء نے بھی مشکلات او رمصائب برداشت کئے،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس راہ حق میں کافی مشکلات سہے اور حق کے غلبہ کے لئے بے مثال قربانیاں پیش فرمائیں،اتنا ہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اس دین اسلام کے غالب کرنے کے دوران اپنی عزیز جانوں کی قربانیاں تک بھی پیش کی۔ ان حضرات کو صحابہؓ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اللہ نے ان سے راضی ہونے کا اعلان درقرآن فرمایا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ بھی مجھ سے راضی ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشن عظیم کو صحابہ کے دور سعادت کے بعد تابعین حضرات نے آگے بڑھانے کی کوشش فرمائی اور انہوں نے اپنی حداختیار کے طور پر یہ کار خیر انجام دیا اور بعد میں تابعین نے بھی اس کارعظیم کو انجام دینے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی بلکہ تاریخ میں ان کے کارناموں کو سنہری حروف سے یاد کیا جاتاہے اللہ ان کی کاؤشو ں کو اپنے دربار میں قبولیت کاجامعہ عطا فرمائے آمین۔

اللہ کے نیک بندوں کی نشانی تو یہی ہوتی ہے کہ وہ نیک عمل کے ساتھ ساتھ اعلان توحید بھی کرتے ہیں۔قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ترجمہ: اللہ پرہیزگار وں کا دوست ہے یعنی خدا سے ڈرنے والے خدا کے محبوب ہوتے ہیں یہ لوگ روشنی کو پسند کرتے ہیں اور اندھیرے سے خود بھی دور رہتے ہیں او راوروں کو بھی دور رہنے کی صلاح دیتے ہیں یہ تو خدا کے نیک بندوں کا خاص کام ہوتاہے۔جن لوگوں کو اولیاء اللہ کہا جاتاہے ان کی یہ خاص صفت ہوتی ہے کہ وہ ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ سے ڈرتے ہیں اور یہی وہ زاد راہ ہے جس کو استعمال کرکے یہ لوگ غلبہ دین کے لئے کام کرتے ہیں۔ ان داعیان دین حق نے ہر زمانے میں اپنی اپنی استعدا کے مطابق دعوت واشاعت دین کی مساعی کو انجام دینے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت شیخ حمزہ مخدومیؒ ان ہی داعیان دین حق میں سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔حضرت مخدومؒ زنگیر کے ایک گاؤں تجرشریف میں پیدا ہوئے آپ کی تاریخ ولادت 900ھ ہے اس زمانے میں سلطان بڈشاہ کے بعد شاہمیری خاندان کا تیسرا فرمارواسلطان محمد شاہ کشمیرکا حکمران تھا۔ حضرت سلطان العارفین کا نام حمزہ رکھا گیا تھا حمزہ عربی زبان میں شیر کو کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا یہی اسم مبارک تھا جو احد کے میدان میں شہیدہوگئے تھے جب کہ حضرت مخدوم کے والد کا نام بابا عثمانؒ رینہ تھا آپ سورج بنسی خاندان سے تھے آپ کے سلسلہ نسب میں راؤن چندر نے اسلام قبول کیااور انہی کورینہ کے خطاب سے نوازا گیا۔حضرت بابا عثمان رینہ پرہیزگار اور خدا ترس تھے جس کی وجہ سے حضرت مخدوم پاک کی زندگی پرنہایت ہی مفید اثر پڑا۔

حضرت مخدوم پاک کو اپنے دادا نے سرینگر لایاجہاں ا ن کا داخلہ دارالشفاء میں ہوا یہاں آکر حضرت مخدومؒ نے علم حاصل کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں ریاضت وعبادت کا ذوق پیدا ہوا اور آپ کو ہمیشہ مرشد کی تلاش رہتی تھی اللہ کا کرنا تھا کہ 932 ھ میں حضرت سید جمال الدین دہلوی البخاریؒ کشمیر تشریف لائے اور خانقاہِ ملک احمد یتو میں قیام فرمایا۔ حضرت سید نے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے باطنی حکم کے تحت حضرت مخدوم کی روحانی تربیت فرمائی۔ آپؒ نے کوہ ماراں (ہری بت) کے جنوبی حصہ میں تبلیغ دین کے لیے ایک دل کش جگہ پسند فرمائی آپؒ کے ہم عصر اولیاء اللہ حضرت سید احمد کرمانی،حضرت علامہ شیخ یعقوب صرفیؒ،حضرت خواجہ محمد طاہر رفیقیؒ وغیرہ بزرگ ہیں آپ کے خلفاء میں حضرت ابوحنیفہ ثانی شیخ بابا داودخاکیؒ، حضرت ہردی باباریشمی (ریشہ مالوصاحب)،میر بابا حیدر تولہ مولہؒ،خواجہ حسن قادریؒ او رملااحد چاگلی ؒ وغیر ہم ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سعید ؓبن جبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اللہ کے ولی کون ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے۔ تو پتہ چلتا ہے کہ ولی خدا کی صحبت میں رہ کر انسان نیکیوں کی طرف راغب ہوجاتاہے قرآن کریم میں بھی اکثر عقیدہ آخرت کو ہی ابھارا گیا ہے۔ حضرت مخدومؒ کو قرآن پاک کے ساتھ شغف تھا اور ایک مومن کے لئے قرآن ہی سرچشمہ قوت ہے۔حضرت بابا داؤد خاکیؒ فرماتے ہیں کہ ”میں جب حضرت مخدوم کے سامنے تلاوت کرتاتھا تو حضرت گاہ گاہ میری غلطی کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتے”مجھے یوں یاد ہے“ میں قرآن پاک کھول کر اپنی غلطی درست کرتا اور ہر وقت یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا کہ نہ صرف یہ عبادت بلکہ اسراروخواص کے مطلق جو کچھ حضرت مخدمؒ مجھ سے بیان فرماتے۔ میں بالکل کتابوں کے اندر وہی پاتا“۔غرض حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم کشمیریؒ نے دین حق کے غلبہ کے لئے بے مثال جدوجہد کی اور اپنے مریدوں کو یہی پیغام دیا کہ کامیابی صرف اور صرف اللہ کی بندگی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ممکن ہے۔ حضرت مخدوم نے 984ھ میں رحلت فرمائی۔ آپؒ کی وصیت کے مطابق آپ کو مرکز رشد و ارشاد کو ہی مرقد منور کے لئے منتخب کیا ہے۔ اللہ آپؒ کے درجات کو بلند فرمائے او رہمیں دین اسلام پر ثابت رکھے۔آمین۔

14اکتوبر،2020، بشکریہ: روز نامہ چٹان،سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mir-ghulam-hassan/hazrat-sheikh-hamza--struggles-and-services-حضرت-شیخ-حمزہؒ-جدوجہد-وخدمات/d/123155


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..