New Age Islam
Wed Jan 28 2026, 05:18 AM

Urdu Section ( 13 Nov 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hanged For Trying To Bridge the Gap between Islam and Hinduism اسلام اور ہندو مت کے درمیان خلا کو پر کرنے کی کوشش میں تختہ دار پر چڑھنے والا: دارا شکوہ

  

 مینی کرشنن

31 اگست  2008

دارا شکوہ کی شخصیت، جن کی برسی 30 اگست کو ہوتی ہے، محض ایک صوفی، ایک دانشور اور ایک مترجم تک ہی محدود نہیں تھی۔ وہ ترجمہ کے ایک سرگرم عمل مدیر اور پبلیشر بھی تھے۔

ہر وہ ہندوستانی جس نے کبھی کسی متن کا ترجمہ انگریزی میں کیا ہو وہ اس مغل شہزادے کا مقروض ہے جسے دہلی میں ہمایوں کے مقبرہ کے احاطے میں دفن کیا گیا ہے۔ اس کی موت کی سالگرہ 30 اگست کو ہوتی ہے جسے ہم سب کو قومی سطح پر منانا چاہیے۔ 350 سال پہلے مغل تخت کے لئے جدوجہد میں، شاہجہاں کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ دارا شکوہ کو شکست ملی تھی، اور اس کے بعد اسے دہلی لایا گیا جہاں اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ ایک گندے ہاتھی میں باندھ کر اسے پورے شہر کا گشت کرایا گیا۔

اہم الزام

آج ہمارے لیےجو بات اہم ہے وہ یہ نہیں ہے کہ یہ بادشاہت کے لئے ایک جنگ تھی –جو کہ خود میں کوئی غیر معمولی بات نہیں –بلکہ اورنگ زیب نے اپنے ایک جائز وارث کے خلاف جو بڑا الزام پیش کیا تھا اسے انہوں نے اپنی ایک کتاب مجمع البحرین میں شائع کیا تھا جس میں دارا شکوہ نے کھل کر ہندومت میں موجودحقانیت کا اعتراف کیا تھا۔ اپنے دادا کی طرح، دارا شکوہ نے بھی ہندومت اور اسلام کے درمیان خلا کو پر کرنے کی کوشش کی تھی۔ شہنشاہ اکبر کا اس بات پر پختہ یقین تھا کہ ان کے مغل امراء کو اپنی ہندو رعایا کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اور اس نے رامائن، مہا بھارت اور بھگوت گیتا کو فارسی میں ترجمہ کرنے کے لئے ایک ترجمہ بیورو قائم کیا تھا۔ شہزادہ دارا شکوہ اس سے بہت آگے چلا گیا تھا۔

دارا شکوہ، جن کے نام کا مطلب "دارا کا جلال" ہے، 1615 میں شاہجہاں اور ممتاز محل کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والد کے جانشین اور ان کے چہیتے بیٹے تھے۔ جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے گئے، علم میں ان کی نمایا خصوصیات اور تصوف میں ان کی گہری دلچسپی سے، جس کی انہوں نے مسلسل تحقیق کی، یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ کوئی عام انسان نہیں تھے۔ 1640 میں ان کا تعارف لاہور کے ایک مشہور قادری صوفی حضرت میاں میر سے ہوا جنہوں نے جہانگیر اور شاہجہاں دونوں کو اپنی تمام رعایا کے ساتھ بھلائی کرنے پر زور دیا تھا۔ اسی سال دارا شکوہ نے اپنی پہلی کتاب، سکینۃ الاولیاء شائع کیا جو کہ مسلم صوفیاء اور عرفا کی سوانح حیات کا ایک مجموعہ تھی۔ ان کی دلچسپی میں اس وقت ایک بڑی تبددیلی پیدا ہوئی جب ان کی ملاقات ایک ہندو عارف بابا لال بیراگی سے ہوئی، جن کے ساتھ ہوئے مکالمے کو انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی کتاب بابا لال و دارا شکوہ میں درج کی ہے۔

انہوں نے ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست بنایا، اور ان کے روحانی سفر کے نتیجے میں ان کی زبان کثیر جہتی ہو گئی۔ اسلام اور ہندو مت کے درمیان ایک مشترکہ صوفیانہ زبان تلاش کرنے کی کوشش میں، دارا شکوہ نے سنسکرت سے اپنشدوں کا ترجمہ فارسی میں کرنے کا کے لیے ایک کمیشن کی تشکیل کی اور یہاں تک کہ انہوں نے ذاتی طور پر ان میں سے کچھ ترجمہ نگاری میں خود شرکت کی۔ مشترکہ علمی سرمیوں میں ان کو یقین تھا، اگرچہ،یہ بات حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے۔ دارا کی حوصلہ افزائی پر ہندو اور مسلمان دونوں مذہب کے خواندہ لوگوں نے مل جل کو اس کام کو انجام دیا۔ ان کے ترجمہ کو سر اکبر (عظیم راز) کہا جاتا ہے اور اپنے تعارف میں انہوں نے پوری بے باکی کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ قرآن مجید میں جس کتاب کو کتاب المکنون یا "خفیہ کتاب" کے نام سے یاد کیا گیا ہے اس سے مراد اپنشدوں ہی ہے۔ اگر ان کے بھائی کو اس کے خلاف کسی ثبوت کی ضرورت تھی تو بڑی آسانی کے ساتھ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح خود دارا شکوہ نے اورنگ زیب کو کافی مواد فراہم کیا ہے۔

مایہ ناز کتاب

دارا شکوہ کی سب سے مشہور اور مایہ ناز کتاب مجمع البحرین (دو سمندروں کا اجتماع) کا مقصد تصوف اور ہندو توحید پرستی کے درمیان ایک مشترکہ تعلق اور ربط بھی تلاش کرنا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت نے اس کی قسمت کا فیصلہ کر دیا، اور اورنگ زیب نے دارا پر قابو پانے کے لیے مذہبی گروہوں کی تائید و توثیق اور سیاسی لوگوں کے حربوں کا استعمال کیا، اس نے دارا کے خلاف یہ ایک مضبوط مقدمہ چلایا کہ وہ حکمرانی کرنے کے لئے نااہل ہے۔ جون 1659 میں سنسکرت کتابوں کا ترجمہ کرنے کے لئے، اورنگ زیب نے دارا شکوہ کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا تھا۔ دارا پہلے ہی جنگ میں شکست کھا کر اورنگ زیب کا قیدی بن چکا تھا۔ آخر میں دارا کے قاتل جب اس کے پاس آئے تو وہ اپنے اوراپنے نوجوان بیٹے کے لئے کھانا پکا رہا تھا۔ معزول شہزادے نے اپنے قاتلوں کی تلواروں کے مقابلے میں مطبخ کی چھری کا استعمال کرتے ہوئے ایک بادشاہ کی طرح لڑائی کی۔ جرمن اور انگریزی میں بائبل کا ترجمہ کرنے والوں کو جس طرح ہلاکت انگیز مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اسی طرح اپنشدوں کے پہلے مترجم کو بھی ایسی ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے آخری رسومات کی ادائیگی کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا تھا، سر کے بغیر اس کے جسم کو ایسے ہی کسی گڈھے میں پھینک دیا گیا۔

دارا شکوہ کے قتل کے ایک سو چالیس سال کے بعد اپنشدوں کے ان کے ترجمہ کو، جسے کہ طاق نسیاں پر رکھ دیا گیا تھا، ایک فرانسیسی مسافر (Anquetill Duperon1801) نے لاطینی، یونانی اور فارسی کے ایک مجموعہ میں ترجمہ کر کے پیش کیا۔ اور یہ وہی کتاب تھی جس پر (Schopenhauer) کی نظر گئی تھی جنہوں نے نو سالوں کے بعد ان ناقابل فراموش الفاظ کو تحریر کیا تھا کہ ‘‘اپنشدوں سے زیادہ فائدہ مند اس پوری دنیا میں کوئی بھی کتاب نہیں ہے یہ میری زندگی کا سکون ہے۔ اور میری موت تک یہ میرے دل کا سکون رہے گی۔ کئی صدیوں تک گمنام رہنے والے ایک جدید ترین اور اعلی درجے کی زبان میں ادب کے اس عظیم ترین خزانے کی یکلخت دریافت نے یورپ کی لائبریریوں میں ایک ہلچل پیدا کر دی، اور وہاں کے علماء اور مفکرین نے ہندوستان کو اسی تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا۔

دو مکمل طور پر مختلف اور یہاں تک کہ مخالف روایات کے درمیان سب سے پہلے ربط پیدا کرنے میں اس مغل شہزادے کے اصول و نظریات اور سرگرمیان تھیں جنہوں نے مغربی دنیا میں ہندوستانی افکار و نظریات کو متعارف کرایا۔ دارا کی یہ لسانی خلاف ورزی اس کی بربادی کی وجہ بنی؛ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے ترجمہ نے مختلف تہذیبوں کے درمیان ثقافتی تعلقات کے لیے راستے ہموار کیے۔ ایک ممتاز مورخ ستیہ ناتھ اییر لکھتے ہیں کہ، "انہیں حق کے عظیم متلاشیوں میں شمار کیا جانا چاہیے، جو جدید نسل کے افکار و نظریات کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔"

ای میل:

minik@satyam.net.in

ماخذ:

 ہندو، نئی دہلی

URL for English article:  https://newageislam.com/islamic-personalities/hanged-trying-bridge-gap-between/d/678

URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/hanged-trying-bridge-gap-between/d/105256

 

Loading..

Loading..