New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 11:23 AM

Urdu Section ( 11 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Civilization and Spiritual Evolution تہذیب اور روحانی ارتقاء

 

 منہاج خان

14جون 2012

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

بہائی مذہب  کے بانی  بہاءاللہ  کے بیٹےعبد البہاءنے یہ کہا کہ  "وجود کے تمام حقائق میں، سب سے زیادہ ممتاز اور معزز انسانیت کو حاصل  حکمت  اور عقل ہے۔ فلسفہ، فن، سائنس، ایجادات اور صنعت تمام اسی سے ظہور پذیر ہوئے ۔ " وہ یہ دعویٰ کرتےہیں کہ  انسان کی خوشی اور کامیابی ، اپنی فوری ضروریات سے اوپر ٹھ کر  خود غرض  مفادات کے حصول کے بجائے  لیاقت و استعداد کے عروج میں مضمر ہے۔

تہذیب کے اندر اس حقیقت کا ارتقاء اور ظہور  افراد کے اندر اسی کے عروج کو مستلزم  ہے۔ ان پوشیدہ صلاحیتوں کا عروج ہمارے دلوں اور ذہنوں میں روحانیت کی طرف، سمت کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔یہی عمل میں ظاہر کئے گئےہوشمند علم کے ذریعہ  روحانیت کا تجربہ ہے۔

اس تبدیلی کے وقوع  کے لئے تعلیم اہم ہے۔ صرف  تکنیکی معلومات پر توجہ دینے کے بجائے ، تعلیمی نظام کو صلاحیت کی تعمیر اور بچوں اور نوجوانوں میں شعور کے ارتقاء کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ عام رویہ طلباء کو ایک ایسے  خلاء کے طور پر دیکھنا ہے جو  معلومات سے بھرے جانے  کے انتظار میں ہے۔ تاہم، بچے سیکھنے اور ترقی کرنے کی  ایک عظیم صلاحیت کے ساتھ حساس انسان ہیں، بشرطیکہ انہیں  مخلصانہ ہمدردی کے ساتھ پڑھایا جائے  اور اپنی صلاحیت و استعداد پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی جائے ۔

تعلیم ایک شائستہ انداز کی ترقی کے روایتی توقعات پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے – ان لوگوں کی طرح جو  محض اقتصادی ترقی کے اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں  ۔ دولت معاشرے میں بڑی کامیابی کا ایک اشارہ ہے، بشرطیکہ وہ یہ یکساں طور پر افراد کے درمیان منقسم ہو اور چند کے ہاتھوں میں جمع نہ ہو ۔ اقتصادی سرگرمیوں کی بنیادی توجہ کو  صرف مالی منافع کے بجائے ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ساتھ تمام کی اقتصادی  خوشحالی تک  وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

بہائی مذہب  کی بین الاقوامی گورننگ باڈی دی  یونیورسل ہاؤس آف جسٹس نے یہ بیان دیا کہ ، مسئلہ کا ایک تازہ معائنہ ضروری ہے، جو کہ نظم و ضبط  کے ایک وسیع میدان عمل کے  ماہرین کے ساتھ مشاورت پر انحصار کرتا ہے، اقتصادی اور نظریاتی تنازعات سے  مبرا ، روحانیت کے ان تنوعات سے  ایک نیا عالمی رویہ کو فروغ دینے کے لئے  جو دولت اور غربت کے غلو سے نمٹنے نمٹ سکے ۔ "

ایک جمہوری ملک میں قانون ساز اسمبلیوں کا قیام قابل  تعریف ہے۔ تاہم، لوگوں پر اپنی  قیادت برقرار رکھنے کے لئے کرشمہ یا روایتی اتھارٹی پر انحصار کرنےکے بجائے  رہنماؤں کے اندر بہتر حکمرانی کے لئے مطلوبہ تمام فطری خوبیاں ہونی چاہئے  ۔ اس تذبذب کا  علاج نیک ایماندار، ذہین، زور آور  اور بے لوث  رہنماؤں کا جمہوری انتخاب ہے۔

اس کے علاوہ، ان کے فرائض کے حوالے سے ان میں قابلیت اور مہارت بھی ہونی چاہئے ۔ بحث اور تنازعہ کے گھروں کے طور پر جاری ہونے کے بجائے، پارلیمانوں کو مشاورت اور ترقی کی اسمبلیوں میں تبدیل ہونے  کی ضرورت ہے، تاکہ اور زیادہ سمواد ہو جو  کہ بات چیت کی اہمیت میں  اضافہ کر تا ہے ۔

سب سے بڑھ کر باہمی متحدہ  حکومت کا قیام اسی  وقت ممکن ہے جب  اداروں کے اندر افراد غیبت اور عیب جوئی جیسے نقصاندہ  عادات سے پاک ہوں  جو  ماحول میں نفرت اور اختلافات کا زہر گھولتےہیں ۔ ایک روحانی ماحول میں، صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ایک ہم آہنگ انداز میں کام کرتے ہوئے لوگ  افراد کی غلطیوں کی باہمی ذمہ داری لیتے ہیں ۔ یہ ایک بہائی نقطہ نظر ہے۔
ماخذ :

http://timesofindia.indiatimes.com/home/opinion/edit-page/Civilisation-and-spiritual-evolution/articleshow/14102623.cms

URL for English article:

http://newageislam.com/spiritual-meditations/minhaj-khan/civilisation-and-spiritual-evolution/d/7684

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/minhaj-khan,-tr-new-age-islam---منہاج-خان/civilization-and-spiritual-evolution--تہذیب-اور-روحانی-ارتقاء/d/12023

 

Loading..

Loading..